PDA

View Full Version : کار چور محمد حسن کے سنسنی خیز انکشافات



بےباک
09-23-2011, 11:16 AM
کار چور ڈان کا انکشاف، اے سی ایل سی کے 5 پولیس افسروں کی برطرفی کا فیصلہ
اسلام آباد (شکیل انجم) جیل میں بند کار ڈان محمد حسن کے انکشافات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ابھی نوٹس لینا ہے تاہم اسلام آباد پولیس نے محمد حسن کے انکشافات کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 5 مشتبہ پولیس افسروں کے خلاف ایکشن شروع کر دیا ہے اور کم از کم ایک قیمتی گاڑی برآمد کر کے اس کو اصل مالک کے حوالے کر دیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے اشارہ دیا ہے کہ کار چور ڈان سپریم کورٹ کیلئے 33صفحات کا جو بیان ریکارڈ کروایا ہے اس کی روشنی میں اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) اگر براہ راست کاروں کی ہائی جیکنگ میں ملوث پایا گیا تو اس کو جلد ختم کر دیا جائے کا۔ اس نمائندے کے رابطہ کرنے پر آئی جی بن یامین خان نے اشارہ دیا ہے کہ اگر اے سی ایل سی کی کارکردگی دن بہ دن خراب ہوتی رہی تو اس کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔ ذرائع نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ ایس ایس پی اسلام آباد کی نگرانی میں قائم محکمانہ تحقیقات کے بعد پولیس حکام نے کاروں کی چوری میں ملوث پولیس افسروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب اس نمائندے نے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا توا نہوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اسی اثناء میں ہائی جیکنگ مافیا کی مدد کرنے کے الزام میں 5پولیس افسروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ محمد حسن پہلے ہی یہ انکشاف کر چکا ہے کہ کار چوری کی وارداتوں میں پولیس افسران ملوث ہیں۔ ان میں اے سی ایل سی کے سب انسپکٹر شمس نے ہائی جیک کرنے والے گینگز کو ”جیمرز“ فراہم کئے جس کی مدد سے کاروں میں نصف چوری سے محفوظ رکھنے والے تمام آلات جن میں سیفٹی الارم اور ٹریکنگ سسٹم بھی شامل ہے ناکارہ بنا دیئے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کار چوری کی وارداتوں میں ڈی ایس پی رزاق، سب انسپکٹر شمس، انسپکٹر مجید، سب انسپکٹر اسحاق، انسپکٹر خالد مسعود، انسپکٹر شفیق اے ایس آئی شریف، اے ایس آئی منظور اور اے ایس آئی طارق ملوث تھے۔ تاہم انسپکٹر شفیق سب انسپکٹر شمس، سب انسپکٹر اسحاق، اے ایس آئی شریف اور اے ایس آئی منظور کا ملوث ہونا ابھی مشتبہ ہے۔ اس نمائندے نے جیل میں قید کار ڈان کی طرف سے نامزد کردہ ان تمام افسروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کار چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی۔

کار چور ڈان محمد حسن جسے جیل میں اس دھندے میں ملوث افراد کے نام منظر عام پر لانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، نے جیل میں مزید راز بتانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اسے خود کو قتل کئے جانے کا ڈر ہے تاہم مرنے سے قبل وہ جو کچھ جانتا ہے اسے افشا کرنا چاہتا ہے۔ پشاور جیل میں دی نیوز سے ایک اور ملاقات میں اس نے بتایا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں کم از کم 8 سے 9 کار چور گینگ کام کر رہے ہیں۔ ان میں عمران گوگا گینگ، رئیس خان باجوڑی گینگ، رئیس کے بھائی سردار باجوڑی گینگ، کاکو خان گینگ، شیراز خان گینگ، امتیاز خان گینگ، بابر اور رضوان خان گینگ شامل ہیں۔ یہ تمام گینگ راولپنڈی میں مقیم ہیں اور راولپنڈی اور اسلام آباد میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس فیلڈ میں عمران گوگا اور اس کے گینگ کے ممبر سب سے آگے ہیں جو ٹیوٹا کرولا گاڑیوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ عمران گوگا راولپنڈی کے محلہ وارث خان میں رہتا ہے تاہم اس کے گھر لاہور اور اٹک میں بھی ہیں، اس کی ماں لاہور، 2 شادی شدہ بہنیں چارسدہ میں رہتی ہیں تاہم اس کا سسر اٹک جیل میں ہے۔ اس نے بتایا کہ اتوار کے روز بھی ڈی ایس پی رزاق اور لال دین مجھ سے ان گینگز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے تاہم میں نے انہیں معلومات دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ پہلے ہی ان گینگز کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ گینگ کار چوری کرنے کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بعض گینگ گاڑی کا شیشہ توڑ کر الارم کو ناکارہ بناتے ہیں پھر ”ماسٹر کی“ کی مدد سے گاڑی لے جاتے ہیں۔ دیگر گاڑیاں چوری کرنے والے جیمرز استعمال کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی چوری کرنے میں چند سیکنڈ لگتے ہیں۔ بعض روایتی طریقوں سے گاڑیاں چوری کرتے ہیں۔ ان طریقوں میں گیئر ہینڈ بریک لاکس، سٹیئرنگ ویل لاکس، کلچ بریک لاکس کو کاٹنا شامل ہے۔ اس نے بتایا کہ جب گاڑی کا مالک سٹیئرنگ بریک پیڈل لاک کا استعمال کرتا ہے تو چور اپنے پیروں کا استعمال کرتے ہوئے اسٹیئرنگ کو طاقت لگا کر نیچے کی جانب دباتا ہے اس طرح لاک سٹیئرنگ سے سلپ ہو کر باہر نکل آتا ہے۔ بعض اوقات کار چور سٹیئر ویل کا کچھ حصہ کاٹ کر ان لاکس سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ اس سارے کام میں ایک سے تین منٹ لگتے ہیں۔ سب سے خطرناک گینگ وہ ہے جو گن پوائنٹ پر گاڑیاں چھینتے ہیں۔ حال ہی میں عمران گوگا سزا کاٹ کر جیل سے باہر آیا ہے اور آج کل فیلڈ میں بہت متحرک ہے۔ رئیس خان باجوڑی کا ڈیرہ راولپنڈی کی پیپلز کالونی کی گلی نمبر 65 میں ہے۔ اس کا بھائی سردار باجوڑی جس کا گینگ آزادانہ طور پر کام کرتا ہے، وہ بھی پیپلز کالونی میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور گینگ کا سرغنہ جو ”تیرے نام“ کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ بھی پیپلز کالونی میں رہتا ہے۔ کاکو خان بھی راولپنڈی میں کار چوری کرنے والوں میں پیش پیش ہے جو محلہ وارث خان میں رہتا ہے جسے راولپنڈی میں پولیس کی سرپرستی حاصل ہے۔ شیراز خان گینگ اسلام آباد اور مری میں کارروائیاں کرتا ہے۔ یہ جی پی او مری کے نزدیک زیر زمین مارکیٹ میں ایک ریسٹورنٹ بھی چلاتا ہے۔ وہ یہیں پر ساری ڈیلز کرتا ہے۔ امتیاز خان کا گروپ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں کارروائیاں کرتا ہے۔ شیراز خان اور امتیاز خان دونوں صوابی کے رہائشی ہیں۔ بابر اور رضوان گینگ علیحدہ علیحدہ کام کرتے ہیں۔ بابر کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ دونوں راولپنڈی کے محلہ وارث خان میں رہتے ہیں۔ گمان ہے کہ رضوان اس وقت زیر حراست ہے۔ رضوان گینگ کے ممبر جینز پہنتے ہیں۔ وہ چھوٹی گاڑیاں سوزوکی مہران، سوزوکی آلٹو چوری کرتے ہیں۔ کالا خان گینگ راولپنڈی میں کارروائیاں کرتا ہے، اس کا بیٹا بھی گینگ کا حصہ ہے۔ کالا خان گینگ ہی راولپنڈی میں زیادہ تر کاریں چوری کرتا ہے۔ پولیس اس کی کارروائیوں سے آگاہ ہے تاہم اس پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے افتخار اور صابر گینگ بھی راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور میں کار چوری کرتے ہیں۔ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر مسلسل سفر کرتے رہتے ہیں اور کسی ایک جگہ پر زیادہ عرصہ قیام نہیں کرتے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران صرف افتخار گینگ نے راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سے 10 بڑی گاڑیاں چوری کیں۔ یہ چوری شدہ گاڑیاں مردان میں جواد ہوتی کو فروخت بھی ہو چکی ہیں۔ سفیر خان گینگ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کار چوری کرنے والے حلقوں میں بہت مشہور ہے۔ محمد حسن نے بتایا کہ میں اسلام آباد، پشاور، ہنگو اور راولپنڈی کے محکمہ ایکسائز اور ٹیکسیشن دفاتر کے اہلکاروں کے بارے میں بھی مزید انکشافات کروں گا اور ان چابی بنانے والوں اور کار واش کرنے والی تنصیبات کے بارے میں بھی بتاؤں گا جو کار چوری کرنے والوں کو سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ مردان کا محکمہ ایکسائز اور ٹیکسیشن اس طرح کی غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہے تاہم کار چور گینگز پشاور اور ہنگو کے ای ٹی او دفاتر سے ڈیل کرتے ہیں۔

خیبر پختونخواہ پولیس نے کار چور ڈان پنجاب کے حوالے کردیا
اسلام آباد (شکیل انجم) کار چور ڈان محمد حسن پیرکو پنجاب پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے اس سے قبل وہ ملک بھر سے کار لفٹنگ میں ملوث وہ تمام نام اور تفصیلات سامنے لا چکا تھا جن کو وہ جانتا تھا، یہ نام 14ہزار الفاظ پر مشتمل 33صفحات کے بیان میں لئے گئے جو اُس نے اس نمائندے کو گزشتہ چند روز میں لکھوایا تھا اور یہ گھنٹوں میں مکمل ہوا، پیر کو خیبر پختونخوا میں مردان پولیس نے اسے پنجاب پولیس کے حوالے کیا ، وہ یہ بیان سپریم کورٹ میں داخل کرانا چاہتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اس ڈان سے تفتیش کی جائے گی کہ ہسپتال میں پولیس حراست کے دوران فرار میں اس کی کس طرح مدد کی گئی۔جس نے ”دی نیوز“ کے سامنے اپنے سابقہ انکشافات میں دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں پھیلے ”کارچور مافیا“ میں کئی اہم شخصیات ملوث ہیں جو حکومتی ایوانوں میں انتہائی اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔کار چور ڈان نے لاہور منتقل کئے جانے سے ایک روز قبل پشاور جیل سے دی نیوز کو بتایا جو پہلے بھی وضاحت کر چکا تھا کہ وہ کس طرح کیمپ جیل لاہور سے فرار ہوا تھا کہ ”ایک آدمی ہے جس کانک نیم ”ایم پی “ ہے ۔ وہ پنجاب کے انتظامی سربراہ کا مشیر ہے اور صوبے کے حکومتی ایوانوں میں کافی اثر و رسوخ کا حامل ہے۔ وہی آدمی ہے جس نے 2009ء میں کیمپ جیل لاہور سے اس کے فرار میں مدد کی تھی جہاں میں کارچوری کے کیسوں میں زیر حراست تھا۔”ایم پی “ ملک جاوید کا بہت اچھا دوست ہے جو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں 35سال قید بھگت رہا تھا ، وہاں ہم دونوں دوست بنے، وہاں سے ہم اسلام آباد کی عدالت سے واپس لانے والے اہلکاروں کو رشوت دے کر فرار ہوئے ، ملک جاوید پھر کبھی نہیں پکڑا گیا مگر مجھے لاہور پولیس نے پکڑ لیا اور کیمپ جیل بھیج دیا، ملک جاوید نے ایم پی کے ذریعے فرار کرایا جس نے پہلے اُسے کیمپ جیل سے طبی بنیادوں پر سروسز ہسپتال منتقل کرایا ، جیل سے کسی ہسپتال میں اسی طرح کی منتقلی کے لئے وہ بہت مشکل وقت تھا کیونکہ صرف چند ہی روز پہلے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے ذاتی طور پر سروسز ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور مشہور زمانہ ”گوجرانوالہ کے ڈبل شاہ“ کا داخلہ منسوخ کردیا اور اسے واپس جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا ۔ تاہم ”ایم پی “ بہت بااثر تھا ، اس نے ملک جاوید سے وعدے کے مطابق کیمپ جیل سے میری سروسز ہسپتال منتقلی کا انتظام کیا ، میرے طبی معائنے کیلئے ایک 5 رکنی میڈیکل بورڈ بنایا گیا۔ جب بورڈنے میرا معائنہ کرنا تھا تب ملک جاوید نے اپنے ذرائع سے ”ایم پی “کا وزٹنگ کارڈ بورڈ کے ایک رکن ایم ایس سروسز ہسپتال کو دکھانے کیلئے مجھے بھیجا۔جب کارروائی شروع ہوئی تو میں نے ”ایم پی “ کا وزٹنگ کارڈ خاموشی سے ایم ایس کے سامنے رکھ دیا۔ اس پر وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور آہستہ سے پوچھا کہ میرا ”ایم پی “ کے ساتھ کیا واسطہ ہے، میں نے انہیں بتایا کہ میرے ملک صاحب سے قریبی تعلقات ہیں، فوراً بعد بورڈ نے میرے حق میں فیصلہ دیدیا اور مجھے کیمپ جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا اور وہاں سے میں نے اپنے ساتھ ڈیوٹی دینے والے پولیس کانسٹیبل اور دوسرے ہسپتال اہلکاروں کو6لاکھ روپے رشوت دے کر آسانی سے فرار ہونے کا انتظام کرلیا۔ ڈان نے انکشاف کیا کہ ملک جاوید تاحال گرفتار نہیں ہو سکا اور وہ کار چوری کا اپنا نیٹ ورک بنا چکا ہے جو لاہور اور سرگودھا میں آپریٹ کرتا ہے۔ وہ تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرتا رہتا ہے۔صرف ایک برس کے دوران اس نے صرف سرگودھا شہر میں ”کٹ اینڈ ویلڈ“ کے ذریعے ٹیمپر کر کے300گاڑیاں ڈسپوز آف کیں اور خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں دوبارہ رجسٹر کرائیں، ان میں سے زیادہ تر گاڑیاں جعلی کاغذات پر دوبارہ رجسٹر کی گئی ہیں، یہ کاغذات زیادہ کراچی کے ہیں کیونکہ ان ایک جیسے نمبروں کی گاڑیوں کے کسی ایک جگہ جمع ہونے کا بہت کم چانس ہوتا ہے۔ ”پنجاب میں یہ گاڑیاں ری سیل کرنے کے کاروبار میں زیادہ تر دو بڑے کردار الطاف اور جواد ملوث ہیں۔ ان کا تعلق مردان سے ہے مگر لاہور اور پنجاب کے دوسرے بڑے شہروں میں اپنے کاروبار جما چکے ہیں جہاں وہ ان تیار شدہ گاڑیوں کو لے جاتے ہیں اور معصوم لوگوں کو بیچ دیتے ہیں۔

محمدمعروف
09-23-2011, 08:43 PM
بے باک جی ادھر ایسا ہی ہے جتنی بھی بد عنوانیاں ہورہی ہیں ان میں ہاتھ بڑے لوگوں کا ہی ہے ان کے تعاون کے بغیر ایسے کام ممکن نہیں ۔

الکرم
04-06-2012, 11:12 PM
بے باک جی ایک مصرعہ یاد آ رہا ہے


ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے انجامِ گُلستاں کیا ہو گا ؟

عبدالصبور شاکر
07-18-2012, 10:02 PM
[size=xx-large][align=right]نہ ادھر ادھر کی تو بات کر ، مجھے یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا ؟؟؟
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں ، تیری رہبری کا سوال ہے ۔۔۔۔

pervaz khan
07-18-2012, 10:26 PM
اچھی شئیرنگ ہے

بےباک
07-19-2012, 08:15 AM
http://www.youtube.com/watch?v=u1SrkWPDlqI
http://www.youtube.com/watch?v=WZwZxn69lX8

بےباک
07-19-2012, 08:26 AM
کار چوروں کے سر غنہ عباس خان کے بھی انکشافات دیکھیے ،
http://www.youtube.com/watch?v=DIanN_epNMM