PDA

View Full Version : سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور بوڑھی عورت



محمداکرم
10-30-2011, 02:11 PM
http://3.bp.blogspot.com/-xoq72sYNva4/TZOo0nke4dI/AAAAAAAAAjg/CZnYF9-50-g/s1600/%25D8%25A8%25D8%25B3%25D9%2585+%25D8%25A7%25D9%258 4%25D9%2584%25D9%2587+2.gif


سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور بوڑھی عورت
عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان افروز واقعہ

"حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے ایک گھر میں دیکھا کہ چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے :

علی محمد صلاة الأبرار
صلی عليه الطيبون الأخيار
قد کنتَ قواماً بکا بالأسحار
يا ليت شعری والمنايا أطوار
هل تجمعنی و حبيبی الدار [1]

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کے تمام ماننے والوں کی طرف سے سلام ہو اور تمام متقین کی طرف سے بھی۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور سحری کے وقت آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اسبابِ موت متعدد ہیں، کاش مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہوسکے گا۔‘‘

"یہ اشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بے اختیار اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد آ گئی اور وہ زار و قطار رو پڑے۔ اہل سیر آگے لکھتے ہیں :

"طرق عليها الباب، فقالت : من هذا؟ فقال : عمر بن الخطاب، فقالت : ما لي ولعمر في هذه الساعة؟ فقال : افتحي، يرحمک اﷲ فلا بأس عليک، ففتحت له، فدخل عليها، وقال : ردي الکلمات التي قلتيها آنفا، فردتها، فقال : ادخليني معکما و قولي و عمر فاغفرله يا غفار" [2]

’’انہوں نے دروازے پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا : کون؟ آپ نے کہا : عمر بن الخطاب۔ خاتون نے کہا : رات کے ان اوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تو دروازہ کھول تجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ اس نے دروازہ کھولا : آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا کہ جو اشعار تو ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ۔ اس نے جب دوبارہ اشعار پڑھے تو آپ کہنے لگے کہ اس مسعود و مبارک اجتماع میں مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرلے اور یہ کہہ کہ ہم دونوں کو آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو اور اے معاف کرنے والے عمر کو معاف کر دے۔‘‘

بقول قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ اﷲ علیہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔

حوالہ جات:
[1] قاضی عياض، الشفاء، 2 : 2569 ، ابن مبارک، الزهد، 1 : 363
[2] خفاجي، نسيم الرياض، 3 : 355

سیما
05-01-2012, 05:23 AM
وعلیکم السلام
جزاک اللہ

بےباک
05-01-2012, 10:13 PM
بہت خؤب جناب ، جزاک اللہ

pervaz khan
06-27-2012, 04:43 PM
وعلیکم السلام
جزاک اللہ