PDA

View Full Version : ماضی کی جھروکوں سے



سقراط
10-13-2011, 02:21 AM
''ماضی کی جھروکوں سے '' مسلمانوں کے سائنسی کارنامہ'' جو شاید آج امریکہ کے کھاتے میں جاتے ہیں''

جرت ہے تو افکار کی دنیا سے گزر جا
یہ مسلمان سائنسدان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے دینا کا وسیع تصور پیش کیا ۔ انہوں نے مروجہ منطقی اور تخلیقی نظریات سے ہٹ کر علم کی بنیاد مشاہدہ پر رکھی اور زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جا پہنچے ۔۔۔مڈ غاسکر ، فلپائن ، آسٹریلیا ، جاپان ، اور امریکہ کی دریافت کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے ۔۔۔ یہی نہیں مسلمان مفکر وں نے ہی سب سے پہلے دریائے نیل کے منبع ، فوسلز اور بر مودا ٹرائی اینگل کی نشاندہی کی۔
جب دنیا کے مختلف علاقو ں میں دین اسلام کی روشنی پھیلی تو دنیا کی تاریخ بھی تبدیل ہونے لگی ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مختصر سے عرصے میں مسلمان دین اسلام کی روشنی کو ایشیاء اور یورپ کے مختلف حصوں تک لے گئے ۔ اسلام کی تعلیمات نے صرف نو سال میں فارس (ایران) پر غلبہ پا لیا اور اس کے ایک ہی سال بعد مسلمان ، مصر کے حکمران بن گئے ۔ پھر تو گویا مسلمانوں کی کامیابیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور نو دہائیوں بعد شمالی افریقہ ان کے زیر نگیں آچکا تھا مصر سے مراکش تک ان کی حکومت قائم ہوگئی تھی ۔ ایک طرف مسلمانوں نے اسلامی ریاست کو اسپین اور پر تگال تک وسیع کر لیا ، دوسری طرف ہندوستان اور با الآخر جنوبی ایشیا ء تک ان کا غلبہ قائم ہوگیا ۔خشکی اور سمندر دونوں مسلمانوں کی جو لانگاہ تھے ۔ جب ان کا دائرہ اختیار بحر اوقیانوس سے چین کی سرحدوں تک پھیل گیا تو انہوں نے چار تجارتی شاہراہیں نکالیں ۔ ان میں دو بحری شاہراہیں بھی تھیں جو ہندوستان کی طرف سے ہو کر گزرتی تھیں ۔ ان دونوں راستوں کا آغاز بحیر ہ ٔر وم سے ہوتا تھا ۔ ایک شام اور خلیج فارس سے اور دوسرا اسکندریہ اور پھر بحیرۂ احمر سے ہوکر بحر ہند کو جاتا تھا ۔ تیسرا راستہ مشرقی افریقہ کے ساحل تک پہنچتا تھا ۔ چوتھی شاہراہ وسطِ ایشیاء سے چین تک جاتی تھی ، اسے شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے ۔
مسلمانوں کے بحری تجارت کے متعلق
فرانس کا مؤرخ موسیو سید یو کتاب " تاریخ عرب " میں لکھتا ہے " وہ آبنائے باب المند ب عبور کرنے زنجبار اور بلا دلکفرہ کے ساتھ تجارت کرتے تھے ۔ وہ سامان سے لدے اپنے تجارتی جہاز کالی کٹ ، جاوہ سماٹرا اور بحرہند کے دوسرے جزائر کی بندرگاہوں تک لے جا کر فروخت کرتے اور واپسی پر وہاں کی پیداوار خرید لاتے ۔
مسلمان تاجر وں نے ساحلِ افریقہ پر سات نئے شہر آباد کئے جن کے نام بروہ ، ممباسہ ، کلوہ موزمبیق ، سوفالہ ، میلندہ اور ماماوسکو ہیں ۔
ان لوگوں نے جزیرہ مڈغاسکر اور افریقہ کے مشرقی ساحلوں کو مستقل وطن بنا لیا ۔ وہ ہندوستان اور چین کے اندرونی علاقوں تک تجارت کرتے ، بڑھتے چلے گئے " ۔ تاریخ عرب موسیو سید یو فرانسیسی ، ترجمہ عبدلغفور ۔ صفحہ 473 وہ مزید لکھتے ہیں عربوں کے جہاز چین کی بندگاہ کینٹن تک جاتے رہتے تھے ۔ بمبئی کے نزدیک عرب سوداگر وں کی ایک خوشحال نو آبادی تھی جہاں انہوں نے ایک فیکٹری بھی قائم کی ہوئی تھی ۔ بغداد اور بصرہ کے بڑے بڑے تجارتی مراکز چین سے ریشم ، ہندوستان سے گرم مسالے اور خوشبودار اشیاء اور منطقہ حارہ کی لکڑی ناریل اور ٹن Tin در آمد کرتے تھے مغر ب اور افریقہ کے مسلمان سوداگر گولڈ کوسٹ سے جو آج گھاناکہلاتا ہے ، سونے کی تجارت کرتے تھے ۔ (ایضاً)
" تمدن عرب " میں فرانسیسی مؤرخ گستاؤ لیبان کا یہ بیان پڑھ کر تو آپ شاید چونک جائیں کہ عرب تاجر دریائے وولگا کے راستے فن لینڈ تک جاتے تھے ۔ نیز بحیر بالٹک کے جزائر مثلاً گاٹ لینڈ ، بارن ہوم اور آک لینڈ سے ہوکر سویڈن ، ڈنمارک اور قروشیا (موجودہ جرمنی کے خطی) کو نکل جاتے تھے ۔ مذکورہ جزائر او ر پولینڈ سے کئی عرب سکے ملے ہیں اور یہ اس امر کی واضح شہادت ہے کہ عرب وہاں تجارت کے لئے آتے جاتے تھی۔ قریب قریب یہی بات جرنل گلب پاشا نے بھی کہی ہے ۔ وہ لکھتا ہے " ہمارے لئے شاید زیادہ تعجب کی بات عرب تجارت کا وہ پھیلاؤ ہے جو روس اور وہاں سے اسکنڈے نیویا تک محیط تھا ۔ایک بڑی تعداد میں عرب سکے فن لینڈ ، سویڈن اور ناروے بلکہ اس سے بھی آگے بر طانیہ اور آئس لینڈ میں دریافت ہوئے ہیں ۔ان میں عبد الملک بن مروان 685)ء تا 705 ء کے زمانے سے لے کر گیارہویںصدی تک کے سکے شامل ہیں ۔
مسلمانوں کا تجارتی راستہ دریائے جیحوں کے ذریعے خوارزم سے ہوکر وسطی وولگا اور وہاں سے شمال کی طرف مالٹک تک پہنچتا تھا " ۔
اب یوں سمجھا جائے کہ سیاسی اور تجارتی طور پر 700 ء سے 1490 ء تک تقریباً آٹھ سو سال تک پوری دنیا پر مسلمان چھائے رہے ،
یہ وہ دور تھا جب مسلمان دنیا کی ترقی یافتہ قوم اور سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے اور زمین کے ایک سرے سے دوسرے سے تک پھیل گئے تھے ۔ان آٹھ سو سالوں میں 800 عربی زبان کو انٹر نیشنل زبان کا درجہ حاصل تھا دنیا بھر میں علم و فنون کتابت و روابت اور سائنس اور ٹیکنا لوجی کا جو بھی کام ہوا وہ عربی زبان میں ہی ہوا ۔ اس دور کے عرب ریسرچرز کی تصانیف ان کے دیگر ہم عصروں کے مقابلے میں بہت بہتر مانی جاتی تھی مسلمان سائنسدانوں نے صرف یونانی کتابوں کے تراجم کی بدولت یہ صلاحیت حاصل نہیں کی تھی بلکہ انہیں ان مسلم سیاحوں سے جدید معلومات حاصل ہوتی رہتی تھیں ۔جو دنیا کے مختلف حصوں کا مسلسل سفر کرتے رہتے تھے ۔

مسلمانو ں کاگلوبلائزڈ سسٹم اس دور میں جبکہ جدید ٹیکنا لوجی کا تصور بھی نہیں تھا اتنا کارگر تھا کہ کوئی بھی خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک سے دو دن میں پہنچ جاتی تھی ، جس کے نتیجے میں مسلمان اسکالرز کا کام اس دور کے غیر مسلم ریسرچرز کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر اور مستند تسلیم کیا جاتا ہے ۔
البیرونی کو اکثر جغرافیۂ طبیعی کا بانی کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس نے زمین کے قدرتی خال و خط یعنی کوہ و صحرا اور دریاؤں کو ناپنے کے لئے باقاعدہ اور مفصل مشاہدات کی بنیاد ڈالی تھی۔
البیرونی اور قطب الدین شیرازی نے سورج کے گرد زمین کی گردش کا خیال پیش کیا جب کہ اس دور میں یورپین ممالک میں یہ خیال ظاہر کرنا موت کے کنویں میں چھلانگ لگانے کے مترادف تھا ۔

ابنِ حوقل جو ابتدائی عرب سیاحوں میں سے ایک ہے ، اس نے اپنی پوری زندگی کے آخر ی 30 سالوں میں ( 943-973 ئ)میں افریقہ اور ایشیاء کا کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا تھا ۔ افریقہ کے شمالی ساحل پر خط استواء سے 20 ڈگری جنوب میں اپنے سفر کے بعد اس نے بتایا کہ اس علاقے میں اتنی آبادیاں ہیں جس کی پہلے توقع نہیں کی جاتی تھی ، اس لئے کہ یونانیوں کا خیال تھا کہ خط استواء کے اطراف کا علاقہ انسانوں کے بسنے کے قابل نہیں کیونکہ یہاں کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے ۔
مسلم اسکالرز نے موسم کے متعلق بھی تفصیلی مطالعہ کیا ، البلخی نے 921 ء میں موسمی خصوصیات پر دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنے والے سیاحوں کے مشاہدات اکھٹا کر کے ایک رپورٹ تیار کی اور موسم پر دنیا کا پہلا اٹلس " کتاب الاشکال "تیار کی۔اسی دوران المسعودی نے پانی کی سطح سے عملِ تبخیر اور بادلوں کی شکل میں نمی کی تکثیف کے متعلق بہت سے حقائق پیش کئے ۔
المقدیسی (85ئ)نے دنیا کو 14 موسمی منطقوں میں تقسیم کیا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ عرض بلد اور محرب اور مشرق میں سمت کی تبدیلی کی وجہ سے موسم میں تبدیلی ہوتی ہے ۔ المقدیسی نے پہلی بار نظر یہ پیش کیا کہ جنوبی نصف کرہ میں زیادہ سے زیادہ سمندر ہے اور شمالی نصف کرہ زیادہ سے زیادہ زمینی علاقہ پر مشتمل ہے ۔
زمین کی ساخت کے متعلق معلومت کی فراہمی میں ابن سینا کا بھی اہم کردار ہے ۔ انہوں نے پہاڑی دریاؤں سے زمین کے کٹاؤ اور وسطی ایشیاء کی پہاڑی وادیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ انہوں نے بلند پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر فوسلز Fossils کی موجود گی بھی ریکارڈ کی۔
شریف الادریسی نے ایک فلکیاتی ماڈل تیار کیا تھا جس کے لئے چاند ی کے چند دائرے بنوائے اور زمین کا سب سے پہلا کرہ (گلوب) تیار کرایا ۔ پھر مختلف افلاک پر سیارے اور ستارے دکھائے اور زمین کے اس گولے پرشہروں، پہاڑوں، وادیوں،دریاؤںاور سمندروں کو مختلف نشانات سے ظاہر کیا ۔ اس گلوب کا قطر تقریباًچھ فٹ اور وزن تقریباً ساڑھے پانچ من تھا۔ادریسی ، سسلی کے بادشاہ راجر پال دوم کے خاص درباریوں میں بھی شامل تھے ۔ اسی بادشاہ کی خواہش پ جغرافیہ دانوں اور مصوروں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر وہ سیاحت کے لئے روانہ ہوئے ۔ پندرہ برس تک سفر کرتے رہے ۔ اس دروان ان تمام اہم مقامات کی تفصیل لکھی اور خاص عمارتوں کی تصویریں بنوائیں یہ سب مواد جمع کر کے وہ سسلی واپس آئے پھر اس مواد کو 1154 ء میں کتاب کی شکل میں مرتب و مدون کیا اور اس کا نام " کتاب الرجال رکھا بعد مین اس کتاب کا نام " نزہت المشتاق فی افتراق الآفاق (دنیا کی سیاحت کے خواہشمندوں کی تفریح ) رکھ دیا گیا ۔ اپنی کتاب میں انہوں نے بحرہند اور دوسرے سمندروں کے متعلق مروجہ نظریات کی تطبیق کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی دریاؤں اور کئی پہاڑوں کے متعلق مروجہ معلومات کو درست کیا جن میں ڈنیوب اور نائجر بھی شامل ہیں ۔ اس کتاب میں 71 نقشے دئے گئے ہیں اور ادریسی کا بنایا ہوا نقشہ بڑا حیران کن ہے ،اس میں انہوں نے دریائے نیل کے منبع کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ نیل خط استوا ء پر واقع جھیلوں سے نکلتا ہے اور اس کا منبع " جبل القمر نامی پہاڑ ہے
۔۔۔۔۔اس معاملے میں اہل یورپ عرصہ دراز تک حیران و سرگرداں رہے اور آخر کار یکم اپریل 2006 ء کو برطانیہ و نیازی لینڈ کے ماہرین نے دریائے نیل کا منبع تلاش کر لیا ۔ مصر سے سفر شروع کرنے والے دونوں ممالک نے ماہرین نے 80 دن کی جستجو کے بعد دریائے نیل کا منبع روانڈا میں تلاش کیا ۔ تین ماہرین نے 80 دن کے طویل سفر کا آغاز مصر مین اس مقام سے شروع کیا جہاں دریائے نیل سمندر میں گرتا ہے ۔ یہ ماہرین مصر سے سوڈان ، پھر سوڈان سے یوگنڈا اور وہاں سے جھیل وکٹوریہ کراس کرتے ہوئے تنزانیہ پہنچے ۔ تاہم انہیں دریائے نیل کا منبع درانڈا میں ہی ملا ۔تین کشتیوں میں سوار ان ماہرین نے 6007 کلو میڑ163 میل کا فاصلہ طے کیا اور پانچ ملکوں سے گزرے اور روانڈا کے گہرے جنگلات میں دریائے نیل کا منبع تلاش کر لیا ۔
اسی طرح ادریسی نے افریقہ کے بعض ان حصوں کا حال بھی بیان کیا ہے اور ان کے نقشے بھی بنائے ہیں جن پر پچھلی صدی تک تاریکی کا پردا پڑا رہا ۔

مقدسی شمس الدین ابو عبد اللہ محمد ابن احمد ابی بکر البنال شامی (88 ئ)نے اپنی کتاب " احسان لتقا سیم فی معرفت الاقالم کے لئے معلومات اکھٹا کرنے کی خاطر کئی معمات اور سفر کئے تھے ۔
انہوں نے اپنی کتاب میں ایک نقشہ بھی رکھا تھا جس میں سیاحوں کے راستوں کو سرخ رنگ ، ریگستان کو پیلا، دریاؤں کو نیلا اور پہاڑوں کوبھورا رنگ کا دکھایا گیا ہے بحریہ کے لئے ان کے بنائے گئے نقشیاور چارٹس اکثر یورپی ریسر چرز اور ملاح ایک عرصہ تک استعمال کرتے رہے ۔

قز وینی زکریہ ابن محمد (283 ئ)جغرافیہ کی دو کتابوں " عجائب المخلوقات اور عجائب الابدان کے مصنف ہیں ، انہوں نے اپنی کتابوں میں سیاحت کے دوران دیکھے ہوئے شہروں کی دلچسپ اور حیرت انگیز تفصیل لکھی ہے ۔ قزوینی نے اپنی کتاب میں یا قوت کی تصنیف مجمع البلدان کے دلچسپ قصے بھی نقل کئے ہیں ۔ انہوں نے مغرب میں سمندر (بحر اوقیانوس ) میں بحری بیڑوں کو اپنی جانب کھینچنے والے مقناطیسی پہاڑ (جزیر ہ ) کا ذکر کیا ہے جو شاید " بر مودا ٹرائی اینگل " کی طرف اشارہ ہے ۔

جب کہ مغربی ریسرچرز اور سائنسدانوں کو برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق اٹھارہویں صدی کے آخر میں علم ہوسکا اور اس پر 1945 ء کے بعد تحقیقی شروع ہوئی۔
ایک اور حیرت انگیز کار نامہ دسویں صدی کی ابتداء میں پیر محی الدین رئیس کے مرتب کردہ ارضی نقشے ہیں جن میں افریقہ ، امریکہ اور انٹار کٹیکاکو بھی دکھایا گیا ہے ۔اور آپ کو یقینا یہ سن کر تعجب ہوگا کہ جس تقویم کے سہارے کو لمبس امریکہ پہنچا وہ مسلمانوں ہی کے علم ہیئت سے اخذ کی گئی تھی ۔ بریفالٹ کے بقول ریجیو مونٹینس کی بنائی ہوئی جس ہیئتی تقویم کے ذریعے کولمبس کا سفر امریکہ ممکن ہوسکا وہ البتانی کی ہیئتی جدول پر مبنی تھی ۔ یاد رہے کہ البتانی بہت بڑا مسلمان سائنسدان تھا جس نے 929 ء میں وفات پائی۔
علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنے ایک مقالہ " عرب اور امریکہ " میں قابل قبول دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مسلمان کو لمبس سے دو سو برس پیشتر امریکہ پہنچ گئے تھے ۔ سفر امریکہ میں خود کو لمبس کے ساتھ بھی کئی عرب جہاز ران تھے ۔ واسکوڈ ی گاما جب ہندوستان پہنچا تو ابن ماجد بخدی نے کالی کٹ تک اس کی رہنمائی کی تھی ۔ علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب " عربوں کی جہاز رانی میں کئی ایسے حوالے پیش کئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انٹار کٹیکا ، بحر بیر نگ ، آئس لینڈ ،امریکہ ، آسٹریلیا،فلپائن اور مڈغاسکر جسے عام طور پر یورپی سیاحوں کی دریافت سمجھا جاتا ہے حقیقتا مسلمان یورپی سیاحوں سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے ۔

اس سلسلہ میں المسعودی کا بنایا ہوا نقشہ بھی حیران کن ہے جس نے کو لمبس سے سینکڑوں سال پہلے افریقہ کے آگے بحر اوقیانوس پر ایک انجان سر زمین (ارض مجہول )کی نشاندہی کی ۔ یہ وہی خطہ ہے جسے آج ہم امریکہ کے نام سے جانتے ہیں ۔


یہ مسلمان سائنسدا ن ہی تھے یہ حقیقت بھی سب سے پہلے مسلمانوں ہی نے دریافت کی کہ ہر سمندر دوسرے سے الگ تھلک نہیں ہے بلکہ تمام سمندر باہم مشترک بحری دنیا ہیں ، جو خشکی کو ایک ہی عظیم دائرے کی صورت گھیرے ہوئے ہی۔سب سے پہلے 225 ھ میں ایک عرب جہاز راں سلیمان نے اس حقیقت کی انگشاف کیا پھر مشہور سیاح ابو حامد اندلسی ، ابن خلدون اور ابو الفداء نے سمندروں کی وحدت کا مسئلہ واضح کر دیا ۔ جنہوں نے پہلی مرتبہ سمندروں کی صحیح پیمائش کی ۔ ان کی پیش کردہ پیمائش زمانہ حال کی تحقیق اور تفتیش کے بہت قریب ہیں ، حالانکہ اس وقت نہ درست گھڑیاں ھیں اور نہ قمری حرکت کی صحیح جدولیں میسر تھیں ۔ بحیرۂ احمر کی پیمائش ابن خلدون نے 1400 میل بیان کی ہے اور آج کے جدید نقشوں میں اس کی مسافت 1310 میل دکھائی گئی ہے ۔
مسلمانوں کے دور عروج میں اہل عرب ، اندلس کے پار واقع بڑے سمندر کو بحر ظلمات اور بحر محیط کہتے تھے اور اس کے شمال کی طرف بعض جزیروں سے بھی واقف تھے جن میں سے ایک کا نام انقطرہ اور دوسرے کا نام ایر لندا بیان کیا گیا ہے ۔کوئی بھی غور کرے تو با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ پہلا نام اصل میں انگلینڈ ہے اور دوسرا نام آئر لینڈ ہے جو عربی لہجہ کی وجہ سے تبدیل ہوا ہی۔

آج سے سو برس پہلے تک عرب جہاز رانوں کے بنائے ہوئے آلات سے اہل یورپ برابر استفادہ کرتے رہے ہیں ابو الصلت نامی ایک عرب ماہر جہاز راںنے ایک ایسا آلہ بنا یا تھا جو ڈوبے ہوئے جہازوں کو سمندر سے نکا لتا تھا۔ قطب نما جو مفید آلہ ہے مسلمانوں کی ہی ایجاد ہے ۔ بریفالٹ ، ول ڈیوراناور موسیو سید یو جیسے حقیقت پسند مغربی مورخین بھی قطب نما کو مسلمانوں ہی کی ایجاد بتاتے ہیں ۔مسلمان بحری اور بری سفر ،قبلے کی سمت متعین کرنے اور محرابیں اور مسجدیں بنانے میں قطب نما سے کام لیتے تھے ۔
فرانسیسی مورخ گستاؤ لیبان اگرچہ قطب نما کو چینیوں کی ایجاد کہتا ہے ، تاہم وہ بھی یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ اہل یورپ اس کے استعمال سے عربوں ہی کے ذریعے سے متعارف ہوئے تھے ۔

اٹھارہوں صدی تک یورپ میں جو کتابیں داخل نصاب رہی وہ عربی کتابوں کے ترجمے ہی تھے ۔ مشرق و مغرب سے باہمی میل جول اور عربی سے لاطینی اور یورپ کی مقامی زبانوں میں ترجمے کے دوران سینکڑوں الفاظ اور اصطلاحات مغربی علوم اور مغربی زبانوں میں منتقل ہوگئے تھے ۔ ان میں سے بعض الفاظ معمولی اور بعض زیادہ تبدیلی کے ساتھ ان زبانوں میں رائج ہوتے چلے گئے جو آج تک زیر استعمال ہیں بعض الفاظ عربی زبان سے کسی دوسری زبان میں اور اس سے کسی تیسری زبان میں پہنچتے پہنچتے اتنے زیادہ بدل گئے کہ اب ان کے عربی ہونے کا گمان تک نہیں ہوتا ۔
لیکن یہ بات ہماری اب تک کی تمام بحث پر سچائی کی مہر ثبت کر دے گی کہ اہل یورپ کے پاس آج جو بھی سرمایائے سائنس ہے وہ صرف اور صرف مسلمانوں ہی کی مرہون منت ہے ۔ ہم ذیل میں محتلف عنوانات کے تحت استعمال ہونے والے چند الفاظ اور اصطلاحات نمونے کے طور پر پیش کر رہے ہیں جن سے اس کی صداقت پر روشنی پڑے گی ۔
(ارض ارتھarth )، (امیرالبحر ،امیر الرحل ایڈ مرل Admiral ) (فلک،فلوگ Fluga) (حبل،کیبل Cable )
(لنگر : انجر اینکر Anchor ) (اصطرلاب Astrolabe ) (دارالصناعہ : Darsenal ) (مخزن :agazine ) (جرنال: Journal ) (ویزا : visa ) (قبودان کیپٹن: Captan ) (قومندان: کمانڈر Commander ) (بنصول پنڈولیم pendolium ) (برج: Bridge ) (خریطہ سازی: Crato graphy ) (موسم : مون سون moon soon ) اور الرئیس Arrez وغیرہ۔
یورپی زبان عربی الفاظ و اصطلاحات ایک طرف تو مسلمانوں کی علمی اور تمدنی ترقی کو اور دوسری طرف مغربی تمدن پر اسلامی تمدن کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
در اصل مسلمان ابتدائی صدیوں میںان قدروں سے واقف رہے جو انہیں سر ور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستوں پر چلاتی رہیں لیکن اس کے بعد اسلاف سے حاصل ہونے والی طرز فکر کے نقوش دھندلے پڑ گئے چونکہ اس زمانے تک مسلمان ورثہ میںملے ہوئے علوم سے با خبر تھے ، اس لئے وہ ساری دنیا پر چھاتے چلے گئے ان کا ہر اگلادن پچھلے دن سے بہتر ہونے لگا لیکن جوں ہی اپنی مصلحتوں کے پیش نظر بعض مسلمانوں نے اسلاف کے طریقہ کار یعنی تفکر کو ترک کیا تو ان کا زوال شروع ہوگیا ۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ جتنے بھی علوم آج زیر بحث ہیں ، اکثرکی بنیاد مسلمانوں نے استوار کی ہیں ۔ غیر مسلم مفکرین نے ہمارے اسلاف کے انہی علوم سے استفادہ کرکے اپنے لئے تحقیق و تلاش کی راہیں متعین کی ہیں اور وہ راہیں یہ ہیں کہ انہوں نے تفکر کو اپنا شعار بنالیا ہے جس سے آج اکثر مسلمان بے بہرا نظر آتے ہیں۔
s سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے پاس آخرایسا کون سا جوہر تھا کہ جس نے انہیں دنیا کے سامنے سرخرو کردیا او روہ ہر میدان میں کامیاب ہوتے چلے گئے اور ہر جگہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر بنتی چلی گئی با وجود یہ کہ ان کے پاس نہ وسائل تھے اور نہ ماضی کے کوئی تجربات جو ان کی رہنمائی کرتے لیکن اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر میدان ان کے سامنے اپنے گوشے وا کئے ہوئے تھا کہ آؤ اور ہمیں فتح کرلو اس وقت کے عرب کی حالت بالکل ایسی تھی جیسی حالت آج یورپ کی ہے جہاں کا ہر شخص اپنی ذاتی تجربا گاہ رکھتا ہے اور ہر شخص سائنس کی معلومات رکھتا ہے یہ حال پہلے مسلم معاشرے کا تھا جو رفتہ رفتہ کسل مندی کی بھینٹ چڑھتا چلا گیا اور مسلمان بادشاہ اپنی ذاتی عناد کی بنا ء پر اس میدان میں خاموش ہوتے چلے گئے اور رہا سہا کردار ہمارے مسلم اور مذہبی اسکالرز نے کیا جن کی خام خیالی نے ان چیزوں میں تحقیق کو دنیا داری کا نام دے دیا اور آج تک دیتے چلے آرہے ہیں لیکن ا س سے پہلے ہمارے حال یہ نہیں تھا آپ اس کائنات میں غور و فکر کے حکم کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن میں نماز ورزہ سے بھی زیادہ جس چیز پر غور و فکر اور ریسرچ کر نے کا حکم دیا گیا ہے وہ صر ف اور صرف کائنات ہے چاند ہے سورج ہے رات اور دن کا آنا جانا ہے سمندروں کا مدو جزر ہے موسموں کا بدلنا ہے اور سب سب بڑھ کر علم فلکیات کے متعلق پر غور و فکر کا حکم ہی۔
اس حدیث پر غور کیجئے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالی کی ذات میں غور و فکر مت کرو بلکہ اس کی صفات میں غور فکر کرو اس کی صفات سے تم اس کی ذات کی کنہ کو پا لوگے اب اللہ تعالی کی صفات کیا ہیںیہ پوری کائنات اس کی صفات ہی کا عکس ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔یورپ کی آج کی ساری تگ و دو مادہ سے متعلق ہے لیکن ہمارے امام ہمارے سردار ایسے نہیںتھے ان کے ہر کھوج کے پیچھے خدا کی ذات موجود تھی آج ہماری ہر کھوج کے پیچھے مادہ موجود ہے حد تو یہ ہے کہ ہمارے خدا میں بھی مادہ موجود ہے یہ صرف سوچ کا ایک زاویہ ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ اگر زاویہ زرا سا سیدھا ہوجائے تو ہمارے سارے معاملات درست ہو سکتے ہیں ۔
ایک بات میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ خدا مسجد میں نہیں ملتا اور نہ ہی جنگلوں میں ملا کرتا ہے خدا کو پانے کے لئے نیت کا اخلاص ضروری ہے وہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے بات ہے صرف اس کی موجودگی کا احساس کرنے کی اگر ہمیں اس کی موجودگی کا احساس ہوگیا تو ہمیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔اللہ کے لئے ہمیں توجہ کی ضرورت ہے ہمیں ہر وقت اپنی سوچ کو اللہ کے ساتھ نتھی رکھنا ہوگا دل خدا کا گھر ہے ہاتھ ،پاؤ ،منہ ، سر اور تمام اعضاء آزاد ہیں صرف دل اس سے لگالو دین اور دنیا ایک ہو جائے گی الگ الگ نہیں رہے گی ۔
بنیادی طور پر روحانیت کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ ہے ۔ اللہ تعالی سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کا تعلق کائنات کے ساتھ ہے ۔ لہذا یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہئے کہ روحا نیت عبادت اور ریاضت کے بغیر کوئی معنی اور مفہوم رکھتی ہے یہ نکتہ بھی پیش نظر رکھیں کہ روحانیت پہلے اللہ تعالی سے متعلق ہے پھر اس کائنات سے ۔ اس طرح یہ ایک مثلث کی صورت بنتی ہے ۔ میں ۔میرا خالق اور کائنات
یہ تینوں چیزیں ایک ترتیب میں آتی ہیں تو روحانیت کہلاتی ہے ۔
روحانیت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ایک رابطہ اور رشتہ تلاش کیا جائے ۔ رشتہ اپنے اور کائنات کے مابین اس رشتے کو پالیا تو خالق کو پالیا۔اسی کے متعلق حدیث اوپر گزری ہی۔پہلے اس رشتہ کو تلاش کرنا پڑتا ہے کہ لمحہ تخلیق تک پہنچنے کے لئے پوری کائنات کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔ جس وقت اللہ تعالی نے ۔۔کن کہا ۔۔۔اسی وقت یہ کائنات ۔۔ فیکون ہوگئی ۔۔یہ ہے وہ رابطہ جسے تلاش کرنا ہے اور اس رابطہ کو دریافت کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہم کس طرح اس کائنات کا جز بنے ہوئے ہیں ۔ وہ اس جز کو تلاش کرکے کل کی جستجو میں رہتے تھے ۔ یہ تھا وہ عالمگیر راز جس نے اسلاف کو علم اور دریافت کی اس عظیم معراج پہ پہنچایا تھا ۔
آج اگر یورپ ترقی کر رہا ہے تو اس کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں ماضی کے تمام وہ تجربات موجود ہیں جو ان کے لئے مشعل راہ ہیں اس کی روشنی میں وہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور آگے بڑھنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل بھی ہیں اور تجربات بھی ان کے پاس سب کچھ پکا پکایاہے لیکن وہ قوم جس کے پاس نہ وسائل ہوں او ر نہ ماضی کے تجربات ہوں ان کی ترقی ہی ترقی کہلانے کی مستحق ہے نہ کہ ان کی جو پہلے ہی سے تمام سائنس کے اصول اور وصول سے آگاہ ہیں ۔ وہ صرف ٹارچ روشن کر رہے ہیں اجالا بنا نہیںرہے لیکن ہمارے اسلاف نے ٹارچ روشن نہیں کی بلکہ ٹارچ بنائی ہے روشنی بنائی ہے آج یورپ اسی روشنی میں ترقی کی راہ چل رہے ہیں ۔ کاش اللہ ہمیں ایک بار پھر وہی روشن ذہن اور کامل اسکالرز عطا فرمادے آمین۔

پاک نیٹ

بےباک
10-19-2011, 05:47 AM
واہ سقراط جی ، بہت خوب ...
عہد رفتہ کی یادیں پیش کرنے پر شکریہ ، اور آج بھی ہم ہمت اور محنت کریں تو نئی داستانیں رقم کر سکتے ہیں ،:-):-):-):-):-)