PDA

View Full Version : اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور تعلیمات نبویﷺ



گلاب خان
09-23-2011, 04:05 AM
اسلامی تعلیم کا بنیادی مقصدانسانی معاشرے کی اصلاح کرنا ہے، اور اس طرح اصلاح کرنا ہے کہ دنیا میں تمام انسان امن و امان کی زندگی بسر کریں اور اس طرح زندہ رہیں کہ اخلاق کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور آخرت کی لامتناہی زندگی کے لیے پورے اخلاق و تقویٰ کے ساتھ تیاری کریں اﷲ ان سے راضی ہو، اسلامی تعلیم کا یہ بنیادی مقصد صرف اس طرح سے حاصل ہوسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہم رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے یہ معلوم کریں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے معاشرے کی اصلاح کس طرح کی تھی۔

ہمارے لیے اس دنیا کے کسی دوسرے مفکر اور مصلح فلسفی اور رہبر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے سامنے ہر کام کی غایت اﷲ سبحانہ رعالیٰ کی رضا ہے اور اﷲ نے قرآن حکیم میں واضح طور پر ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی صرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی ہی سے حاصل ہوسکتی ہے، بلکہ اس نے ہم سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ تم اﷲ کے رسول کی پیروی کروگے تو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ذرا غور فرمائیے کسی انسان کے لیے اس سے زیادہ بڑا مرتبہ اور کیا ہوسکتا کہ خود اﷲ اس سے محبت کرنے لگے۔

اس تمہید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اصلاح معاشرہ کے لیے بھی ہمیں رسول کا ہی اتباع کرنا ہوگا اور آپ ہی کی بتائی ہوئی راہ پر چلنا ہوگا اور آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنا ہوگا، ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے آخری رسول کی پوری زندگی کا ریکارڈ ہمارے اسلاف نے ہمارے لیے جمع کردیا ہے، اس کے علاوہ حضرت عائشہؓ کے بلیغ ارشاد کے مطابق خود قرآن حکیم ہی آپ کی مبارک زندگی کا سب سے زیادہ قابل اعتماد وسیلہ موجود ہے۔ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو کامیابی حاصل کی وہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم واقعہ ہے، عرب کے باشدنے مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے، جہالت و سرکشی نے انہیں ایسے اوصاف سے بھی محروم کردیا تھا کہ کہ جو تمام انسانوں کے لیے تو کیا خود ان کے لیے ہی ایک پر امن معاشرہ مہیا کرت، ایسے معاشرے میں اﷲ کے رسول پیدا ہوئے اور اﷲ تعالٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذمہ یہ کام لگایا کہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کریں اور اس طرح اصلاح کریں کہ وہ دنیا کا مثالی معاشرہ بن جائے اور افراد معاشرہ دنیا کی بہترین افراد بن جائیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو بنیادی اصولوں پر عمل کیا، ایک تو یہ کہ آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی، جس پر آپ خود عمل نہ فرماتے ہوں، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہ تھا، جو فرماتے تھے خود اس پر عمل فرماتے تھے۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اصلاح معاشرہ کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اصلاح کرنے والا خود اس پر عمل نہ کرتا ہو، یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ رسول اﷲ کی تعلیم اور اصلاح معاشرہ کی کوئی کوششیں ایسی بار آور ہوئیں کہ لوگوں کی کایا پلٹ گئی، لیکن آپ سے قبل سقراط، افلاطون اور ارسطو اور بیسوں دوسرے حکما اور فلسفی اور مصلحین جو وعظ نصیحت کرتے رہے اور انہوں نے فلسفہ اور عقل و دانائی کی بنیاد پر شان دار عمارتیں کھڑی کردیں لیکن معاشرے پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا ایسا صرف اس لیے ہوا کہ وہ دوسروں کو تو روشنی دکھاتے رہے، لیکن خود تاریکی سے باہر نہیں آئے وہ رحم و محبت کا سبق پڑھاتے رہے، لیکن خود غریبوں پر رحم کھانے سے عاری تھے اور دشمنوں سے محبت کرنے کی عظمت سے محروم تھے۔ آج ہمارے معاشرے کا کیا حال ہے؟ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ قرآن نے کہا

: ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکة ﴾سورة البقرہ﴿

ترجمہ: اپنے تئیں اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالوں۔“

احکام الٰہی کی رو سے انسان کو اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا منع ہے، مگر ہم نے اﷲ اور رسول اور قرآن و سنت سے صرف نظر کرکے خود کو، اور پوری ملت پاکستانیہ کو اس راہ پر ڈالے رکھا جو صرف ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے، چنانچہ آج حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر قسم کے رذائل سرایت کرچکے ہیں، حد یہ ہے کہ عزت اور جان بھی اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں خطرے میں رہتی ہے، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اصلاح معاشرہ کی کوشش نہ ہورہی ہو، سیاست دان اصلاح کی تلقین کرتے رہتے ، وعظ و تبلیغ کا ایک سلسلہ ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے برابر جاتی ہے، مسجدوں کے امام ہر جمعہ کو لوگوں کو اچھا ننے کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن ان تمام کوششوں کا بظاہر کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آتا، غالباً اس کی بہت بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم جو بات یا کام ترک کرنے کو کہتے ہیں خود ترک نہیں کرتے، یہ طریق اصلاح سنت رسول کے خلاف ہے، اس لیے کبھی بر آور نہیں ہوسکتا۔ اسلام میں اصلاح معاشرہ کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اوائل زندگی ہی سے سچائی اور راست بازی پر سختی کے ساتھ عمل کیا اور مسلمانوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرتے رہے، خود آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور صحابیوں کو بھی اس رذیل ترین فعل سے احتراز کرنے کی تاکید فرماتے رہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ وصف بعثت سے قبل بھی اس قدر نمایاں تھا کہ کفار و مشرکین بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو صادق اور امین مانتے تھے۔ معاشرے کی تمام برائیوں میں سرفہرست جھوٹ ہے، اسلام کی لغت کا سخت ترین لفظ ”لعنت“ ہے، قرآن پاک میں اس کا مستحق شیطان اور اس کے بعد مشرک، کافر اور منافق کو بتایا گیا ہے، لیکن کسی مومن کو کذب یعنی جھوٹ کے سوا اس کے کسی فعل کی بناءپر لعنت سے یاد نہیں کای گیا ہے، اس کا مطب یہ ہے کہ جھوٹ ایسی برائی ہے کہ مسلمان سے بھی سرزد ہو تو اس کے لیے لعنت کی وعید ہے۔ پاکستان کا معاشرہ کئی قسم کی برائیوں میں مبتلا ہے، ذخیرہ اندوزی، چیزوں میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، آپس ہی میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش، لوٹ مار، ڈاکا، انسانوں کا اغوا اور قتل و غارت، وعدہ خلافی، خیانت اور بددیانتی، چغل خوری، بہتان اور غیبت، رشوت اور جوا اور سود، سوال یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کیوں کر ہو؟ اس کا عملی جواب یہ ہے کہ سربراہان معاشرہ اپنے کردار کو درست کریں اور صرف ایک برائی کو چھوڑنے کی کوشش کریں تو معاشرہ بتدریج انشاءاﷲ اصلاح کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ آئیے اب رفعت خلق کی بلندی اخلاق کا تجربہ کرلیں اور اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ صرف اخلاق کی اچھائی سے ہم معاشرے کی اصلاح کرسکتے ہیں اور پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بناسکتے ہیں۔ دعا ہے کہ ا ﷲ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اور اپنے ملک کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔