PDA

View Full Version : پھنے خان



سقراط
10-21-2011, 01:56 PM
پھنے خان
ایس ایچ جعفری

ایک دن اسکول میں میرے دوست نے ایک نئے آنے والے لڑکے کا تعارف کرایا ”ان سے ملیں یہ پھنے خان ہیں۔“ وہ بظاہر ایک معصوم سا لڑکا تھا، میں سمجھا کہ مذاق میں یہ بات کہی گئی ہے۔ لیکن کچھ دیر بعد جب کلاس میں استاد نے بھی آکے اسی نام سے مخاطب کیا تو یقین کرتے ہی بنی۔ ویسے بھی عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج ہمارے یہاں ہی نہیں دنیا بھر میں ہی، مثلاً انگریزوں کے چار رنگوں پر نام ہوتے ہیں: Mr. Brown, Mr. Black, Mr. White, Mr. Green ۔ اور پیشہ سے متعلق بھی نام ہوتے ہیں جیسے Mr. Gold Smith وغیرہ۔ ہمارے یہاں بھی پیشہ سے متعلق نام ہوتے ہیں جیسے دارووالا، گاچی والا، بندوق والا، چرس والا، بھنگ والا۔ اور ہماری وسیع القلبی اور ترقی پسندی کا یہی عالم رہا جو کہ ہے تو جلد ہی کچھ اور پیشہ ور نام متعارف ہوں گے جیسے رشوت والا، ملاوٹ والا، اسمگلنگ والا وغیرہ۔ کہیں کہیں پر نام رکھنے میں والدین کی حسرت آمیزی (wishful thinking) کا دخل بھی ہوتا ہے۔ آپ اکثر عاقل نام کے لوگوں کو غبی پائیں گے۔ الغرض بے شمار لوگوں کے نام ایسے ملیں گے جن کی خاصیت ان کے نام کے برخلاف ہوگی۔ اس کو والدین کی آرزومندی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہی! بقول شاعر: یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائی پھنے خان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ان میں بظاہر پھنے خان والی کوئی خصوصیت نظر نہیں آتی تھی۔ منحنی سا لڑکا تھا۔ قمیض اگر اتری ہوئی ہو تو پسلیاں گنی جاسکتی تھیں۔ لیکن حرکات میں اسم باسمیٰ تھی، ہر روز کسی نہ کسی سے پنگا لیتے اور حسب ِتوفیق پٹتے۔ ان کے پٹنے کا انحصار پیٹنے والے کی ہمت پر ہوتا کہ کب تک پیٹ سکتا ہے۔ یہ آخری وقت تک چمٹے رہتے تھے۔ جب پیٹنے والا تھک ہار کر انہیں چھوڑ دیتا تو یہ کہتے سنائی دیتے کہ اس مرتبہ تو تم نے مجھے پیٹ لیا اگلی مرتبہ دیکھنا کہ تمہارا کیا حشر کرتا ہوں۔ ان کو ایک دو ہاتھ اور کھانے کو مل جاتے جو کہ ان کے لیے مزید تسکین کا باعث ہوتے۔ پھنے خان تھے بااصول، ہمیشہ ٹکر اپنے سے زیادہ طاقتور لڑکوں سے لیتے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان سے کمزور لڑکے قرب و جوار میں کم ہی پائے جاتے تھے اور وہ اپنی اوقات کو جانتے ہوئے پھنے خان سے پرے ہی رہتے۔ ان کا سب سے بڑا ہُنر یہ تھا کہ مخاطب کتنے ہی ٹھنڈے مزاج کا کیوں نہ ہو، وہ اسے غصہ دلانے میں کامیاب رہتے تھے۔ کوئی بھی مباحثہ خوشگوار ماحول میں پایہ تکمیل کو نہ پہنچتا۔ کچھ لوگ تو انہیں پیٹ پیٹ کر اتنا تنگ آگئے تھے کہ انہیں سامنے سے آتا دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ ہمت کرکے پوچھا کہ ہر ایک سے پنگا کیوں لیتے ہیں؟ انہوں نے میری طرف دیکھا اور جواب دینے کے بجائے سوال جڑ دیا ”تمہیں میرا نام معلوم ہی؟“ میں نے اثبات میں سرہلادیا۔ وہ بولے ”میرے والدین نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی نام رکھا ہوگا، آخر اس نام کی لاج بھی تو رکھنی ہے“۔ میں نے یہی غنیمت جانا کہ بات کو مزید آگے نہ بڑھایا جائے۔ ذرا توقف کے بعد خود ہی بولے ”اختلافِ رائے میرا پیدائشی حق ہے اور اس کے برملا اظہار کے لیے حوصلہ چاہیے جو ہر ایک میں نہیں ہوتا۔“ سچ تو یہ ہے کہ ان کی اپنی ذاتی رائے نہیں ہوتی تھی، ان کی زندگی کا واحد مقصد دوسرے سے پٹنا تھا، اور وہ موقع پر ہی طے کرتے تھے کہ کس قسم کی بات کرکے اپنی آرزو کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ اسکول چھوڑنے کے بعد پھنے خان نہ جانے کہاں گم ہوگئی، لیکن ان کی یاد کو دوسرے پھنے خانوں نے ذہن سے زائل نہ ہونے دیا۔ چند سال پہلے ایک دکان میں داخل ہوا تو ایک کاونٹر سے کسی صاحب کے تیز آواز میں بولنے کی آواز آرہی تھی۔ چونکہ اس طرح کا منظر ہمارے یہاں خاصا عام ہے اس لیے کوئی توجہ نہ دی۔ لیکن جب یہ سنائی دیا کہ ”تمہیں سزا نہ دلوائی تو میرا نام پھنے خان نہیں“ تو میں متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ذرا ڈرتے ڈرتے ان صاحب کے قریب گیا تو دیکھا کہ یہ ہمارے والے ہی پھنے خان تھی، کافی تندرست اور بڑی خوفناک مونچھوں کے ساتھ۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو لپٹ گئے اور انتہائی خوشگوار موڈ میں آگئی، لگتا ہی نہیں تھا کہ چند لمحے پہلے یہ گرج رہے تھے۔ اس وقت کسی غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کررہے تھی، اسلام آباد میں قیام تھا، کراچی چند روز کے لیے آئے تھے۔ ٹیلی فون نمبر کا تبادلہ ہوا۔ دوسری صبح آفس پہنچا ہی تھا کہ موصوف کا ٹیلی فون آگیا۔ مفصل ملاقات چاہتے تھی، چنانچہ اسی شام ملاقات طے پائی۔ بڑے تپاک سے ملے۔ اپنے بارے میں انتہائی تفصیل سے بتایا۔ ایم بی اے کرکے ملازمت اختیار کی، جہاں سے جلد ہی چھٹی ہوگئی۔ الغرض پہلے چند سالوں میں ایک درجن سے زیادہ جگہوں پر اپنے اختلاف ِرائے کا حق استعمال کرنے پر فارغ کیے گئے۔ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ کبھی کبھی اس حق کا استعمال نہ کرنے میں ہی بہتری ہے۔ شادی کے سلسلے میں ان کے تجربات خاصے دلچسپ تھے۔ جہاں بھی ان کا رشتہ جاتا وہاں ان کی وجہ شہرت پہلے سے ہی پہنچی ہوتی تھی۔ اتفاقاً ایک جگہ بات آگے بڑھی اور یہ لڑکی والوں کے یہاں چائے پر مدعو کیے گئے۔ بہت ہی خوشگوار ماحول میں بات ہورہی تھی، یہ بھی گزشتہ تجربات کی روشنی میں بڑے محتاط تھے۔ اچانک کمرے میں لڑکی کا بھائی داخل ہوا جو انہیں دیکھتے ہی بھڑک اٹھا اور یہ تقریباً دھکے دے کر نکالے گئے۔ ان کو رشتہ نہ ہونے سے زیادہ افسوس اس بات کا تھا کہ وہ کیک ختم نہیں کرپائے تھے۔ ایک عرصے بعد اتنا اچھا کیک کھانے کو ملا تھا۔ دوسرے دن انہوں نے لڑکی والوں کے گھر ٹیلی فون کرکے بیکری کا نام پوچھا، دوسری طرف سے ٹیلی فون بند کردیا گیا۔ ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع ہونے سے پہلے جو کہا گیا وہ یہ ٹھیک سے سن نہ سکے اور جو کچھ سنا وہ ان کے عارضی طور پر حواس باختہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایک جگہ بات اور آگے تک بڑھی۔ بارات بڑی دھوم دھام سے نکلی۔ نکاح کے وقت قاضی صاحب نے انہیں معمول کے مطابق پوچھا، انہوں نے جواب میں ”ہوں“ کہا۔ قاضی صاحب بولے ”میاں صاحبزادے کہو قبول کیا میں نے“۔ یہ مچل گئی، بولے ”لوگوں کے سامنے میرا ہوں کہا کافی نہیں؟“ قاضی صاحب بھی ضد میں آگئے۔ بات اتنی بڑھی کہ یہ کنوارے ہی واپس ہوئے۔ ایک جگہ اور شادی طے پاگئی۔ ان کو نہ جانے کس نے بتادیا کہ لڑکی والے ان کو دولت مند سمجھ کر لالچ میں شادی کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ انہوں نے شادی سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ انکار کی وجہ یہ ہے کہ بعد میں لڑکی والوں کو حقیقت معلوم ہونے پر مایوسی ہوتی۔ لڑکی نے خودکشی کرلی۔ وہ تو بعد میں پتا چلا کہ لڑکی کو ان کے انکار کی خبر نہیں ملی تھی۔ دوسری طرف جب پھنے خان کو لڑکی کی خودکشی کی خبر ملی تو وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اس نے ان کے شادی کے انکار پر اپنی جان دے دی۔ بہت دنوں تک غمگین رہی، اور ایک مرتبہ تو انہوں نے اسی غم میں خود بھی خودکشی کا ارادہ کیا لیکن پھر یہ سوچ کر کہ جب آج تک انہوں نے اچھی خاصی زندہ لڑکیوں سے عشق میں ناکامیوں پر جان نہیں دی تو پھر ایک مُردہ لڑکی کے لیے جان نثار کرنے کا کیا فائدہ۔ ارادہ ترک کردیا۔ پھر بقول ان کے ایک دن ایسا آیا جو ان کے نزدیک معجزے سے کم نہیں۔ ایک لڑکی جو بظاہر عقل و سمجھ رکھتی تھی، اپنے ہوش وحواس میں ان پر نہ صرف عاشق ہوگئی بلکہ ان سے شادی کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ وہ ان کے ساتھ ہی کام کرتی تھی۔ حسبِ معمول موصوف کا انتظامیہ سے کسی بات پر اختلاف ہوگیا اور یہ اپنے ”اصولی موقف“ پر اس طرح ڈٹے کہ برطرف ہوکر ہی دم لیا۔ خاتون کو ان کی یہی ادا لے ڈوبی۔ نتیجتاً وہ آج بھی بقول ان کے اپنی، ان کو بھگت رہی ہیں۔ زندگی میں پیش آئے ہوئے حادثات اور واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو کہ ہر لحاظ سے دلچسپ تھا، لیکن چونکہ دوسرے دن آفس جانا تھا اس لیے ان سے اجازت لی اور رخصت ہوا۔ آفس پہنچا ہی تھا کہ پھنے خان کا ٹیلی فون آگیا۔ بولی: کل صبح کی فلائٹ سے کراچی آرہا ہوں۔ شام کو واپسی ہوجائے گی۔ ”خیریت تو ہی؟“ میں نے پوچھا۔ ”کیا آپ کو میرا آنا ناگوار گزر رہا ہی؟“ ”میرا سوال آپ کے آنے سے نہیں بلکہ اتنی جلد واپس جانے سے تھا۔“ میں نے وضاحت کی۔ ”مجھے ڈاکٹر سے ملنا ہے۔“ ”کیا اسلام آباد میں ڈاکٹر نہیں پائے جاتی؟“ ”یار آپ تو بڑی جرح کرتے ہیں۔ دراصل ہمارے فیملی ڈاکٹر کراچی میں ہیں، سال ہا سال سے ہمارے تمام رشتہ دار اپنے ہر طرح کے امراض جس میں معمولی زکام کھانسی سے لے کر تپ دق تک شامل ہیں، کے لیے ان سے ہی رجوع کرتے ہیں اور یہ ممکنہ علاج سے ممکنہ آخری رسوم تک کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی سرانجام دیتے ہیں۔ مریض کو کم از کم اطمینانِ قلبی ہوتا ہے کہ اگر قسمت میں صحت یابی نہیں لکھی ہے تو کم از کم ایک کاندھا دینے والا تو موجود ہوگا۔ ڈاکٹرصاحب نہ صرف تجہیز و تکفین کا معقول بندوبست کردیتے ہیں بلکہ سوئم اور چہلم میں مع اپنے اہل و عیال کے شرکت کرتے ہیں، سب کھانا کھاکر ہی واپس جاتے ہیں۔ آج کے اس پُرآشوب دور میں جہاں ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہو کون کسی کو اتنا وقت دیتا ہے۔“ ”آپ کسی ایسے ڈاکٹر کی خدمات کیوں نہیں حاصل کرتے جو کہ مریض کی آخری رسومات کے بجائے اس کو زندہ رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔“ میں نے پوچھا۔ ”سب باتیں آج ہی کرلیں گے یا کل کے لیے بھی کچھ چھوڑیں گی! اور ہاں میں لنچ آپ کے ساتھ ہی کروں گا۔“ ”چلیے کل تک آپ کو چھوڑنے کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ آپ کے ساتھ لنچ کرنے میں مجھے بہت خوشی ہوگی۔“ اگلی صبح ان کا ٹیلی فون آگیا کہ ان کا آنا ملتوی ہوگیا ہے کیونکہ ان کے ڈاکٹر صاحب علیل ہوگئے ہیں۔ خدا کرے کہ ڈاکٹر صاحب کو ایسا ڈاکٹر ملا ہو جو کہ ان کی آخری رسومات میں دلچسپی رکھنے کے بجائے ان کو ٹھیک کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو'

جسارت

عبادت
10-21-2011, 03:36 PM
اسلام علیکم

بہت خوب پھنے خان
سچ بولا بیچارے نے نام کی لاج تو رکھنی تھی
ھھھھھھھھھھھھھا