PDA

View Full Version : دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا



اذان
10-18-2011, 11:45 PM
دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا
تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پل نہ جیئیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اس طرح سے ترے بغیر روز و شب
میں سانس لے رہا تھا پر زندہ نہیں رہا
آنکھیں بھی دیکھ دیکھ کے خواب آ گئی ہیں تنگ
دل میں بھی اب وہ شوق، وہ لپکا نہیں رہا
کیسے ملائیں آنکھ کسی آئنے سے ہم
امجد ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا


اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے

اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے
اک بستی آنکھیں ملتی ہے اک شہر نظر میں رہتا ہے

کیا اہلِ ہنر، کیا اہلِ شرف سب ٹکڑے ردی کاغذکے
اس دور میں ہے وہ شخص بڑا جو روز خبر میں رہتا ہے

پانی میں روز بہاتا ہے اک شخص دئیے اُمیدوں کے
اور اگلے دن تک پھر ان کے ہمراہ بھنور میں رہتا ہے

اک خوابِ ہُنر کی آہٹ سے کیا آگ لہو میں جلتی ہے
کیا لہر سی دل میں چلتی ہے! کیا نشہ سر میں رہتا ہے

جو پیڑ پہ لکھی جاتی ہے جو گیلی ریت سے بنتا ہے
کون اُس تحریر کا وارث ہے !کون ایسے گھر میں رہتا ہے!

ہر شام سُلگتی آنکھوں کو دیوار میں چُن کر جاتی ہے
ہر خواب، شکستہ ہونے تک زنجیرِ سحر میں رہتا ہے

یہ شہر کتھا بھی ہے امجد اک قصہ سوتے جاگتے کا
ہم دیکھیں جس کردار کو بھی جادو کے اثر میں رہتا ہے

اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے

اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے
جُھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے

تیرا غم، اس فشارِ شب و روز میں
ہونے دیتا نہیں بے سہارا مجھے

ہر ستارے کی بجھتی ہوئی روشنی
میرے ہونے کا ہے استعارا مجھے

اے خدا کوئی ایسا بھی ہے معجزہ
جو کہ مجھ پر کرے آشکارا مجھے

کوئی سورج نہیں کوئی تارا نہیں
تو نے کس جھٹپٹے میں اُتارا مجھے

عکسِ امروز میں نقشِ دیروز میں
اک اشارا تجھے اک اشارا مجھے

ہیں ازل تا ابد ٹوٹتے آئینے
آگہی نے کہاں لا کے مارا مجھے

عبادت
10-19-2011, 02:21 AM
اسلام علیکم


واہ جی واہ کیا بات ہے بہت خوب اذان جی
بہت زبردست :rose:

اذان
10-21-2011, 11:30 AM
غزل
اس شہرخرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پُر نور ستارے
تابندہ وپائندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں پیار سے پکارے

ہر صبح میری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی اُلجھی ہوئی زلفوں کوسنوارے

نگار
12-12-2011, 01:51 AM
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں پیار سے پکارے


:roseanimr::thumbsupsmileyexcellet-1:

این اے ناصر
03-31-2012, 01:10 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ