PDA

View Full Version : نو مسلم روسی لڑکی کی داستاں



زوہا
09-26-2011, 01:56 PM
یہ سچا واقعہ میں ایک نوجوان روسی لڑکی کا پیش کر رہی ہوں ۔ ایک دن ایک فلسطینی نوجوان اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس وقت ایک حیران پریشان لڑکی ان کی طرف لپکی اور اس نے ان سے مدد مانگی، اس کی حالت دیکھ کر وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے، وہاں اس نے اپنی دکھ بھری کہانی کچھ یوں سنائی کہ وہ ایک روسی لڑکی ہے ، ایک تاجر نوکری کا جھانسا دے کر غریب نوجوان لڑکیوں کو کسی عرب ملک میں لایا کرتا اور ان کو بد کاری کے گھناؤنے پیشے میں لگا دیتا تھا،
میں بھی چند دوسری لڑکیوں کے ساتھ نوکری کے لیے یہاں آئی تھی ، یہاں آنے کے بعداس تاجر نے اپنا گھناؤنا منصوبہ لڑکیوں کے سامنے رکھا، اس کے ناپاک ارادوں کو کو بھانپ کر میں اپنا پاسپورٹ اس سے کسی طرح نکلوا کر دوڑتی ہوئی کسی طرح شاہراہ پر آگئی ، یہاں خوش قسمتی سے میری ملاقات آپ لوگوں سے ہو گئی۔
اس کی درد بھری کہانی سن کر اس فلسطینی خاندان نے اسے اپنے گھر میں پناہ دینے کا ارادہ کیا ، ان لوگوں نے اس کے سامنے اسلام کا تعارف رکھا اور اسلام کی دعوت صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے کے لیے اسے ایک اسلامی کتب خانہ لے گئے ،تاکہ وہ انگریزی زبان میں کچھ اسلامی کتابیں خرید کر اسلام کے بارے میں صحیح جانکاری حاصل کرسکے ، کتب خانہ والے کا کہنا ہے کہ جب یہ لوگ اس لڑکی کو میرے پاس لائے تو باقی عورتیں تو برقع میں تھیں، لیکن یہ روسی لڑکی برقع سے آزاد تھی اور چھوٹا لباس پہنے ہوئے تھی، وہ لوگ انگریزی زبان کی کچھ دینی کتابیں لے کر چلے گئے۔
کچھ ماہ بعد وہ فلسطینی نوجوان اور روسی دوشیزہ ایک بار پھر اسی کتب خانہ پر آئے ، اس باروہ لڑکی اسلام قبول کر چکی تھی اور پورے برقع میں تھی اور اس نوجوان کی شریک حیات بن چکی تھی ۔ اس نوجوان نے بتایا کہ میری بیوی نے بازار میں ایک برقع پوش کو دیکھا، جس کے جسم کا کوئی عضو ظاہر نہیں ہو رہا تھا، اسے دیکھ کر میری بیوی نے پوچھا کہ کیا اس کے جسم میں کوئی عیب ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ یہ عورتیں اپنے اس عمل سے الله کو خوش کرنا چاہتی ہیں۔ اس پر میری بیوی نے فوراً فیصلہ کیا کہ اگر الله کی یہ پسند ہے تو میں آج سے اور ابھی سے برقع پہنوں گی ۔
وہ فلسطینی نوجوان اپنی شریک حیات کے ساتھ اکثر اسلامی کتابیں لینے کتب خانہ آتا رہتا تھا، چند ماہ بعد وہ دونوں غائب ہو گئے، 7,6 ماہ بعد وہ فلسطینی نوجوان پھر سے کتب خانہ آیا، دکان دار نے اتنے دنوں تک غائب رہنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنی کہانی کچھ یوں سنائی ” میری بیوی کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو چکی تھی، اس کے لیے ضرور ی تھا کہ جہاں سے پاسپورٹ بنا ہے وہیں سے تجدید کروائی جائے ، اس کے لیے ہمیں روس جانا تھا، میری بیوی میرے ساتھ برقع میں ہی روس کے لیے روانہ ہوئی،
ہوائی جہاز میں سبھی لوگ ہمیں تیکھی نظروں سے دیکھنے لگے، تھوڑی دیر بعد وہ ہمارا مذاق اڑانے لگے، مگر میری بیوی ان کی پروا کیے بغیرسکون سے بیٹھی رہی جب کہ میں بیٹھا بیٹھا جلتا رہا، روس میں ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد میری بیوی نے کہا کہ میرے گھر والے بہت متعصب ہیں ،اس لیے ہم ایک کمرہ کرائے پر لے کر اس میں رہیں گے اور جب پاسپورٹ بن جائے گا ،اس کے بعد ہم ان سے ملنے جائیں گے۔
پاسپورٹ آفس میں میری بیوی نے جو فوٹودیا اس میں چہرے کے علاوہ بقیہ اعضا چھپے ہوئے تھے، افسر نے کہا ہمیں ایسا فوٹو دو جس میں تمہارا چہرہ، بال اورگردن وغیرہ کھلی ہوں، میری بیوی میرے کہنے کے باوجود اپنا برقع اتار کر فوٹو کھچوانے کو تیار نہیں ہوئی، افسر نے شاید ہمیں ٹالنے کے لیے کہہ دیا کہ تمہاری اس مشکل کو ماسکو دفتر میں بیٹھے ہوئے سیکریٹری جنرل ہی حل کرسکتے ہیں،
ہم لوگ ماسکو پہنچے، وہاں بھی وہی رکاوٹ پیش آئی، میرے سمجھانے پر میری بیوی نے یہی کہا کہ جب میں الله کے دین کو سمجھ چکی ہوں تو کیسے میں اپنا برقع اتاروں اور سرکھول کر فوٹو بنواؤں؟ وہاں کا افسر بہت برا آدمی تھا، اس نے غصے میں کہا جب تک تم سرکھلی تصویر نہیں دو گی، ہم نہ تمہارا پرانا پاسپورٹ واپس کریں گے، نہ نیا جاری کریں گے۔
بیوی نے کہا کہ جو لوگ الله سے ڈرتے ہیں الله ان کی مدد کرتا ہے، ہم لوگ واپس کمرے پر آگئے، رات میں جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا بیوی نماز پڑھ رہی ہے اور رو رو کر الله سے دعائیں کر رہی ہے ، صبح فجر کے لیے مجھے اٹھایا اور کہا کہ الله سے دعا کرو، الله ہماری مشکل ضرور آسان کرے گا اس کے بعد ہم پاسپورٹ آفس چلے گئے، ابھی ہم داخل ہی ہوئے تھے کہ ایک ملازم نے میری بیو ی کا نام پوچھا اورکہاتمہارا پاسپورٹ تیار ہو گیا ہے فیس جمع کراکرلے جاؤ۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا، میری زندگی میں اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔
اب ہم واپس اسی شہر پہنچے اور بیوی کے گھر والوں سے ملنے کے لیے گئے، اس کے بھائی بہن اور باپ سبھی اس کو برقع میں دیکھ کر کافی حیران تھے ،وہ سب مجھے گھر کے ایک کمرے میں بٹھا کر دوسرے کمرے میں چلے گئے ، دوسرے کمرے سے روسی زبان میں زور زور سے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی ،تھیں پھر میں نے اپنی بیوی کی زوردار چیخ سنی، ساتھ ہی وہ سب تیزی سے میرے پاس آئے اوربری طرح میری پٹائی کرنے لگے، مجھے لگا کہ بس اب میں مرنے والا ہوں، میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں، میں نے دروازہ کھولا اور بھاگ کر اپنے کمرے میں چلا گیا،
میں اپنی بیوی کی طرف سے بہت پریشان تھا کہ کہیں وہ اسے مار نہ دیں، کہیں میری بیوی اسلام سے پھر نہ جائے، مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ شاید میری بیوی اب مجھ سے نہیں مل پائے گی، پوری رات میں اسی طرح کے خیالات میں مبتلا رہا، صبح کو حال معلوم کرنے اپنی بیوی کے گھر کی طرف گیا اور دور سے ہی اس کے گھر کے طرف دیکھتا رہا، اس کے تینوں بھائی اور باپ گھر سے باہر نکلے اور تھوڑی دیر میں پھر واپس آگئے،3 دن اسی طرح گزر گئے، اب میری امید دم توڑنے لگی،
میں سوچنے لگا شاید میری میری بیوی مر چکی ہے۔ چوتھے دن جب وہ چاروں اپنے کام پر چلے گئے تو دروازہ کھلا اور مجھے میری بیوی دکھائی دی، جس کی نظریں کسی کو تلاش کر رہی تھیں، میں دوڑتا ہوا اس کے قریب گیا تو اسے دیکھ کر میرے حواس گم ہو گئے اس کا چہرہ اور پورا جسم خون میں لت پت تھا، اس نے ایک پھٹے ہوئے کپڑے سے اپنا جسم ڈھانپ رکھا تھا، ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں،
اسے دیکھ کر میں رونے لگا، اس نے مجھے سمجھایا اورکہا میری حالت دیکھ کر پریشان مت ہو، الله کا شکر ہے میں ابھی تک اسلام پر قائم ہوں اور جو تکالیف میں جھیل رہی ہیں وہ ان کے بال برابر بھی نہیں، جو ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ان سے پہلے ایمان والوں نے برداشت کی تھیں ، تم کمرے پر میرا انتظارکرتے رہو،
الله کی ذات سے ناامید مت ہونا، ہو سکے تو رات کے آخری حصے میں دعائیں کرنا، الله پاک ہماری دعا ضرور قبول کرے گا۔
میں اپنے کمرے پر واپس آگیا، تیسرے دن وہ کمرے پر آئی اور بولی، ہمیں فوراً یہ شہر چھوڑنا ہو گا۔ میں نے کہاہم فوراً ایئر پورٹ چلتے ہیں ۔اس نے کہا ہم ایئرپورٹ نہیں جائیں گے، میرے گھر والے وہاں مجھے تلاش کرنے ضرور پہنچ جائیں گے، ہم نے ٹیکسی لی اور5,4 شہروں کو پار کرکے ایسے شہر میں پہنچ گئے، جہاں ایئرپورٹ تھا ،وہاں سے پہلی پرواز سے اپنے ملک آگئے۔ گھر آکر میں نے سکون کی سانس لی،
میری بیوی کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو زخمی نہ ہو۔ اس نے اپنی آپ بیتی مجھے یوں سنائی کہ جب میں نے اپنے گھر والوں کو تاجر کی گھناؤنی حرکت کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اب میں مسلمان ہو چکی ہوں اور تم میرے شوہر ہو تو میرے باپ اور بھائیوں نے یک زبان مذہب تبدیل کرنے کا حکم دیا، مجھ پر تشدد کیا جانے لگا اور ہر بار مجھ سے اسلام سے پھر جانے کو کہا جاتا ، انکار کرنے پر پھر مارنا شروع کر دیتے۔
ایک دن میری بہن کو مجھ پر ترس آگیا، اس نے تمہیں گھر کے آس پاس دیکھا تھا، میری بہن کے پاس زنجیر کی کنجی تھی، جس کی مدد سے وہ مجھے حاجت کے وقت ستون سے کھول دیتی تھی، اس نے بھائیوں کے جانے کے بعد میری وہ زنجیر کھول دی،
اس دن چند منٹوں کے لیے میری تم سے ملاقات ہو گئی تھی ،اس دوران میں اپنی بہن کو اسلام کے بارے میں بتاتی رہی تیسرے دن میری بہن نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے اس سے کہا ابھی تم اپنے اسلام کو ظاہر مت کرنا یہاں تک کہ میں آزاد ہو کر تمہاری مدد کے قابل نہ ہو جاؤں۔ جس دن میں آزاد ہوئی، اس دن میرے باپ اور بھائیوں نے بہت زیادہ شراب پی رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ نشے میں دھت تھے،
جب یہ لوگ مدہوش ہو گئے تو اس کا فائدہ اٹھا کر بھائی کی جیب سے چابی نکال کر میری بہن نے مجھے آزاد کر دیا، میں اپنی بہن سے یہ کہہ آئی ہوں کہ ان شاء الله جلد ہی میں تمہیں لینے آؤں گی۔
اس نوجوان نے آگے بتایا کہ میری بیوی کی حالت بہت خراب تھی، اس لیے واپس آنے پر سب سے پہلے اس کا علاج کرایا، الله کا شکر ہے اب وہ بالکل ٹھیک ہے، میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ الله پاک نے ایسی نیک بیوی دی ہے۔