PDA

View Full Version : امریکا کیسا شکاری ہے ،



بےباک
09-23-2011, 11:34 AM
ایک حکایت ہے کہ ایک شکاری پرندوں کو ذبح کررہاتھا اور ساتھ ہی اُن کو تڑپتے دیکھ کر روبھی رہاتھا ۔دور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا ایک پرندہ اپنے ساتھی پرندے سے کہنے لگا یہ شکاری بہت رحم دل ہے ۔دوسرے پرندے نے جب اِس کی یہ بات سنی تو بڑی حیرانگی سے اِس کی جانب گھور کردیکھا اور بولا مجھے تو تم پاگل لگ رہے ہو....اُس نے کہا ارے بیوقوف! اِس کے آنسووں کو نہ دیکھ اُس کے ہاتھ کو دیکھ کہ یہ کس قدرتیزی سے ہم جیسے معصوموں کی کمزورگردنوں پر چھری پھیر رہا ہے۔اور اپنے ہاتھ اِن کے خون سے رنگ کر اپنا منہ پیچھے کر کے مسکرا(جشن بنا) رہاہے۔ اور آج ہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوںاور قوم کو بھی اُس دوسرے پرندے کی کہی ہوئی یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ شکاری کو روتا مت دیکھیں بلکہ اِس کے ہاتھ میں پکڑی گئی چھری اور اُس چھری کے کام(ملک میں ہونے والے بم دھماکے،خودکش حملوں) کو دیکھیں جس سے وہ تیزی سے پرندوں (ہم پاکستانیوں) کی گردنیں کاٹنے کا کام لے رہا ہے۔ یعنی پاکستان میں معصوم اور نہتے انسانوں کی گردنوں پر بیدردی سے چھری پھیر کر انہیں موت کی وادی میں دھکیلنے والا اُس شکاری کے روپ میں امریکا ہے جو ایک طرف تو یہ ظاہرکررہا ہے کہ وہ پاکستان کا استحکام چاہتاہے اور اِسے مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لئے وقتاََ فوقتاََ اربوں ڈالرز کی امداد اورانتہائی آسان اقساط پر قرضے بھی مہیاکرتا رہتاہے مگردوسری طرف درحقیقت اِس کی اِن تمام ہمدردیوں کے منظر اور پس منظر میں اِس کایہ ایک ہی مفاد وابستہ ہے کہ پاکستانی حکمران اور عوام اِس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اِس کے آلہ کار بننے رہیںاور اِس کے ڈالرز کی مد میں ملنے والی امداد اوراِس کے دیئے گئے قرضوں کے بدلے میںیہ اپنی آنکھیں اور زبان بند رکھیں اور بس....اور اِسے اپنی ہی سرزمین(پاکستان) پر وہ کچھ کرنے دیں جو وہ چاہتاہے۔اور وہ یہ چاہتاہے کہ وہ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے ساتھ مل کرپاکستان کے علاقوں میں دہشت گردوں کی تلاش کے بہانے اِس کے ہی شہریوں کو ڈرون حملوں اور بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے مارتا رہے اور پاکستان میں استحکام کے نام پر عدم استحکام پیدا کرتارہے۔
اِس پس منظر میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستانی حکمران اور اپوزیشن کے رہنمااپنے اقتدار اور اپنے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لئے کسی حیل حجت اورکسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کردیں گہ وطن عزیز میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان ہی ملوث ہیں۔جن کا ایک طرف تو مقصد پاکستان سے اپنے سیاسی اور علاقائی رابطے استوار کرنے کا ڈھونگ ہے تو دوسری طرف یہ پاکستان اور اسلام دشمن گروپ(امریکا، بھارت، اسرائیل اورافغانستان) پاکستان میں اپنی خفیہ ایجینسیوں کے ایجنٹوںاور پاکستان کے اُن باغیوں سے جو اپنی انتہاپسندی کی وجہ سے آج پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں اورپاکستان میں موجود کرمنلزعناصر کوبھی خریدکراوراِن کی ہرطرح سے مددکرکے بھی اِن سے یہ دہشت گردی کا کام لے رہاہے۔

لہذا اَب حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ مل کر اپنے دوست نما دشمنوں پر یہ حقائق بھی آشکارہ کردے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہماری مدد کرنے والا دوست امریکا اور اِس کے حواری بھارت، اسرائیل اور افغانستان اپنے اپنے عزائم کی تکمیل کے خاطر متحرک ہیں اوراِس کے ساتھ ہی حکمران اِن پر یہ بھی باور کردیں کہ اَب حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام اِن کی اِس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دی گی۔ کیوں آج پاکستانی قوم اور حکومت جاگ چکی ہے۔ اِس لئے آج کے بعد سے ہمارا امریکا اور اِس کے حواریوں سے دوستانہ رویہ اور مراسم ختم اور اَب ہم بھی اِن کے ہر رویئے کا جواب اُسی طرح سے دیں گے جیسارویہ اور جیسی زبان یہ ہمارے لئے استعمال کریں گے۔کیوں کہ اَب پاکستانیوں کے کاندھے آئے روز اپنے پیاروں کی میتوں کو کاندھے دے دے کر تھک چکے ہیں اور آنکھیں اِن کے غموں میں آنسوں بہا بہا کر خشک ہو چکی ہیں۔اَب وقت آ گیاہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے۔اور امریکا، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی پاکستان میں کی جانے والے دہشت گردی کو دنیا کے سامنے عیاں کیا جائے۔