PDA

View Full Version : پاکستان کو امریکا کی دھمکیاں



بےباک
09-23-2011, 03:01 AM
امریکی وزیر دفاع نے ایک بارپھر دھمکی آمیزلہجہ اختیار کیا ہے اور کہاہے کہ پک اینڈ چوزنہیں چلے گا‘ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرناہوگی ‘جنرل کیانی اورپاشاپر واضح کردیا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو ہم خودکریں گے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ فاٹا میں بڑے پیمانے پر القاعدہ موجود ہے۔ الموریطانی کی گرفتاری القاعدہ کے لیے شدید دھچکا ہے۔ لیون پینٹاکہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے تو اسے تمام دہشت گردی سے نمٹنا ہوگا دہشت گردوں میں سے پک اینڈ چوز نہیں چلے گا۔ اس بیان میں لیون پینٹا نے پاکستان کو براہ راست دھمکی دی ہے۔ ایک طرف یہ دھمکی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی تعریف کہ الموریطانی کی گرفتاری میں مدد دی۔ لیون پینٹا کی باتوں سے لگ رہاہے کہ امریکی فوجی کچھ پریشان ہیں 19 پاکستان کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کرپارہا اور اس کے ساتھ تعلقات توڑنے سے بھی ڈررہاہے۔ چنانچہ ایک جگہ بیٹھ کر دھمکی اور دوسری جگہ بیٹھ کر تعریف کی جارہی ہے۔ دوسری طرف دفترخارجہ الموریطانی کی گرفتاری کو پاک امریکا تعلقات کی بحالی اور مضبوطی قراردے رہاہے۔ اندرکاکیاحال ہے اس کا اندازہ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ خبرسے ہوسکتاہے۔ جس چیزکی فضا بنائی جارہی ہے وہ ہے کہ اب امریکی افواج کے افغانستان وعراق سے نکلنے کے فیصلے کو درست ثابت کیاجاسکے‘ چنانچہ پوسٹ لکھتا ہے کہ امریکی افواج عراق وافغانستان میں بے مقصد جنگ لڑرہی ہیں۔ 10 برس بعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی خوف نے اب بھی گھیر رکھاہے۔ پوسٹ نے لکھاہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر تو صدام نے حملہ نہیں کیا تھا اور نہ اس کے پاس سے کیمیکل ہتھیار ملے۔ گویا پوسٹ نے اس امرکا اعتراف کرلیاہے کہ 9/11 سمیت سب کچھ جھوٹ کی بنیادپر چل رہاہے۔اب بھی امریکی جرنیل پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بارے میں یہ فرمارہے ہیں کہ یہاں بڑے پیمانے پر القاعدہ موجود ہے۔ امریکی وزیر دفاع پاکستان میں کارروائی کے حوالے سے وہی جوازپیش کررہے ہیں جو عراق میں پیش کیا تھا چونکہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارہیں اس لیے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جنگ ضروری ہے۔ ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدربش نے یہ رپورٹس بڑی شدومدسے پیش کی تھیں کہ صدام کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار ہیں اس لیے وہاں جاکر جنگ لڑنا ضروری ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے مضمون میں یہ توجہ دلائی ہے کہ جس وقت سابق صدر بش نے جنگ مسلط کی تھی تو ہمیں کہاگیا کہ جنگ امریکی عوام کے لیے بہت ضروری ہے جلد ختم ہوجائے گی لیکن دس سال گزرنے کے باوجود ہم ایک بے معنی بے مقصد جنگ لڑرہے ہیں۔ آج جس طرح واشنگٹن پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی ایک بے مقصد اور غیرمتعلق جنگ لڑرہے ہیں اسی طرح کوئی امریکی حکومت بھی کسی وقت یہ اعتراف کرے گی کہ ہاں 9/11 سے لے کر اگلے کئی برس تک ساری کہانی جھوٹ پر مبنی تھی۔ امریکا میں اس وقت سنجیدہ طبقات میں جو بحث چھڑی ہوئی ہے کہ امریکا کی افواج ملک سے ہزاروں میل دورکیاکررہی ہیں‘ اور دس سالہ جنگ میں مرنے والے امریکی کس مقصدکی خاطر مررہے ہیں۔ اور یہ بات تو خود امریکی ماہرین اور سول سوسائٹی ثابت کرچکے ہیں کہ 9/11 بھی جھوٹ کا پلندہ تھا لیکن افسوس حیرت کی بات ہے کہ امریکیوں نے تو اپنے سربراہ حکومت کے جھوٹ کو تسلیم کرلیا اور دھوکے میں آگئے لیکن پاکستانی کیوں‘ دھوکے میں آئے‘ جنرل پرویزمشرف کیوں دھوکے میں آئے۔ اور اب ہمارے فوجی وسیاسی رہنماءدھوکے میں کیوں ہیں بلکہ کس دھوکے میں ہیں انہیں امریکی جرنیلوں ‘سیاستدانوں وزیرخارجہ اور وزیردفاع کے لہجوں کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔ وہ نہیں سمجھ رہے کہ پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن امریکیوںکو پاکستان پر بالادستی نہیں دیتی بلکہ امریکیوں کو پاکستان کا محتاج بناتی ہے۔ اس قسم کی خوفزدہ دھمکیوں کو سمجھنا تو ہماری قیادت کی ذمہ داری تھی لیکن اب تو پوری صورتحال پرنظررکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جو کہاجارہاہے کہ اگر پاکستان نے خود کارروائی نہ کی تو ہم خود کریں گے۔ اب یہ گیدڑ بھبھکی سے زیادہ نہیں ہے اس لیے کہ اگر ایبٹ آباد آپریشن کو یہ کہاجائے کہ یہ امریکیوں کا تنہاکارنامہ تھا تو بھی درست نہیں جبکہ یہ ان کا تنہا کارنامہ تھا ہی نہیں انہیں پاکستان کی جانب سے مدد ملی تھی۔ کم ازکم اتنی مدد توملی تھی کہ دوسرا ہیلی کاپٹراڑگیا ورنہ جولوگ ایک ہیلی کاپٹر گراسکتے تھے وہ دوسرا بھی گراسکتے تھے۔ اورجب پاک فوج ایک ڈرون گراسکتی ہے اورایران چار گرا سکتا ہے تو پاکستان اب ہر ڈرون بھی گراسکتاہے۔ ہمارے خیال میں لیون پینٹا کو دوٹوک جواب ملنا چاہیے کہ اب ہالی وڈ طرز کے آپریشن بندکرو....اور یہ جو جمہوریتوں‘ آمریتوں میں پک اینڈ چوز امریکی حکمران کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں لیون پینٹا کا کیا خیال ہے۔

روزمرہ جسارت

بےباک
09-23-2011, 10:23 AM
پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرارہا ہے، کابل میں حملہ آئی ایس آئی کی مدد سے ہوا،
نیا امریکی الزام
واشنگٹن (اے ایف پی / رائٹرز / جنگ نیوز) امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایڈمرل مائیک مولن نے ایک نیا الزام لگایا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور حقانی نیٹ ورک آئی ایس آئی کے حقیقی بازو کے طور پر کام کر رہا ہے، کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملہ حقانی نیٹ ورک نے آئی ایس آئی کی مدد سے کیا، اسلام آباد نے تشدد کی پالیسی استعمال کرکے اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کو خطرے میں ڈال دیا ہے ، انتہا پسندی برآمد کرنے سے پاکستان کی خطے میں ساکھ اور ان کی اندرونی سلامتی خراب ہوئی۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز امریکی سینیٹرز کے پینل کے سامنے بیان دیتے ہوئے مائیک مولن نے کہا کہ پاکستان عسکریت پسندوں کو آئی ایس آئی کے بازو کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے کر افغانستان میں پرتشدد انتہا پسندی کو ”برآمد“ کر رہا ہے۔ پرتشدد انتہا پسندی کو پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا انتخاب کرکے حکومت پاکستان خصوصاً پاک فوج اور آئی ایس آئی نے نہ صرف ہماری اسٹرٹیجک شراکت داری کو بلکہ خطے میں پاکستان کی ایک باعزت قوم کے قانونی علاقائی اثرورسوخ کی حیثیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ برطانوی خبررساں ایجنسی کے مطابق مائیک مولن نے مزید کہا کہ حقانی نیٹ ورک، آئی ایس آئی کے حقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔ آئی ایس آئی کی حمایت سے حقانی نیٹ ورک نے 11 ستمبر کا ٹرک بم دھماکا کیا اور کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا۔ ہمارے پاس یہ بھی قابل بھروسہ انٹیلی جنس ہے کہ کابل میں 28 جون کو 5 اسٹار ہوٹل اور دیگر چھوٹے مگر موثر آپریشنز کے پیچھے بھی یہی دونوں تھے۔
#…واشنگٹن (ایجنسیاں / جنگ نیوز) امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر امداد کی منظوری دیتے ہوئے اسے حقانی نیٹ ورک ، لشکر طیبہ ، کوئٹہ شوریٰ اور دیگر شدت پسند گروپوں کیخلاف کارروائی سے مشروط کردیا، تاہم سینیٹ کی ایپروپری ایشنز کمیٹی کی جانب سے منظور بل کو ابھی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی منظوری کی ضرورت ہوگی ۔ جمعرات کو امریکی سینیٹ کمیٹی کی منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ایک ارب ڈالر کی امداد پاکستان کو دی جائے لیکن اس کے لئے پاکستان کو لشکر طیبہ ، حقانی نیٹ ورک، کوئٹہ شوریٰ سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ کمیٹی کے رکن مارک کرک کی جانب سے پاکستان کے لئے امداد کو حقانی نیٹ ورک، القاعدہ اور دوسری شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی سے مشروط کیے جانے کے فیصلے کے نفاذ کیلئے اس کی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں منظوری ضروری ہے۔ یہ پابندیاں غیر ملکی امداد کے اس بل کا حصہ ہیں جو اسی کمیٹی نے منظور کر کے سینیٹ کو بھیج دیا ہے، اگرچہ اس کمیٹی نے عسکریت پسندی کے انسداد کے لئے 2009 ء میں قائم کئے جانے والے ایک فنڈز کے تحت پاکستان کوایک ارب ڈالر دینے کی منظوری تو دی ہے تاہم کمیٹی نے 2012 کے لئے پاکستان کی اقتصادی امداد کا معاملہ مکمل طور پر اوباما انتظامیہ پر چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اوباما انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ چاہیں تو پاکستان کو ایک پیسہ بھی نہ دیں ۔کمیٹی کو اس پرکوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کمیٹی کے ریپبلکن سینیٹر مارک کرک جو پاکستان کے سب سے زیادہ ناقد ہیں کا کہنا تھا کہ اگر اوباما انتظامیہ پاکستان کو سرے سے ہی امداد نہ دینا چاہے توہم ان کے اس فیصلے کے بھی حمایت کریں گے۔
.....................

امریکی دباؤ اور ہماری قیادت کی ذمہ داری!
امریکہ کی طرف سے پاکستان پر جس دو ٹوک انداز میں حقانی نیٹ ورک کو استعمال کرنے کے الزام کے ساتھ مذکورہ گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہاہے اس کے بعد اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ آنے والے دنوں میں حالات کس قدر خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ اگرچہ فاٹا میں سیکڑوں ڈرون حملوں اور کئی بار کی زمینی کارروائی کے بعد آنے والے وقتوں کے بارے میں کسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں تھی مگر 2/مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ آپریشن کے نام پر جو کچھ بھی ہوا، اس کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ دنیا کی واحد سپر طاقت کہلانے والا ملک جن اقدامات کو اپنے مفادات کیلئے ضروری سمجھتا ہے، انہیں بروئے کار لانے کے لئے ہر حد سے گزر سکتا ہے اور ایسے مواقع پر دوستی یا اسٹرٹیجک پارٹنر شپ جیسی باتیں بے معنی ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف نیم دلانہ اقدامات کے الزامات آگے بڑھتے بڑھتے افغانستان میں پراکسی وار کے الزام تک جا پہنچے ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات اس وقت جس کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کے لئے کچھ عرصے سے سفارتی زبان میں ”پیچیدگی“ کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان جاری ملاقاتوں کے سلسلے کا مرکزی نکتہ اسلام آباد کو اپنے قبائلی علاقوں میں ایسی کارروائی پر آمادہ کرنا ہے جو واشنگٹن کے مفاد میں ہو جبکہ پاکستان اس بات کو ماننے میں مشکل محسوس کرتا ہے کہ افغانستان سے ملحق مغربی سرحدوں پر فوجوں کی تعداد بڑھانے کے لئے بھارت سے ملنے والی مشرقی سرحدوں کی نگہبانی میں کمی کردے یا خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں پہلے سے دہشت گردوں کی سرکوبی میں مصروف فوج کی قوت کو نئے محاذ کھول کر تقسیم کردے۔ صدر بارک اوباما کی طرف سے افغانستان سے امریکی افواج کے بتدریج انخلا کے اعلان کے بعد مخصوص نوعیت کے نئے اقدامات کے لئے امریکی دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کچھ عرصے قبل امریکی کانگریس میں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں پاکستانی فوج کی دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر شبہے کا اظہار کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا گیا تھا کہ اس کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں ہے۔ جبکہ امریکی سینٹ نے ایک ارب ڈالر امداد کی منظوری دیتے ہوئے اسے القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کر دیا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امداد بند کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جوبائیڈن، وزیر دفاع لیون پنیٹا اور پاکستان میں امریکی سفیر سمیت مختلف عہدیداروں کے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں پاکستان کو ناقابل اعتبار اتحادی کہتے ہوئے اس کی حدود میں براہ راست کارروائی کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔ تاہم وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے بقول امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ان کی ساڑھے تین گھنٹے کی ملاقات میں کسی بھی فریق نے دوسرے فریق کو کوئی الٹی میٹم نہیں دیا۔ دوسری جانب وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بدھ کے روز امریکی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر سے ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ حقانی گروپ سوویت یونین کے خلاف جنگ کی پیداوار ہے، وہ پاکستان میں موجود نہیں، تاہم واشنگٹن اس کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو کارروائی ہوگی۔ دوسری جانب امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن اور وزیر دفاع لیون پنیٹا سمیت واشنگٹن کے اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے لئے شدید خطرہ ہے اور چونکہ حقانی گروپ کے جنگجو افغانستان میں کارروائی کرنے کے بعد پاکستان میں موجود ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں اس لئے یہ صورت حال امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں۔ امریکی حلقے افغانستان میں نیٹو ہیڈکوارٹر اور امریکی سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار بھی حقانی نیٹ ورک کو قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دے چکے ہیں کہ اسلام آباد اس گروپ کو سرحد عبور کرنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔
حالات خطرے کے اس مقام کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں جس کا اشارہ دیتے ہوئے باب ووڈ ورڈ کی کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے اندر فضائی و زمینی حملے کے اہداف کی پہلے سے نشاندہی کر رکھی ہے۔ سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد کئی ایسے مسائل پیدا ہوئے ہیں جو پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی طرف سے قرضہ دینے سے انکار اور نت نئے الزامات کی بوچھاڑ سمیت سارے آثار یہ ظاہر کررہے ہیں کہ حالات کوئی غیرمعمولی رخ اختیار کرسکتے ہیں جس سے نمٹنے اور اس کے اثرات کم کرنے کے لئے ہمارے پالیسی سازوں کو سرجوڑ کر حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔ اس باب میں کسی خوش فہمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ افغانستان سے واپس جانے سے پہلے اپنی پسند کے نقشے کے مطابق حالات کو ڈھالنا چاہے گا۔ اور اس کے لئے سخت فیصلوں سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایبٹ آباد جیسے کسی غیرمعمولی واقعے کے اعادے کی صورت میں شاید اب حالات کو خطرناک رخ اختیار کرنے سے روکنا ممکن بھی نہ رہے۔ اس لئے جہاں ہماری فوجی و سیاسی قیادت کو دانشمندی سے ضروری تدابیر پر توجہ دینی چاہئے وہاں امریکی انتظامیہ کو بھی یہ بات سمجھنی چاہئے کہ افغانستان میں استحکام کے لئے ایسے انتظامات ہی پائیدار ہوسکتے ہیں جن میں پاکستان جیسے ہمسایہ ملک عافیت محسوس کرسکیں۔ واشنگٹن اپنی اب تک کی پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان، عراق اور لیبیا سمیت کسی بھی ایسے ملک میں امن و استحکام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جہاں اس نے براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کی ہے۔ اب افغانستان سے جاتے وقت ویت نام سے انخلا کی طرح ملحقہ علاقوں میں لاؤس اور کمبوڈیا جیسی صورت حال پیدا کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔ بلاشبہ سفارت کاری میں دوستیاں اور دشمنیاں بدلتی رہتی ہیں۔ مگر ہمسائے بدلنا ممکن نہیں۔ اس لئے ایسا انتظام ہی امریکہ اور عالمی امن کے مفاد میں ہوگا جس سے پاکستان سمیت ہر وہ ملک عافیت محسوس کرے جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

بشکریہ اخبار جنگ