PDA

View Full Version : ملاّ دو پیازہ اور بیربل



سقراط
10-13-2011, 02:37 AM
ملاّ دو پیازہ کا اصل نام ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف میں (عرب)میں 1540؁ کو پیدا ہوئے۔فطری طور پر ہنسوڑ اور ظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عادت ثانیہ تھی۔ اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئےتو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلےاور قافلہ در قافلہ پھرنے لگے۔آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیر الدین ہمایوں،شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔ابو الحسن کی خوش مزاجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بے حد متاثر کیا۔اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔شو مئی قسمت ابو الحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرے میں مارا گیا، اور ابو الحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔1556؁میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابو الحسن دہلی آ کر رہنے لگا۔ اس وقت ابو الحسن کی عمر 15،16 برس تھی مگر علم خاصا تھا۔ابو الحسن نے دنیا سے بیزار ہو کر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا، لہٰذا سب ابو الحسن کو ملاّ جی ، ملاّ جی کہنے لگے۔رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے،وہاں ان کو ایک قسم کا پلاؤ بہت پسند آیاجو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟جواب ملا اسے دو پیازہ پلاؤ کہتے ہیں،کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئےاور یاد کر لیا، بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک دوپیازہ پلاؤ دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔
ملاّ جی کی یہ معصوم اور البیلی ادا بھی لوگوں کو بہت پسند آئی، پس لوگوں نے ملاّ جی کی دو پیازہ پلاؤ سے یہ رغبت دیکھ کر ان کا نام ہی ملاّ دو پیازہ رکھ دیا اور یہی نام وجۂ شہرت بنا، اور اصل نام ابو الحسن بس پردہ رہ گیا۔علامہ ابو الفیضی(ثم فیاضی)اور علامہ ابو الفضل دونو بھائی ہی ملاّ دوپیازہ کے ہم جلیس اور مداح تھے۔علامہ فیضی اور ملاّ دوپیازہ کی دوستی تو یہاں تک بڑھی کہ علامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دوپیازہ کے سپرد کر دیا،اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔یوں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دوپیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے 60 برس کی عمر پائی۔مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600؁میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ”واہ بھئی! ملاّ دوپیازے۔مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دوپیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہابلی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا۔


بیربل کا اصل نا م راجا مہیش داس تھا اور قوم برہمن۔ اکثر روایات میں یہ بھی ہے کہ نام برہم داس تھا اور قوم کے بھاٹ(مسخرے)تھے۔ برہیہ تخلص رکھتے تھے۔کالپسی کے رہنے والے تھے،ادھر ادھر شہروں میں گھوم پھر کر کبت اور دوہے گایا کرتے تھے۔شہنشاہ اکبر کا لڑکپن ہی سے برہمنوں بھاٹوں اور ہندوطوائفوں کی طرف میلان خاطر بلکہ التفات خاص تھا لہٰذامہیش داس مغل اعظم کے دربار سے وابستہ ہوا تو بڑی تیزی سے بادشاہ کا قرب حاصل کر لیا۔ شہنشاہ نے راجا بیربل یا بیربر (شہہ زور راج،پہلوان راجا )کا خطاب عنایت کیا ۔ بیربل ویدانت کے موحدانہ اشعار خوب سمجھتے اور صوفیانہ مشرب رکھتے تھے۔ جودت طبع ، مزاج دانی، رمز شناسی، خوش بیانی، سخن فہمی ، بزلہ سنجی اور ظرافت طبع میں کمال رکھتے تھے۔ بادشاہ کے اس قدر منہ چڑھے تھے کہ مغل اعظم آرام کے وقت بھی انہیں حرم میں اندر بلا لیا کرتے تھے۔یعنی بیربل رتن خاص تھے، جو تخلیئے میں بھی بادشاہ کے آگے خوش گفتاریوں کے پھول کھلاتے تھے۔ملا دو پیازہ اور بیربل کے آپس میں خوب نوک جھوک رہتی تھی۔ مہابلی خود بھی ان خوش مزاجوں کو چھیڑ دیا کرتے تھے، اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ سوات اور باجوڑ (پشاور) کی مہم پیش آئی تو بیربل اس لڑائی میں کام آ گئے۔ تلاش بسیار کے با وجود لاش نہ مل سکی۔مہابلی اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ کئی روز تک دربار نہ کیااور گوشہ نشین رہے۔

بےباک
10-13-2011, 06:57 AM
ایک مرتبہ مہا بلی اکبر اعظم کے دربار میں یہ بحث چھڑ گئی کہ دنیا میں عقل مندوں کی تعداد زیادہ ہے یا بے وقوفوں کی ؟ بیربل کا کہنا تھا کہ دنیا میں عقلمند لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ ملاّ دو پیازہ نے ظاہر ہے کہ بیربل کے خلاف ہی جاناتھا ، لہذا اُسکا کہنا تھا کہ دنیا میں بے وقوف لوگ زیادہ تعداد میں موجود ہیں ۔

اکبر اعظم خود بیربل کی رائے سے متفق تھا ۔ لہذا اُس نے ملاّ دو پیازہ کو حکم دیا کہ اپنے دعوے کوسچا ثابت کر نے کے لئے وہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرے۔ ملاّ نے عرض کیا کہ پوری دنیا کے بے وقوفوں کی فہرست تو فوری طور پر تیار کر کے پیش نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن کل میں دربار سے وابستہ افراد میں موجود بے وقوفوں کی فہرست ضرور پیش کردوں گا ۔

اگلے روز ملاّ نے ایک فہرست اکبر اعظم کے سامنے رکھ دی ۔ بادشاہ نے فہرست اُٹھائی تو سرفہرست خود اپنا نام نظر آیا ۔اپنا نام دیکھتے ہی بادشاہ آگ بگولہ ہوگیا اور ملاّ کو حکم دیا کہ" فوراً ثابت کرو کہ میں بے وقوف ہوں ورنہ اپنی جان کی خیر منا رکھنا"

ملاّ نے بادشاہ کی خدمت میں عرض کیا کہ "حضور پچھلے برس آپ نے عرب کے ایک تاجر سے شاہی فوج کے لئے ایک ہزار گھوڑے خریدے تھے اور اُنکی ادائیگی بھی کر دی تھی ۔ گھوڑے آپ کو بہت زیادہ پسند آئے تھے ، آپ نے مزید ایک ہزار گھوڑوں کا آرڈر دے دیا تھا اور تاجر کی درخواست پر اِن گھوڑوں کی ادائیگی بھی آپ نے پیشگی کردی تھی ۔ تاجر نے گھوڑے مہیا کرنے کے لئے ایک برس کی مہلّت مانگی تھی ۔

کل یہ مدّت پوری ہورہی ہے ۔ اگر وہ تاجر واپس نہ آیا تو آپ اُس تاجر کا کیا بگاڑ لیں گے ۔ کیونکہ وہ آپکی حدود سلطنت سے باہر رہتا ہے ۔ اور آپ اُس کے بارے میں بالکل نہیں جانتے کہ اُس کا پتہ یا ٹھکانہ کہا ں ہے ؟ آپ اعتراف کیجئے کہ اُس عرب تاجر کو گھوڑوں کی پیشگی رقم ادا کر کے آپ نے بے وقوف ہونے کا ثبوت دیا تھا "۔ بادشاہ سوچ میں پڑ گیا ، کیونکہ واقعہ بالکل درست تھا ۔ پھر بادشاہ نے سر اُٹھا کر ملاّ کو مخاطب کیا اور بولا " اگر وہ تاجر کل تک گھوڑے لے کر حاضر ہوگیا تو پھر تم کیا کروگے" ؟

ملاّ نے اطمینان سے جواب دیا " پھر میں آپکا نام اِس فہرست میں سے کاٹ کر اُس تاجر کا نام لکھ دوں گا "۔
..........................
ایک مرتبہ اکبر کے دوسرے نورتنوں نے یہ پلان بنایا کہ کسی طرح بیربل کو نیچا دکھایاجائے۔ پلان کےمطابق اگلے دن جب بادشاہ اپنے نورتنوں کے ساتھ حوض خاص پرموجود تھے۔نورتنوں نے کہا کہ جہاں پناہ ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ ہم میں سے ہر درباری حوض میں ڈبکی لگائے اور اندر سے ایک انڈالے کرآئَے۔ جہاں پناہ راضی ہوئے۔ آٹھوں نورتنوں نے حوض میں ڈبکی لگائی اور انڈہ لیکر حاضر ہوگئے۔ بیربل جب ڈبکی لگانے کے بعد حوض کی تہہ میں پہنچے تو انہیں کافی ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود کوئی انڈہ نہیں ملا۔بیربل نورتنوں کی چال سمجھ گئے۔ خیر سے باہر نکلے۔ بادشاہ کے پاس پہنچے۔ بادشاہ نے پوچھاانڈہ کہاں ہے۔
بیربل نے جواب دیا:ککڑوں کوں،ککڑوں کوں ..........ہا ہاہا ہا ہا ہا
..........................................
نو رتن کسے کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟
جواب :
نو قابل اور یکتا آدمیوں کی مجلس، جیسے اکبر بادشاہ کے دربار میں تھی، اس کے افراد یہ تھے ،ابو الفضل، فیضی، خان خاناں، مرزان کوکلتاش، راجہ بیربل، بیرم خان یا راجا مان سنگھ، راجا ٹوڈرمل، حکیم حمام، حکیم ابو الفتح ،
اور اسی طرح بکرماجیت کی مجلس کے نورتن یہ تھے .. دھنوتری، کشنیک، امرسنگھ، شنکو، دیتال بھٹ، گھٹکرپر، کالی داس، وارچی اور واہبہ میر۔
..........................................
شہنشاہ اکبر نے ایک روز اپنے خاص درباری بیربل سے کہا: بیربل، اگر ایک بادشاہ کی بادشاہت ہمیشہ رہتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ بیربل نے جواب دیا: عالی جاہ آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو آج آپ بادشاہ کیونکر ہوتے۔
.......................................
بادشاہ سلامت اکبر کا اصرا ر تھا کہ ان کی مملکت میں اکثریت سے لوگ بینائی کے حامل ہیں ، لیکن ملا دو پیازہ مصر تھا کہ مملکت میں اندھوں کی اکثریت غالب ہے ملا دو پیازہ نے اپنے دعوے کا عملی تجربہ کرنا چاہا اور بادشاہ سے عرض کی کہ جیسا وہ کہے گا بادشاہ سلامت اس پر عمل پیرا ہونگے ، اور بیربل کو ریفری مقرر کیا گیا کہ وہ ایک کاغذ لے کر بیٹھ جائے اور اندھوں اور بیناؤں کی فہرست مرتب کر ے ، دن کے ختم ہونے پر موازنہ کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ اندھوں اور آنکھ والوں کا تناسب کیا ہے ، ملا دوپیازہ رسیاں بنانے کا سامان لے آیا اور بادشاہ سلامت کے ساتھ راستے میں رسیاں بنانے لگے بیربل ایک کاغذ لے کر بیٹھ گیا اور اندھوں کے نام لکھنا شروع کر دیا ، جو پہلا شخص ان کے قریب آیا اس نے سوال کیا ضل الٰہی آپ یہ کیا کر رہے ہیں ، ملا دوپیازہ نے بیربل سے کہا اس کا نام لکھ لو (یعنی اندھوں میں) اس طرح دن بھر جتنے بھی لوگ ان کے پاس سے گزرے ہر ایک نے یہی سوال کیا کہ ضل الٰہی کیا کر رہے ہیں اور ملا دوپیازہ ہر بار بیربل سے یہی کہتا کہ اس کا نام بھی لکھ لو۔

سورج غروب ہوا تو بیربل نے لسٹ دربار عالی میں پیش کی تو معلوم ہوا کہ دن بھر جتنے بھی لوگ ان کے قریب سے گزرے تھے سارے ہی اندھے تھے .ہاہاہاہا
........................................
اکبر بادشاہ کے دور میں ایک امیر نے مکان بنوایا اور اسے آراستہ کر کے دوست بلوائے جن میں بیربل اور ملا دوپیادہ بھی شریک ہوئے۔ لوگوں نے مکان کی بہت تعریف کی تو بیربل نے کہا ‘عمارت تو خوب ہے لیکن دروازہ تنگ ہے، مردے کی چارپائی بھی مشکل سے نکل سکے گی۔‘ امیر کو یہ بات ناگوار گزری تو اس نے موقع پا کر ملادوپیادہ سے داد چاہی تو اس نے امیر کو جواب دیا ‘بیربل تو احمق ہے دروازہ تنگ کہاں ہے؟ وہ تو اتنا بڑا ہے کہ آپ کا سارا کنبہ بھی مر جائے تو لاشیں بلا تکلف نکل جائیں گی۔‘
...................................

این اے ناصر
05-05-2012, 12:53 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔

شاہنواز
03-11-2014, 03:53 PM
بہت ہی عمدہ خوب بہت ہی اچھا انتخاب ہے