PDA

View Full Version : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ حیات طیبہ پرایک مختصر نظر



گلاب خان
09-23-2011, 03:41 AM
][/color]
امام الانبیاء ا کی پیدائش یتیمی کی حالت میں واقعہ فیل کے تقریباً پچاس دن بعد مشہور قول کے مطابق ۱۲/ربیع الاول مطابق ۲۰/اپریل ۵۷۱ء بروز پیر موسم بہار میں ہوئی۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد اور والدہ نے خواب میں ایک فرشتے سے بشارت پاکر احمد رکھا۔ آپ کی والدہ حضرت آمنہ نے آپ ا کو تین دن تک اپنا دودھ پلایا، اس کے بعد آپ ا کے چچا ابولہب کی باندی ثویبہ نے آپ کو چند دن دودھ پلایا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ نے دوسال پورے ہونے تک آپ کو دودھ پلایا، دوسال پورے ہونے پر آپ کا دودھ چھڑادیا گیا۔آپ ا کی عمر چھ سال تھی کہ آپ اکی والدہ کا انتقال ہوگیا اور جب آپ ا کی عمر آٹھ سال ہوئی تو آپ ا کے دادا عبد المطلب بھی دنیا سے پردہ فرما گئے۔ بارہ سال دو ماہ کی عمر میں آپ ا نے اپنے چچا ابوطالب کی ہمراہی میں تجارت کی غرض سے ملک شام کی طرف پہلا سفر کیا۔ راستے میں یہودیوں کے ایک بڑے عالم بحیرہ راہب سے ملاقات کے بعد جناب ابو طالب نے آپ کو واپس مکہ بھیج دیا، ۱۵/سال سات ماہ کی عمر میں آپ انے اپنے قبیلہ قریش اور ایک دوسرے قبیلہ قیس کے درمیان ہونے والی جنگ (حرب الفجار) میں حصہ لیا، لیکن اس لڑائی میں آپ ا نے کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا، اس جنگ کے بعد عرب کے چند قبائل نے ان جنگوں سے تنگ آکر یہ معاہدہ کیا کہ آئندہ قبائلی عصبیت سے بالاتر ہوکر صرف مظلوم کی مدد کی جائے گی، اس معاہدے کو حلف الفضول کہتے ہیں، آپ ا نے اسے پسند فرماتے ہوئے اس میں شرکت فرمائی، اس وقت آپ ا کی عمر ۱۵/ سال آٹھ ماہ تھی، ۲۳/ سال کی عمر میں آپ احضرت خدیجہ کے سامان کو تجارت کی غرض سے ملک شام لے کر گئے اور اس میں خوب نفع کما کر واپس ہوئے، پچیس سال دوماہ کی عمر میں حضرت خدیجہ سے آپ اکا نکاح ہوا، حضرت خدیجہ کے بطن سے آپ اکے دو بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں، آپ ا کی اولاد میں حضرت قاسم کی پیدائش سب سے پہلے ہوئی، یہ پاؤں پر چلنا سیکھ چکے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔ دوسرے بیٹے عبد اللہ ہیں، انہی کا لقب طیب وطاہر ہے، پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا، ان کی ولادت آپ اکو نبوت ملنے کے بعد ہوئی۔


جب آپ اکی عمر ۳۰/ سال ہوئی تو آپ اکے ہاں آپ کی بڑی بیٹی حضرت زینب کی پیدائش ہوئی، ان کا نکاح مکہ میں ہی ان کے خالہ زاد بھائی ابوالعاص سے حضرت خدیجہ کے سامنے ہوا، جب آپ اکی عمر ۳۳/ سال ہوئی تو آپ ا کی دوسری بیٹی حضرت رقیہ کی پیدائش ہوئی، جن کا نکاح مکہ میں ہی حضرت عثمان سے ہوا، آپ کی تیسری بیٹی حضرت ام کلثوم ہیں، جن کا نکاح مدینہ میں آپ انے حضرت رقیہ کی وفات کے بعد ۳ ھ میں حضرت عثمان سے کیا تھا۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپ ا کی عمر ۴۱/ سال تھی تو آپ ا کی چوتھی صاحبزادی حضرت فاطمہ کی پیدائش ہوئی، ان کا نکاح مدینہ میں غزوہ بدر کے بعد ذوالحجہ سنہ ۲ ھ میں ہوا، آپ ا کے ایک تیسرے بیٹے حضرت ابراہیم ہیں جو حضرت ماریہ کے بطن سے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، سترہ ماہ کی عمر پاکر ۱۰ھ میں ان کی وفات ہوگئی۔
تقریباً ۳۳/ برس کی عمرمیں آپ ا پر غیبی اسرار کا ظہور شروع ہوا۔۳۵/سال کی عمر میں آپ ا نے قبائل کے سب منتخب افراد کے ساتھ کعبہ کی از سر نو تعمیر کے دوران حجر اسود کی اپنے ہاتھ سے تنصیب کی۔ ۹/ربیع الاول مطابق ۱۴/فروری ۶۱۰ء کو جب آپ ا کی عمر چالیس برس ایک دن تھی تو باضابطہ طور پر آپ اکو اللہ رب العزت نے خلعتِ نبوت کے ساتھ ممتاز ومشرف فرمایا۔ بعثت نبوی (آپ اکو نبوت ملنے کے بعد سے شروع ہونے والا زمانہ) کے پہلے سال صبح وعصر کی نمازیں فرض کردی گئیں، اٹھارہ رمضان المبارک کو جب آپ ا کی عمر چالیس سال چھ ماہ چھ دن ہوئی تو آپ ا پر قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا، نبوت ملنے کے تین سال بعد تک آپ خفیہ تبلیغ فرماتے رہے. جس کے نتیجے میں ۳۰/ سے زائد افراد مسلمان ہوگئے۔ تین سال کے بعد آپ ا نے اسلام کی تبلیغ علی الاعلان شروع کردی، جس کے نتیجے میں کفار مکہ جو اس وقت بیت اللہ میں رکھے بتوں کو پوجا کرتے تھے، آپ ا کے جانی دشمن بن کر آپ ا اور آپ ا کے صحابہ وصحابیات کو تکلیفیں پہنچانے لگے، ان کفار مکہ کے مظالم جب حد سے بڑھنے لگے تو آپ انے بعثت کے پانچویں سال اپنے صحابہ کرام ودیگر اقارب کو جو تقریباً گیارہ مرد اور چار عورتوں پر مشتمل پندرہ افراد تھے، ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا (تین ماہ بعد اس اطلاع پر کہ اہل مکہ نے اسلام قبول کرلیاہے، ان میں سے کچھ افراد مکہ واپس آگئے ،یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ اطلاع جھوٹی تھی) بعثت کے چھٹے سال حضرت حمزہ اور حضرت عمربھی اسلام لے آئے تو لوگ اعلانیہ اسلام میں داخل ہونے لگے، اسلام کی روز بروز بڑھتی ہوئی شان سے خوفزدہ ہوکر کفار مکہ نے آپ ا کے خاندان بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کے مکمل مقاطعہ کے لئے ایک عہد نامہ لکھ کر بیت اللہ میں لٹکادیا، اس طرح آپ ا بعثت کے ساتویں سال ایک گھاٹی شعب ابی طالب میں اپنے تمام اقرباء ورفقاء سمیت مقید کردیئے گئے، ان سخت حالات میں آپ ا نے اپنے صحابہ کرام کو ایک مرتبہ پھر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کے لئے فرمایا، جن میں تراسی مرد اور بارہ عورتیں شامل تھیں۔ تین سال بعد اس شدید محاصرے کا خاتمہ ہوا ۔ جب آپ اکی عمر تقریباً ۴۹/ سال سات ماہ ہوئی تو ماہ شوال میں آپ ا کے چچا ابوطالب وفات پاگئے اور اس کے صرف تین دن بعد ہی حضرت خدیجہ کا بھی انتقال ہوگیا، اسی لئے آپ انے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا۔
اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں شب آپ ا معراج کے سفر پر تشریف لے گئے۔ اور اسی سفر میں پانچوں نمازیں فرض کی گئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں اسلام کی اشاعت کا فیصلہ فرمالیا تو قبیلہ اوس کے چند آدمیوں کی آپ ا سے مکہ میں ملاقات ہوگئی اور ان میں سے دو آدمی اسعد بن زرارہ اورذکوان بن عبد قیس مشرف باسلام ہوئے۔ بعثت نبوی کے گیارہویں سال کچھ اور آدمی مدینہ سے آکر آپ اکو ملے اور ان میں سے تقریباً آٹھ افراد مسلمان ہوئے ۔ بعثت نبوی کے بارہویں سال جب آپ ا کی عمر ۵۲/ سال تھی، ماہ ذو الحجہ میں جمرہ عقبہ کے قریب مدینہ سے آئے ہوئے تقریباً بارہ افراد نے آپ ا کے ہاتھ پر بیعت کی، جسے بیعت عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے، اگلے سال جب آپ ا عمر کے تریپنوے سال میں تھے تو ماہ ذو الحجہ میں مدینہ طیبہ سے ایک بڑا قافلہ مکہ معظمہ پہنچا، جن میں ستر مرد اور دوعورتیں شامل تھیں۔ آپ انے نصف شب کے وقت جمرہ عقبہ کے قریب ان سے ملاقات کی، اس وقت آپ ا کے چچا حضرت عباس بھی آپ ا کے ساتھ تھے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضرت عباس نے مدینہ سے آئے ہوئے ان حضرات سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: یہ میرا بھتیجا ہے جو ہمیشہ اپنی قوم میں عزت وحفاظت کے ساتھ رہا ہے، تم ان کو مدینہ لے جانا چاہتے ہو ۔ اگر ان کے مخالفین سے ان کی حفاظت کا ذمہ لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کو اپنے قبیلہ میں رہنے دو۔اس مدنی قافلہ کے سردار نے کہا کہ ہم حضورا کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں، اے اللہ کے رسول ! اپنا دست مبارک دیجئے کہ ہم بیعت کریں، آپ ا نے ہاتھ بڑھادیا اور یہ سب لوگ بیعت نبوی سے مشرف ہوئے، اس بیعت کو بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں۔
پھر اسی سال آپ ا ماہ صفر کی ستائیسویں شب میں مکہ سے حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لئے روانہ ہوکر غار ثور پہنچے اور اس غار میں تین راتیں قیام کرنے کے بعد یکم ربیع الاول ایک ہجری (وہ زمانہ جو آپ ا کے مدینہ کی طرف ہجرت سے شروع ہوا) بروز پیر جب آپ ا کی عمر تقریباً باون سال گیارہ ماہ انیس دن تھی، مدینہ طیبہ روانہ ہوگئے، سات دن کے سفر کے بعد ۸/ربیع الاول سنہ۱ھ مطابق ۲۳/ ستمبر ۶۲۲ء بروز پیر آپ ا مدینہ کے علاقے قباء پہنچے اور یہاں مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔ ۱۲/ربیع الاول بروز جمعہ آپ اقباء سے سوار ہوکر بنی سالم کے گھروں تک پہنچے تھے کہ جمعہ کا وقت ہوگیا ،یہاں تقریباً سو آدمیوں کے ساتھ آپ ا نے اسلام کا پہلا جمعہ پڑھایا۔ جمعہ سے فارغ ہوکر آپ یہاں سے روانہ ہوئے، جہاں اب مسجد نبوی ہے، اس سے متصل حضرت ابو ایوب انصاری کا گھر تھا، یہاں آکر آپ ا کی اونٹنی رک گئی ،پھر آپ نے مستقل یہیں قیام فرمایا۔
مدینہ میں قیام کے بعد ماہ ربیع الاول میں ہی سب سے پہلے آپ نے مسجد نبوی اور ازواج مطہرات حضرت سودہ اور حضرت عائشہ کے لئے گھر تعمیر کرائے۔ جب مسجد نبوی کی تعمیر تقریباً مکمل ہوگئی تو آپ انے انصار کو بلایا اور مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے ۴۵/ مہاجرین اور ان انصار مدینہ کے مابین مواخات قائم کرتے ہوئے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بلاکر فرماتے گئے کہ یہ اور تم بھائی بھائی ہو، اور پھر آپ نے اسی سال اسلام کا پہلا مدرسہ صفہ قائم فرمایا۔صفہ سائبان کو کہتے ہیں، یہ سائبان مسجد نبوی کے ایک کنارے پر مسجد سے ملاہوا تیار کیا گیا تھا،آپ ا کے صحابہ جو دن بھر آپ سے احادیث سنتے تھے، رات کو یہیں آرام فرماتے۔
اسی سال آپ نے ایک منشور تیار کیا جس میں مہاجرین وانصار کے علاوہ ان یہود ومشرکین کو بھی شامل کیا گیا جو اس وقت مدینہ میں آباد تھے، جس کا مقصد بلا امتیاز مذہب وقوم کے اندرونی وبیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک اتحادی عمل کی ترویج تھی، اس معاہدہ کو میثاق مدینہ کہا جاتا ہے، اسی سال ماہ شوال میں حضرت عائشہ کی (جن کا نکاح آپ سے پہلے ہی ہو چکا تھا) رخصتی ہوئی۔ اس سال آپ نے دوسریّے (سریہ جہاد کے اس دستے کو کہا جاتا ہے جس میں آپ نے خود شرکت نہ فرمائی ہو، بلکہ اپنے کسی صحابی کو اس دستے کا امیر مقرر کرکے روانہ فرمایا ہو ،خواہ جنگ کی نوبت آئی ہو یا نہیں، نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ دستہ جنگ ہی کی نیت سے روانہ کیا گیا ہو) روانہ فرمائے۔
۲ ھ میں پانچ غزوات (غزوہ اس چھوٹے یا بڑے لشکر کو کہتے ہیں جس میں آپ ابنفس نفیس شریک ہوئے ہوں، خواہ اس سفر میں جنگ کی نوبت آئی ہو یا نہ آئی ہو اور خواہ اس لشکر کے پیش نظر جنگ کے علاوہ کوئی اور مقصد ہو) ہوئے، غزوہ ابوأ جس کو غزوہ ودان بھی کہتے ہیں۔ غزوہ بواط، غزوہ بدر کبریٰ، غزوہ بنی قینقاع، غزوہ سویق۔ اس سال کے غزوات میں سے سب سے اہم غزوہ بدر ہے جو رمضان المبارک کی ۱۸/ تاریخ کو بدر کے مقام پر( جو مدینہ سے ۸۰ میل دور ہے) وقوع پذیر ہوا۔اب تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، حضور ا کی خواہش پر پندرہ شعبان ۲ھ نماز ظہر کے دوران اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی طرف مسلمانوں کو منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اسی سال یکم رمضان المبارک کو روزے فرض کئے گئے اور آپ نے یکم شوال کو نماز عید الفطر پڑھائی اور خطبہ عید الفطر میں لوگوں کو صدقة الفطر کا حکم دیا۔
۳ھ میں تین غزوات ہوئے:غزوہ غطفان، غزوہ احد، غزوہ حمرأ الاسد اور دوسریّے روانہ ہوئے، غزوہ احد اس سال کا سب سے اہم غزوہ ہے جو ماہ شوال میں وقوع پذیر ہوا۔ ماہ شعبان میں حضرت حفصہ آپ کے نکاح میں آئیں اور اسی سال ماہ رمضان میں حضرت زینب بنت خزیمہ بھی آپ کی منکوحہ بنیں ۔ کعب بن اشرف یہودی کا خاتمہ، سود خوری کی حرمت کا ابتدائی حکم، شراب کی ابتدائی حرمت کا حکم، یتیموں اور زوجین کے حقوق سمیت وراثت کے مفصل قوانین کا نزول بھی اسی سال ہوا۔ ۴ھ میں دو غزوات پیش آئے: غزوہ نبی النضیر، غزوہ بدر صغریٰ اور چار سریّے روانہ کئے گئے۔ اس سال کے اوائل میں آپ اکی زوجہ حضرت زینب بنت خزیمہ (جو صرف چار ماہ قبل آپ اکے عقد میں آئی تھیں) انتقال فرماگئیں۔ یکم ذوالقعدہ بروز جمعہ کو پردے کا حکم نازل ہوا، شراب کی قطعی حرمت کا حکم بھی اسی سال دیا گیا۔نیز حضرت ام سلمہ اسی سال ماہ جمادی الثانیہ میں آپ کے عقد میں آئیں۔
سنہ۵ھ میں چار غزوات ہوئے: غزوہ ذات الرقاع، غزوہ دومتہ الجندل، غزوہ مریسیع جس کو غزوہ بنو المصطلق بھی کہا جاتا ہے اور غزوہ خندق جو زیادہ مشہور اور اہم ہے۔ غزوہ بنو المصطلق سے واپسی پر تیمم کا حکم نازل ہوا، اسی سال ماہ شعبان میں حضرت جویریہ آپ ا کے عقد میں آئیں اور اسی سال حضرت زینب بنت جحش بھی آپ کی منکوحہ بنیں۔
۶ھ میں تین غزوات پیش آئے۔ غزوہ بنی الحیان، غزوہ غابہ جس کو ذی قرہ بھی کہا جاتا ہے، غزوہ حدیبیہ جس کو صلح حدیبیہ بھی کہا جاتا ہے اور گیارہ سریّے بھی روانہ کئے گئے۔ اسی سال کے وسط میں حضرت ام حبیبہ آپ ا کے عقد میں آئیں اور اسی سال کے اواخر میں حضرت ماریہ قبطیہ سے بھی آپ انے نکاح فرمایا، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص بھی اسی سال مسلمان ہوئے اور نیز اس سال آپ انے دنیا کے درج ذیل بادشاہوں کو دعوتی خطوط لکھ کر اپنے صحابہ کے ذریعے ان تک پہنچائے۔ آپ نے دحیہ کلبی کو ہرقل نامی بادشاہ روم کے پاس بھیجا، حضرت عبد اللہ بن حذافہ کو کسریٰ خسرو پرویز کج کلاہ ایران کی طرف روانہ فرمایا اور حاطب بن ابی بلتعہ کو سلطان مصر واسکندریہ (مقوقس) کی طرف بھیجا اور عمرو بن عاص کو بادشاہان عمان یعنی جیفر اور عبد اللہ کے پاس بھیجا۔
۷ھ میں صرف ایک غزوہ خیبر ہوا اور پانچ سرایا آپ انے روانہ فرمائے، غزوہ خیبر کے بعد اس سال کے اوائل میں آپ ا نے حضرت صفیہ سے نکاح فرمایا اور اسی سال کے آخر میں حضرت میمونہ بھی آپ ا کے عقد میں آئیں، اسی سال آپ ا نے اس عمرہ کی جو صلح حدیبیہ میں چھوڑدیا گیا تھا، قضاء فرمائی۔
۸ھ میں چار اہم غزوات پیش آئے۔ غزوہ موتہ، فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ طائف اور دس سرایا آپ نے روانہ فرمائے، ابوسفیان جو اب تک مسلمانوں کے دشمن تھے ،اس سال اسلام لے آئے۔
۹ھ میں غزوہ تبوک ہوا اور آپ نے تین سرایا روانہ کئے... غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ ا نے منافقین کی مسجد ضرار ( جس میں جمع ہو کر وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مشورہ کرتے تھے) کو آگ لگادینے کا حکم دیا۔ اطراف عالم میں پھیلتی اسلام کی نشر واشاعت سے متاثر ہوکر اس سال درج ذیل وفود قبول اسلام کی غرض سے آپ کی خدمت میں پیش ہوئے: وفد ثقیف، وفد بنی فزارہ، وفد بنی تمیم، وفد کندہ، وفد بنی عبد القیس، وفد بنی حنیفہ، وفد بنی قحطان، وفد بنی الحارث، نیز اسی سال عیسائیوں کا ایک وفد جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا ،جسے وفد نجران کہا جاتا ہے، آپ ا سے مدینہ میں ملا ،یہ لوگ جب ایمان نہ لائے تو آپ ا نے انہیں جزیہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے لئے ایک صلح نامہ تحریر فرمایا۔
۱۰ھ میں آپ انے صرف دو سریّے روانہ فرمائے اور اسی سال ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ آپ انے حجة الوداع ادا فرمایا اور جو مسلمان اس سال حج میں نہیں تھے، ان کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔
۱۱ھ میں سفر حج کے بعد ۲۶ صفر ۱۱ھ بروز پیر آپ ا نے ایک سریہ جہاد روم کے لئے تیار فرمایا، جس میں حضرت صدیق اکبر ، حضرت فاروق اعظم اورحضرت ابوعبیدہ جیسے اکابر شامل تھے، مگر اس کے امیر حضرت اسامہ مقرر ہوئے، یہ وہ آخری لشکر تھا جس کا انتظام حضور ا نے خود فرمایا، ابھی یہ لشکر روانہ نہ ہوا تھا کہ ۲۸ صفر ۱۱ھ میں آپ اکو بخار شروع ہوگیا ،جب آپ ا کا مرض طویل اور سخت ہوگیا تو ازواج مطہرات سے اجازت لے کر آخری ایام مرض میں عائشہ صدیقہ کے گھر رہنے لگے، رفتہ رفتہ مرض اتنا بڑھ گیا کہ آپ ا مسجد تک بھی تشریف نہ لاسکتے، ایسی صورت حال میں آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ: صدیق اکبر سے کہو کہ نماز پڑھائیں، تقریباً تیرہ دن متواتر یہ بخار رہا اور ۱۲/ ربیع الاول ۱۱ھ بروز پیر بوقت چاشت آپ انے ہاتھ کو بلند فرمایا: زبانِ قدسی سے اللّٰہم الرفیق الاعلیٰ کہتے ہوئے جسم اطہر سے روح انور پرواز کرکے عالم قدس میں جا پہنچی، قمری سال کے مطابق اس وقت آپ ا کی عمر ۶۳ سال چار دن تھی۔ انا لله وانا الیہ راجعون

سقراط
11-25-2011, 07:38 PM
ماشاءاللہ گلاب بھائی اللہ آپ کو خوش رکھے آپ نے دین اسلام سیکشن میں بہت پیارے مضمون لگائے ہیں

گلاب خان
11-25-2011, 08:10 PM
شکریہ سقراط بھای یے سب آپ دوسطو کی حوسلہ افزای کی وجہ سے ہے شکریہ

سیما
03-11-2012, 03:08 AM
جزاک اللہ

طارق راحیل
05-13-2012, 02:08 PM
سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔