PDA

View Full Version : پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟



بےباک
09-23-2011, 11:45 AM
پاکستان کے دشمن حکمران اور ادارے؟؟؟
“کالم“ پروفیسر شبیر احمد خورشید

آج تک ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان کے سب سے بڑے دشمن گنوائے جاتے ہیں ۔جب بھی کوئی خطر ناک واقعہ ہوتا ہے تحریک طالبان کا اُس واقعے کے ظہور پذیر ہوتے ہی ہمارے میڈیا سے اعلان کرا دیا جاتا ہے کہ تحریکِ طالبان نے وا قعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔مسجد پر حملہ ہو طالبان کا بیان آجاتا ہے ہے ہم نے کرایا؟ جنازے پر حملہ ہو طالبان کا بیان آجاتا ہے ہم نے کیا؟ کسی بزرگ کے مزارپر حملہ ہو طالبان نے کیا ہے۔ امام باڑے اور ماتمی جلوس پر حملہ ہو طالبا کا بیان آجاتا ہے ہم نے کیا۔بازار اور کھیل کے میدان میں حملہ ہو طالبان کا بیان آجا تا ہے ہم نے کیا۔دوسر ی جانب متعد د بار طالبان کے اصل رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔ اُ ن کا ہمیشہ یہی کہنا رہا ہے کہ ہمارے اصل دشمن کفار ہیں اور خاص طور پر امریکی فوجی اور ان کے گماشتے ہیں، ہم بے گناہوں ،عبادت گاہوں ، عورتوں اور بچوں کھیلوں کے میدانوں اور جنازوں اور دیگر جلوسوں اور مزارات پر حملے نہیں کرتے ہیں۔ قابلِ غور اورسب سے عجیب بات یہ ہے کہ کبھی نائٹ کلبوں ،شراب خانوں ،جوا خانوں اور سینما گھروں پر ان لو گوں نے حملے کیوں نہیں کرائے؟ جبکہ یہ مقامات تو ان کے نظریات اور عقائد کے بھی خلاف ہیں !!!اور یہاں پر نقصانات بھی بھاری ہو سکتے تھے ۔یہ تمام باتیں تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قائرین اصل اور نقل طالبان میں تمیز کر سکیںاورپاکستان کو تباہ کرنے کی سازشوں کا خود اندازہ لگا سکیں۔ہاں شائد اس تحریر کے بعد امریکی اور ہندوستانی ایجنٹ ان چیزوں پر بھی حملے شروع کرا دیں …

روز روز ہماری تنصیبات ،جی ایچ کیو،آئی ایس آئی ،پولیس سینٹرز اور ملٹری اثاثوںبمعہ کاکول اکیڈمی سے ملحقہ ایبٹ آباد حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس ملک کے دشمن تمام ٹولے بمعہ دولت کے پجاری صدر زرداری اور امریکیوں کے سامنے سربسجودہوجانے والے وزیر اعظم یوصف رضا گیلانی اور دیگر ….سب ایک ہی رٹ لگاتے دکھائی دیتے ہیں کہ طالبان نے حملے کئے ہیں ۔ہمارا دشمن ہماری بغل میں بیٹھ کر ہماری تباہی کرتا رہا ہے جوممبئی حملوں پر بل کھاتے ہوے شاطرانہ انداز میں کھیل کھیل رہا ہے۔یہ کھیل نہ تو رحمان ملک کو نظر آ تے ہیں اور نہ ہی امر یکہ کی آشیر واد سے ایکسٹینشن لینے والوں کونظر آتے ہیں۔ سب مل کر اس مملکتِ خدا داد کی تباہی کے درپے ہیں یہ لوگ جس تھالی میں کھا رہے ہیں اُسی میں سراخ پہ سُراخ کئے جا رہے ہیں۔جب محافظ ہی دشمن کے ساتھ مل جائیں تو قومیں بر باد ہی ہوا کرتی ہیں۔

ہماری حساس پاک بحریہ کی تنصیبات پر دشمن قوتوں نے 22 مئی 2011 کورات ساڑھے 10 بجے ابتدائی خبروں کے مطابق 9 دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 2 طیار ے PC,3,Orien فائرنگ اور دھماکوں کے ذریعے تباہ کر دیئے گئے۔اس ایک طیاری کی قیمت 36 میلین ڈالر ہے۔یہ تین طیارے 1996 میں جو آبدوز شکن میزائلوں سے لیس،ٹھیک نشانہ لے کر دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کر سکتے میں پاکستان نے اپنے سمندروں کی نگرانی کے لئے بھاری زرمبادلہ کے عوض خریدے تھے ۔ان میں سے دو طیارے تباہ ہوگئے ایک طیارہ اتوار کو مکمل طور پرپی این ایس مہران پر تباہ ہوا۔ اور دوسرا بھی کافی حد تک تباہی کا شکار ہوا ہے۔اس سے قبل ایک طیارہ،29 ،اکتوبر1999 کوپسنی کے قریب سمندر میں مشقوں کے دوران حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا تھا۔پسنی میں تباہ ہونے والا طیارہ بھی مہران بیس سے ہی اڑا تھا۔یہ طیارے سمندری پیٹرولنگ،اینٹی سر فیس وار فیئراور اینٹی سب میرین وار فیئرکے طور پر استعمال کیئے جاتے ہیں۔تباہ ہونیوالا طیاررہ انتہا ئی جدید تھا جو حال ہی میں امریکہ سے اور ہالنگ کے بعد لایا گیا تھا۔جو جدید ترین الیکٹرانک آلات سے بھی لیس تھا۔جس کی مالیت اس وقت 40میلین ڈاکر تھی۔

کہا جاتا ہے کہ شارع فیصل پر واقع پی این ایس مہران بیس کی بحریہ کی تنصیبات پر دہشت گردوں نے جدید ترین روسی اور امریکی خطرنا ک اسلحے سے لیس ہوکر حملہ کیاتھا۔ خبر کے مطابق 20 دہشت گرد تین اطراف سے حملہ آور ہوے ۔کہا جاتا ہے کہ حملہ آور شاہ فیصل کالونی کے ساتھ نالے کو عبور کر کے الیکٹرانک باڑ کو کاٹتے ہوے مہران بیس میں داخل ہوے تھے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ حملہ آور اس قدر محفوظ بیس میں داخل کس طرح ہوے؟دوسرا سوال یہ ہے ان کے راستے میں اور بھی کئی قسم کے جہاز موجود تھے دہشت گردو ں نے 30 C,1 جیسے جہازوں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟تیسرا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو راستے میں انٹر سیپٹ کیوں نہ کیا گیا؟چوتھا سوال یہ ہے کہ ان کو اصل ہدف تک کیونکر پہنچنے دیا گیا اور کس نے ان کی رہنمائی کی اور ان کوٹھیک ٹارگیٹ تک پہنچایا؟جبکہ اُن کی راہ گذر میں سرچ لائٹیں اور حساس کیمرے بھی آئے ہونگے؟انکی کیمرہ فٹج کہاں گئیں؟ پانچواںسوال یہ ہے کہ دو دہشت گرد اتنے سارے سپاہیوں اور کمانڈوز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کس طرح غائب ہونے میں کامیاب ہوگئے؟جبکہ آرمی کے کمانڈوز، نیوی کے کمانڈوز،رینجرز تقریباً 600 سپاہیوں نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا اوربعد میں ان کے ساتھ 600 کی مزید نفری بھی شامل ہوگئی ساری رات میدانِ کارزار گرم رہا مگر کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہواکیوں؟یہ آپریشن دن میں بھی ڈھائی بجے تک جاری رہا ،16گھنٹے یہ آپریشن چلا ۔کہا جاتا ہے کہ تین دہشت گرد تو جوانوں کی گولیوںسے ہلاک ہوگئے تھے اور ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔جبکہ دو فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔نادرا میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی نہیں تھے۔ جن کے لئے ہمار ے وزیر داخلہ نے رجہ رٹ لگائے ہوے ہے کہ یہ طالبان ظالمان تھے۔مہران بیس حملے سے یہ تاثر اور بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کے اثاثے غیر محفوظ ہیں۔دوسری جانب ہمارے کرتا دھرتا اپنی عیاشیوں اور نا اہلیوں کو چھپانے کے لئے ہر واردات کے بعد ایک ہی رٹا رٹایا جملہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری سیکیورٹی تو بہت اعلیٰ پیمانے کی تھی ۔مگر ہماری قسمت ہی میں یہ لکھا تھا۔ہمارے اداروں کی بہادری کی انتہا تو دیکھئے 6دہشت گردوں سے 12سو فوجی ونیول کمانڈز،رینجرز اور پولیس اہلکار نے مقابلہ کیا نتیجہ کیا ڈھاک کے تین پات…اگر پاک بحریہ کے ترجمان کی بات سچ مان لی جائے تو 12دہشت گردوں میں سے چار کی ہلاکت کے بعد آٹھ دہشت گرد فرارہونے میں کامیاب رہے اور ہمارے ادارے منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ غضب خدا کا ایکدہشت گرد کے مد مقابل سو سے دوسوکے قریب اہلکارمکمل تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحہ سے لیس۔ بری طرح سے نا کام ہوے۔جس کا نتیجہ مائنس صفر ہے….اس ضمن میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے بہت ہی عمدہ بات کی ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں دفاعی اداروں کی شکست پر قوم استغفار کرے۔چند مسلح دہشت گردوں کا اہم عسکری مقام میں داخل ہونا 16 گھنٹے تک مقابلے کے بعد فرار ہونا لمحہ ئفکریہ ہے۔

اس سلسلے میں حزب اختلاف کے رہنما مسلم لیگ ن کے قائدمیاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پی این ایس مہران پر حملہ کوئی معمولی دہشت گردی نہیں ہے۔ہمیں کھوکھلا کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔دہشت گرد اور امریکہ دونوں ہی پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ پی تھری سی اورین طیاروں کی تباہی پاک بحریہ کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے !! ان طیاروں کی تباہی کے بعدپاکستان کی سمندری خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت 20 فیصد رہ گئی ہے۔اس سانحے کے بعد پاکستان کے پاس ایک اورین سمیت تین نگراں طیارے باقی بچے ہیںتین پرانے پی تھری سی اورین طیارے ضروری مرمت اور دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کے لئے امریکہ بھیجے ہوے ہیں جو دسمبرمیں ملنا شروع ہوجائیں گے۔جس کی وجہ سے آئندہ دسمبر تک پاک بحریہ اپنی نگرانی کی صلاحیتوں سے جزوی طور پر مفلوج رہے گی جس کا سراسر فائدہ ہندوستان کو جاتا ہے۔ہمارا اس حملے میں را کے ملوث ہونے کا اندیشہ سو فی صد درست دکھائی دیتا ہے۔مگر گونگے بہرے لنگڑے لولے ریاستی کرتا دھرتاؤں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔پتہ نہیں یہ تمام لوگ کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟ انہیں ملک تباہی کے اندھیرے گڑھے میں جاتا کیوں دکھائی نہیں دیتاہے۔ساون کے ان اندھوں کو سب ہرا ہی ہرا دکھائی دے رہا ہے… . اورین طیارے ہارپون میزائلوں اور میک 46 تارپیڈوسے بھی لیس ہیں۔یہ طیارے سمندر اور پلیٹ فارم سے بلا واسطہ اور متبادل حملوں میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔جو سمندر اور فضاؤں میں اہداف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ طیار ے پاک بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔جو 18گھنٹوں تک مسلس محوِ پرواز رہ سکتے ہیں۔اس کا ریڈار 120،ناٹیکل میل تک 360،درجے کے دائرے میں اہداف کی نشاندہی کر کے آسانی کے ساتھ تباہ کر سکتا ہے۔

پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نعمان بشیر نے پریس بر یفنگ میںلگی لپٹی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔جس میں انہوں نے بتایا کہ دہشت گردو ں کا ہدف طیارے تھے یا وہاں پر موجود غیر ملکی تھے اس کا علم نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حملہ سیکیورٹی کی نا کامی ہر گز نہیں تھا!!! تو کیا میرے محترم یہ سیکیورٹی کی کامیابی ہے؟اس آپریشن کے خاتمے کا اعلان رحمان ملک نے شام کو ان الفاظ سے کیا کہ خدا کا شکر ہے آپریشن کامیاب رہا ۔ہماری فورسز نے چار دہشت گر ہلاک کر دیئے جبکہ دو دہشت گرد بھاگ نکلنے میں کا میاب ہوگئے… تاہم ایسے مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں۔یہان رحمان ملک سے قوم سوال کر رہی ہے کہ دہشت گرد کامیا ب رہے یا ہمارے 12سو، سو رما؟انتہائی صدمے اور افسوس کے ساتھ قوم نے بے حس وزیر داخلہ کا بیان سُنا اور خون کے آنسو رونے لگی۔صدافسوس ! صد افسوس !! ایسے ہیں ہمار ے حکمران و محافظین؟جن ممالک کی آنکھوں میں ہمارے ایٹمی اثاثے کھٹکتے ہیں۔وہ ایسے ایک دو اور حملوں کو بہانہ بنا کر ہمارے اثاثوں پر بھرپور قبضہ کر نے کی کوشش کریں گے۔ اور بہانہ یہ تراشیں گے کہ ان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گر د اچک سکتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کی حفاظت کے لئے حاضر ہوے ہیں۔ اس قسم کا پروپیگنڈہ ہندوستا ن امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کی جانب سے کیا جاسکتا ہے،بلکہ کیا جا رہا ہے!!!ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میںغیر ملکیوں اور خاص طور امریکیوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہر گز نہ دی جائے۔کیو نکہ امریکی سی آئی اے ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کی کھل کر حمایت میں مشغول ہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بھر پور کوششوں میںمصروف ہیں۔

پاک بحریہ مہران بیس پر دہشت گردی کے بد ترین واقعے میں ہندوستان کی انٹیلی جینس ایجنسی ’’را‘‘کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت کا انکشاف پاکستان کے سینئر انٹیلی جینس ذرائع نے کیا ہے جس کی خبر ایک موقر اخبار نے دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’را اور سی آئی اے کا یہ مشترکہ آپریشن تھاجس میں پاکستان مخالف لابی کے ایک گروپ کو موثر اندا ز میں استعمال کیا گیا تھا۔اس واقع پر تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کوابتدائی طور پر ہی غیر ملکی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے بعض اہم شواہدملے ہیں۔یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اس حملے کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا کون ہے۔در اصل یہ حملہ کر کے وزیر اعظم گیلانی کو ان کے چین کے دورے کے سلسلے میں ایک فوری میسج امریکہ اور ہندوستان کی جانب سے بھیجا گیا ہے…گوکہ اس حملے کی پلاننگ ممبئی واقعے کا بدلہ لینے کے لئے ایبٹ آباد حملے کے فوراً بعد ہندوستان کی جنونی فوجی لابی نے کی تھی جس میں را کا ساتھ سی آئی اے نے بھر پور طریقے پر دیاتھا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ دشمن کا نشانہ پاکستان میں موجود پی تھری ون اورین طیارے ہی تھے کیونکہ ہندوستان کی بحر ہند و بحر عرب میں چودرا ہٹ کے لئے یہ طیارے بڑا چیلنج ہیں۔ اور امریکہ یہ چودراہٹ ہندوستان کو ہی دلانے کا خواہشمند ہے۔یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب امریکہ نے یہ طیارے پاکستان کو فراہم کرنے کی حامی بھری تھی توہندوتان وہ واحد ملک تھا جس کے پیٹ میں ان طیاروں کے سودے پر شدت سے مروڑ ہوئی تھی۔ اس نے کھلے طور پر اپنے موتقبل کے آقا سے شدیداعتراض اور احتجاج کیا تھا۔پاکستان کے ان اہم نیوی کے طیاروں کی تباہی پر ہندوستان کے انٹیلی جینس اور اعلیٰ سرکاری حلقوں میں مبارک بادیاں اور کیک بھی پیش کئے گئے ہیں۔ہمار ماننا ہے کہ یہ حملہ راکے کمانڈوز نے پاکستان مخالف افغانوں سے کرایا ہے جن کی تربیت را کے ساتھ بلیک واٹر کے ٹرینرز نے اطلاعات کے مطابق افغانستان میں قائم ہندوستانی انٹیلی جینس را کے ایک بیس کیمپ میں کی گئی تھی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس آپریشن میں گھر کے بھیدیوں نے لنکاڈھائی ہے۔

اس معاملے میں ہندوستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کاروائی کے خاتمے کے ساتھ ہی ہنوستانی بڑوں کا ایک ہنگامی اجلاس نئی دہلی میں ہندوستانی صدر پرتھیبا پاٹل کی صدارت میں طلب کیا گیا۔جس میں ایٹمی سائنس دانوں،تینوں مسلح افوج کے سر براہوں،را کے سربراہ وزیر داخلہ و خارجہ ،وزیر دفاع وزیر اعظم من موہن سنگھ سونیا گاندھی اور روس و افغانستان کے سفراء نے بھی شرکت کی تاکہ پاکستان کے کسی بھی ردِ عمل پر ایٹمی ہتھیار استعمال کر نے میں پہل کی جا سکے۔

بےباک
11-02-2011, 05:13 AM
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں،
بدعنوانیوں کی ہوشربا کہانیاں، قوم کے 823 ارب روپے غبن
رپورٹ:… طاہر خلیل
اسلام آباد (طاہر خلیل) حالیہ برسوں میں کرپشن کی ایک کہانی جس میں 823 ارب روپے کی پاکستان میں کرپشن کی روح فرسا کہانیاں اقتدار کے بڑے ایوانوں سے گلی کوچوں تک پھیلی ہوئی ہیں اور افسوسناک امر ہے کہ جن عہدیداروں کی ذمہ داری قومی وسائل کو بچانا ہے وہی لوٹ مار میں ملوث نظر آتے ہیں۔ کراچی میں کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی چوری ہو یا فاٹا میں بجلی بلوں کی عدم ادائیگی، دستاویزات سے یہ ناقابل تردید ثبوت ملتا ہے کہ صرف واپڈا میں 90 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-11 رپورٹ قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں لوٹ مار کا ایک حیرت انگیز منظر سامنے آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ شروع ہوتے ہی 29 کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں خرید لی گئیں۔ ملک میں بجلی کی مانگ پوری کرنے کیلئے کرایہ کے بجلی گھروں کے 15 منصوبوں کی منظوری دی گئی جن سے 27 سو میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں آنا تھی لیکن 2010 تک سسٹم میں صرف 62 میگاواٹ بجلی آئی تھی کیس سپریم کورٹ میں ہے۔ حکومت نے اس سودے میں 16 ارب 60 کروڑ روپے پیشگی ادا کئے تھے۔ وزارت خارجہ کے بارے میں عام تاثر ہے کہ اس وزارت میں سب سے کم مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں مگر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ اس تاثر کی نفی کرتی ہے سال 2009-10 میں وزارت خارجہ میں 70 کروڑ روپے کی بدعنوانیوں کی نشاندہی ہوئی۔ اسی طرح دفاعی بجٹ میں اربوں روپے کے گھپلے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ دفاعی بجٹ میں 5 ارب 10 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ بلٹ پروف جیکٹس خریدنے کا کام ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) کو دیا گیا اس میں 42 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھپلا ہوا۔ کرپشن روکنے کیلئے نیب کا ادارہ بنایا گیا تھا۔ آڈیٹر جنرل نے رپورٹ میں نیب میں کروڑوں روپے کرپشن بیان کئے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے خلاف بیرون ملک مقدمات پر 29 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ نتیجہ صفر رہا۔ بیرونی ممالک میں قانونی فرموں کو لاکھوں ڈالر اور پاؤنڈ سٹرلنگ ادا کئے گئے مگر ریکارڈ دستیاب نہیں جن غیرملکیوں کو رقوم ادا کی گئیں ان کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ پاکستان میں بدعنوانیوں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے وفاقی سطح پر 7 ادارے کام کر رہے ہیں ان میں پارلیمانی احتساب کا سب سے بڑا ادارہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب آئینی ادارے ہیں ان کے علاوہ پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن اور ایف آئی اے جبکہ صوبوں میں انسداد بدعنوانی کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کرپشن کا عفریت قابو نہیں آ رہا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد نومبر 2009 میں اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں کرپشن کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے چار ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کیلئے کیا گیا۔ رپورٹ وزیراعظم کے احکامات کی منتظر ان کے دفتر میں دو سال سے پڑی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کرپشن میں کچھ مگرمچھ ملوث ہیں جو کرپشن کر کے ملک کا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں ان بڑے مگر مچھوں کو قابو کرنا ضروری ہے انتظامیہ اور بیورو کریسی کی وجہ سے کرپشن ختم نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے آڈیٹر جنرل کو مکمل بااختیار بنانا ہوگا۔ سپریم کورٹ اور حکومت کے پاس یہ اطلاعات موجود ہیں کہ ملک کے 300 اہم سیاستدانوں اور بیورو کریٹس نے این آر او کے تحت 165 ارب روپے کی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غبن کے کیسز معاف کروا کر خود کو ”پاک“ کروایا۔ یہ سیاستدان اور بیورو کریٹس 5700 سے زائد افراد کی اس فہرست کا حصہ ہیں جو وزارت قانون نے چاروں صوبوں سے موصول ہونے کے بعد وزیراعظم گیلانی کو بھجوائی تھی۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ پرویز مشرف کی جانب سے اکتوبر 2007 میں این آر او جاری ہونے سے قبل 2121 کرپشن کیسز عدالتوں میں زیرسماعت تھے جبکہ نیب نے 368 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے یہ وارنٹ واپس لینے کے ساتھ 394 سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی تھیں اور اس کے بعد نیب کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا جس سے احتساب کا سارا عمل ہی مشکوک بنا دیا گیا تھا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ احتساب کا نظام ہی ختم کر دیا جائے یہ خوش کن امر ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے دہ ہفتے قبل پی پی پی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں احتساب بل کو جلد پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا عندیہ دیا تھا۔ مبصرین کو توقع ہے کہ اب جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 14 نومبر سے شروع ہونے والا ہے اس اجلاس میں احتساب بل کو اتفاق رائے سے منظور کرانے کیلئے پیش رفت ہوگی۔ تیل و گیس کے شعبے میں حالیہ برسوں میں اربوں ڈالرز کی کرپشن ہوئی۔ مثال کے طور پر سوئی ناردرن گیس کمپنی میں کرپشن کے حوالے سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 20 ارب روپے کی لاگت سے 14 ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائنز مقررہ حد تک نہیں بچھائی گئیں اور اس رقم سے حاصل 56 کروڑ 10 لاکھ روپے کا منافع اوگرا کو دیدیا گیا۔ سیندک میٹلز کو 7 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم ایڈوانس دی گئی مگر کام نہیں ہوا۔ 1995 میں امریکی کمپنی پرائنڈ لے برانٹ کو تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کیلئے کسی بولی کے بغیر کام دے دیا گیا۔ 22 لاکھ 36 ہزار ڈالر خرچ ہوئے حاصل وصول کچھ نہ ہوا کیس نیب کے پاس گیا۔ نیب کے پاس اب ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔ ایک اور کیس میں 1994 میں آسٹریلوی کمپنی کو او جی ڈی سی ایل نے 17 ملین ڈالر ایڈوانس دے کر ٹھیکہ دیدیا بعد میں او جی ڈی سی نے معاہدہ منسوخ کر دیا۔ صرف 6 ملین ڈالر کی رقم واپس آئی۔ 11 ملین ڈالر ڈوب گئے۔ اس کرپشن کا ریکارڈ بھی نیب سے غائب کر دیا گیا۔ بدعنوانیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر پٹرولیم سے منسلک کمپنیوں کا گردشی قرضہ 344 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں پی ایس او کے 160 ارب روپے شامل ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی موبائل فون کمپنیوں سے 40 ارب روپے کی ریکوری گزشتہ 15 سال سے زیرالتوا پڑی ہوئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ اگر ہمیں پیسے مل جائیں تو معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق صرف 8 برسوں میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کا خسارہ ساڑھے تین ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے تک جا پہنچا جبکہ اس عرصے میں 62 ارب روپے کی گیس چوری کر لی گئی۔ کرپشن کے ایک اور کیس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے طورخم، جلال آباد شاہراہ کی تعمیر کیلئے حکومت سے ایک ارب روپے حاصل کئے تاہم اس روڈ کی تعمیر پر کوئی اخراجات نہیں کئے گئے۔ مشرف دور میں کراچی میں 22 کروڑ روپے کی لاگت سے سمندر میں فوارہ لگایا گیا جس کی لاگت 15-16 کروڑ روپے سے زائد نہ تھی بعد میں یہ فوارہ چوری ہو گیا حالیہ برسوں میں پشاور اسلام آباد موٹروے کے دونوں جانب 40 کروڑ روپے کی خاردار تار چوری کر لی گئی جبکہ خار دار تار کا ایک ٹرک بھی چوری ہو گیا۔ صحت کے شعبے میں کروڑوں روپے کے بدعنوانیوں کی تحقیقات سرد خانے میں پڑی ہوئی ہیں 18ویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے اس لئے صحت کے شعبے میں کرپشن کی تحقیقات روک دی گئی ہے۔ پولی کلینک اسلام آباد میں 3 کروڑ 41 لاکھ روپے کی ادویات کی خریداری میں کرپشن کی گئی۔ نیب کے پاس کیس موجود ہے۔ مشرف دور کے صحت وزیر مملکت حامد یار ہراج نے پی اے سی میں انکشاف کیا تھا کہ 2002 میں ناقص پولیو ویکسین بچوں کوفراہم کی گئی جس سے پولیو کی بیماری بڑھ گئی اور پولیو خاتمے کی مہم کامیاب نہ ہوسکی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی 7 رپورٹس میں کرپشن کے 5499 کیسز کی تفصیلات موجود ہیں۔ اسلام آباد کی 100 ارب روپے مالیت کی 20 ہزار ایکڑ زمین قبضہ مافیا کے پاس چلی گئی۔ واپڈا، ریلوے میں ملازمین کی ملی بھگت سے چوریاں ہو رہی ہیں۔ ریلوے کی 4231 ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں حال میں ریلوے کے 3 پل چوری کر لئے گئے۔ پارلیمانی احتساب میں 4 ارب روپے کے نیشنل لاجسٹک سیل سکینڈل میں ملوث 3 ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف کارروائی ہوئی اور اب معاملہ جی ایچ کیو کے پاس ہے۔ٹرانسپرنسی کی مداخلت پر کراچی، حیدرآباد موٹروے کی تعمیر سے متعلق کارکنوں کے بڑھاپے کی سکیم ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) اور این ایچ اے کے درمیان 100 ارب روپے کی ڈیل روک دی گئی۔ 2008-09 میں محکمہ ڈاک میں 85 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اسی طرح یہ روح فرسا سکینڈل بھی ریکارڈ پر ہے کہ ملازمین کی پنشن سے 10 کروڑ روپے ایک سال میں خورد برد کئے گئے۔ 1990-91 میں پاسکو نے گندم ذخیرہ گودام کی رقوم لاہور کے پرتعیش ڈیفنس اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں رہائشی پلاٹ خریدنے پر خرچ کر ڈالی اور 6رہائشی پلاٹ 42 کروڑ میں خریدے گئے۔ بدعنوانیوں کا سلسلہ صرف سول اداروں تک محدود نہیں بلکہ فوجی ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ 2007 میں فوج کیلئے 27 ہزار میٹرک ٹن دال چنا کی خریداری کا ٹھیکہ ایسی جعلی فرم کو دیدیا گیا۔ جعل سازی میں اس فرم کا مالک اس وقت جیل میں بند تھا۔ پی اے سی نے کہا تھا کہ فوج کے پرکیورمنٹ سسٹم میں شفافیت نہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-11 آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی آئی اے کو مجموعی طور پر 28 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے۔ وزارت دفاع میں 18 سال سے ایک انکوائری چل رہی ہے اور فیصلہ نہیں ہو رہا۔ 1987 میں پی اے ایف کی دو خصوصی پروازیں فرانس اور امریکا سے بحریہ کا سامان لانے کی غرض سے بھیجی گئیں اس سودے میں پی اے ایف کو 25 لاکھ روپے کمیشن ادا کئے گئے تھے۔ 20 لاکھ روپے فلائٹ لیفٹیننٹ غلام عباس نے خورد برد کر لئے اور وہ مفرور ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ملک گیر مہم میں 20 ہزار بجلی چوروں کے خلاف مقدمے درج کر لئے گئے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چوہدری نثار علی خان کا یہ تجزیہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ایک بھی ادارہ یا منصوبہ ایسا نہیں جسے شفاف کیا جائے۔ گزشتہ سال واپڈا کی مختلف بجلی کمپنیوں میں 5 کروڑ 10 لاکھ روپے کی چوریاں ہوئیں۔ شعبہ ہاؤسنگ میں صرف اسلام آباد میں 703 سرکاری گھروں پرغیرقانونی قبضہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک کروڑ روپے کے منصوبے پر 30 سے 40 لاکھ روپے رشوت لی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ذریعے غریب ملازمین کی جمع شدہ پونجی کے 2 ارب 78 کروڑ 69 لاکھ روپے کا خورد برد کیا گیا اور ملوث افراد کارروائی سے بچ گئے۔ اس سال پاکستان سٹیل کا خسارہ بھی 104 ارب روپے تک اب جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی کی آئینی درخواست کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔ اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور کمزور نظام حکومت کی بنیادی وجہ کرپشن ہی ہے۔ ملک میں اچھی حکمرانی کیلئے بلاامتیاز احتساب کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے سیاسی قیادت کو پختہ عزم اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کیلئے سیاسی نظام کی کمزوریوں کو دور اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے قانون کی حکمرانی کا تصور اجاگر کرنا ہوگا۔ قومی اداروں میں سیاسی مداخلت کو ختم کر کے کرپشن کو روکا جا سکتا ہے۔

بےباک
11-10-2011, 05:34 AM
http://xa.yimg.com/kq/groups/13525996/sn/1773061659/name/foreign+minister+of+pakistan___.jpg

بےباک
11-11-2011, 06:23 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/11/images/news-02.gif

اوشو
11-11-2011, 09:56 AM
بنے ہیں اہلِ ہوس مدّعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں ؟ کس سے منصفی چاہیں؟
:huh::huh::huh:

محمدمعروف
11-11-2011, 08:05 PM
اوشو بھائی کا شعر بر موقع ہے میرا بھی یہی تبصرہ ہے۔

ھاھاھاھاھا

بےباک
11-16-2011, 09:09 PM
http://ummat.com.pk/2011/11/16/news.php?p=news-22.gif

بےباک
11-21-2011, 08:02 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/21/images/story1.gif

بےباک
11-22-2011, 04:30 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111122/Sub_Images/1101383110-1.gif

بےباک
01-05-2012, 07:54 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/05/images/story1.gif

بےباک
01-06-2012, 08:04 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/06/images/story1.gif

بےباک
01-13-2012, 08:46 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/13/images/news-11.gif

محمد یونس عزیز
01-21-2012, 10:22 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/21/images/news-30.gif

بےباک
01-22-2012, 11:22 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/22/images/story1.gif

بےباک
01-31-2012, 07:27 PM
http://ummat.com.pk/2012/01/31/images/news-02.gif

بےباک
02-02-2012, 07:58 AM
http://ummat.com.pk/2012/02/02/images/news-92.gif

بےباک
03-02-2012, 08:18 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120302/Sub_Images/1101463507-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120302/Sub_Images/1101463507-2.gif

بےباک
03-10-2012, 07:37 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/10/images/news-07.gif

بےباک
03-10-2012, 07:39 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/10/images/news-19.gif

بےباک
03-12-2012, 08:11 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120312-s1.gif

بےباک
03-12-2012, 08:12 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120312-s2.gif

این اے ناصر
03-12-2012, 11:07 AM
شئرنگ کاشکریہ۔

بےباک
03-13-2012, 09:07 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/13/images/news-57.gif

بےباک
03-13-2012, 09:16 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120313-s1.gif

بےباک
03-14-2012, 09:47 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120314/Sub_Images/1101473005-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120314/Sub_Images/1101473005-2.gif
بشکریہ ایکسپریس نیوز 14مارچ 2012

بےباک
03-15-2012, 06:58 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120315/Sub_Images/1101473774-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120315/Sub_Images/1101473774-2.gif
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120315/Sub_Images/1101473773-2.gif
ایکسپریس نیوز 15 مارچ 2012

بےباک
03-16-2012, 10:44 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120316-s4.gif

بےباک
03-22-2012, 08:19 AM
مال مفت دل بے رحم ،

http://ummat.com.pk/2012/03/22/images/news-23.gif

بےباک
03-22-2012, 08:38 AM
حکمرانو ۔شاید تمہارے دل میں اتر جائے میری بات…… صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

.

چشم بد دور ماشاء اللہ جمہوری حکمرانوں کی سربراہی میں پاکستان کرپشن کے میدان میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور ماشاء اللہ ترقی کرتے کرتے دنیا کا 34واں کرپٹ ترین ملک بن گیا ہے جبکہ بھارت اس میدان میں ہم سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ عوامی مسائل اور انتظامی سطح پر رشوت ستانی دونوں ملکوں میں ایک ہی جیسی ہے لیکن ہم نے سیاسی سطح پر کرپشن کے ریکارڈ قائم کر کے یہ اعلیٰ مقام کمایا ہے جس کیلئے پوری قوم کو حکمرانوں کا ممنون ہونا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم کرپشن کے میدان میں اسی رفتار سے ترقی کرتے رہے تو انشاء اللہ بہت جلد عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر لیں گے اور صومالیہ وغیرہ کو پیچھے چھوڑ جائیں گے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر صرف انتظامی مشینری کی کرپشن کو معیار بنایا جاتا تو ہم بھارت کے اردگرد پائے جاتے۔ ہمیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اربوں کی کرپشن کا فن آتا ہے جس کا سلسلہ رینٹل پاور سے لے کر سٹیل مل ، واپڈا، ریلوے اور نہ جانے کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ ہر روز سامنے آنے والے سکینڈلز اور اربوں روپوں کے قرضے معاف کروانے کی کہانیوں نے ہمیں کرپشن کی فہرست میں 34 ویں مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔
آج کل تو ماشاء اللہ ہمارے ملک میں کرپشن کا سمندر بہہ رہا ہے یعنی دوسرا کنارا نظر ہی نہیں آ رہا لیکن میں اُس دور کو یاد کر رہا ہوں جب پاکستان میں کرپشن کے دریا بہتے تھے۔ اُس دور میں مجھے ایک سرکاری وفد کے سربراہ کی حیثیت سے چین کے دورے کا موقع ملا۔ بلاشبہ چین ہمارا مخلص ترین دوست ہے اور اس حوالے سے ہمارے لئے فکرمند بھی رہتا ہے۔ بیجنگ کے عالمی شہرت یافتہ پیپلز ہال میں ہماری میٹنگ چین کے وفد سے ہوئی جس کی سربراہی چین کی پروٹوکول لسٹ میں تیسرے نمبر والی شخصیت کے سپرد تھی یعنی چینی وفد کا سربراہ صدر، وزیر اعظم کے بعد تیسرے نمبر کی شخصیت تھی جبکہ میں اس وقت حکومت پاکستان کا فقط اکیس گریڈ کا ملازم تھا۔ سرکاری بات چیت ہو چکی تو دل کی باتوں کا دور شروع ہوا۔ اُس منجھے ہوئے بالغ نظر چینی نے مجھ سے کہا کہ دیکھو ڈاکٹر صفدر ، چین میں فرشتے نہیں بستے، ان میں بھی عام انسانوں والی ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں اور یہ لوگ بھی آسان دولت سے امیر ہونا چاہتے ہیں لیکن ہم نے ایک سخت گیر نظام وضع کر کے کرپشن کو خاصی حد تک کنٹرول کیا ہوا ہے۔ نگرانی، یکساں احتساب اور سخت سزاؤں کی بنیاد پر نظام بنا کر کرپشن کو گھٹایا جا سکتا ہے، بالکل ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کے سرکاری وفود بلاخوف کمیشن مانگتے ہیں۔ میرا تمہیں مشورہ ہے کہ ایک موٴثر نظام کے ذریعے کرپشن کو کنٹرول کرو۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے ان کی یہ بات پانی پانی کر گئی۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ چھوٹی سطح پر زرعی اراضی، کسٹم ڈیوٹی، لائسنسوں، سرکاری واجبات اور جائیدادوں کے لین دین میں کرپشن عالمی وبا ہے جسے ایک سسٹم کے تحت گھٹایا جا سکتا ہے۔ اس سسٹم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ چین ہانگ کانگ سمیت بہت سے ممالک نے ایسے معاملات میں وقت کا تعین کر رکھا ہے اور جب بورڈ آف ریونیو یا اس کے نیچے والے اہل کار کسی کیس میں طے شدہ وقت سے زیادہ وقت لیں تو انہیں اس کی وضاحت کرنی پڑتی ہے اور سرکار اس کا نوٹس لیتی ہے۔ گزشتہ سال میں نے ایک کار ڈیلر سے چار سال پرانی جاپانی گاڑی خریدی۔ ڈیلر نے مشورہ دیا کہ میں اسے چار ہزار روپے زیادہ دے دوں تو وہ مجھے دو ہفتوں میں رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ لے دے گا ۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس میں دو ہزار روپے محکمہ ایکسائز کے ہیں اور دو ہزار روپے محکمہ کسٹم کے جہاں سے ان کاغذات کی تصدیق ہو گی۔میرا سادہ سا جواب یہ تھا کہ میرے نزدیک رشوت دینا اور لینا دونوں گناہ ہیں۔ میں نے زندگی بھر رزق حلال کھایا ہے اس لئے میں اپنی قبر میں انگارے نہیں ڈالوں گا۔ اس کی سزا مجھے یوں ملی کہ تقریباً چار ماہ تک محکموں کے چکر لگاتا رہا، سفارشیں ڈھونڈھتا رہا اور ذہنی کرب سے گزرتا رہا۔ اگر حکومت نے ایسے کاموں کے لئے ٹائم لمٹ یعنی وقت کا تعین کر رکھا ہو تو اہلکار مجبور ہوں گے کہ اتنے عرصے میں کام ختم کریں ورنہ پھر محکمانہ وضاحتیں دیں اور سزا بھگتیں۔
میرا تجربہ گواہ ہے کہ اگر محکمے کا سربراہ رزق حلال کھانے والا ہو اور خان بہادر سفارش خان کو گھاس نہ ڈالے اور دلچسپی لے کر محکمے کی کڑی نگرانی کرے تو رشوت خاصی حد تک گھٹ جاتی ہے۔ اگر سرکاری اہلکاروں میں نگرانی اور سزا کا خوف پیدا کر دیا جائے تو وہ اکثر اوقات خوف خدا سے بھی زیادہ موٴثر ہوتا ہے کیونکہ خوف خدا تو روز حساب رنگ لائے گا جبکہ نگرانی اور احتساب کا خوف ہر روز گلے میں پھندا ڈال دیتا ہے۔ نگرانی (VIGILANCE) یعنی بیدار مغزی اور احتساب کا نظام وضع کرنے میں موجودہ ٹیکنالوجی اہم رول ادا کر سکتی ہے جس کے استعمال سے عام شہری کے مسائل خاصی حد تک حل ہو سکتے ہیں اور اس طرح حکومت اور عام شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف خلوص نیت اور ارادے کی ہے۔ ماڈرن ٹیکنالوجی یعنی موبائل فون، کالنگ سنٹر، کیمرے اور دوسرے آلات کے ذریعے محکمہ مال میں کرپشن پر قابو پانے کے لئے جھنگ کے سابق ڈی سی او زبیر بھٹی نے ایک کامیاب تجربہ کیا تھا اور عوام کو محکمہ مال کی کرپشن سے نجات دلوا کر لوگوں کی دعائیں لیں تھیں۔ اس ماڈل کو بہاول پور ،گوجرانوالہ اور نارووال کے علاقوں میں نافذ کیا گیا اور نتائج بہت حوصلہ افزا نکلے۔ اس سسٹم کی بنیاد موبائل فون تھی جو اس وقت پاکستان میں تقریباً ہر خاندان کے پاس موجود ہیں۔ جب آپ اراضی یا جائیداد کی ٹرانسفر کے لئے جائیں تو متعلقہ محکمے میں ایک بینر نظر آئے گا۔ اس بینر پر ہدایت کے مطابق ایس ایم ایس کریں تو آپ کو فوری جواب ملے گا جس میں طریقہ کار کی وضاحت اور سرکاری واجبات بتائے جاتے ہیں۔ جب آپ پراپرٹی ٹرانسفر کروائیں تو سرکاری کاغذات میں فروخت کنندہ، خریدار اور نمائندے کے ناموں کے ساتھ ان کے موبائل نمبر بھی درج کئے جاتے ہیں۔ صوبائی سطح پر پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کردہ کالنگ سنٹر کو یہ ڈیٹا مہیا کر دیا جاتا ہے جہاں سے خریدار اور فروخت کنندہ کو ایس ایم ایس آتا ہے کہ کیا آپ کو رشوت دینی پڑی۔ اگر دینی پڑی تو اپنے موبائل سے نمبر ایک دبائیں۔ اس طرح کالنگ سنٹر میں کرپشن کا ڈیٹا اکٹھا ہو جاتا ہے جہاں سے ان نمبروں پر کال کر کے کرپشن کی تفصیلات لی جاتی ہیں جن میں ضلعی اور صوبائی سطح پر تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں کچھ منتخب نمبروں پر ڈی سی او اور ڈی او ریونیو بھی خود فون کر کے متعلقہ پارٹیوں سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ سے رشوت تو نہیں لی گئی۔ ہمارے ہاں عام شہری کو افسران تک رسائی نہیں ملتی۔ اس نظام کے مطابق افسران خود شہریوں کو فون کر کے پوچھتے ہیں۔ میں نے زندگی بھر انتظامیہ میں رہ کر دیکھا اور آزمایا ہے کہ اگر سرکاری اہلکاروں میں نگرانی اور پکڑے جانے کا خوف پیدا کر دیا جائے تو کرپشن خودبخود گھٹ جاتی ہے۔ اس نظام کی یہی خوبی ہے کہ اس میں رشوت خوروں کو ہر وقت پکڑے جانے کا ”دھڑکا“ لگا رہتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ ہماری حکومتیں ماڈرن ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے اس طرح کا نظام وضع کریں جس سے عام شہری رشوت کا نشانہ بننے سے محفوظ رہے، اس کے لئے سہولتیں پیدا ہوں اور شہریوں اور حکومتی مشینری کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔ میری اطلاع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب جھنگ ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اسی طرح کا سسٹم پولیس کے حوالے سے بھی وضع کیا جائے اور اس نظام کو چاروں صوبوں کے تمام اضلاع تک پھیلایا جائے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوکل گورنمنٹ اور امن عامہ کو بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے اور وزیر اعلیٰ سیمپل سروے کے ذریعے ہر روز کچھ لوگوں کو فون کر کے مختلف اضلاع سے فیڈ بیک لے سکتے ہیں۔ اسی سسٹم کے ذریعے وزیر اعلیٰ شکایات سیل کو بھی موٴثر ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں دلچسپی لے کر اس طرح کا نظام ان تمام محکموں پر نافذ کردیں جہاں عوام کو ہر روز جانا پڑتا ہے تو نہ صرف عوام کے لئے سہولتیں پیدا ہو جائیں گی بلکہ تین سو ارب کی سالانہ کرپشن بھی کم ہو جائے گی اور عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا ٹوٹا ہوا رشتہ بھی بحال ہو جائے گا۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

بےباک
03-22-2012, 09:00 AM
پاکستان میں ہر برس30 کھرب روپے ضائع کردئے جاتے ہیں
نامور ماہر اقتصادیات اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ کے حامل بینکار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے جائزے کے مطابق پاکستان سالانہ 3100/ ارب روپے ضایع کردیتا ہے؛ اگر یہ رقم ضایع ہونے سے بچائی جائے تو ملک اور اس کے پسے ہوئے عوام کی قسمت بدل سکتی ہے۔ کراچی کے اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے تحقیقی ادارے (ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس) کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے بتایا کہ کرپشن کی مد میں ملک کو سالانہ 1200/ ارب روپے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف ٹیکسز عائد نہ کیے جانے اور ٹیکس چوری کیے جانے کی مد میں سالانہ 1900/ ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن، ٹیکسوں کی عدم ادائیگیوں، امیر اور طاقتور طبقے پر ٹیکسز عائد نہ کیے جانے، کالے دھن اور مختلف ذرائع سے اربوں روپے کی رقوم جمع کرنے والے افراد کے اثاثوں کا کھوج نہ لگائے جانے کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ حالانکہ حکومت کے پاس ایسے افراد کے اثاثوں، بینک میں رکھی گئی رقوم، نیشنل سیونگ اسکیموں میں کی جانے والی سرمایہ کاری، شیئرز اور اسٹاک ایکسچینج میں کی گئی سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ اور گاڑیوں وغیرہ کا ریکارڈ موجود ہے۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے بتایا کہ یہ ریکارڈ بینکوں، مختلف سرکاری محکموں اور ہاؤسنگ اتھارٹیز کے پاس موجود ہے۔ اگر اس ریکارڈ کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن بھرا جائے تو اس سے مختصر عرصہ میں چند سو ارب روپے جمع ہوجائینگے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اقتصادی لحاظ سے اثاثوں کی دستاویز کاری (ڈاکومینٹیشن) بھی ہوجائے گی اور نتیجتاً حکومت اصلاحاتی جی ایس ٹی کو موجودہ 16/ فیصد سے کم کرکے 5/ فیصد تک لاسکے گی اور عوام کے بھلے کیلئے تمام طرح کے سرچارجز اور پیٹرولیم لیویز ختم کی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے عام آدمی کی زندگی پر فوری اور بھرپور مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور افراط زر کی شرح ایک ہندسے تک محدود ہوجائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15/ روپے فی لٹر تک کم ہوجائینگی اور اس سے عام آدمی کی زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ اپنے جائزے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ملک کے ڈویلپمنٹ بجٹ کا 40/ فیصد حصہ (700/ ارب روپے میں سے 280/ ارب روپے)بے ضابطگیوں یا کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ، سرکاری سطح پر پروکیورمنٹ کے شعبہ میں بھی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی وجہ سے قومی خزانے کو چند سو ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جبکہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں 300/ ارب روپے کی کرپشن ان تمام نقصانات کے علاوہ ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 180/ ملین کی آبادی میں سے صرف 18/ لاکھ افراد آمدنی ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ ایسے کئی ادارے اور افراد ہیں جو کماتے تو کروڑوں میں ہیں لیکن اپنی آمدنی صرف ایک لاکھ روپے ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ایکسپورٹ کا شعبہ بمشکل ہی اپنا حصہ ادا کرتا ہے جبکہ زرعی شعبہ، جس کا جی ڈی پی میں حصہ 3/ ہزار 620/ ارب روپے ہے، صرف چند ارب روپے کا ٹیکس دیتا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کے سرمایہ کی حد 3600/ ارب روپے ہے لیکن اس پر بھی گزشتہ سال ہی ٹیکس عائد کیا گیا؛ وہ بھی بے دلی کے ساتھ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سیمنٹ، شوگر اور ٹیکسٹائل کے شعبے بمشکل ہی آمدنی ٹیکس دیتے ہیں جبکہ جائیدادیں اور بینک ڈپازٹس ظاہر ہی نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے آمدنی ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی جانب سے مختلف ریستورانوں وغیرہ پر جی ایس ٹی ادا کیا جارہا ہے لیکن یہ مکمل طور پر ایف بی آر کو جمع نہیں کرایا جاتا۔ اسی طرح انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلاء اور آرکیٹکٹ جیسے پیشہ ور افراد اپنی آمدنی کے بیشتر حصہ پر ٹیکس نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب 9.5 ہے جو اس خطے میں سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے باقی حصوں میں یہ 14/ سے 18/ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ٹیکس تناسب کو بہتر بنا کر 16/ فیصد پر لے آئیں تو اس کا مطلب سالانہ مزید 1400/ ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ بات چیت کے دوران ڈاکٹر صدیقی نے مشکوک درآمدات اور برآمدات کا بھی ذکر کیا جو مجموعی امپورٹ اور ایکسپورٹ کا 25/ فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 2002ء سے 2007ء کے درمیان امپورٹ ایکسپورٹ کی شرح سب سے زیادہ تھی جس کی مالیت 7.8/ ارب ڈالرز تھی اور اس میں سے 5.5/ ارب ڈالرز کی امپورٹ ایکسپورٹ مشکوک تھی۔

بشکریہ احوال نیٹ

بےباک
03-24-2012, 07:58 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/24/images/news-35.gif

شاہنواز
03-25-2012, 01:17 AM
پتا نہیں ہمارے وطن کے حکمرانوں کی آنکھیں کب کھلیں گی اور کب ہوش آئے گا جس بناء پر آج یہی حکمران بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے جارہے ہیں جو کہ آپ کے ملک کا پانی ہی نہیں آپ کے ہر شروع کئے ہوئے منصطبوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوسکیں اور ہیمشہ اس کا غلبہ قائم رہے تو جناب ہم نےکن پر تکیہ کررکھا ہے جن سے کوئی بھی اچھا کام کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی تو پھر ہم ہی تو ان کو منتخب کرکے ایوانوں میں لاتے ہیں اور روتے ہیں کہ یہ حکمراں ہماری نہیں سنتے کیوں پھر پچھتاوا کیوں

محمد حسن
03-25-2012, 01:50 AM
میرے بھایی! غیروں کو راستے اپنوں نے دکھایی ہیں، ان چھپے آستینوں کے سانپوں کو ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہردورمیں میرجعفر اورمیر صادق اپنا رنگ دکھاتےہیں۔

بےباک
03-26-2012, 01:49 AM
http://daily.urdupoint.com/columnWriter/126/29088_detail.gif
http://daily.urdupoint.com/columnWriter/126/29089_detail.gif

اردو پوائینٹ 25۔3۔2012

بےباک
03-26-2012, 01:01 PM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120308-s3.gif

محمد یونس عزیز
03-30-2012, 08:16 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120330/Sub_Images/1101485756-2.gif

محمد یونس عزیز
03-30-2012, 08:31 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/30/images/news-04.gif

محمد یونس عزیز
03-30-2012, 09:08 AM
سپریم کورٹ، 7 ارب روپے کے کیمیکل کوٹا اسکینڈل میں وزیراعظم کے صاحبزادے کا نام آگیا، کیس واپس لینے کی درخواست
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کے سات ارب روپے کے کیمیکل اسکینڈل میں ملوث ہونے کے حوالے سے کیس واپس لینے کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس کی اپیل مسترد کر دی اور مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کا تمام تر ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس کیس کی اہمیت کے پیش نظر اے این ایف کو درخواست واپس لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موسیٰ گیلانی کو بیان ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اے این ایف کے وکیل اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ٹرائل سمیت تمام تر دیگر تفصیلات اور دستاویزات عدالت میں پیش کریں جس میں انکوائری رپورٹ، ایف آئی آر اور چالان کی کاپیاں، سیکرٹری کے خطوط سمیت دیگر دستاویزات شامل ہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ایک گمنام خط بھی موصول ہوا جس میں یہ حقائق بتائے گئے کہ یہ کیس انتہائی اہم پروفائل کا ہے اور اس میں وزیراعظم کے صاحبزادے ملوث ہیں لیکن حکومت یہ کیس واپس لینا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس گمنام خط کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ واضح رہے کہ نزلہ اور زکام کی دوائیوں میں استعمال کرنے کے لئے ایک کیمیکل ایپیڈرن استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کسی بھی کمپنی کو رولز کے تحت 500 کلوتک ہی یہ کیمیکل الاٹ کر سکتی ہے لیکن اس کیس میں وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے دو کمپنیوں برکلس لیب انٹرنیشنل ملتان اور ڈیناس پرائیویٹ لمیٹڈ اسلام آباد کو کل 9 ہزار کلوکیمیکل الاٹ کر دی گئی اگر اس کیمیکل کو دوائی میں استعمال نہ کیا جائے تو یہ کوکین کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ عدالت کو تفتیشی افسر نے بتایا اور عدالت نے یہ بات نوٹ کی کہ تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر عابد ذوالفقار نے وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے 12 مارچ کے نوٹس جاری کئے تھے۔ تاہم وہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے پیش نہیں ہوئے اور توقیر علی خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ علی موسیٰ گیلانی کے سیکرٹری ہیں جنہوں نے کوٹہ الاٹ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ توقیر علی خان وزارت صحت سمیت دیگر افسران سے رابطے میں رہا جبکہ وزارت صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ اس کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے علی موسیٰ گیلانی کے فون بھی آتے رہے ہیں۔ اس میں 20 لوگ ملوث ہیں جن میں ڈاکٹر رشید جمعہ، توقیر علی خان اور دیگر کے نام شامل ہیں جن کے خلاف کیس کا اندراج ہوا جبکہ اے این ایف کے فورس کمانڈر نے بتایا کہ اس کیس میں ملزمان نے قبل از گرفتاری عبوری ضمانتیں کرائی ہیں اور 4ماہ سے عبوری ضمانتوں پر ہیں۔ عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا اور کہا کہ اے این ایف نے ان عبوری ضمانتوں کے فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیوں نہیں کیا۔ عدالت نے سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کو بھی نوٹ کیا ہے کہ اس کیس میں جس سیاسی شخصیت کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ علی موسیٰ گیلانی ہیں۔ اے این ایف کے فورس کمانڈر بریگیڈیئر فہیم نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ یہ معاملہ کیمیکل ایفیڈرین کا کوٹہ الاٹ کرنے کے بارے میں ہے اور دو کمپنیوں کو قواعد کے برعکس اس ڈرگ کا کوٹہ الاٹ کیا گیا۔ جب اے این ایف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے اس کیس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کچھ اور تماشا ہے جو کہ آپ اس کیس کو واپس لینا چاہتے ہو۔ میرے خیال میں اس میں کوئی پرابلم ہے۔ چیف جسٹس نے اے این ایف کے فورس کمانڈر سے کہا کہ آپ کو تو یہ کیس چلانا چاہئے تھا اور آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ سنگین معاملہ ہے۔ آپ ایک فورس کے کمانڈر ہیں آپ کو سنگینی کا علم ہونا چاہئے۔ آپ کیوں خوفزدہ ہیں تو فورس کمانڈر نے کہا کہ میں خوفزدہ نہیں ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حاضر سروس بریگیڈیئر ہیں اور کیا ہو گا۔ آپ کی زیادہ سے زیادہ ٹرانسفر ہو جائے گی۔ زندگی میں کھڑا ہونے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ فورس کمانڈر نے کہا کہ میں ابھی یہ کیس واپس نہیں لوں گا جبکہ فورس کمانڈر نے مزید کہا کہ 3 فروری 2011ء کو سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے ایوان کو بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کمپنیوں اور ہیلتھ اسٹاف کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ 27 جون کو تفتیشی رپورٹ پیش ہو گئی تھی لیکن کمیٹی کی رپورٹ 9ماہ سے بغیر ایکشن کے پڑی ہوئی ہے۔ اے این ایف نے کیس کا اندراج کیا۔ ملزم تفتیش میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے عبوری ضمانتیں لے رکھی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ آپ کو ہماری پوری حمایت ہے۔ ہم کو یہ بھی پتہ ہے کہ ہم سے کوئی خوش نہیں ہے لیکن کوئی مثال قائم کر کے جائیں۔ اے این ایف نے بتایا کہ وزارت اینٹی نارکوٹکس کہتی ہے کہ اس کیس کو واپس لے لیا جائے۔
بشکریہ جنگ ۔30 مارچ 2012

محمد یونس عزیز
03-30-2012, 09:10 AM
کیمیکل کوٹہ اسکینڈل: وزارت صحت کی انکوائری میں ملتان کی فرم ملوث قرار پائی
اسلام آباد(عثمان منظور) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دوسرے بیٹے موسیٰ گیلانی پر بھی، اپنے بھائی عبدالقادر گیلانی جو کہ مبینہ طور پر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ اور حج اسکینڈل جیسے میگا اسیکنڈلز میں ملوث ہیں کی طرح 7ارب روپے کے ممنوعہ کیمیکل کی غیر قانونی درآمد میں پیسے بنانے کا ا لزام عائد کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات کے چوہدریوں نے ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کو موسیٰ گیلانی کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے بظاہر اس لئے کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو بچانے پر خود کو وزیراعظم کا مقروض خیال کرتے ہیں جبکہ چوہدریوں کے قریبی ذرائع نے اس معاملے میں چوہدریوں کے کسی بھی قسم کے کردار ادا کرنے کی تردید کی ہے ۔ نارکوٹکس ڈویژن کے اعلیٰ ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ پاکستان کو سالانہ 10ہزار کلو گرام”ایفی ڈرین“ کی ضرورت پڑتی ہے یہ ایک ممنوعہ کیمیکل جو ”ایکسٹیسی“ سمیت مختلف قسم کی ادویہ بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے مگر ریفائنڈ سے کو کین بنا یاجا سکتا ہے 2010ء میں معمول کی 10ہزار کلو ایفی ڈرین کی درآمد کرنے کے علاوہ وزارت صحت نے 2فرمز کو مشکوک طور پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانچ کئے بغیر اور مقصد کہ کس لئے استعمال ہو گا، 9ہزار کلو ایفی ڈرین درآمد کی اجازت دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جب مخدوم شہاب وزیر صحت تھے اس وقت کے جوائنٹ سیکرٹری وزارت صحت نے ایک انکوائری کی جس میں واضح طور پر ملتان کی فرم کو ملوث قرار دیا گیا۔ وزیراعظم کی بدقسمتی جب وہ گجرات کے چوہدریوں کے بیٹے کو این آئی سی ایل اسکینڈل سے بچانے میں مصروف تھے اور اچھی ساکھ کے ایک افسر، اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد کو ہٹا دیا تو سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو ہدایت کی کہ سہیل کو پوسٹنگ دی جائے۔مذکورہ افسر کو بطور سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن مقرر کیا گیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے ذرائع نے اس نامہ نگار کو بتایا کہ سہیل احمد کو انہوں نے جو پہلی بریفنگ دی وہ 7ارب سے زائد کے ایفی ڈرین اسکینڈل سے متعلق تھی اور مبینہ طور پر اس میں وزیراعظم کے بیٹے ملوث تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بارلکس لیب انٹرنیشنل ملتان اور داناس فارماسیوٹیکل کمپنی کو اس وقت کے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر رشید جمعہ نے ایفی ڈرین کا بالترتیب 6500کلو گرام اور 2500کلو گرام کا کوٹہ دیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت صحت کی ایک اہم شخصیت داناس فارماسیوٹیکل کمپنی کے مالک کے بھائی ہے اس لئے جب وزیراعظم کے بیٹے موسیٰ گیلانی نے مبینہ طور پر ملتان کی نام نہاد فرم کیلئے 6500کلو گرام ایفی ڈرین کا کوٹہ منظور کرایا تو پھر اس اہم شخصیت نے بھی اپنے حقیقی بھائی کیلئے 2500کلو گرام کے حصول کیلئے وزارت صحت کے حکام پر اثرورسوخ استعمال کیا۔پاکستان عالمی کنونشن پر دستخط کر چکا ہے اس لئے جتنا کوٹہ بھی چاہئے ہوتا ہے انٹرنیشنل ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے پھر ایفی ڈرین کا کوٹہ درآمد کرتا ہے ذرائع نے کہا کہ مگر اس کیس میں نہ تو آگاہ کرنے کا معاملہ اٹھا یاگیا نہ کسی نے اسے غیر قانونی اقدام پر متنبہ کیا اور ایفی ڈرین درآمد کر لی گئی جس کی مقدار ملکی ضرورت کا دگنا تھی۔پہلے دونوں کمپنیوں نے وزارت صحت کو بتایا کہ انکے پاس ایفی ڈرین افغانستان اور دوسرے ممالک میں برآمد کرنے کا لائسنس موجود ہے اور بعد ازاں اسے مقامی طور پر استعمال کرنے کی اجازت مانگ لی جو سیفٹی اقدامات اٹھائے بغیر دے دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا ادارہ وزیراعظم کے خلاف سازش کر رہا ہے، سیکریٹری نارکوٹکس ڈویژن
اسلام آباد (انصار عباسی) سیاسی دباؤ کے باعث وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کے خلاف مبینہ طور پر تحقیقات روکنے کے الزام کا سامنا کرنے والے نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے سیکریٹری ظفر عباس نے فوج کی زیر کنٹرول ادارے انسداد منشیات فورس پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ادارہ ”معصوم“ موسیٰ گیلانی کو جان بوجھ کر پھنسا رہا ہے حالانکہ یہ پورا کیس بے بنیاد ہے۔ اس نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے ظفر عباس نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے بریگیڈیئر، جو جمعرات کو سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، نے عدالت میں جھوٹ بولا اور انہوں نے میری اجازت کے بغیر اقدام کیا۔ ان کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔ لیکن نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے ذمہ دار ذریعے کا کہنا تھا کہ 7/ ارب روپے کے دواؤں (Ephidrine) کے اسکینڈل میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کیلئے نارکوٹکس فورس نے ظفر عباس کے پیش رو اور اچھی ساکھ کے حامل سابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل احمد سے پہلے ہی تحریری اجازت لے لی تھی۔ یہ سہیل احمد تھے جنہیں انسداد منشیات فورس نے کارروائی کیلئے رضامند کیا اور انہوں نے ہی ڈائریکٹر جنرل نارکوٹکس فورس کو 10/ اکتوبر 2011ء کو 20/ افراد کیخلاف پرچہ کٹوانے کی ہدایت دی تھی۔ لیکن سہیل احمد یہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں سیکریٹری نارکوٹکس ڈویژن کے عہدے سے اسی وجہ کی بنیاد پر ہٹا دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں شماریات ڈویژن میں بھیج دیا گیا کیونکہ انہوں نے ایسے کیس کی منظوری دی تھی جس میں وزیراعظم کے بیٹے کو ملوث قرار دیا گیا تھا۔ اسی ایف آئی آر کی وجہ سے اینٹی نارکوٹکس فورس نے موسیٰ گیلانی کو 22/ مارچ کو طلب کیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ سہیل احمد کے جانے اور ظفر عباس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد معاملات موسیٰ گیلانی کے حق میں بہتر ہونے لگے۔ لیکن، ظفر عباس کا اصرار ہے کہ کسی بھی انکوائری میں موسیٰ گیلانی کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے نے جان بوجھ کر ایسا کیا تاکہ وزیراعظم اور ان کے بیٹے کو بدنام کیا جا سکے دونوں شخصیات معزز اور معصوم ہیں۔ عدالت میں پیش ہونے والے بریگیڈیئر اور ڈائریکٹر جنرل انسداد منشیات ڈویژن کے خلاف کارروائی کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ظفر عباس نے کہا کہ سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ ادارے کا سربراہ ہونے کے باوجود نارکوٹکس فورس نے مجھے نظر انداز کیا۔ واضح رہے کہ حاضر سروس میجر جنرل سید شکیل حسین انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ظفر عباس کے مطابق ان لوگوں کو تحقیقات کے متعلق پتہ ہی کچھ نہیں میں نے کیس دیکھا ہے اور اس میں موسیٰ گیلانی کیخلاف ثبوت نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود میری اجازت کے بغیر انسداد منشیات فورس نے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ کیس پر کارروائی روکنے کیلئے وزیراعظم کی جانب سے ان پر دباؤ ہے۔ انہوں نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے وزیراعظم کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ پولیس سروسز گروپ کے ظفر عباس کا کہنا تھا کہ موسیٰ گیلانی کیخلاف تیار کیا گیا یہ معاملہ اینٹی نارکوٹکس فورس کا ہے ہی نہیں؛ یہ دواؤں کا کیس ہے جو ڈرگ ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے؛ کیس کو غلط ہینڈل کیا گیا ہے اور یہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

بشکریہ جنگ نیوز 30 مارچ 2012

اوشو
03-30-2012, 11:48 AM
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ، انجام گلستاں کیا ہو گا :huh:

این اے ناصر
03-30-2012, 11:53 AM
باخبرکرنے کاشکریہ۔

انجم رشید
03-30-2012, 08:16 PM
السلام علیکم ۔
ابھی بہت کچھ سامنے نہیں آیا یہ لوگ تو آے ہی ملک عزیز کو لوٹنے ہیں اور آپ کیا امید کریں گے ان سے

بےباک
03-31-2012, 08:18 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120331/Sub_Images/1101486427-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120331/Sub_Images/1101486427-2.gif
روزنامہ ایکسپریس 31 مارچ 2012

بےباک
03-31-2012, 08:28 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/31/images/news-02.gif

بےباک
03-31-2012, 09:06 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120331-s2.gif

بےباک
03-31-2012, 09:18 AM
جنگ ۳١ مارچ ۲۰١۲

رینٹل پاور منصوبے ختم، سابق وزراء، سیکریٹریز و دیگر حکام کے خلاف مقدمات کا حکم، کھربوں کی کرپشن ہوئی، سپریم کورٹ
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے تمام رینٹل پاور منصوبوں کو غیر شفاف اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے اور معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ذمہ داروں کے خلاف سول و فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قابل وصول رقم کو مارک اپ سمیت کمپنیوں سے وصول کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے سابق متعلقہ پانی و بجلی اور خزانہ کے وزراء اور سیکرٹریوں اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور نیب کو ان کے خلاف سول و فوجداری کارروائی کی ہدایت کی ہے جبکہ چیئرمین نیب کو ہر 15 دن بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاقی وزارت پانی و بجلی کے وہ وزراء بھی ملوث ہیں جن کے پاس 2006 اور 2008 کے بعد اس وقت وزارت کا چارج تھا۔ جب آر پی پیز کو منظور کیا گیا یا پھر ان کو قائم کیا گیا اور وہ وفاقی وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ بھی ملوث ہیں جن کے دور میں ڈاؤن پیمنٹ کو 7 فیصد سے 14 فیصد تک بڑھایا گیا۔عدالت نے کہا کہ نیپرا صارفین کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوگیا،مہنگی قیمتوں پر بجلی کی فراہمی عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،عدالت نیپیپکو، جینکو، پی پی آئی بی اور نیپرا کے حکام کو بادی النظر میں ملوث قراردیتے ہوئے اس امر پر تاسف کا اظہار کیا کہ 35 سے40 روپے فی یونٹ بجلی خریدی جارہی ہے، عدالت نے کہا کہ آئین کے تحت شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی اور مالیاتی فوائد حاصل کرنے میں ان کی شمولیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے نیب ان کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ جبکہ پیپکو، جینکو، پی پی آئی بی اور نیپرا کے تمام حکام اور سپانسرز (کامیاب بولی دہندہ) جنہوں نے آر پی پیز معاہدوں میں مالیاتی فوائد حاصل کئے وہ تمام بادی النظر میں کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس لئے ان تمام کے خلاف بھی سول و فوجداری کارروائی کو شروع کیا جائے۔ عدالت میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 14 دسمبر 2011 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ 90 صفات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت واپڈا، پیپکو اور جینکو بری گورنس کی وجہ سے بجلی کی چوری کو روکنے میں ناکام رہی ہے اس لئے حکومت سرکلرڈیٹ کو کلیئر کرنے سمیت دیگر تمام اقدامات اٹھائے تا کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ بجلی کو پیدا کیا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ ان آر پی پیز نے معاہدے کے تحت ہدف کو بھی حاصل نہیں کیا اور ان سے جو بجلی پیدا ہوتی تھی وہ معاہدے کے تحت بہت کم تھی اور اس کاریٹ بھی بہت زیادہ تھا۔ اس لئے ان تمام آر پی پیز کے معاہدے غیر شفاف ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وزارت خزانہ سمیت واپڈا، پیپکو اور جینکو قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ڈاؤن پیمنٹ کو 7 فیصد سے 14 فیصد کر کے نقصان پہنچایا، اس لئے ان کمپنیوں سے جو کہ معاہدوں کے مطابق عمل میں ناکام رہی ہیں قابل وصول رقم کو مارک اپ سمیت وصول کیا جائے۔ گلف کار کے رشماں اور شرقپور رینٹل پاور منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوئیں، وزارت پانی و بجلی پیپکو، جینکو اور واپڈا کھربوں روپے کی بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ نظام بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے باوجود کرایہ کے بجلی گھروں پر اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رینٹل پروجیکٹس کی پیدا کردہ بجلی کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ 35 سے 40 روپے فی یونٹ بجلی خریدی جا رہی ہے۔ عدالت نے چیئرمین نیب کو بھی کرپشن میں ملوث وزراء سمیت تمام متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ کارروائی کی زد میں وزیراعظم شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کے وزیر بھی آئیں گے۔ عدالت نے واپڈا، پیپکو اور جینکو کے افسران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے منتخب نمائندے ملک کی خود مختاری کے لئے کردار ادا کریں۔ عدالت نے کہا کہ کیس میں اراکین پارلیمنٹ نے بھی اپنا کردار ادا کیا، خواجہ آصف نے 21 اکتوبر 2010کو فریق بننے کی درخواست دی، فیصل صالح حیات نے بیان دیا تھا کہ عدالت آر پی پیز میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی، انہوں نے الزام لگایا کہ 5 ارب ڈالر عوام کی جیب سے نکالے گئے، ایم ڈی پیپکو سمیت دیگر انتظامی افراد نے ان الزامات کی تردید کی، سپریم کورٹ نے تمام رینٹل پاور منصوبے غیر قانونی قراردے کر ختم کرنے اور اس وقت کے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکرٹری پانی و بجلی شاہد رفیع کے خلاف نیب کو کارروائی کرنے کا حکم دیدیا کہ ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر کے کارروائی کی جائے اور رینٹل پاور کمپنیوں سے تمام ادائیگیاں مارک اپ کے ساتھ واپس لی جائیں۔ وزارت خزانہ اور وزارت پانی و بجلی نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، وزارت پانی و بجلی کے سابق وزیر اور سیکرٹری کا کرپشن میں کردار ہے۔

بےباک
04-06-2012, 10:02 AM
http://ummat.com.pk/2012/04/06/images/news-24.gif

بےباک
04-07-2012, 09:19 AM
سپریم کورٹ، 7 ارب روپے کے کیمیکل کوٹا اسکینڈل میں وزیراعظم کے صاحبزادے کا نام آگیا، کیس واپس لینے کی درخواست
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کے سات ارب روپے کے کیمیکل اسکینڈل میں ملوث ہونے کے حوالے سے کیس واپس لینے کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس کی اپیل مسترد کر دی اور مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کا تمام تر ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس کیس کی اہمیت کے پیش نظر اے این ایف کو درخواست واپس لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موسیٰ گیلانی کو بیان ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اے این ایف کے وکیل اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ٹرائل سمیت تمام تر دیگر تفصیلات اور دستاویزات عدالت میں پیش کریں جس میں انکوائری رپورٹ، ایف آئی آر اور چالان کی کاپیاں، سیکرٹری کے خطوط سمیت دیگر دستاویزات شامل ہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ایک گمنام خط بھی موصول ہوا جس میں یہ حقائق بتائے گئے کہ یہ کیس انتہائی اہم پروفائل کا ہے اور اس میں وزیراعظم کے صاحبزادے ملوث ہیں لیکن حکومت یہ کیس واپس لینا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس گمنام خط کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ واضح رہے کہ نزلہ اور زکام کی دوائیوں میں استعمال کرنے کے لئے ایک کیمیکل ایپیڈرن استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کسی بھی کمپنی کو رولز کے تحت 500 کلوتک ہی یہ کیمیکل الاٹ کر سکتی ہے لیکن اس کیس میں وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے دو کمپنیوں برکلس لیب انٹرنیشنل ملتان اور ڈیناس پرائیویٹ لمیٹڈ اسلام آباد کو کل 9 ہزار کلوکیمیکل الاٹ کر دی گئی اگر اس کیمیکل کو دوائی میں استعمال نہ کیا جائے تو یہ کوکین کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ عدالت کو تفتیشی افسر نے بتایا اور عدالت نے یہ بات نوٹ کی کہ تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر عابد ذوالفقار نے وزیراعظم کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے 12 مارچ کے نوٹس جاری کئے تھے۔ تاہم وہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے پیش نہیں ہوئے اور توقیر علی خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ علی موسیٰ گیلانی کے سیکرٹری ہیں جنہوں نے کوٹہ الاٹ کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ توقیر علی خان وزارت صحت سمیت دیگر افسران سے رابطے میں رہا جبکہ وزارت صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ اس کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے علی موسیٰ گیلانی کے فون بھی آتے رہے ہیں۔ اس میں 20 لوگ ملوث ہیں جن میں ڈاکٹر رشید جمعہ، توقیر علی خان اور دیگر کے نام شامل ہیں جن کے خلاف کیس کا اندراج ہوا جبکہ اے این ایف کے فورس کمانڈر نے بتایا کہ اس کیس میں ملزمان نے قبل از گرفتاری عبوری ضمانتیں کرائی ہیں اور 4ماہ سے عبوری ضمانتوں پر ہیں۔ عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا اور کہا کہ اے این ایف نے ان عبوری ضمانتوں کے فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیوں نہیں کیا۔ عدالت نے سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کو بھی نوٹ کیا ہے کہ اس کیس میں جس سیاسی شخصیت کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ علی موسیٰ گیلانی ہیں۔ اے این ایف کے فورس کمانڈر بریگیڈیئر فہیم نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ یہ معاملہ کیمیکل ایفیڈرین کا کوٹہ الاٹ کرنے کے بارے میں ہے اور دو کمپنیوں کو قواعد کے برعکس اس ڈرگ کا کوٹہ الاٹ کیا گیا۔ جب اے این ایف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے اس کیس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کچھ اور تماشا ہے جو کہ آپ اس کیس کو واپس لینا چاہتے ہو۔ میرے خیال میں اس میں کوئی پرابلم ہے۔ چیف جسٹس نے اے این ایف کے فورس کمانڈر سے کہا کہ آپ کو تو یہ کیس چلانا چاہئے تھا اور آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ سنگین معاملہ ہے۔ آپ ایک فورس کے کمانڈر ہیں آپ کو سنگینی کا علم ہونا چاہئے۔ آپ کیوں خوفزدہ ہیں تو فورس کمانڈر نے کہا کہ میں خوفزدہ نہیں ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حاضر سروس بریگیڈیئر ہیں اور کیا ہو گا۔ آپ کی زیادہ سے زیادہ ٹرانسفر ہو جائے گی۔ زندگی میں کھڑا ہونے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ فورس کمانڈر نے کہا کہ میں ابھی یہ کیس واپس نہیں لوں گا جبکہ فورس کمانڈر نے مزید کہا کہ 3 فروری 2011ء کو سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے ایوان کو بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کمپنیوں اور ہیلتھ اسٹاف کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ 27 جون کو تفتیشی رپورٹ پیش ہو گئی تھی لیکن کمیٹی کی رپورٹ 9ماہ سے بغیر ایکشن کے پڑی ہوئی ہے۔ اے این ایف نے کیس کا اندراج کیا۔ ملزم تفتیش میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے عبوری ضمانتیں لے رکھی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ آپ کو ہماری پوری حمایت ہے۔ ہم کو یہ بھی پتہ ہے کہ ہم سے کوئی خوش نہیں ہے لیکن کوئی مثال قائم کر کے جائیں۔ اے این ایف نے بتایا کہ وزارت اینٹی نارکوٹکس کہتی ہے کہ اس کیس کو واپس لے لیا جائے۔
بشکریہ جنگ ۔30 مارچ 2012

http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120407/Sub_Images/1101492269-1.gif

بےباک
04-07-2012, 09:23 AM
http://ummat.com.pk/2012/04/07/images/news-04.gif

بےباک
04-07-2012, 10:11 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/04/120407-s1.gif

بےباک
04-11-2012, 07:24 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120411/Sub_Images/1101495659-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120411/Sub_Images/1101495659-2.gif
ایکسپریس نیوز 11اپریل2011

بےباک
04-11-2012, 07:28 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120411/Sub_Images/1101495670-1.gif

بےباک
04-11-2012, 08:04 AM
کیمیکل اسکینڈل، تفتیشی افسروں کے تبادلے منسوخ، وزیراعظم کے بیٹے موسیٰ گیلانی و دیگر کو نوٹس
اسلام آباد (نمائندہ جنگ/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے 21ارب روپے کے ممنوعہ کیمیکل کوٹہ الاٹمنٹ اسکینڈل کیس میں مبینہ طور پر ملوث وزیراعظم کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اے این ایف میں حال ہی میں کئے گئے تفتیشی افسران کے تبادلے منسوخ کرتے ہوئے اے این ایف میں چھ مارچ سے قبل کی پوزیشن بحال کر دی ہے اور حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی افسر کو تبدیل نہ کرے۔ عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر بریگیڈیئر فہیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے عہدے کا چارج دوبارہ سنبھال لیں اور مقدمہ کی تفتیش بغیر کوئی دباؤ قبول کئے جاری رکھیں۔ سپریم کورٹ کے روبرو بریگیڈیئر فہیم نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ وفاقی سیکرٹری وزیر اعظم کے بیٹے کے خلاف تفتیش کو نقصان پہنچانے پر کمربستہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری اس معاملے میں اتنا کیوں ملوث ہو رہا ہے کیا کوئی بڑی شخصیت ملوث ہے؟ سیکرٹری کو تو شفاف تحقیقات میں معاونت کرنی چاہئے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ اگر وزیراعظم کے بیٹے موسیٰ گیلانی یا خوشنود اختر لاشاری کی جانب سے کوئی اے این ایف میں بیان ریکارڈ کرانے کیلئے پیش ہونا چاہے تو اسے شفاف ٹرائل کا موقع فراہم کیا جائے، عدالت نے علی موسیٰ گیلانی کے علاوہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری، اے این ایف کے قائم مقام سیکرٹری ظفر عباس لک، موجودہ سیکرٹری صحت، اٹارنی جنرل، سابق ڈی جی اے این ایف میجر جنرل شکیل حسین، ریجنل ڈائریکٹر اے این ایف بریگیڈیئر فہیم احمد اور دونوں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بریگیڈیئر فہیم کی جانب سے اپنے تبادلے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار بریگیڈیئر فہیم اپنے وکیل سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔ بریگیڈیئر فہیم نے عدالت کو بتایا کہ ان کا اور تفتیشی افسر عابد ذوالفقار کا 9 اپریل کو یعنی گزشتہ روز تبادلہ کردیا گیا۔ اس سے قبل ڈی جی میجر جنرل شکیل حسین کا تبادلہ کیا گیا اور ان کی جگہ عبوری چارج بھی موجودہ قائم مقام سیکرٹری ظفر عباس نے سنبھال لیا ہے جبکہ میجر جنرل نے چارج بھی چھوڑ دیا ہے۔ بریگیڈیئر فہیم نے عدالت کو زبانی بتایا کہ ممنوعہ کیمیکل منگوانے کا کوٹہ خوشنود اختر لاشاری نے منظور کیا۔ وہ اس وقت سیکرٹری وزارت صحت تھے اب وہی موسیٰ گیلانی اور ان کے سیکرٹری توقیر کو تحفظ دے رہے ہیں اور شفاف تحقیقات نہیں ہونے دی جا رہی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات میں کوئی بدنیتی شامل نہیں ہونی چاہئے۔ بریگیڈیئر فہیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قائم مقام سیکرٹری کو ڈی جی کا عبوری چارج دینے کیلئے سولہ سال بعد اچانک پرانی تاریخ میں ایس آر او جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت اے این ایف ایکٹ 1997ء میں ترمیم کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ عدالت کے استفسار پر بریگیڈیئر فہیم نے بتایا کہ مذکورہ معاملے کی تحقیقات وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کے حکم پر محسن ایس حقانی اور ڈاکٹر عبیداللہ نے بھی کی تھیں اس وقت اے این ایف کے سیکرٹری سہیل احمد تھے۔ بعد ازاں ان کو بھی تبدیل کردیا گیا تھا، فہیم احمد نے عدالت کو مزید بتایا کہ موسیٰ گیلانی کو تین سمن جاری کئے گئے تھے مگر وہ پیش نہیں ہوئے، نہ ہی کسی سمن کا جواب دیا۔ اس پر عدالت سے رجوع کیا تو اسی وقت ہمارا تبادلہ کردیا گیا۔ ان کے سیکرٹری توقیر کو بھی سمن کیا گیا تھا وہ بھی بیان دینے کیلئے نہیں آیا۔ بریگیڈیئر فہیم کے وکیل نے کہا کہ بڑی شخصیت کو بچانے کیلئے تمام لوگ متحد ہوگئے ہیں۔ موجودہ سیکرٹری قانون نے بھی اس معاملے میں خلاف قانون رائے دی، بریگیڈیئر فہیم نے بتایا کہ سیکرٹری اے این ایف ظفر عباس نے تمام ریکارڈ اپنے پاس منگوالیا جب تک وہ اس عہدے پر موجود ہیں، کیس میں تفتیش آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ خوشنود لاشاری نے مجھ سے کہا کہ موسیٰ گیلانی کو الگ کر دو وہ بڑے باپ کا بیٹا ہے تو میں نے کہا کہ کوئی وزیر اعظم کا بیٹا ہو یا بادشاہ کا، تفتیش شفاف ہوگی۔ بریگیڈیئر فہیم نے مزید کہا کہ تمام ریاستی مشینری تفتیشی ٹیم کیخلاف کھڑی ہے اور موسیٰ گیلانی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمومی طور پر اے این ایف کے ڈی جی اور ڈائریکٹر کے عہدے فوجی افسران کو دیئے جاتے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر حکومت نے ڈی جی کا عبوری چارج قائم مقام سیکرٹری کو دیدیا۔ فیصلے میں عدالت نے نوٹ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں سوال اٹھائے جانے پر اس معاملے کی تحقیقات کا وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے حکم دیا تھا جبکہ اے این ایف کے پاس انکوائری کا اختیار بھی موجود ہے اور کیس درج ہونے کے بعد سیکرٹری اے این ایف سہیل احمد کو تبدیل کر دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ 29 مارچ کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومت نے پرانی تاریخ میں ایس آر او جاری کیا جس کے تحت اے این ایف ایکٹ 1997ء میں ترمیم کرکے ڈی جی کے اختیارات قائم مقام سیکرٹری کو دیئے گئے پھر میجر جنرل کی تبدیلی کے بعد بریگیڈیئر فہیم اور تفتیشی افسر کو تبدیل کردیا گیا، جنہوں نے موسیٰ گیلانی کو سمن کیا تھا بادی النظر میں جرم سنجیدہ نوعیت کا ہے، اس سے ہٹ کر کہ اس میں کون اور کتنا بڑا عہدیدار ملوث ہے تفتیش میں کچھ افراد کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ الزام اپنی جگہ اب بھی موجود ہے اور متعلقہ اتھارٹیز کو اس معاملے میں شفاف انکوائری کرنا ہوگی، اس کے علاوہ محسوس ہوتا ہے کہ بریگیڈیئر فہیم اور تفتیشی افسر کا تبادلہ درست قدم نہیں اس لئے چھ مارچ سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جاتی ہے۔ بریگیڈیئر فہیم عہدے کا چارج سنبھال کر تفتیش جاری رکھیں اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائیں۔ بریگیڈیئر فہیم نے اپنی خوشنود اختر لاشاری سے ملاقات اور اس میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے اپنے دستخط سے تحریری بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مذکورہ کیس کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس کے تفتیشی افسر نے خوشنود اختر لاشاری کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے نوٹس بھیجا، اس نوٹس کی تعمیل کے سلسلے میں (بریگیڈیئر فہیم) تفتیشی افسر عابد ذوالفقار کے ہمراہ خوشنود لاشاری کے دفتر چوبیس مارچ کو واقع وزیر اعظم ہاؤس گیا جہاں میری ان کے ساتھ ان کے کہنے پر علیحدگی میں ملاقات ہوئی، جہاں انہوں نے اس معاملے پر مجھ سے بات کی اور مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ وہ اس کیس میں ایک معاون کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس موجودہ عہدے کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اور موسیٰ گیلانی کیخلاف کیس کی تفتیش کو غلط رخ دینے کی کوشش کی اور مجھے کہا کہ موسیٰ گیلانی کا باپ، بیٹے کو سمن جاری ہونے کی وجہ سے کافی اپ سیٹ ہے، خوشنود اختر لاشاری نے مجھ سے کہا کہ اگر اے این ایف صرف دونوں فارما سیوٹیکل کمپنیوں پر توجہ دے اور دوسروں کو بری الذمہ قرار دے تو ہم اس کی پوری طرح مدد کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ سول ملٹری تعلقات ابھی بحال ہوئے ہیں۔ اب یہ سب کچھ آپ پر ہے آپ ہی معاملے سے بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں یہ بھی کہا کہ اے این ایف کی کمانڈ اور کنٹرول فوج کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی موسیٰ گیلانی کو معاملے سے الگ کر دو یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے، اس کی اصلاح کی جائے گی بیان حلفی میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس کے بعد سے تفتیش کو غلط رخ دینے کیلئے کئی کوششیں کی گئی ہیں عدالت نے کیس کی مزید سماعت بیس اپریل تک ملتوی کردی
جنگ 11 اپریل 2011

سیما
04-11-2012, 07:45 PM
بہت شکریہ چاچا جی

بےباک
04-17-2012, 05:18 PM
http://ummat.com.pk/2012/04/17/images/news-02.gif

بےباک
07-26-2012, 11:05 AM
http://ummat.com.pk/2012/07/26/images/news-05.gif

بےباک
07-26-2012, 11:09 AM
http://ummat.com.pk/2012/07/26/images/news-23.gif

pervaz khan
07-26-2012, 12:56 PM
اچھی شئیرنگ ہے

بےباک
10-09-2012, 08:18 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20121009/Sub_Images/1101639873-1.jpg
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20121009/Sub_Images/1101639873-2.gif

بےباک
10-09-2012, 08:28 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/09/images/news-02.gif

بےباک
10-09-2012, 08:30 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20121009/Sub_Images/1101639873-1.jpg
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20121009/Sub_Images/1101639873-2.gif

انجم رشید
10-10-2012, 08:56 PM
بہتی گنگا میں سب ہاتھ دوھ رہے ہیں بھائی
بہت بہت شکریہ

بےباک
10-25-2012, 10:06 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/25/images/news-01.gif

بےباک
11-01-2012, 08:46 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/01/images/news-08.gif

بےباک
11-02-2012, 11:37 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121102/Sub_Images/1101658085-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121102/Sub_Images/1101658085-2.gif

بےباک
11-03-2012, 10:26 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121103/Sub_Images/1101659153-1.gif

بےباک
12-17-2012, 05:58 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20121217/Sub_Images/1101698259-1.gif

اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں ۔۔
اس موقع پر جب حکومت ختم ہونے والی ہے تین تین کروڑ روپیہ اداروں کو دینے کے بجائے ، ارکان اسمبلی کو دینا ایک جرم ہے ،
اسی لیے اداروں میں رشوت کا رجحان بڑھتا ہے ۔ کون سے ترقیاتی کام جو کرائیں گے ، یہ رقم آئیندہ آنے والے الیکشن کے لیے خرچ ہو گی ، یہ رقم بغیر منصوبہ بندی کے دی جا رہی ہے ،
انا للہ و انا الیہ راجعون ، ہم کیسے ظالم حکمرانوں کو سروں پر بٹھا لیتے ہیں ، جو عوام کی ٹیکس سے ملک کے بہبود کے لیے کام کرنے کے بجائے اپنے ذاتی کام کریں گے ،
کاش یہ رقم بلدیہ ، کے حوالے کی جاتی اور وہ بھی منصوبہ بندی سے تاکہ وہ اس رقم سے مربوط طریقہ سے کام کرے ، یہ رقم ان لیڈران کی صوابدید پر چھوڑ دی جاتی ہے ،

بےباک
12-17-2012, 11:22 AM
http://ummatpublication.com/2012/12/17/images/news-26.gif

بےباک
12-17-2012, 11:24 AM
http://ummatpublication.com/2012/12/17/images/news-28.gif

بےباک
12-17-2012, 11:27 AM
http://ummatpublication.com/2012/12/17/images/news-68.gif

pervaz khan
12-17-2012, 01:51 PM
اچھی شئیرنگ کا بہت شکریہ

بےباک
12-19-2012, 02:26 AM
اس حمام میں سب ننگے ہیں ،


جس روز وزیر قانون کی جانب سے ججوں اور بیوروکریٹس کو دوہری شہریت اور

ملازمت میں سے ایک کے انتخاب کی دھمکی دی گئی، تو اُس روز بیوروکریسی بھی

حرکت میں آگئی تھی۔ جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی دو اداروں نے حکمرانوں کی پوزیشن

کمزور کرنے والی رپورٹ جاری کردی… پتا نہیں یہ رپورٹ پہلے سے تیار شدہ تھی یا

اس کو اتفاق کہا جائے کہ جس روز وزیرقانون نے دھمکی دی اس کے اگلے روز صدرِ

مملکت سید آصف علی زرداری‘ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ و اسپیکر سمیت کئی وفاقی وزراء

کے ٹیکس نادہندہ نکلنے کی خبر شائع ہوگئی۔ شاید سب اسے اتفاق کہیں، لیکن ہم اسے

اتفاق نہیں جواب آں غزل کہیں گے۔ وزیر قانون نے ججوں اور بیوروکریٹس کو دھمکی

دی تو جواباً ان کا کچا چٹھا کھول دیا گیا۔ ٹیکس نادہندگان میں نائب وزیراعظم چوہدری

پرویز الٰہی، وزیرداخلہ رحمن ملک‘ حاجی نذر محمد، حاجی غلام احمد بلور، مخدوم امین

فہیم اور فرزانہ راجا بھی شامل ہیں۔


اگر دوہری شہریت اور ٹیکس کا موازنہ کیا جائے تو یہی وزراء جو ججوں کی دوہری

شہریت اور بیوروکریسی کی دوہری شہریت کی بات کررہے ہیں اگر خود ٹیکس ادا نہیں

کررہے ہوں گے تو ججوں اور بیوروکریٹس کو کس طرح ٹیکس ادا کرنے پر مجبور

کریں گے! بیشتر سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس اور ججوں یا سرکاری ملازمین کے پاس

برطانیہ‘ امریکا اور کینیڈا کی شہریتیں ہیں۔ جو وزیر قانون گزشتہ دنوں یہ کہہ رہے تھے

کہ دوسرے ملک کی شہریت یا ملازمت میں سے ایک کا انتخاب کرلیں اُن کے علم میں یہ

بات لانا ضروری ہے کہ ان کے اپنے پیٹی بند بھائی بھی تو ہیں جو وزارت اور قومی

اسمبلی اور پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑنے پر تیار ہیں لیکن غیر ملک کی شہریت نہیں۔ ان

تمام ممالک میں ٹیکس پورا پورا دینا پڑتا ہے بلکہ ٹیکس نہ دینے کا تو وہاں تصور بھی

نہیں ہے۔ اگر کسی مغربی ملک میں صدر‘ نائب وزیراعظم‘ رکن پارلیمنٹ یا چیئرمین

سینیٹ و اسمبلی اسپیکر کے ٹیکس نادہندہ ہونے کی خبر سامنے آجائے تو سب سے پہلے

ان کی رکنیت اور عہدہ جاتا ہے۔ لیکن یہاں بڑے مزے سے سب بغلیں بجا رہے ہیں کہ

صدر کا تو مواخذہ ہی نہیں ہوسکتا۔ ہاں پاکستان میں صدر تو دور کی بات ہے کسی رکن

اسمبلی کا بھی مواخذہ نہیں ہوسکتا‘ کسی حکمران کا بھی اور سرکاری پارٹی کے کسی

کارکن کا بھی… وارڈ‘ سیکٹر‘ یونٹ اور سٹی کی سطح کے بھی کارکن سے کوئی پولیس

والا گاڑی کے کاغذات تک نہیں مانگ سکتا۔ اسلحہ لے کر جارہا ہو تو یوں ہی نکل جاتا

ہے‘ پولیس اور امن و امان کے ذمہ داران منہ دوسری طرف کرلیتے ہیں۔


دی سٹیزن فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ ‘ انی شی ایٹو اور انویسٹی گیٹو جرنلزم نامی ان دو

اداروں نے وزیر قانون کے بیان کے بعد اگلے ہی روز یہ خبر کیوں جاری کی، اس کو تو

ان ہی لوگوں کے لیے رکھ چھوڑیں جو ایک دوسرے سے آج کل جنگ میں مصروف

ہیں… جی ہاں!!! مختلف قوتیں بیک وقت اس ملک میں برسرپیکار ہیں۔ کوئی حکومت

گرانا چاہتی ہے تو کوئی اس حکومت کو چلانا چاہتی ہے۔ کوئی فوج اور آئی ایس آئی کو

الجھانا چاہتی ہے تو کوئی سیاست میں صاف ستھرے لوگوں کو آنے سے روکنے میں

مصروف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اس میں پوری طرح آلۂ کار بنا ہوا ہے۔

اس سہ طرفہ یا چومکھی میں کون کس سے لڑرہا ہے، اس کا تو ہر ایک کو اندازہ نہیں،

لیکن اس جنگ کے کھلاڑی جانتے ہیں کہ کون سا وار کہاں سے آیا ہے۔ ابھی وزیرقانون

اور ان اداروں کی رپورٹ سامنے آئی تھی کہ چیئرمین نیب بھی بول پڑے اور کہنے لگے

کہ روزانہ 7 ارب کی نہیں 12ارب کی کرپشن ہورہی ہے۔ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری جہاں

براجمان ہیں اور جس طرح جس ذریعے سے احتساب بیورو میں پہنچے ہیں وہاں وہ یقینا

اضافی 5 ارب روپے یومیہ کی کرپشن سے واقف ہوں گے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ

’’حکومتی اداروں کی کرپشن کی نشاندہی پر وفاقی کابینہ کا ردعمل افسوسناک ہے۔

دراصل اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ الزام تراشی کے بجائے ملک کو بچانے اور کرپشن

کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔‘‘ اس بیان کا مطلب آپ سمجھے یا

نہیں…!

ہمیں توکچھ اور ہی سمجھ میں آیا ہے… ذرا دوبارہ پڑھیں کچھ اضانوں اور وضاحتوں کے

ساتھ… روزانہ 7ارب کی نہیں 12ارب کی کرپشن ہورہی ہے (سب بتادوں) کابینہ کا

ردعمل افسوسناک ہے (بیوروکریسی‘ فوج‘ سیاستدان) اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ الزام

تراشی کے بجائے ملک (حکمران طبقے) کو بچانے اور کرپشن (اندر کی بات باہر نکالنے

کے رویّے کے) خاتمے کی کوشش کی جائے۔ ہمیں یقین ہے ایک دوسرے پر الزامات کو

یہ لوگ زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتے، چنانچہ دو ایک روز میں مُک مُکا ہوجائے گا۔

چند وزراء کے بیانات بھی پڑھیں۔ وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ عوام سے دور کرنے کے

لیے سیاستدانوں کی تضحیک کی جارہی ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کو

بتانا ہوگا کہ کرپشن کیسے ہورہی ہے۔ واہ جناب اتنے سادہ تو نہیں آپ… جانتے تو سب

کچھ ہوں گے… اور وہ جو سوتے رہتے ہیں وہ بھی اٹھ گئے بلکہ بقول کسے انہیں بھی

جاگ آگئی… نوید قمر صاحب کہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کا بیان خلافِ قانون ہے، پی پی

کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان سب بیانات کو سامنے رکھیں… سارے بے لباس نظر آئیں گے۔ اندر کی لڑائی باہر آنے

سے یہ تو ہوا کہ لوگوں کو پتا چلنے لگا کہ ان کے نمائندے اور حکمران کر کیا رہے ہیں۔

بشکریہ مظفر اعجاز

pervaz khan
12-19-2012, 12:42 PM
اچھی شئیرنگ کا بہت شکریہ

بےباک
12-26-2012, 12:19 PM
http://ummatpublication.com/2012/12/26/images/news-58.gif

بےباک
01-06-2013, 09:46 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/06/images/story5.gif

بےباک
01-07-2013, 08:27 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/07/images/news-68.gif

بےباک
01-08-2013, 07:37 PM
http://ummatpublication.com/2013/01/08/images/news-09.gif

http://ummatpublication.com/2013/01/08/images/news-14.gif

http://ummatpublication.com/2013/01/08/images/news-12.gif

بےباک
01-08-2013, 07:41 PM
کراچی…سندھ پولیس کے ڈی آئی جی کرائم بشیر میمن کو سندھ بدر کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔سپریم کورٹ میں درخواست ایک شہری سید محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشیر میمن کو سپریم کورٹ میں سچ بولنے کی پاداش میں سندھ بدر کیا گیا ، یہ اہم نوعیت کا کیس ہے اور درخواست پر جلد سماعت کی جائے، بشیر میمن نے کراچی میں وسیم بیٹر کے جرائم میں ملوث اور با اثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔

بےباک
01-25-2013, 08:43 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/25/images/news-07.gif

بےباک
02-04-2013, 09:22 AM
http://ummatpublication.com/2013/02/04/images/news-05.gif

انجم رشید
02-04-2013, 12:17 PM
مجھے آپ کا لکھا ہوا آرٹیکل بولڑ یونیورسٹی یاد ہے جیسے آپ نے لکھا تھا کہ جب بلڑ کو جعلی ڈگریاں جاری کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تو اس نے کہا ان ڈگریوں کی تفشیش مت کریں کیوں کہ پنجاب کا کوئی بھی افسر نہیں بچے گا ۔
میرے بھائی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے ہر طرف لوگ جعلی ڈگریاں لیے پھرتے ہیں سیاست دانوں سے لے کر بیروکریٹ تک پی آئی اے سے لے کر ایک کلرک تک لگتا تو ایسا ہی ہے کہ اگر ڈگریوں کی چھان بین کی گئی تو کچھ بھی نہیں بچے گا ۔
بہت بہت شکریہ آپ کا

بےباک
03-09-2013, 12:13 PM
http://ummatpublication.com/2013/03/09/images/news-19.gif

بےباک
03-09-2013, 12:16 PM
http://ummatpublication.com/2013/03/09/images/news-92.gif

بےباک
04-04-2013, 10:57 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20130404/Sub_Images/1101804650-1.jpg
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20130404/Sub_Images/1101804650-2.gif

http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20130404/Sub_Images/1101804656-1.jpg
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20130404/Sub_Images/1101804656-2.gif

ایکسپریس نیوز 4 اپریل ۔2013

بےباک
12-23-2013, 08:35 AM
http://ummatpublication.com/2013/12/23/images/news-69.gif

بےباک
02-20-2014, 09:27 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20140220/Sub_Images/1102103854-1.gif

شاہنواز
02-20-2014, 01:14 PM
صرف فاتحہ ہی پڑھ سکتے ہیں

بےباک
04-07-2014, 07:52 AM
http://ummatpublication.com/2014/04/07/images/news-02.gif

بےباک
05-30-2014, 08:00 AM
http://ummat.net/2014/05/30/images/news-55.gif

بےباک
12-03-2014, 08:47 AM
http://ummat.net/2014/12/03/images/news-02.gif

بےباک
07-01-2015, 05:28 PM
http://ummat.net/2015/07/01/images/news-55.gif

بےباک
07-08-2015, 02:25 PM
http://ummat.net/2015/07/08/images/news-03.gif

بےباک
07-08-2015, 02:31 PM
http://ummat.net/2015/07/08/images/news-62.gif

بےلگام
07-09-2015, 01:08 AM
:christmas:

بےباک
07-16-2015, 06:59 AM
http://ummat.net/2015/07/16/images/news-01.gif

بےباک
08-08-2015, 06:51 AM
http://ummat.net/2015/08/08/images/news-86.gif

بےباک
08-08-2015, 07:15 AM
http://ummat.net/2015/08/06/images/story2.gif

بےباک
08-12-2015, 07:40 AM
http://ummat.net/2015/08/12/images/news-01.gif