PDA

View Full Version : سرمایہ دارانہ نظام کا بحران، بنیادی حقائق کا تجزیہ



محمدمعروف
10-28-2011, 08:26 PM
دنیا کے 80 سے زائد ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج وبا کی طرح پھوٹ پڑا ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ میں ایک علامتی احتجاج سے ہوئی تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج کا دائرہ پھیلتا چلا گیا۔ اکثر جگہوں پر احتجاج کرنے والے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، تاہم بعض مقامات پر لاکھوں افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔ احتجاج میں کئی مقامات پر طاقت کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔ اس صورت ِحال کو سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے نقطہ آغاز سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ امتِ مسلمہ بالخصوص برصغیر کی ملت ِاسلامیہ کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ تہذیب کے زوال کا خیال نیا نہیں۔ اس سلسلے میں پیشگوئی کی ابتدا اقبال نے کی تھی۔ انہوں نے فرمایا:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے ۔۔۔گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدارہوگا
لیکن اس تہذیب کا خنجر کیا ہی؟ اس خنجر اور اس کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے اقبال نے کہا ہے:
نظامِ مغرب ہے تاجرانہ۔۔۔ نظامِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ۔۔۔ یہاں بدلتا نہیں زمانہ
سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے حوالے سے اقبال کے یقین کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے صاف کہا ہے:
گیا دورِ سرمایہ داری گیا۔۔۔ تماشا دکھا کر مداری گیا
اقبال کے بعد مولانا مودودی منظرعام پر آئے اور انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام ہی نہیں، اُس کی ضد یعنی سوشلزم کے زوال کی بھی پیشنگوئی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب سوشلزم کو ماسکو کی شاہراہوں پر پناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارانہ نظام امریکہ اور یورپ کے شہروں میں لرزہ براندام ہوگا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے سلسلے میں سلیم احمد کا تبصرہ Clinical ہے۔ انہوں نے کہا ہی: یہی زر ایک دن اہلِ ہوس کا خون چاٹے گا لگا رکھیں وہ کچھ دن اور اِس کتے کو روٹی پہ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری کے بحران کا مرکز کہاں ہی؟ اس سوال کے جواب کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو یہ ہے کہ روس کے سوشلسٹ انقلاب سے پہلے سرمایہ دارانہ نظام سرتاپا ایک جابرانہ اور استحصالی نظام تھا۔ اس نظام میں سرمائے کا غیر معمولی ارتکاز تھا۔ محنت کشوں کے لیے محنت کے اوقات مقرر نہ تھے۔ ان کے معاوضے کا کوئی اصول اور کوئی ضابطہ نہ تھا۔ ان کے لیے تعطیلات کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی تعلیم اور علاج معالجے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ اس سے اہم بات یہ تھی کہ سرمایہ داروں کے اس ظلم و جبر کی کوئی داد فریاد نہیں تھی۔ محنت کش اور دوسرے لوگ نہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج کرتے تھے نہ کرسکتے تھی، اس لیے کہ ان کے تحفظ کے لیے کہیں کوئی قانون اور عدالت موجود نہیں تھی۔ کارل مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کے اس ظلم اور جبر کی تنقید لکھی۔ اس نے سرمائے کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کے ہولناک پہلووں کی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ سرمائے کا ارتکاز ہی ہے جو تاریخ کے ہر دور میں محنت کشوں کا خون چوستا رہا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ جدوجہد تم ہی کرسکتے ہو کیوں کہ تمہارے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ کارل مارکس کا خیال تھا کہ سوشلسٹ انقلاب کے لیے سب سے زیادہ سازگار حالات برطانیہ میں ہیں، کیوں کہ وہاں صنعت کارانہ نظام موجود ہے جو تاریخی ارتقاءکے سفر میں زرعی نظام کی اگلی منزل ہی، اور اس نظام سے وابستہ محنت کشوں میں شعور کی سطح بلند ہے۔ لیکن مارکس کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ سوشلسٹ انقلاب برطانیہ میں آنے کے بجائے اس روس میں آیا جو صنعتی نظام کے بجائے زرعی نظام کا علَم بردار تھا۔ روس اور بعدازاں چین کے سوشلسٹ انقلاب نے سرمایہ دارانہ نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ اہم بات یہ تھی کہ سوشلسٹ انقلاب روس اور چین کے جغرافیے تک محدود نہ رہا بلکہ وہ تیزی کے ساتھ ”برآمد“ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا مشرقی یورپ کمیونزم کی لپیٹ میں آگیا۔ تیسری دنیا کے کئی ملکوں میں بھی کمیونسٹوں نے طاقت اور سازش کے بل پر انقلابات برپا کردیے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے لیے سوشلزم کا اصل خطرہ یہ نہیں تھا کہ وہ انقلابی قوت بن کر ابھر رہا تھا بلکہ سوشلزم کا اصل خطرہ یہ تھا کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کا ”متبادل“ بن کر ابھر رہا تھا۔ سوشلزم کی اس طاقت نے سرمایہ دارانہ نظام کو غیر معمولی نوعیت کی داخلی اصلاحات پر مجبور کردیا۔ سوشلزم کے خوف کے پیش نظر سرمایہ دارانہ دنیا نے سرمایہ دارانہ ریاست کو ”فلاحی ریاست“ میں بدلنے پر مائل کیا۔ فلاحی ریاست کے تصور کے تحت محنت کشوں کی محنت کے بہترین معاوضے کا بندوبست کیا گیا۔ ان کے اوقات ِکار کو آٹھ گھنٹوں تک محدود کیا گیا، اوورٹائم کی صورت میں انہیں اضافی تنخواہ فراہم کرنے کی صورت پیدا کی گئی‘ ان کے لیے ہفتے میں پہلے ایک اور پھر دو تعطیلات کا اعلان کیا گیا‘ ان کے لیے پینشن اور گریجویٹی کے تصورات متعارف کرائے گئے‘ محنت کشوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے مفت طبی سہولتیں فراہم کی گئیں‘ کارخانوں کے منافع میں محنت کشوں کو بونس کی صورت میں حصہ دار بنایا گیا، تنخواہوں میں بتدریج مگر مسلسل اضافے کا نظام رائج کیا گیا‘ محنت کشوں کو انجمن سازی کا حق دیا گیا تاکہ وہ متحد ہوکر سرمایہ داروں سے اپنے مفادات کا تحفظ کرسکیں، سرمایہ داروں سے اختلاف کی صورت میں محنت کشوں کو ہڑتال کا حق دیا گیا، بے روزگار افراد کے لیے مناسب ماہانہ مالی امداد کی گنجائش پیدا کی گئی۔ اس اصلاحی نظام کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام نے کم و بیش 70 سال تک کمیونزم سے اپنا کامیاب دفاع کیا اور سرمایہ دارانہ نظام میں کمیونزم کی پیش قدمی کو روک دیا۔ لیکن 1979ءکے اواخر میں روس نے افغانستان میں مداخلت کی اور یہاں اسے اسلام کے تصورِ جہاد اور شوقِ شہادت سے معرکہ درپیش ہوا۔ اس معرکے میں روس کی مالی اور عسکری طاقت کے کس بل نکل گئے۔ روس کئی داخلی بحرانوں میں بھی مبتلا تھا، افغانستان کی صورت حال نے ان بحرانوں کو مزید شدید کردیا اور سوویت یونین اپنی داخلی اور خارجی کمزوریوں کے بوجھ تلے دب گیا اور 1990ءمیں بکھر کر رہ گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی سوشلزم بھی ایک نظام کی حیثیت سے تحلیل ہوگیا اور سوشلسٹ دنیا میں ہر جگہ سوشلسٹ نظام کے خلاف بغاوت ہوگئی۔ اس صورتِ حال نے سرمایہ دارانہ نظام کو دنیا کا واحد غالب نظام بنادیا۔ امریکہ اس نظام کی سب سے بڑی علامت کے طور پر دنیا کی واحد طاقت بن کر سامنے آیا۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس میں سرمایہ دارانہ نظام کو ”متبادل“ کے خوف سے مکمل طور پر نجات حاصل ہوچکی تھی۔ چنانچہ سرمایہ داروں نے اپنی فطرت کے عین مطابق فلاحی ریاست کے تصور پر نظرثانی شروع کردی اور انہوں نے گزشتہ بیس برسوں میں محنت کشوں کو فراہم کی گئی مراعات کو مسلسل واپس لیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس طرزِفکر کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی آبادی صرف 30 کروڑ ہی، لیکن 30 کروڑ کی آبادی میں ساڑھے چار کروڑ لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں اور کروڑوں لوگ بدترین معاشی جبر کا شکار ہیں۔ سوشلزم کے انہدام نے مغربی دنیا میں نج کاری کو وسعت دی جس کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں‘ ٹیکنالوجی کے فروغ نے انسانی وسائل پر انحصار کو کم کیا ہے اور سرمایہ دارانہ معاشروں میں ٹیکنالوجی پر انحصار نے بھی معاشی بے چینی پیدا کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کا دوسرا پہلو داخلی ہے۔ اس پہلو کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہر انسانی ساختہ نظام بالآخر اپنے داخلی تضادات اور باطنی کمزوریوں کی نذر ہوجاتا ہی، اور جب کوئی نظام ناکام ہوتا ہے تو دراصل اس کا تصورِ انسان ناکام ہوتا ہے۔ کمیونزم اور سوشلزم کی ناکامی بنیادی طور پر اس کے تصورِ انسان کی ناکامی ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تناظر میں اس بات کا مفہوم کیا ہی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا اوّل و آخر دولت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا خدا دولت ہے‘ اس کا رسول دولت ہے‘ اس کا علم دولت ہے‘ اس کی محبت دولت ہے‘ اس کی کامیابی دولت ہے‘ اس کی ناکامی دولت ہے‘ اس کا تعلق دولت ہے‘ اس کی بے تعلقی دولت ہے‘ اس کی مسرت دولت ہے‘ اس کا غم دولت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نظام میں دولت ہر چیز کا متبادل بن گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام تقریباً 70 سال تک کمیونزم سے برسرپیکار رہا اور اس کشمکش نے سرمایہ دارانہ نظام کے داخلی خلاءکو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ لیکن اس کشمکش کے خاتمے سے یہ خلاءنمایاں ہونے لگا ہے۔ اس خلاءکا لب لباب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی خدائی انسانوں کی عظیم اکثریت میں ایک شدید احساس بیگانگی یا Alienation پیدا کررہی ہے۔ اس بیگانگی اور Alienation کے مظاہر مغربی معاشروں میں عام ہیں۔ مغرب کے معاشی اور مالیاتی نظام پر کارپوریشنوں کا غلبہ ہے اور مغربی دنیا کا عام آدمی خود کو ان معاشی ڈائناسورز کے ساتھ متشخص یا Identify نہیں کرپارہا۔ تشخص کا یہ بحران مغربی معاشروں کی صلاحیت ِکار اور پیداواری استعداد پر بھی غیر محسوس طریقے سے منفی اثر ڈال رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ کی کساد بازاری کے کئی اہم اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمائے کی مرکزیت اور غلبہ افرادِ معاشرہ کے باہمی تعلقات کی انسانی کشش کو چاٹ گیا ہے اور مغربی معاشروں میں انسانی تعلقات زیادہ سے زیادہ ”افادی“ ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان میں محبت کا عنصر کم سے کم ہورہا ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں خاندان کا ادارہ بکھر رہا ہے‘ شادی کی روایت کمزور پڑرہی ہے اور کروڑوں انسانوں کے لیے جذباتی‘ نفسیاتی اور ذہنی صحت ایک خواب بن گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغربی معاشروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور معاشی اضطراب اس کا ایک مظہر ہے۔ اس صورتِ حال میں مغرب کا جمہوری نظام بھی ایک ڈھکوسلہ بن گیا ہے اور مغرب کے کروڑوں لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنے جمہوری نظام میں اپنی ذات کا عکس نظر نہیں آتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کے انتخابات میں رائے دہندگی کی شرح یا تو کم ہورہی ہے یا وہ تقریباً منجمد ہے۔ امریکہ کے سیاسی نظام کو غور سے دیکھا جائے تو اس کے چار حصے دار نظر آتے ہیں: امریکہ کے سرمایہ دار، سی آئی اے‘ پینٹاگون اور امریکی سیاست دان۔ اس بندوبست میں امریکی سیاست دانوں کا حصہ سب سے کم ہے۔ چنانچہ مغرب کی جمہوریت اکثریت کے نظام کے بجائے اقلیت کا نظام بن گئی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مغربی دنیا کے عوام کی اکثریت عراق میں مغربی ملکوں کی جارحیت کے خلاف تھی لیکن جارج بش نظام پر غالب قوتوں کی مزاحمت نہ کرسکے اور انہوں نے اکثریت کے بجائے اقلیت کے کہنے پر عمل کیا۔ امریکہ کے موجودہ صدر بارک اوباما نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بنتے ہی گوانتاناموبے کے عقوبت خانے کو بند کردیں گی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ سی آئی اے اور پینٹاگون کی مزاحمت نہ کرسکے اور گوانتاناموبے آج اسی طرح موجود ہے جس طرح کل موجود تھا۔ یہ صورتِ حال مغربی معاشروں میں عوام کو سیاسی نظام سے لاتعلق کررہی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کو ہمہ جہت بنارہی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کے خلاف سامنے آنے والے احتجاج کی معنویت کیا ہی؟ اس احتجاج کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ یہ احتجاج سرمایہ دارانہ نظام کے تصورات کے دائرے میں وقوع پذیر ہورہا ہی، ان سے باہر نہیں۔ چنانچہ ابھی تک اس احتجاج میں سرمایہ دارانہ نظام کے لیے کوئی بڑا خطرہ موجود نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہمہ جہت ہے لیکن اس کے خلاف سامنے آنے والا احتجاج صرف معاشی اصطلاحوں میں کلام کررہا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ابھی اس نظام کے حقیقی نقصانات کا شعور نہیں۔ اس احتجاج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس احتجاج کو سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ”متبادل“ کی ”کمک“ میسر نہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ احتجاج سرمایہ دارانہ نظام کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس احتجاج کا ایک زاویہ یہ ہے کہ اسے ابھی تک کوئی قیادت فراہم نہیں، اور قیادت کی عدم موجودگی میں احتجاج بے سمتی کا شکار رہے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ انسان کی حرص اور لالچ سے طاقت حاصل کرتا ہے اور وہ اپنی اصلاح کی صلاحیت کا حامل ہے۔ 21 ویں صدی میں سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی اصلاح یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے نقشے پر اپنے مراکز تبدیل کررہا ہے۔ وہ مغرب کے دائرے سے نکل کر مشرق کے دائرے میں آرہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام مشرقی اقدار کے ساتھ آمیز ہوکر انسانیت کے لیے بہتر تجربہ خلق کرتا ہے یا اس کا استحصالی کردار اپنے تسلسل کو برقرار رکھتا ہی؟

شاہنواز فاروقی

بشکریہ جسارت نیوز