PDA

View Full Version : پاکستان ہمارے لئے اسرائیل جیسا ہے ،



بےباک
09-17-2011, 10:07 AM
پاک چین دوستی زندہ باد
http://www.dailypak.com/uploads/27261_Pak-china.jpg
جیسے آپ کیلئے اسرائیل ویسے ہی ہمارے لئے پاکستان ہے، چینی سفارتکار کاامریکی مندوب کوجواب
بیجنگ(جنگ نیوز) پاکستان سے چین کی بے مثال دوستی کوئی نہیں بات نہیں لیکن اس میں ایک تاریخی باب کا اضافہ اس وقت ہواجب پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کے معاملے پرگرماگرم بحث کے دوران چینی سفارتکار نے امریکی مندوب کو یہ تاریخی جملہ کہا”جیسے امریکا کواسرائیل عزیز ہے ویسے چین کو پاکستان پیارا ہے، پاکستان ہمارا اسرائیل ہے“،قطر کے ٹی وی نے اپنی ویب سائٹ پرمضمون میں لکھا ہے کہ جس طرح امریکا اور مغربی ممالک نے اسرائیل کوگلے لگا رکھا ہے ،اس طرح شمالی کوریا، برما ، زمبابوے ،سوڈان ودیگر ممالک پرچین کا دست شفقت ہے ۔ اس لنک کو دیکھیے ،
http://english.aljazeera.net/indepth/features/2010/10/20101028135728235512.html
بھٹو دور میں چین کے ماوزے تنگ اور چواین لائی کی صورت میں چین کیساتھ ہمارا تعارف ہوا۔ اس کے بعد ٹیکسلا میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور ہیوی فاونڈری اینڈ فورج کا دورہ کیا تو معلوم ہوا چین نے ہماری ٹیکنالوجی میں کتنی زیادہ مدد کی ہے۔ اس کے بعد پاکستان آرڈینینس فیکٹری میں دفاعی سازوسامان تیار کرنے میں چین نے مدد کی۔ یہ سلسلہ تب سے جاری ہے اور اسی سلسلے میں آج چین کی مدد سے جے ایف 17 تھنڈر طیارہ پاکستان نے تیار کر کے ایک اور کامیابی حاصل کر لی ہے۔
https://lh5.googleusercontent.com/-ZLZlq0SVZpI/TXZ-uywj8_I/AAAAAAAAAhY/DkrUkM6aV94/JF+17+thunder+pakistan+defence+news+blog+1.jpg
یہ طیارہ تمام قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پروجیکٹ 2003 میں شروع ہوا اور چھ سال کے قلیل عرصے میں چین نے ساری ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کر دی۔ جلد ہی پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے بعد یہ طیارے برآمد بھی کرنا شروع کر دے گا۔

چین ہمارے ان چند گنے چنے دوست ممالک میں سے ہے جس نے ہمیں مچھلی نہیں بلکہ مچھلی پکڑنے کا کانٹا ہمیشہ امداد میں دیا ہے۔ یہ چین کی عظمت ہے کہ اس نے پاکستان کے داخلی معاملات میں کبھی دخل اندازی نہیں کی اور نہ ہی حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ چین کی ان خوبیوں کے باوجود ہم نے کبھی چین کو دوسرے ممالک پر فوقیت نہیں دی۔ ہم ان ممالک کی جھولی میں جا بیٹھے جنہوں نے ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض بنایا، جنہوں نے ہمیں ایسا دفاعی سازوسامان بیچا جو ان کیلیے بیکار ہو چکا تھا، جنہوں نے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، جنہوں نے ہمارا ملک دو ٹکڑے کر دیا وغیرہ وغیرہ۔

اب بھی وقت ہے ہمارے حکمران چین کی مدد سے پاکستان میں کارخانے لگانا شروع کر دیں تا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ کیونکہ ملک تبھی ترقی کرتے ہیں جب وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات چلانے کی بجائے صنعتیں لگانے کیلیے قرضے لیتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران پاکستان کیساتھ مخلص ہیں تو پھر انہیں چین کی مدد سے ملک میں صنعتوں کا جال بچھا دینا چاہیے۔ اگر مخلص نہیں ہیں تو پھر آئی ایم ایف کے آگے جھولی پھیلائے رکھیں اور اپنا بجٹ اسی کی نگرانی میں بنا کر عوام کا خون چوستے رہیں تا کہ آئی ایم ایف کے قرضوں پر سود کی ادائیگی وقت پر ہوتی رہے۔

چین نے پاکستان کو اپنا روایتی دوست ملک قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے دوران پاکستان کو ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتا اور وہ بھارت کی بجائے پاکستان کو ہی فوقیت دے گا۔ ادھر بھارت نے پاکستان کے حق میں چین کے اس واضح بیان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جوہری تعاون جاری رکھے گا اور وہ پاکستان کو ایک گیگا واٹ نیو کلیئر ریکٹر فراہم کریگا جس سے اس کی جوہری طاقت بھارت کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوگی اس کے علاوہ جوہری توانائی سے متعلق ایک بہت بڑا سمجھوتہ بھی دونوں ممالک کے درمیان ہونے جارہا ہے۔ چین نے کشمیر کے حوالے سے ویزا پالیسی کو نہ بدلنے کا بھی فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے بھارت کی بجائے پاکستان کو ہی فوقیت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دونوں روایتی دوستوں کے درمیان پائیدار بنیادوں پر صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے۔ رپورٹ میں چین اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کے وزیر اعظم وین جیاباﺅ نے جنوبی ایشیاءدورے کے دوران اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملات نمٹانے کے دوران چین پاکستان کو نظرانداز نہیں کریگا جبکہ چین نے سرحدی تنازعات کے حوالے سے بھارت کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا اور نہ ہی ملک کی مفاد کے ساتھ کوئی سودا بازی ہوگی۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان رواں سال کے دوران تعلقات میں خلیج پیدا ہو سکتی ہے اور اس مخاصمت کو دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان درپردہ طور پر مذاکرات شروع کئے جارہے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان یانگ لی کے مطابق چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور مستحکم تعاون ہماری اولین ترجیح ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے چین کے روایتی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے حامی ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ کشمیریوں کے لئے علیحدہ ویزا نظام پر بھی مہر ثبت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس معاملے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بھارت کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحد کے معاملے پر چین کے تحفظات برقرار ہیں اور سرحدی تنازع پر چین بھارت کو کوئی رعایت نہیں دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو چین کے تحفظات دور کرنے ہوں گے اور اسے سرحدی تنازع کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ترجمان کے مطابق بھارت دورے کے دوران چینی وزیر اعظم وین جیاباﺅ نے اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ پر یہ واضح کیا ہے کہ چین اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا۔ دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں چینی حکومت کے حالیہ موقف پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

مسلمان خصوصی طور پر پاکستانی امریکہ کو عالم اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں اور پاکستانی امریکہ کو ایک دھوکے باز اور موقع پرست ملک کے طورپر یاد کرتے ہیں ۔امریکی سی آئی اے کو پاکستانیوں کی اسلام پسندی کا پوری طرح ادراک ہے ۔امریکا کو پاک چین دوستی بری طرح ناپسند ہے ،
چین ایک اشتراکی ملک ہے وہ کمیونزم کے فلسفے پر پروان چڑھا ہے ۔وہاں مغربی جمہوریت بھی نہیں ۔چین مسلمان ملک نہیں ہے جب کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اس تمام تر نظریاتی اختلاف کے باوجود پاکستان اور چین دوہمسائیہ ممالک ہیں ۔دونوں کے اس خطے میں مفادات مشترک ہیں ۔چین نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بے پناہ حصہ لیا ہے ۔اب بھی گوادر سمیت بڑے بڑے پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں ۔پاک چین دوستی کو کوہ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرا قرار دیاجاتا ہے ۔تمام تر عالمی تبدیلیوں کے باوجود آج تک پاک چین دوستی میں فر ق نہیں آیا۔

کچھ عرصہ سے پاکستان کے اندر ایسے اقدامات ہو رہے ہیں جنہیں اہل چین کو پاکستان کیخلاف ابھارنے کی ایک سازش کہا جاسکتا ہے ۔کبھی چینی انجینئرز اغواءہوتے ہیں ،کبھی چینی باشندے قتل کردئیے جاتے ہیں ،چینی ماہرین کےقافلے پر حملہ ہوتا ہے اور کہیں چینی مساج سینٹر نشانہ بنتا ہے ۔حال ہی میں پشاور کے اندر قتل ہونے والے چینی باشندوں کے قتل کی واردات کی ویڈیو تیار کروا کے چین کے شہروں میں پہنچائی گئی ہے تاکہ چینی باشندوں کو پاکستان کیخلاف مشتعل کیا جاسکے ۔ایک اطلاع کے مطابق پاکستان میں برسوں سے کام کرنے والے چینی باشندے واپس چین جارہے ہیں ۔انہیں ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے ۔انہیں مختلف نوع کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ چین کیخلاف ایسی خبروں کو اچھال رہے ہیں جن سے مسلمانوں کے جذبات چینی حکومت کیخلاف بھڑک سکتے ہیں ۔یہ خبر پھیلائی گئی ہے کہ صوبہ ژنکیانگ کے مسلمانوں سے چینی حکومت نے پاسپورٹ چھین لئے ہیں تاکہ وہ آئندہ سال حج پر نہ جاسکیں ۔چینی حکومت کو خطرہ ہے کہ کہیں اس کے مسلمان شہری انتہاءپسند مسلمانوں کیساتھ مل کر تشدد پسندانہ رحجانات کا شکار ہوجائیں ۔یہ خبر بھی پھیلائی گئی ہے کہ پاکستان سکیورٹی نے فاٹا کے علاقوں سے جن چینی مجاہدین کو گرفتار کیا تھا انہیں حکومت چین کے حوالے کردیا گیا ہے اور اب انہیں وہاں ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے گولیاں ماری جارہی ہیں ۔
تواتر کے ساتھ چین مخالف واقعات اور خبروں کا واحد مقصد یہ ہوسکتا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کشیدہ کردئیے جائیں اور یوں جنوبی ایشیاءمیں چین کا کوئی دوست نہ رہے ۔دوسری طرف پاکستان کو چین سے دور کرکے مکمل طورپر امریکہ کی جھولی میں ڈالا جائے ۔یہ وہ خطرناک منصوبہ ہے جس کو ناکام بنانے کیلئے ہر محب وطن پاکستانی کو اپنے اپنے دائرے میںکردار ادا کرنا چاہیے ۔
چینی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو حج سے روکنے والی افواہ کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کردے ..دوسری طرف پاکستان کی مذہبی جماعتوں سے التماس ہے کہ وہ عالمی غلبہ اسلام کیلئے سرگرم حلقوں سے رابطہ کریں اور انہیں سمجھائیں کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں ۔اور ماضی میں ہونے والے ایسے واقعات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی تردید کی جانی چاہیے تاکہ دشمنان اسلام یہ نہ کہیں کہ مسلمانوں کے ہاں صرف قربانیاں ہیں مومنانہ فراست نظر نہیں آتی ۔
مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستانی عوام نے بروقت پاک چین دوستی کے مخالفوں کا محاسبہ کرلیا تو پھر یہ تعلق مزید مضبوط ہوگا۔حکومت کی اپنی ذمہ داریاں ہیں ۔ہمیں پاکستانی اور چینی ہونے کے حوالے سے ایسی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور پاکستان میں موجود چینی بہن بھائیوں کو حوصلہ دینا ہے اور ان کی حفاظت کرنی ہے ۔انشاءاللہ پاک چین دوستی قائم رہے گی۔

محمدمعروف
09-18-2011, 11:52 PM
بہت خوب اللہ پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دے ۔

تانیہ
09-20-2011, 12:27 AM
بہت خوب
بہت زبردست
پاک چین دوستی ہمیشہ سے ایک مثال رہی ہے ..اللہ بری نظر سے بچائے...آمین
چین ہمیشہ سے ہمارا اچھا دوست ہے کاش ہمارے حکمران بھی اچھے ہو جائیں

اذان
09-20-2011, 12:54 AM
پاکستان اور چین دو ایسے ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسر ے سے گہرا لگاﺅ رکھتے ہیں۔ دنیا میں پاکستان اور چین جیسی مخلصانہ اور مضبوط دوستی کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ اس دوستی کو ساٹھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور آج تک اس میں کوئی دراڑ نہیں آئی بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس دوستی کے خوب چرچے ہو رہے ہیں۔ کچھ ممالک اس دوستی کو مثال بنا کر اپنے مستقبل کی راہیں ہموار کر رہے ہیں جبکہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن سے یہ دوستی ہضم نہیں ہو رہی۔ ان میں ہندوستان سرفہرست ہے جس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو اور وہ اپنے تئیں خطے کا تھانیدار بن بیٹھے لیکن فی الحال ہندوستان کا یہ خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہندوستان سے ملنے والی سرحد سے ہمیں مسائل ملتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایران اور افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر بھی حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہے البتہ چین وہ واحد ہمسایہ ہے کہ جس کی سرحدوں سے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا ہی آئی۔بلدتے موسم بھی پاکستان اور چین کی دوستی پر اثرانداز نہیں ہو سکے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود دوستی کا یہ رشتہ آج بھی لازوال ہے۔
چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے باقاعدہ تعلقات کا آغاز انیس سو پچاس کی دہائی کے شروع میں ہوا۔اس طرح اِن دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں ۔ آج اگرپاکستان کے ساتھ امریکا اور چین کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو امریکا کی بے وفائیاں بے شمار ہیں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جبکہ چین کی وفائیں بے شمار ہیں۔ ایک طرف امریکا افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف سازشیںکرکے ہمارے ایٹمی اثاثوں پر ہاتھ صاف کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کے برعکس چین ایسا ملک ہے جو پاکستان کے اِن ایٹمی اثاثوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بن کر پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون آگے بڑھا رہا ہے ۔ صرف دفاع اور سکیورٹی ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معیشت اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی ایک لازوال مثال موجود ہے۔ میرے نزدیک چین کا تو امریکا کے ساتھ موازنہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ امریکا پاکستان کے داخلی معاملات میں ہمیشہ مداخلت کرتا رہتا ہے جبکہ یہ چین کی عظمت ہے کہ اس نے کبھی ہمارے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی اور نہ ہی حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ میں کوئی کردار ادا کیا۔
پاک چین دوستی کی اقتصادی اور معاشی میدان میں بڑی مثالیں ہیں۔ان میں شاہراہ قراقرم، آرڈیننس فیکٹریز واہ کینٹ، ہیوی ری بلڈ کمپلیکس ٹیکسلا، کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس، چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ، گوادر کی بندرگاہ، غازی بروتھا پاور پراجیکٹ کے علاوہ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں بھی چین کا تعاون محتاجِ بیان نہیں ہے۔دونوں ممالک کا دفاعی تعاون تقریباً تمام قابلِ ذکر شعبوں پر محیط ہے۔ چین کے تعاون سے ہی پاکستان نے اپنی پہلی آبدوز پی این ایس شمشیر کو سمندر میں اُتارا۔ اسی طرح پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے تیار ہونے والا جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ بھی پاک چین دفاعی تعاون کی ایک لازوال مثال ہے۔ چین پاکستان کے الخالد اور الضرار ٹینکوں کی تیاری میں بھی مالی اور تکنیکی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح بابر میزائل اور ایف 22 فریگیٹ بھی پاک چین دوستی کی زندہ مثالیں ہیں۔ اس وقت پاکستان کی زیادہ تر دفاعی ضروریات چین ہی پوری کرتا ہے بلکہ اپنی دوستی کا حق ادا کر رہا ہے۔پاکستان کو آج جو دفاع کے شعبے میں مہارت حاصل ہوئی اس کا سارا کریڈٹ چین کو جاتا ہے۔چین نے ٹیکنالوجی دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں انفراسٹرکچر بھی بنا کر دیا۔ گوادر بندرگاہ چین کے تعاون سے تعمیر کی گئی اور یہ شاہراہ قراقرم کے بعد پاک چین دوستی کی دوسری بڑی یادگار ہے۔
پاک چین دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان نے ہی امریکا کے ساتھ چین کے تعلقات استوار کرائے اور اقوام متحدہ میں چین کی شمولیت کی پرزور حمایت کی۔ جہاں چین کشمیر اور دیگر ایشوز پر پاکستان کی مکمل حمایت کر رہا ہے اسی طرح پاکستان بھی تائیوان، تبت اور دوسرے ایشوز پر چین کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی عوام کے عالمی امور، امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں۔دوست کی پہچان مصیبت اور مشکل گھڑی میں ہی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی دونوں جنگوں میں چین نے پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا اور اب بھی چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین میںمسلمانوں کی آبادی دو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے جو چین کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت نے چین میں مسلمانوں کے بھیس میں ایجنٹ چھوڑ کر دہشت گردی کروائی تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ اسکے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اس طرح پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے اور اس کا فائدہ بھارت اُٹھائے گا لیکن بعد میں جب اصل حقائق سامنے آ ئے تو بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔بھارت سے پاک چین دوستی کبھی ہضم نہیں ہوئی۔ اب بھارتی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے ایک نیا بیان داغ دیا ہے کہ بھارت کو چینی اور پاکستانی افواج کی جانب سے کافی خطرات ہیں۔
صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکا کو بھی پاک چین دوستی پر مروڑ اُٹھ رہی ہیں۔ پاکستان اور چین کے دوست نما دشمن امریکا کا اصل مقصد ایشیاءمیں اجارہ داری کرکے ایک طرف چین اور ایران کو روکنا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کو ختم کرنا ہے۔ اسی وجہ سے امریکا نے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کر دی ہیں اور سول ایٹمی معاہدہ تک کر ڈالا تاکہ بھارت کو چین اور پاکستان کے خلاف کھڑا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ بعد ازاں جب پاکستان اور چین کے درمیان کچھ اس طرح کا معاہدہ ہونے لگا تو امریکا اور بھارت کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگ گئے۔ امریکا بظاہر تو پاکستان کو دوست سمجھتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جان بوجھ کر بھارت کو طاقت اور تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ امریکا کی یہ چال پاکستان اور چین بہت پہلے سے ہی سمجھ چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جس طرح امریکا اور بھارت کا اتحاد ٹھوس حقیقت میں بدل چکا ہے اسی طرح پاکستان اور چین کے درمیان بھی بہتر انڈر سٹینڈنگ موجود ہے۔ مکار دشمن بلکہ دوست نما دشمن کی چالوں کو سمجھے بغیر اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور دشمنوں کی چالیں پاکستان اور چین اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کے بعد جب ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کا منصوبہ بنایا تو چین نے بھارت پر واضح کر دیا تھا کہ وہ اس جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیگا۔دونوں ممالک نے تمام بین الاقوامی فورمز پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ چین نے ہر مرحلے میں یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا سچا دوست ہے جبکہ جواب میں پاکستان نے بھی ایسا ہی کیا۔
پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی اور بحرالکاہل سے زیادہ گہری ہے۔ اس کی گہرائی اور اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ پاکستانی عوام کو خوشی اس بات کی ہے کہ چین ہمارا صرف اچھا دوست ہی نہیں بلکہ بہترین پڑوسی بھی ہے۔چین نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں کردار ادا کیا جبکہ امریکا نے ہمیں ایسا سازوسامان بیچا جو اُس کے لئے بیکار ہو چکا تھااس کے علاوہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض بھی بنایا۔پاک چین دوستی کی لمبی تاریخ ہے یہ دوستی باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ جس طرح ہندوستان پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے اسی طرح ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اسرائیل بھی پاکستان کو اپنے لئے مستقل خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے ان دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کیخلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ پاک چین دوستی کے باعث امریکا چین کا محاصرہ کرنے میں پاکستان کو رکاوٹ سمجھتا ہے اس لئے وہ پاکستان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سب کے باوجود پاک چین دوستی کا یہ رشتہ ہر مشکل گھڑی کے تقاضوں پر پورا اُترا ہے۔ پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو ہمیشہ بھروسہ مند اور بہترین دوست پایا۔ جس طرح چین پاکستان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑا ہے اسی طرح پاکستان بھی چین کیخلاف ہونے والی سازشوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے پاک چین دوستی زندہ باد