PDA

View Full Version : فرانسیسی کمپنی کو کام دینے کا دباؤ



بےباک
11-20-2010, 10:10 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20101120/Sub_Images/1101101388-2.gif

روزنامہ ایکسپریس 20 نومبر 2010

بےباک
11-20-2010, 10:33 AM
ایک سابقہ جرم کے حقائق
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے جج نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں رشوت دی گئی تھی۔ گزشتہ سال فرانس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 1995ءمیں پاکستان کو آبدوزوں کی فروخت کے سودے میں غیر قانونی طور پر کمیشن دیا گیا تھا اور 2002ءمیں کراچی کے ایک ہوٹل کے باہر فرانسیسی انجینئرز پر خودکش بم حملہ پاکستان اور فرانس کے اعلیٰ حکام کے درمیان کمیشن کی ادائیگی پر اختلافات کے بعد کیا گیا تھا۔ ان شخصیات میں فرانس کے موجودہ صدر نکولیس سرکوزی کا نام بھی شامل ہے جو اس وقت کی کابینہ کے وزیر تھے۔ پیرس کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صفائی نے کہا کہ جج نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ سودے میں رشوت دی گئی تھی۔ 95 کروڑ ڈالر کے سودے میں رشوت کے پونے دو کروڑ ڈالرز فرانس بھیجے گئے تھے اور یہ رقم صدارتی انتخابی مہم میں استعمال کی گئی تھی جسے سرکوزی چلا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی دھماکے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ خریداری میں رشوت کی آٹھ کروڑ ڈالرز سے زائد رقم سیاستدانوں اور فوجی افسران کو ادا کی گئی تھی۔ فرانسیسی اخبار کی رپور ٹ کے مطابق صدر زرداری کو آبدوزوں کی خریداری پر کمیشن لبنانی تاجر عبدالرحمان العصیرکے ذریعے ادا کیا گیا اور کمیشن کی رقم سوئس اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ برطانوی حکام نے نیب کو سوئس اکاﺅنٹس کی تفصیلات 2001 ءمیں فراہم کیں جن کے مطابق آصف زرداری 1.8 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ ملک کے امیر ترین آدمی ہیں۔ آبدوزوں کے سودے میں ملٹری حکام کو 49 ملین ڈالر کمیشن ملا۔ اسی کمیشن کی وصولی پر پاک بحریہ کے سابق سربراہ منصور الحق کو گرفتار کیا گیا اور نیب نے پلی بارگین ڈیل کے ذریعے ان سے 70 لاکھ ڈالرز واپس بھی لئے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ نیب کو بھیجی گئی تفصیلات کے مطابق لبنانی سرمایہ کار نے صدر زرداری کے سوئس اکاﺅنٹ میں کمیشن کی رقم 1994-95ءکے دوران تین اقساط میں منتقل کی۔15 اگست 1994ءسے 30اگست کے دوران 13 لاکھ ڈالرز جمع کرائے گئے جبکہ معاہدے پر دستخط کے ایک سال کے دوران پہلے 12 لاکھ اور پھر 18 لاکھ ڈالر جمع کرائے گئے۔ پیرس میں جاری تفتیش کے مطابق معاہدے کیلئے کمیشن کی طے شدہ رقم کی مکمل ادائیگی نہ ہونے پر کراچی میں آٹھ مئی 2002 کو دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس میں فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے 11 ملازمین ہلاک ہوئے تھے۔ کمپنی کے ملازمین نے بتایا کہ معاہدے کے تحت آبدوزوں کی قیمت کا 10 فیصد حصہ کمیشن کے طور پر ادا کرنا تھا جس میں سے چھ فیصد ملٹری حکام اور چار فیصد سیاسی حلقوں کو دیا جانا تھا۔
.................................................
اسی سلسلے کی ملتی جلتی خبر ، روزنامہ پاکستان 19 جون 2010
..........................................
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فرانسیسی وزیردفاع چارلس ملن نے انیس سو پچانوے میں پاکستان کے ساتھ دفاعی ڈیل کیلئے رشوت دیئے جانے کی تصدیق کردی ہے۔ یہ بیان انھوں نے پیرس میں تحقیقاتی کمیشن کے سامنے دیا، تفتیشی مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں سابق فرانسیسی وزیر دفاع چارلس ملن نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کئے گئے ہتھیاروں کے معاہدے میں رشوت جانے کے شواہد پائے گئے ہیں۔یہ شواہد سیکرٹ سروس کی رپورٹس اور فرانسیسی وزارت دفاع کے تجزیوں کی روشنی میں سامنے آئے تھے ذرائع کا کہنا ہے کہ انیس سو پچانوے میں فرانسیسی صدر یاک شیراک نے عہدہ سنبھالنے کے بعد چارلس ملن کو ہدایت کی تھی کہ اگر اس سودے میں کک بیک کا شائبہ بھی ہو تو ڈیل کینسل کردی جائے ڈیل کی تحقیقات کرنے والے مجسٹریٹ اس پہلو پر بھی تفتیش کررہے ہیں کہ آیا موجودہ صدر نکولس سرکوزی کی کمپنی اس بدعنوانی میں ملوث رہی تھی اور کیا تین کروڑ ڈالر کی رقم انکی انتخابی مہم کیلئے بھی استعمال ہوئی . رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈیل کا بڑا حصہ یعنی آٹھ کروڑ ڈالر کک بیک کی صورت میں پاکستانی حکام کے حصے میں آئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر شیراک نے ملن کو ہدایت کی تھی کہ معاہدوں میں رشوت کی موجودگی کی چھان بین کی جائے اور نئے سرے سے معاہدے کئے جائیں۔کراچی میں مئی 2002 کو 11 فرانسیسی انجینئرز کی ہلاکت کے سلسلے میں ہونے والی انکوئری کمیٹی کے سامنے چارلس ملن کو طلب کیا گیا تھا۔
....................
روزنامہ پاکستان 17 نومبر 2010

علی عمران
11-20-2010, 06:20 PM
واہ جی واہ آپ کو تو کرپشن انویسٹیگیشن ٹیم کا سربراہ ہونا چاہیے..............کم از کم کرپشن سامنے تو آتی رہے گی نا..........ہاہاہاہاہاا