PDA

View Full Version : جعلی ڈگری سکینڈل: قومی اسمبلی ریکارڈ جلانے کی کوشش



بےباک
10-08-2011, 08:16 AM
جعلی ڈگری سکینڈل: قومی اسمبلی ریکارڈ جلانے کی کوشش

اسلام آباد (رؤف کلاسرا) سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کے بھائی پر جو قومی اسمبلی میں ایک اہم عہدے پر تعنیات ہے، اب یہ شک کیا جارہا ہے کہ اس نے تین اور چار اکتوبر کی رات قومی اسمبلی کے اس کمرے کو آگ لگوانے کی کوشش کی جہاں تعلیمی ڈگریوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں چیک کرانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ آگ لگانے کے پیچھے قومی اسمبلی کے سپریم کورٹ کے ایک جج کے بھائی کے علاوہ ان تمام بارہ افسران پر شک کیا جارہا ہے جن پر شک تھا کہ ان کی ڈگریاں جعلی تھیں اور بہت جلد ان کا پول کھلنے والا تھا۔

سرکاری ذرائع نے کنفرم کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی جو اس وقت سپیکر فہمیدہ مرزا کی عدم موجودگی میں قائم مقام سپیکر کے فرائض ادا کررہے ہیں، نے اس کی تحقیات کا حکم دے دیا ہے کہ کس نے اسٹیمبلشمنٹ ونگ کو رات گئے آگ لگانے کی کوشش کی جہاں تمام ملازمین کی سروس ریکارڈ کو رکھا جاتا ہے۔

ٹاپ سٹوری آن لائن کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات سے انکشاف ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں تین اور چار اکتوبر کی رات اس وقت ہلچل مچ گئی جب اسٹیبلشمنٹ ونگ سے آگ کے شعلے نکلنے شروع ہوئے۔ تاہم فوری طور پر اس آگ کو بجھا کر ڈپٹی سپیکر کنڈی کو اطلاع دی گئی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ چند روز قبل بھی اس کمرے کے ساتھ واقع باتھ روم کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تفتیشکاروں کا کہنا ہے کہ باتھ روم میں آگ کا مقصد کسی بڑے واقعہ کے لیے ماحول تیار کرنا ہو سکتا ہے تاکہ کل کو یہ نہ کہا جاسکے کہ صرف اس دفتر کو، جس میں سندیں پڑی ہوتی ہیں، کیوں اچانک آگ لگی تھی۔

فیصل کنڈی نے پریشر میں آنے سے انکار کردیا اور بارہ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے فائل پر تیار کرنے کا حکم دیا

آگ لگنے کے دونوں واقعات کی جاری تفتیش سے متعلق سرکار ی زرائع کا کہنا ہے کہ فوری شک ان بارہ افسران پر کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنی اسناد جانچ پڑتال کے لیے جمع نہیں کرائی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی کے سیکرٹری کرامت نیازی نے بھی ڈپٹی سپیکر کو ان بارہ افسران کی ڈگریاں چیک نہ کروانے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے اسمبلی کی بدنامی ہوگی کیونکہ ان افسران میں ایک دو انتہائی اعلی پوزیشنز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تاہم فیصل کنڈی نے پریشر میں آنے سے انکار کردیا اور ان بارہ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے فائل پر تیار کرنے کا حکم دیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ فائل فیصل کنڈی کے پاس پہنچتی اسمبلی کے ان افسران نے مبینہ طور پر ملی بھگت کرکے وہ ریکارڈ جلانے کو کوشش کی تاکہ ان کے خلاف ثبوت ہی جل جائیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں پچھلے سال جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آیا تھا اور کچھ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں جعلی پائی گئی تھیں۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان کے تمام ملازمین کی بھی ڈگریاں چیک کرائی جائیں۔ اس سلسلے میں سینٹ اور قومی اسمبلی کے ملازمین سے ڈگریاں جمع کرانے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد سکینڈل ہے جب قومی اسمبلی کے افسران نے ریکارڈ روم کو جلانے کے کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے خلاف جعلی ڈگریوں کے ثبوتوں کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم زرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اگ بجھانے سے قبل کتنا نقصان ہوا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس بات کا تعین فیصل کنڈی کی طرف سے کی جانے والی تحقیات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

محمد یونس عزیز
01-21-2012, 09:52 AM
پنجاب اسمبلی کی پانچ ارکان کی ڈگریاں جعلی ہیں ،
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120121/Sub_Images/1101430517-1.jpg

http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120121/Sub_Images/1101430516-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120121/Sub_Images/1101430516-2.gif

بےباک
01-22-2012, 11:20 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/22/images/story6.gif