PDA

View Full Version : ڈینگی بخار احتیاطی تدابیر اور علاج



محمدمعروف
09-13-2011, 11:31 PM
آج کل ڈینگی وائرس کی وجہ سے ڈینگی بخار عام ہے اور لوگ اس کی وجہ سے کئی جگہوں پر ہلاک بھی ہوئے ہیں اس لئے سوچا اس سلسلے میں کچھ مفید باتیں آپ سے شئیر کروں۔
شہد اور پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کا بہترین علاج ہیں :حکیم خالد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احتیاطی تدابیراختیارکر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے:کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان
ڈینگی مچھروں سے محفوظ رہنے کیلئے کا فوراور لیمن گراس گھروں میں مختلف جگہوں پر رکھیں۔

لاہور 17اکتوبر…عوام الناس ڈینگی فیور سے مت گھبرائیں ‘جدید طبی تحقیقات کے مطابق عام ڈینگی فیور خطرناک نہیں اور کم و بیش ایک سے دو ہفتے میں مناسب دیکھ بھال وعلاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ڈینگی فیور کے پچیدہ کیسزیعنی ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک فیور کی شرح’ ڈینگی پازیٹو مریضوں میںتین سے پانچ فیصد تک ہے تاہم خوف و ہراس کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیربھی انتہائی ضروری ہیںیہ باتیںمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے ہیلتھ پاک کے زیراہتمام ڈینگی وائرس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی و اسلامی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کے مطابق شہدڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے’حفظ ماتقدم کے طور پر بھی مفید ہے۔پروپولس(رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن ‘اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات’دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیںپپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے Plateletsحیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کالی مرچ’کلونجی ‘چرائتہ’افسنتین ہر ایک دس گرام باریک پیس لیںاور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے سے ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔بخار کم کرنے کیلئے تین گرام چھوٹی الائچی کا پاؤڈر’بارہ گرام برگ تلسی کے قہوے سے دینا بھی فوری اثر کرتا ہے۔ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے’وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول ‘مونگ کی دال ‘کھچڑی’شلجم ‘چقندر’گاجر بند گوبھی’انگور’انار’سنترہ’ مسمی اورمیٹھااس مرض میں مفید غذا ہے۔احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروںسے بچاؤ کیلئے لیمن گراس کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودا سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے طور پرموثر ثابت ہوچکا ہے۔
مزید اس کے متعلق مفید روابط
احتیاط لازم ہے، ڈینگی بخار جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
http://alqamar.info/2011/09/%D8%A7%D8%AD%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B7-%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85-%DB%81%DB%92%D8%8C-%DA%88%DB%8C%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%86-%D9%84%DB%8C%D9%88%D8%A7-%D8%AB%D8%A7%D8%A8.html
ڈینگو بخار
http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%88%DB%8C%D9%86%DA%AF%D9%88_%D8%A8%D8%AE%D8%A7% D8%B1
ڈینگی بخار خطرناک ہے ، احتیاط کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جاۓ۔
http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=143132

این اے ناصر
04-03-2012, 11:21 AM
مفیدمعلومات کے لیے بہت بہت شکریہ۔

سبطین جی
11-09-2013, 11:21 PM
مسلمانوں کے لیے سرکہ کی اہمیت
مسلمانوں کے لیے سرکہ کی بطور غذا اور دوا کافی اہمیت ہے۔ اس کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ “سرکہ کتنا اچھا سالن ہے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ، “کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ؟“ میں نے کہا۔ “نہیں ۔ البتہ باسی روٹی اور سرکہ ہے۔“ فرمایا کہ “اسے لے آؤ۔ وہ گھر کبھی غریب نہ ہوگا جس میں سرکہ موجود ہے۔“

سبطین جی
11-09-2013, 11:26 PM
سیب کے چھلکے کی چائے
سیب کے چھلکے جنہیں ہم ضائع کر دیتے ہیں۔ ان میں بھی قدرت نے غذائیت، لذت اور بے شمار فوائد رکھے ہیں۔ ان کو تازہ یا خشک شدہ لے کر حسب دستور کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر چائے تیار کریں۔ اگر دودھ اور چینی کی بجائے شہد اور لیموں کا رس ملا کر نوش فرمائیں تو اور بھی مفید ہے۔ جسمانی طور پر کمزور افراد اور بوڑھوں کے لیے حد درجہ صحت بخش ہے۔ پیچش اور ٹائیفائیڈ کی کمزوری دور کرنے کے لیے اوولٹین سے بڑھ کر ہے۔ جوڑوں کا درد رفع کرنے کے لیے اس کا مسلسل استعمال نہایت مفید ہے۔
th_smilie_schild

سبطین جی
11-09-2013, 11:52 PM
خوبانی
خوبانی کا نام سنتے ہی منہ میں پانی آنے لگتا ہے مگر یہ لذیذ پھل پیٹ کی کئی بیماریوں کے علاوہ دیگر حوالوں سے بھی انتہائی مفید ہے۔ طب یونانی کی تحقیق کے مطابق خوبانی کھانے سے جگر کی سختی دور ہوتی ہے، خوبانی کے مغز کاتیل کانوں میں ڈالنے سے سماعت بہتر ہوتی ہے اور یہ کان کے درد میں بھی مفید ہے۔ خوبانی کے چند دانے اگر لسی کے ساتھ استعمال کئے جائیں تو غذا کی نالی کی جلن دور ہوتی ہے۔ خوبانی کا استعمال نزلہ، زکام ، گلے کی خراش اور منہ کی بدبو دور کرنے کیلئے فائدہ مند ہے۔ گرم ہے۔ قبض کشا ہے جسم کو طاقت بخشتی ہے۔ پیاس کی شدت بخار بواسیر اور آنتوں کے سترے در کرتی ہے۔ پیٹ کے کیڑے ہلاک کرتی ہے۔‎