PDA

View Full Version : پاکستانی قوم اورکرکٹ کے لیئے شرمندگی۔کرکٹ



سیما
11-03-2011, 11:20 AM
پاکستانی قوم اورکرکٹ کے لیئے شرمندگی۔کرکٹ
لندن کےسدک کورٹ کے باہر موجود عالمی اخبار کے بیورو چیف لندن اکمل سید نے بدھ کی شام عدالتی کاروائی ختم ہونے پر بتایا ہے کہ کرکٹ کرپشن کیس میں سدک کراوٴن کورٹ پاکستان کھلاڑیوں کو سزا آج سنائے گی

اس بات کا اعلان جسٹس کک نےعدالتی کارروائی کل تک ملتوی کر دی، اس سے قبل عدالت سے کھلاڑیوں کو کم سے کم سزا کی درخواست کی گئی عدالتی کارروائی کے دوران سلمان بٹ اور مظہر مجید زارو قطار روتے رہے جبکہ محمد عامر کے وکیل نے عدالت سے استدا کی عامرنے لارڈزٹیسٹ کے سواکبھی کوئی غلط کام نہیں کیا،وہ کم عمراورمعصوم ہے،اس نے پیسوں کیلئے نوبالز نہیں کیں بلکہ کپتان کی ہدایت پرکرائیں۔

عامراچھا طالبعلم رہا ہے اور ہمیشہ بڑوں کاادب کرتاتھا،عامرکی غلطی پرمائیکل ہولڈنگ جیسے بولرکوبھی مایوسی ہوئی تھی،عامرجیسے باصلاحیت بولرزصدیوں میں پیداہوتے ہیں ۔عامرکو4اگست2010کودبئی کے ایک بکی نے کال کی تھی۔عامرسے رابطہ کرنی والے دبئی کے بکی کانام عدالت میں ظاہرنہیں کیاگیا۔سدک کراوٴن کورٹ میں مظہرمجید کے مارک میلیکن نے کہاکہ ان کے موکل کواپنے کیئے پرشرمندگی ہے،اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ اس کے فعل سے کرکٹ شائقین اورپاکستانی قوم کوشدیددھچکالگاہے،انہوں نے عدالت سے نرمی برتنے کی اپیل کی،اس دوران مظہرمجیدکٹہرے میں روتے ہوئے نظرآئے۔

مظہرمجید کے وکیل نے کہاکہ وہ فکسنگ میں اکیلے ہی ملوث نہیں تھے،کھلاڑیوں نے خودانہیں فکسنگ کرنے کیلئے کہاتھا، عدالت کے سامنے کھلاڑیوں نے خود کوبچانے کیلئے جھوٹ بولاہے۔مظہرمجید کے وکیل نے الزام لگایا کہ دوہزارنو میں سلمان بٹ نے مظہرمجیدکوفکسنگ کرانے کیلئے کہا، سلمان بٹ دیگرکھلاڑیوں کی فکسنگ سے ہونیوالی آمدنی پرحاسدتھے

مظہرمجید کے وکیل نے کہاکہ پاکستان ٹیم میچ فکسنگ رچ بس چکی تھی،ان تین کھلاڑیوں کے علاوہ ایک ا ورکرکٹر بھی اس کام میں ملوث رہا،مارک میلیکین نے کہاکہ دورہ آسٹریلیا کے موقع پرٹیم میں دوسے تین فکسرزموجودتھے۔

مظہرمجید کاکہناتھاکہ نیوزآف دی ورلڈکی جانب سے دی گئی رقم میں سے سترہزارپاوٴنڈزپاکستانی کھلاڑیوں کودیئے،آصف کوسب سے زیادہ 65ہزارپاوٴنڈزدیئے گئے کیونکہ وہ زیادہ وفادارتھے۔

اپ ڈیٹ بدھ دو نومبر 2011 بوقت 5 بجکر5 منٹ

کرکٹ کرپشن کیس کی سماعت لندن کی عدالت میں پھر سے شروع ہو گئی ہے اور سدک کورٹ کے باہر موجود عالمی اخبار کے بیورو چیف لندن اکمل سید کے مطابق مظہر مجید کے وکیل نے سزا میں کمی کی درخواست کی ہے۔ توقع کی جاری ہے کہ جج کک آج بدھ کو ہی سزا سنا سکتے ہیں۔ سلمان بٹ،محمد آصف،عامر اور مظہر مجید عدالت میں موجود ہیں۔ مظہر مجید عدالت کے سامنے رو پڑے اور وکیل کے ذریعے اپنے کیئے پر اظہار ندامت کیا۔

اپ ڈیٹ بدھ دو نومبر 2011 بوقت دو بجکر دس منٹ

کرکٹ کرپشن کیس کی سماعت پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔اسکینڈل میں شامل کھلاڑیوں اورایجنٹ مظہرمجید کیخلاف فیصلہ آج متو قع ہے۔

لندن کی سدک کراوٴن کورٹ میں گزشتہ روز جیوری نے محمدآصف اورسلمان بٹ کوقصوروار ٹھہرایا تھا ، انہیں دھوکہ دہی اورکرپشن میں ملوث قراردیاگیاہے۔آج عدالت میں محمدعامراورمظہرمجید پہلی بارپیش ہوئے ،جسٹس کک نے کہاکہ محمدعامر کے بیان میں تضاد ہے،انہوں نے پولیس کو بتایاکہ وہ پھسل گئے تھے جس کی وجہ سے نوبال کرابیٹھے جبکہ عدالت کو دیئے گئے بیان میں انہوں نے اعتراف کیاکہ انہوں نے جان بوجھ کرنوبال کی

انہوں نے صرف لارڈزٹیسٹ سے متعلق معافی مانگی ہے جوناقابل قبول ہے۔جسٹس کک نے کہاکہ کسی بھی میچ میں کپتان کا اہم کردارہوتا ہے،انہوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اوول ٹیسٹ لارڈز سے زیادہ متنازع تھا۔جسٹس کک نے عامر کا انیس صفحات پرمشتمل بیان پڑھنے کے لیے سماعت شام سات بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔

اپ ڈیٹ بدھ دو نومبر 2011 بوقت ایک بجکر دس منٹ

گزشتہ روز منگل یکم نومبر کو پاکستانی کرکٹرز کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی جانب سے پاکستان کے2کھلاڑیوں کو جیوری نے قصور وار دے دیا تھا جبکہ تیسرے کھلاڑی عامر نے پہلے ہی اعتراف جرم کر لیا تھا اب ان تینوں کھلاڑیوں کے خلاف سزاؤں کا اعلان بدھ کو متوقع ہے۔

برطانوی قوانین کے ماہر وکلا کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت سلمان بٹ اور محمد آصف کو سات سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے تا ہم ہوسکتا ہے کہ محمد عامر سزا سے بچ جائیں یا انہیں دوسروں کی نسبت کم سزا ملے کیونکہ انہوں نے مقدمے کےشروع ہونے سے قبل ہی اعتراف جرم کرلیا تھا۔

ماہرین قانون کے مطابق برطانوی قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو چار سال یا اس سے کم سزا ہوتی ہے تو وہ سزا کا آدھا وقت کاٹتا ہے گویا اگر چار سال سزا ہوتی ہے تو وہ دو سال قید کاٹے گا۔ لیکن اگر سزا چار سال سے زیادہ ہوئی ہے تو پھر اسے دو تہائی سزا کاٹنی پڑتی ہے۔



اپ ڈیٹ بدھ دو نومبر 2011 بوقت دس بجکر دس منٹ



لندن میں کرکٹ کرپشن کیس کا فیصلہ آگیا ، 12 رکنی جیوری نے سابق کپتان سلمان بٹ اور آصفکو کرپشن اور دھوکا دہی کے الزام میں مجرم قرار دے دیا۔جس کے بعد ان کھلاڑیوں کو کتنی سزائیں دی جائیں گی اور کتنا جرمانہ ہوگا ، اس کا فیصلہ جسٹس کک کریں گے۔

سترہ گھنٹے کے صلاح مشورے کے بعدجیوری نے کرکٹ کرپشن کیس کافیصلہ دے دیا۔آئی سی سی سے پابندی کاشکارسلمان بٹ اورآصف برطانوی قانون کے بھی مجرم نکلے۔تیز رفتار گیندوں کو باوٴنڈری کی راہ دکھانے والے سلمان بٹ دھوکہ دہی اور کرپشن کرنے پرکلین بولڈ ہوگئے۔

عادی مجرم کہلانے والے آصف ایک بارپھر قانونی جنگ ہارگئے۔ان پربھی دھوکہ دہی کاالزام ثابت ہوا۔ایک روز پہلے جیوری فیصلے پرمتفق نہیں تھی، لیکن جیوری اراکین دوسری بارسرجوڑ کربیٹھے تو بارہ میں سے دس ارکان فیصلے پریکجا ہوگئے۔ جیوری کااتفاق تھاکہ کرکٹرز میچ فکسنگ کی سازش میں ملوث تھے۔کرپشن کرنے پرسلمان بٹ کو زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا ہوسکتی ہے،آصف کو دوسال کے لیے جیل جانا پڑسکتا ہے۔کس کھلاڑی کا کیا انجام ہوگا اس کافیصلہ جسٹس کک سنائیں گے

پاکستانی کرکٹرز کی اسپاٹ فکسنگ کا انکشاف اٹھائیس اگست کو برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے کیاتھا۔محمدآصف اور محمدعامر نے اگست میں انگلینڈ کیخلاف لارڈز ٹیسٹ میں دانستہ تین نوبالز کرائی تھیں۔آئی سی سی ٹریبونل نے جنوری میں سلمان بٹ پر دس،محمدآصف پرسات اور محمدعامر پر پانچ سالہ پابندی عائد کی تھی۔دھوکہ دہی اور کرپشن کا پیسہ وصول کرنے کے الزام میں کرمنل کیس کی سماعت جسٹس کک کی عدالت میں چاراکتوبرکو شروع ہوئی۔ سولہ روز تک جاری رہنے والی سماعت چھبیس اکتوبرکومکمل ہوئی۔جس کے بعد جیوری نے چار روز ثبوت و شواہد پر غوروخوض کے بعد سلمان بٹ کو دھوکہ دہی اورسازش جبکہ محمدآصف کوسازش کا مرتکب قراردیدیا۔

جیوری نے دس دوکی اکثریت سے سلمان بٹ اور محمدآصف کومجرم قرار دیاہے۔سلمان بٹ اور محمدآصف دنیا کے پہلے کرکٹرز ہیں جنہیں کرمنل کیس میں سزا ہوگی۔دھوکہ دہی اور سازش میں سے ایک جرم پردو اور دوسرے پر سات سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ فیصلہ کے تحت تینوں کرکٹرز کو سزا پیر کو سنائے جانے کا امکان ہے۔فاسٹ بولر محمدعامرپہلے ہی اعتراف جرم کرچکے ہیں۔انکی قسمت کا فیصلہ بھی پیر کو ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسپاٹ فکسنگ کیس کے متنازعہ کھلاڑیوں قصور وار ٹھہرائے جانے کے بعد کرکٹ سے وابستہ شخصیات اور قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔پی سی بی کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی کہتے ہیں کہ بورڈ انتظامیہ بروقت ایکشن لیتی تو عالمی سطح پر بدنامی کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔پاکستانی ٹیم میں کئی کھلاڑی کرپشن میں ملوث ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل کے مطابق عالمی سطح پر یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ ضائع ہونا افسوس ناک ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز کے مطابق نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر نے جرم تسلیم کرکے اچھا فیصلہ لیا جبکہ سلمان بٹ اور محمد آصف نے آخری وقت تک عدالت کا وقت ضائع کیا ۔ قانونی ماہر خالد رانجھا نے کہا کہ انھیں کھلاڑیوں کے بے قصور ہونے کا یقین تھا، اب جیوری ہی قصوروار ٹھرانے کی وجہ بتاسکتی ہے۔


عالمی کرکٹ کونسل آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے کہا ہے عدالت کے فیصلے کا ان پابندیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو تینوں کھلاڑیوں پر پہلے ہی لگائی جا چکی ہیں۔

انگلینڈ کے سدک کراؤن کورٹ میں تین پاکستانی کھلاڑیوں پر جرم ثابت ہو جانے کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں آئی سی سی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’ کونسل گزشتہ چند ہفتوں سے جاری مقدمے کا بغور مشاہدہ کر رہی تھی اور اب جب کہ جیوری نے سلمان بٹ اور محمد آصف کو ان جرائم کا مرتکب قرار دے دیا ہے جن کے الزام ان پر لگائے گئے تھے جب کہ محمد عامر جو پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں‘

اپ ڈیٹ شام 5 بجکر 10 مینٹ جی ایم ٹی ٹائم

سلمان بٹ پر دو الزمات ثابت اور محمد آصف پرالزام ثابت ہو گیا ہے پاکستانی کرکٹرز کے خلاف دھوکہ دہی اور کرپشن کے کیس میں منگل کو جیوری نے فیصلہ سنا دیا ہے تا ہم محمد آصف کے بارے میں دوسرے الزام پر بھیہ بعد میں جیوری نے مزید غور کے بعد انہیں مجرم قرار دے دیا ۔محمد عامر پہلے ہی جرم قبول کر چکے ہیں

جرم ثابت ہونے کے بعد اب سزا کا سامنا ہے لیکن عدالت اسکا فیصلہ جمعرات کو سنائے گی جو زیادہ سے زیادہ سات سال ہو سکتی ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق آصف ،سلمان اور انکے وکلا کو دوبارہ کورٹ روم میں طلب کر لیا گیا ہے

ٹیسٹ میں سازش کا فیصلہ جیوری کا متقفہ تھا لیکن سلمان کے پیسے لینے کا فیصلہ جیوری نے کثرت رائے سے سنایا جبکہ آصف کے پیسے لینے کے الزام کا فیصلہ کرنے کے لیئے جیوری مزید غور کر رہی ہے

سال چار فروری کو برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اور ایک سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید پر کرپشن اور دھوکہ دہی کی سازش کا الزام لگایا تھا۔

الزام عائد کیا گیا تھا کہ مظہر مجید نے کسی تیسری پارٹی سے پیسے لے کر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران ان کھلاڑیوں کو پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروانے کے لیے کہا تھا۔


برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

سدرک کی عدالت کو بتایا گیا تھا ان کھلاڑیوں نے برطانیہ میں مقیم ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میچوں کے کچھ حصوں کے بارے میں طے کیا تھا کہ ان میں کیا کرنا ہے۔

سلمان بٹ،محمد آصف اور محمدعامر کو گذشتہ سال لارڈز ٹیسٹ میں سازش کے الزام کاسامنا تھا اور گزشتہ جمعرات کو سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس کک نے بارہ رکنی جیوری کو کسی دبائو کے بغیر اور متفقہ فیصلہ مرتب کرنے کیلئے برخواست کردیاتھا۔ جیوری دو روز شواہد کا مزید جائزہ لینے کے بعد بھی متفقہ فیصلہ مرتب نہیں کرسکی تھی