PDA

View Full Version : پاکستان امریکا کی جنگ سے الگ ہو جائے



بےباک
10-30-2011, 05:23 AM
پاکستان امریکہ کی جنگ سے علیحدہ ہو جائے، دہشتگردوں سے ہم خود نمٹ لیں گے،

قبائلی جرگہ

اسلام آباد(نامہ نگار) قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کی ذمہ دار سی آئی اے ہے جوکہ پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملوں کی ذمہ دار ہے۔ پاکستانی علاقوں میں ڈرون کی پروازیں آرٹیکل 14 کے منافی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ڈرون حملوں کی تحقیقات کرواکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں اور اقوام متحدہ قبائلی عوام کا قتل عام اور پاکستان کی خودمختاری کی پامالی بند کرائے۔ قبائلی عوام امریکی ظلم و بربریت کا ہر صورت میں بدلہ لیں گے۔ عالمی برادری ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بیگناہ افراد کے قتل عام کی تحقیقات کرائے۔ پاکستان امریکی جنگ سے علیحدہ ہوجائے۔ دہشت گردوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیرستان گرینڈ جرگہ میں متفقہ طور پر پاس ہونے والی قرارداد اور عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گرینڈ جرگہ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، ممبر قومی اسمبلی کامران خان، ڈرون حملوں سے متاثرہ خاندانوں کے وکیل شہزاد اکبر ایڈووکیٹ، کریم خان، ڈاکٹر محمد بشیر، ملک مرجان، مفتی محمودالحسن، سید عزیز احمد و دیگر نے خطاب کیا۔ جرگہ کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد پاس کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ جرگہ پارلیمنٹ کی ڈرون حملوں کے خلاف منظور کردہ قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ 13 اور 14 مئی 2011 کی پارلیمنٹ کی ان کیمرہ اجلاس کی قرارداد کی روشنی میں نیٹو کی سپلائی لائن بند کی جائے۔ قبائلی جرگہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ آئین پاکستان کی روشنی میں ازخود نوٹس لیں اور فوج کو حکم دیں کہ ڈرون مار گرائے کیونکہ سرحدوں کا دفاع کرنا فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔ جرگہ اعلان کرتا ہے کہ چونکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ میں ڈرون حملوں کے خلاف دو الگ الگ درخواستیں دئر کی گئیں تھیں مگر سپریم کورٹ نے یہ درخواستیں یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیں کہ دونوں درخواست گزار اشخاص ڈرون سے متاثرہ نہیں، اب اگر چیف جسٹس نے ہزاروں بے گناہوں کے قتل کا نوٹس نہیں لیا تو قبائلی متاثرین خود سپریم کورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔یہ قبائلی جرگہ چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں میڈیا کی رسائی کا حکم دیں اور نو گوز ایریا ختم کرائیں۔یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ ڈرون سے ہونے والی شہادتوں کی عالمی سطح پر تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ ان علاقوں میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں، اس کے خلاف قبائلی عوام بین الاقومی عدالتوں میں بھی جائیں گے۔یہ جرگہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ڈرون حملے روکنے کے لئے امریکہ کو ڈیڈ لائن دے ورنہ پہلے مرحلے میں نیٹو سپلائی لائن بند کر دے اور دوسرے مرحلے میں ڈرون حملوں کے خلاف اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں مقدمہ دائر کرے۔چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کی تحقیقات کروائیں کہ ڈرون حملے پاکستانی اڈوں سے تو نہیں ہو رہے کیونکہ بعض تصاویر اور خبریں ایسی ہیں جس کا ردعمل پاکستان کے خلاف آ سکتا ہے۔یہ جرگہ لاہور ہائی کورٹ میں ڈرون حملوں کے خلاف شروع ہونے والی سماعت کو خوش آئند قرار دیتا ہے اور اس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی اپیل کرتا ہے اور عدالت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حکومت کو ہدایت کرے کہ سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائے۔میڈیا سے یہ جرگہ اپیل کرتا ہے کہ بغیر تحقیق کے ڈرون حملوں کے شکار افراد کو دہشت گرد قرار نہ دے۔ یہ جرگہ اعلان کرتا ہے کہ تمام قبائل کے ملکان ، مشیران علماء سے مشاورت کے بعد خیبر ایجنسی میں نیٹو کی سپلائی لائن روکنے کے لئے دھرنے کی تاریخ دی جائے گی ۔یہ قبائلی جرگہ فاٹا سے منتخب ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں حکومت سے ڈرون حملے رکوانے کے لئے مطالبہ کرے اور حکومت کو ڈیڈ لائن دے وگرنہ ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ سے استعفوں کا اعلان کریں۔یہ قبائلی جرگہ اعلان کرتا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو قبائلی پاک فوج کی زیادتیوں کو پس پشت ڈال کر پاک فوج کے ہمراہ شانہ بشانہ لڑیں گے۔یہ قبائلی جرگہ اعلان کرتا ہے کہ اگر حکومت نے پارلیمنٹ کی قراردادوں کے مطابق ڈروون حملے نہ رکوائے تو قبائلی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے غیر معینہ مدت تک کے لئے دھرنا دیں گے۔یہ قبائلی جرگہ سپریم کورٹ اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سی آئی اے کے عہدے داروں کے خلاف قبائلیوں کی دی گئی درخواست پر مقدمہ درج کرا دیں جو ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ اس موقع پر عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے اور فوجی آپریشن دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے دہشت گردی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ قبائلی عوام ان حملوں کیخلاف امریکہ سے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہیں اور ہر قبائلی ان حملوں کے بعد امریکہ سے جنگ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی جنگ سے الگ ہوجائے ڈرون حملے بند کئے جائیں تو قبائلی اپنے علاقے میں امن قائم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ان ڈرون حملوں اور اس جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ یہ حملے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر محمد بشیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکی زیادتیوں کا ہر صورت جواب دیں گے۔ ممبران قومی اسمبلی یہ حملے رکوانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ کامران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی پر حملہ ہے۔ ان حملوں میں سرکاری اداروں سمیت ہسپتالوں اور سکولوں سمیت معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیگناہ لوگوں کو مارا جارہا ہے۔ قبائلی عوام اقوام متہدہ میں بھی اس طرح کی کانفرنسیں منعقد کریں۔ قبل ازیں عمران خان نے کہاکہ صدر زرداری اسلام آباد میں ہیں نواز شریف لاہور میں کس کیخلاف ریلی نکال رہے ہیں نوراکشتی کے سب سے بڑے ماہر شریف برادران ہیں۔چیئر مین عمران خان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں سے عسکریت پسندی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے ۔جرگے میں ڈرون حملوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی گئی ۔بعد ازاں تحریک انصاف اور برٹش چیر یٹی کی طرف سے بڑی تعداد میں لوگوں نے چائنہ چوک سے پارلیمنٹ ہائوس تک ریلی نکالی۔ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈ اور تحریک انصاف کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔جن میں درج تھا کہ حکومت ڈروون حملے بند کرگے ۔ اس موقع پر شمالی وزیرستان سے آئے ہوئے ڈرون حملوں کے متاثرین اور انکے اہلخانہ بھی شریک تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے تحریک اٰنصاف کے سربراہ عمران نے کہا کہ امریکہ کا غلام بننا این آر اوکا ایک حصہ تھاڈرون حملوں کی وجہ سے دہشتگردی بڑھ رہی ہے ۔ ڈرون حملوں سے پاکستان کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کیخلاف قرار داد کی منظوری کے 24 گھنٹوں میں پھر ڈرون حملے ہوئے جس پر حکمران شرم کریں باہر سے جو ٹیم آئی ہے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں یہ لوگ ہمارا کیس مغرب میں اٹھائیں گے ہم عالمی فوجداری عدالت میں جائیں گے کیونکہ ڈرون حملوں کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیسی دہشتگردی کیخلاف جنگ ہے کہ ہر سال دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمائدین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان امریکہ کی جنگ سے نکل جائے ڈرون حملے ختم ہو نہ جائیں اور قبائلی علاقوں سے فوج کو واپس بلا لیا جائے تو ہم خود دہشتگردوںسے نمٹ لیں گے۔ جبکہ حبیب ملک اورکرزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈرون حملوں میں کب تک بے گناہ قبائلی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔امریکہ کا یہ دعویٰ کہ روفیدیہ میزائل ٹارگٹڈ بالکل جھوٹ پر مبنی ہیں اور آج اس امن جرگہ میں دکھائی جانے والی تصاویریں ، ویڈیوز اور متاثرین جنہوں نے شرکت کی ہے تمام پاکستانی پرامن شہری اور مظلوم ہیں ان ڈرون حملوں کو فی الفور بند کیاجائے ، سپریم کورٹ آف پاکستان ، اقوام متحدہ اس کا نوٹس لیں اور قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے قبائلی عمائدین اور قبائلی عوام کو ذمہ داری سونپی جائے۔
عمائدین جرگہ