PDA

View Full Version : ’پرویز الہی مانگے بلٹ پروف کار، خصوصی جہاز اور 25 ارب‘



بےباک
10-08-2011, 08:24 AM
’پرویز مانگے بلٹ پروف کار، خصوصی جہاز اور 25 ارب‘

اسلام آباد (رؤف کلاسرا) وفاقی حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے وزیروں کے اپنی پارٹی لیڈروں کے حوالے کیے گئے استعفوں کے بعد پیدا ہونے والے نئے سیاسی بحران کی اصل وجہ وفاقی وزیر چوہدری پرویز الہی کو بلٹ پروف کار کا نہ ملنا اور اس سے بڑھ کر انہیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا وہ جہاز استعمال کے لے نہ دیا جانا شامل ہے، جس کا وعدہ ان سے ایوان صدر میں ہونے والے خفیہ مذاکرات میں صدر آصف زرداری نے کیا تھا۔

قابل اعتماد ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پرویز الہی اور ان کے وزراء ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر وفاقی حکومت سے اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے لیے بیس سے پچیس ارب روپے کیش کا مطالبعہ بھی کر رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں ان کی مرضی سے ان کے علاقوں میں، ان کے اپنے ٹھیکداروں کے ذریعے خرچ ہونے چاہیں۔ سیاسی ذرائع نے ٹاپ سٹوری آن لائن کو کنفرم کیا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کے اشارے پر ہی ان کی پارٹی کے وزیروں نے یہ استعفے اپنی قیادت کے حوالے کیے ہیں تاکہ وہ ان کو استعمال کرتے ہوئے صدر پاکستان آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی پر اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔

اطلاعات کے مطابق جب صدر زرداری اور چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان اس نئے سیاسی الائنس پر بات چیت فائنل ہورہی تھی تو وہاں کچھ باتیں یہ بھی طے ہوئی تھیں کہ پرویز الہی کا موجودہ سیٹ اپ میں کیا رول ہوگا اور انہیں کیا مراعات ملیں گی۔ جہاں مونس الہی کے حوالے سے نیشنل انشورنس کارپوریشن سکینڈل میں بہت سارے معاملات طے کیے گئے تھے، وہاں ایوان صدر میں یہ طے کیا گیا تھا کہ پرویز الہی کو سفر کرنے کے لیے بلٹ پروف گاڑی دی جائے گی۔ اس طرح ان خفیہ مذاکرات میں یہ بھی ڈیل کی گئی تھی کہ پرویز الہی کو سفر کرنے کے لیے وزیراعظم کا خصوصی جہاز استمعال کرنے کی سہولت بھی میسر ہو گی۔

اگرچہ پرویز الہی ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ اور اپنے لیے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں علیحدہ فلور چاہتے تھے جہاں ان کی پارٹی کے وزراء بیٹھا کریں گے اور صرف ان کو جواب دہ ہوں گے۔ تاہم یہ بیل بعض سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے مونڈے نہیں چڑھ سکی تھی۔ لیکن پرویز الہی کو ڈپٹی وزیراعظم کا پروٹوکول دینے پر رضامندگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مونس الہی کے حوالے سے یہ طے پایا تھا کہ کسی صورت بھی ڈائرئکٹر ایف ائی اے ظفر قریشی کو دوبارہ اس کیس کی تفتیش نہیں کرنے دی جائے گی چاہے اس کے لیے حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اس ڈیل کو پورا کرنے کا ٹاسک ڈاکڑ بابر اعوان اور رحمن ملک کو دیا گیا تھا جنہوں نے مختلف طریقوں سے سپریم کورٹ کو ظفر قریشی کو دوبارہ انکوائری افسر نہیں لگنے دیا اور انہیں معطل رکھا۔ حکومت کو علم تھا کہ ظفر قریشی نے تیس سمتبر کو ریٹائرڈ ہو جانا تھا۔ یوں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کر کے ظفر قریشی کو دوبارہ اس وقت تفتیش کے لیے لگایا گیا جب ان کی ریٹائرمنٹ میں چند ہفتے باقی رہ گئے تھے۔ اس دوران ایف آئی اے نے ظفر قریشی کا بنایا ہوا سارا کیس ہی مبینہ طور پر خراب کر دیا۔

ایوان صدر میں ہونے والے ان خفیہ مذاکرات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ایم این ایز کو بھی اس ڈیل میں کیش کی شکل میں حصہ دینے کے لیے یہ طے ہواتھا کہ فی ممبر پچاس کڑور روپے ترقیاتی فنڈز کے نام پر ادا کیے جائیں گے۔ تاہم جب پی ایم ایل کیو حکومت کا حصہ بنی تو کچھ عرصے تک تو انتظار کیا گیا کہ شاید جو ڈیل ایوان صدر میں کئی راتوں کی میٹنگز کے بعد طے ہوئی تھی، اس پر دھیرے دھیرے عمل ہوگا۔ اب چند ماہ گزرنے کے بعد انکشاف ہو رہا ہے کہ وزارتیں تو پی ایم ایل کیو کو مل گئی تھیں لیکن چوہدری پرویز الہی کو بلٹ پروف کار کی بجائے ایک ٹویوٹا کار بھیج دی گئی تھی۔ اس طرح وہ ابھی بھی پی آئی اے کی کمرشل فلائٹس استمعال کر کے اسلام آباد اور لاہور کا سفر کر رہے تھے۔ یوں وزیراعظم گیلانی نے وقتی طور پر تو صدر زرداری کی بات مان لی تھی کہ پرویز الہی ان کا طیارہ بھی استمعال کر سکتے ہیں اور جب بھی ان کو ضرورت ہو گی طیارہ فراہم کر دیا جائے گا۔ تاہم کئی ماہ گزرنے کے بعد اب تک پرویز الہی کو گیلانی نے اپنا طیارہ استمعال نہیں کرنے دیا تھا۔

پرویز الہی پر ان کی پارٹی کے ایم این ایز نے بھی دباؤ ڈالا تھا کہ انہیں جو پچاس کڑور روپے ترقیاتی سکیموں کے نام پر دیے جانے تھے، ان میں سے بھی کوئی پیسہ نہیں دیا گیا۔ حکومت کا کہنا یہ تھا کہ اس کے پاس خزانے میں اتنی بڑی رقم نہیں تھی کہ وہ فورا نکال کر پی ایم ایل کیو کے لوگوں میں باٹنا شروع کر دیتی۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے یہاں تک کہا گیا کہ اگر حکومت کے پاس اتنے اربوں روپے خزانے میں موجود ہوتے ، تو بجلی کا بحران کیوں پیدا ہوتا کیونکہ اتنے ہنگاموں کے بعد وزیراعظم گیلانی نے جا کر نو ارب روپے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو ریلیز کیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہو جانے والی وزارتوں کے بعد اب پی ایم ایل کیو کے وزیروں کو بہت غیر اہم وزارتیں دی گئی تھیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ اس کے باوجود بھی پی ایم ایل کیو کے چند تجربہ کار وزیر مسلسل پیسے بنانے میں مصروف تھے۔ یہ وجہ تھی کہ پچھلے دنوں ایک وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس رضا حیات ہراج نے یہ کہ کر اپنا استعفا دے دیا تھا کہ اس نے اتنی کرپشن اپنے اردگر د ہوتے دیکھی کہ اسے خطرہ محسوس ہوا کہ اگر وہ کچھ ماہ ادھر ٹکا رہا تو پھر وہ بھی اپنے خلاف بہت سارے سچے جھوٹے الزامات لے کر گھر جائے گا۔

تاہم سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ جونہی پی ایم ایل کیو کے مطالبات مان لیے جائیں گے تو معاملات درست ہو جائیں گے کیونکہ ایم کیو ایم سے پی ایم ایل کیو نے یہ ہی سیکھا ہے کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہر وقت جیب میں وزارتوں سے استعفے تیار رکھے جائیں۔ ایوان صدر کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ صدر زرادی بھی یہ سب کھیل سمجھتے ہیں اور انہیں ان سیاسی کھلاڑیوں کو ڈیل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی خصوصا وہ جو صرف پیسے کی زبان سمجھتے ہیں اور یہ وہ زبان ہے جو زرداری صاحب بخوبی سمجھتے ہیں۔

این اے ناصر
10-10-2011, 06:04 PM
ھاھاھا...بہت دلچسپ . پڑھ کرمزہ آگیا. تھینکس