PDA

View Full Version : ڈینگی مچھر ۔ بیالوجیکل ہتھیار



بےباک
10-08-2011, 07:44 AM
http://www.topstoryonline.com/wp-content/uploads/2011/10/mosquito.jpg

اس مچھر کو آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی ٹیم نے تیار کیا تھا ۔انہوں نے مچھروں پرتجربے کئے اور وولباچیا نام کا ایک جراثیم ان میں شامل کیا تھا ، اور پھر اس کو لیبارٹری میں تیار کیا گیا ،
وفاقی مشیر طب حکومت پاکستان اور سابق صدر نیشنل کونسل فار طب حکیم رضوان حفیظ ملک (تمغہ امتیاز)نے بتایاکہ اس بیماری کا دوسر انام Dengue Hemorrhagic fevar ہے یعنی وہ بخار جس میں جسم سے خون بھی بہتا ہے ۔ جس کانام ڈینگی ہے ۔ یہ وائرس بھی کئی اقسام کے ہیں ۔ اس بیماری کا پھیلاؤانسانوں میں ایک خاص قسم کے مچھر کی وجہ سے ہوتاہے ۔ اور اس مچھر کا نام Aedes Aegypfi ہے ۔ جب یہ مچھر ایک بیمار شدہ مریض کو کاٹ کر کسی صحت مند شخص کو کاٹتا ہے ۔ تو یہ بیماری پھیل سکتی ہے ۔ یہ بیماری عام طور پر دنیا میں گرم مرطوب علاقوں میں ہوتی ہے ۔ اس بیمار ی کا پھیلاؤ ملیریا کی طرح ہے ۔ بیماری زیادہ تر افریقہ ، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور انڈیا میں مغربی بنگال کے علاقے میں ہوتی ہے ۔ اس بیماری کی علامات مندرجہ ذیل ہیں ۔
1 ۔ عام طور پر اچانک بخار کا ہو جانا ۔
2۔ سخت سر درد کا ہو نا ۔
3 ۔پٹھوں اور جوڑوں کا درد ہونا ۔
یا سرخ نشانات کا بڑھ جانا ۔
اس بیماری کی وجہ سے خون کے جو platelets ذرات ہیں ۔ بہت کم ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے جسم کے کئی حصوں میں خون بہہ سکتا ہے ۔ اور جلد کے نیچے خون جم جاتا ہے ۔ جس سے یہ سرخ دھبے اور نشانات پڑ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ بیماری چھ یا سات دن تک رہتی ہے اور کئی دفعہ ایک جان لیوا بیماری کی شکل یعنی Dengue shock syndrom اختیار کر لیتی ہے

۔
اب آتے ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف 'وہ اس بارے میں کیا کہتی ہے۔WHOنے اس بیماری کی تشخیص کے لئے مندرجہ ذیل نکا ت بتائے ہیں۔
1 ۔ بخار
2۔ جسم کے کچھ حصوں جیسے منہ دانتوں سے یا معمولی چوٹ لگنے سے خون کا بہنا یا جلد کے نیچے خون کا جم جانا
3۔پلیٹلیٹس Plateletsکی خون میں مقدارکا انتہائی کم ہونا۔ خون کا گاڑھا ہو جانا ۔
اس کے علاوہ خاص بلڈ ٹیسٹ جیسے PCR کے ذریعے بھی بیماری کی
تشخیص کی جاسکتی ہے
۔
اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے ۔
1 ۔ مریض کو Supportive therapy دی جاتی ہے ۔
2۔مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ پانی اور دوسرے مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ رکھے ۔
3 اگر مریض زیادہ کھا پی نہ سکے تو پھرDrip لگانی چاہئے۔
4 ۔ اگر Plateletsبہت کم ہو جائیں تو جس سے خون جاری ہونے کا احتمال ہو تو اس صور ت میں Platelets کی Drip لگانا بہت ضروری ہے ۔plateletsکی Drip بلڈ بنک سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ Prevention is better than cure یعنی بیماری سے بچا ؤاس کے علاج سے بہتر ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اس مچھر Aedes Aegypti کو بڑھنے پھولنے سے مکمل طور پر روک دیں ۔ سب سے اہم بات ایسی جگہوں پرا سپرے کی ہے ۔ جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے ، وہاں پانی کو کھڑا نہ ہو نے دیاجائے ۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فورا سپر ے کیا جائے ۔ گھروں میں مچھر کے بچا ؤکی تدابیر کرنی چاہیئں ۔ جن میں مچھر دانی یعنی Mosquite net کا استعمال بہت ضروری ہے۔
طب یونانی( اسلامی ) یا ہربل سسٹم آف میڈیسن اس مرض کے علاج کے حوالے سے دیگر طریقہ ہائے علاج کی طرح خاموش نہیں بلکہ دنیا بھر کے معالجین کی راہنمائی کرتا ہے اور جدید طریقہ ہائے علاج کے معالجین بھی اس سے استفادہ کر رہے ہیں ۔کنسلٹنٹ فیملی فزیشن اوریونانی میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے میری پریکٹس' تحقیق و کلینکل ٹرائلز کے مطابق شہد ڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے۔پروپولس(رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن 'اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات'دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیںپپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے Plateletsحیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء اللہ چیمہ نے اس بیماری کی علامات کے متعلق بتایاکہ پہلی سٹیج میں جب وائرس حملہ آور ہوتا ہے ۔ تو۔۔۔
1۔ بخار تیزی سے چڑھتا ہے
2۔ شدید سر درد ' جسم اور جوڑوں میں دردیں ہو تی ہیں ۔ کمرمیں بھی درد ہوتی ہے ۔
3۔چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور یہ سرخی جسم کے باقی حصہ میں بھی پھیل جاتی ہے ۔
4 ۔ آنکھیں بھی سر خ ہوجاتی ہیں ۔ روشنی اچھی نہیں لگتی اور پانی بہتا ہے ۔ آنکھوں کی حرکت بھی درد پیدا کرتی ہے ۔
5 ۔گردن میں گلٹیاں بھی نمودار ہو سکتی ہیں ۔
6 ۔گردن میں اکڑاؤ آجاتا ہے ۔
7 ۔ نیند نہیں آتی ۔
یہ مرحلہ بہت سخت ہوتا ہے اور مریض کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے ۔ جس کی وجہ شدت کا بخار اور درد ہے ۔ تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ جاتی ہے اور مریض کی حالت سنبھلنے لگتی ہے۔
اس مرض کا بچاؤصرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچا ؤہے ۔ جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لئے مچھر مار دواؤں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہئے ۔ رات کو جالی لگا کر سونا چاہئے ۔مارکیٹ میں ایسے تیل بھی ہیں جوجسم اور ہاتھوں کے کھلے حصے پر لگانے سے مچھر آپ کو نہیں کاٹتا ۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ مخصوص حالات میں پیدا ہونے والا انتہائی اہم متعدی وائرس بخار ہے۔ جو کہ ایک خاص قسم کے مچھر Ades Aegytiکے کاٹنے سے ہو جاتا ہے ۔ یہ وائرس اور مچھر کی افزائش کھڑے صاف پانی میں ہوتی ہیں ۔ ڈینگی وائرس بخار کی علاما ت شروع میں اس طرح ہو تی ہیں ۔
1 ۔ تیز بخار
2 ۔ سر میں شدید درد
3 آنکھوں کے ڈیلے میں شدید درد
4 .تمام جسم کی ہڈیاں اور گوشت یہاں تک کہ جوڑ جوڑ میں درد
5: بھوک کا مر جانا اور متلی کا ہونا
بیماری کے ایکوٹ جینز میں مریض شاک میں جا سکتا ہے اور بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے ۔ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں ۔ جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے ہوجاتے ہیں ۔
ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افرادپراگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
اس مرض پر قابو پانا صر ف حکومت کے بس میں نہیں بلکہ پوری آبادی کو شعور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں کہ مچھروں کی افزائش نہ ہو اور وہ خود مچھروںکے کاٹنے سے بچیں ۔
حکومت وقت کا فرض ہے ۔ کہ جہاں جہاں پانی کھڑا ہے ۔ وہاں دوائی اسپرے کریں اور عوام کا کام ہے کہ ایسی جگہوں کی نشاندہی کریں اور گھروں میںصاف پانی کو بھی ڈھانپ کر رکھیں ۔ کیونکہ یہ مچھر صاف پانی میں ہی ہو تے ہیں کمیونٹی ہیلتھ ورکز اور این جی اوز کا بھی یہ فرض ہے ۔ کہ وہ علاقے میں نکل کر عوام کو اس مرض کے بارے میں بتائیں اور وہ اس سے بچنے اور اس کے بر وقت علاج کا شعور دیں

ڈنیگی مچھر رات کو نہیں کاٹتا اس لیے صبح کے وقت پوری آستین کے کپڑے اور موزے پہنے جائیں ۔ ڈاکٹر اسلم نے ایک بیان میں کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کو زیادہ سے زیادہ پانی اور لیکیوڈ بھی دینا چاہیے ۔ڈینگی کے مریضوں کو اسپرین اور بروفین دینے سے اجتناب کر نا چاہیے ۔ تاہم پیرا سیٹامول دی جا سکتی ہے ۔
۔ڈینگی فیور کے پچیدہ کیسز یعنی ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک فیور کی شرح’ ڈینگی پازیٹو مریضوں میں تین سے پانچ فیصد تک ہے تاہم خوف و ہراس کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر بھی انتہائی ضروری ہیں یہ باتیں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ہیلتھ پاک کے زیراہتمام ڈینگی وائرس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی و اسلامی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کے مطابق شہدڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہئے’حفظ ماتقدم کے طور پر بھی مفید ہے۔پروپولس(رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتوراینٹی انفیکشن ‘اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہے ۔یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہدنکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوپہر شام اور رات’دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں ۔پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی ۔اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیںپپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سے Plateletsحیران کن طور پرچند گھنٹوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ کالی مرچ’کلونجی ‘چرائتہ’افسنتین ہر ایک دس گرام باریک پیس لیںاور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے سے ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔بخار کم کرنے کیلئے تین گرام چھوٹی الائچی کا پاؤڈر’بارہ گرام برگ تلسی کے قہوے سے دینا بھی فوری اثر کرتا ہے۔ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے’وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول ‘مونگ کی دال ‘کھچڑی’شلجم ‘چقندر’گاجر بند گوبھی’انگور’انار’سنترہ’ مسمی اورمیٹھا اس مرض میں مفید غذا ہے۔احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروں سے بچاؤ کیلئے لیمن گراس کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودا سنگاپور سمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے طور پرموثر ثابت ہوچکا ہے۔پپیتے کا جوس اس مرض میں مفید ہے

محمدمعروف
10-08-2011, 07:00 PM
بے باک جی بہت مفید معلومات دیں اللہ آپ کا بھلا کرے آمین ۔

بےباک
10-09-2011, 09:57 PM
http://pakobserver.net/detailnews.asp?id=116454
CIA’s bio attack on Pak suspected
Cuba suffered scourge in 1981
Akhtar Jamal


Islamabad—Fears are growing in Pakistan that the spread of dengue fever also known as break-bone fever may have been caused by some kind of biological experiment or deliberate release of virus by foreign elements.

Pakistan Medical Association (PMA) representatives have called on security agencies to investigate fears of deliberate spread of dengue virus in Pakistan. According to a report, the PMA members and experts have demanded in-depth investigation over mysterious spread of Dengue virus in Punjab.

Dengue fever is an infectious tropical disease caused by the dengue virus and the disease has caused alarming situation in Lahore and other Punjab cities. Lately the disease has spread to other cities of Pakistan and has killed over 100 people affecting thousands. According to experts the virus has four different types; infection with one type usually gives lifelong immunity to that type, but only short-term immunity to the others. Subsequent infection with a different type increases the risk of severe complications.

As per Internet info, in the spring and summer of 1981, Cuba experienced a severe hemorrhagic dengue fever epidemic. Between May and October 1981, the island nation had 158 dengue-related deaths with about 75,000 reported infection cases. At the height of the epidemic, over 10,000 people (per day) were found infected and 116,150 were hospitalized. At the same time during 1981 outbreak, covert biological warfare attacks on Cuba’s residents and crops were believed to have been conducted against the island by CIA contractors and military airplane flyovers. Particularly harmful to the nation was a severe outbreak of swine flu that Fidel Castro attributed to the CIA. American researcher William H. Schaap, an editor of Covert Action magazine, claims the Cuba dengue outbreak was the result of CIA activities.

In 1982, the then Soviet media reported that the CIA sent operatives into Afghanistan from Pakistan to launch a dengue epidemic. The Soviets at the time claimed the operatives were posing as malaria workers, but, instead, were releasing dengue-infected mosquitoes. The CIA denied the charges. In 1985 and 1986, authorities in Nicaragua accused the CIA of creating a massive outbreak of dengue fever that infected thousands in that country. CIA officials denied any involvement, but Army researchers admitted that intensive work with arthropod vectors for offensive biological warfare objectives had been conducted at Fort Detrick in the early 1980s, having first started in the early 1950s. American Fort Detrick researchers reported that huge colonies of mosquitoes infected with not only dengue virus, but also yellow fever, were maintained at the Frederick, Maryland (U.S.), installation, as well as hordes of flies carrying cholera and anthrax and thousands of ticks filled with Colorado fever and relapsing fever.

It is significant to note that in early 2011, American CIA sponsored a fake vaccination drive in Abbottabad city of Pakistan to get DNA samples of Osama bin Laden, developing aversion to the real and much needed polio vaccination programme in Pakistan.

Bilogical attack on Afghanistan: Britain and the US have been accused of a biological attack on Afghanistan’s poppy fields in an attempt to defeat the Afghani resistance, destroy wheat and fruit trees and blight the opium crop. The British daily “Telegraph” reported in May 2010 that “poppy plants (in Afghanistan) have been suffering a mysterious disease that leaves them yellow and withered and slashes the yield of opium resin, which is sold and processed into heroin. The worst-affected farmers said the scale of the infection was unprecedented. Yields have dropped by 90 per cent in some fields.

Some have claimed the British and Americans are responsible for the plague, but they strongly denied involvement. The blight was first noticed a month ago and linked to an infestation of aphids in wheat and fruit trees. It has since been found in four provinces across the south.

These biological attacks on the Afghani people brings to memory the American biological war against the Vietnamese people in the 1960s and 1970s.

Jean-Luc Lemahieu, the head of the UN Office on Drugs and Crime in Afghanistan was quoted as saying: ‘’We are at this moment not sure if it is a fungus or some insect. Spraying has been forbidden in very clear words by the President of Afghanistan. Hence, awaiting the results from our lab tests.’’

بےباک
10-10-2011, 07:55 AM
http://ummat.com.pk/2011/10/09/images/story1.gif

بےباک
10-11-2011, 05:00 AM
http://ummat.com.pk/2011/10/10/images/story1.gif

محمدمعروف
10-11-2011, 11:29 PM
بے باک صاحب واقعی بہت تحقیقی اور حیران کن تحریر ہے غیر مسلم طاقتیں اقوام عالم بالخصوص مسلمانوں کو ہر طرح سے زک پہنچانے کیلئے ہمہ وقت چاک و چوبند رہتی ہیں اور کوئی موقع رائیگاں نہیں جانے دیتیں ۔ مگر افسوس ان مسلم حکومتوں پر ہے جو چند پیسوں کی خاطر بک کر ان ظالموں کو اپنے ملکوں میں ہر قسم کی آزادی دے دیتے ہیں اور پھر ان کے پھیلائے ہوئے جال میں عوام سمیت پھنس جاتے ہیں اللہ ہمیں ان غیر مسلموں کی سازشوں سے محفوظ رکھے آمین ۔
یہ لنک بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=3489&pid=11501#pid11501

اوشو
10-12-2011, 03:21 AM
اففففف
یہ تو بہت ہوش ربا انکشافات ہیں.
ہمیں سنجیدگی سے مسئلے کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے. جو بہت سوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے.

بےباک
10-12-2011, 06:02 AM
http://ummat.com.pk/2011/10/11/images/story4.gif

بےباک
10-13-2011, 05:17 AM
http://ummat.com.pk/2011/10/12/images/story5.gif

بےباک
10-15-2011, 06:53 AM
http://nidaimillat.nawaiwaqt.com.pk/ePaper/E_Paper/13-10-2011/Lahore/2884.jpg

اذان
10-21-2011, 11:53 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=413191799199

عبادت
10-21-2011, 03:49 PM
اسلام علیکم

یہ ساری تحقیق پڑھ کر تو جسم ساقط
سا ہو گیا
بے جی تھنکس فارشیٰیرنگ

این اے ناصر
04-03-2012, 11:21 AM
مفیدمعلومات کے لیے بہت بہت شکریہ۔