PDA

View Full Version : قربانی کے جانوروں پر قربان جایئے



بےباک
11-07-2011, 12:17 AM
ڈان ۔۔ بادشاہ۔۔گجنی۔۔دبنگ ۔ ۔ راون۔۔ ذرا ٹہرئے ! میں آپ کو بالی وڈ کی فلموں کے نام نہیں بتا رہا۔ یہ نام اب صرف فلموں کے نہیں رہے بلکہ ان قدآور فربہ بیل، گائے اور دنبوں کے بھی ہیں جو مویشی منڈی میں قربانی کے لئے لائے گئے ہیں اور اپنے قدردان اور مالدار گاہگوں کا انتظار کر رہے ہیں۔عید الاضحی کی آمد قریب ہے اور سنت ابراہیمی کی پیروی میں مسلمان قربانی کے جانوروں کی خرید کے لئے کوشاں ہیں۔ منڈیاں سج چکی ہیں اور گاہگ بھی اب منڈیوں کے چکر لگا رہے ہیں تا کہ اپنی قوت خرید کے لحاظ سے کوئی جانور قربانی کے فریضے کی ادائیگی کے لئے لے جا سکیں۔ تاہم قربانی کے جانوروں کی منڈیاں اب روایتی منڈیوں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔وقت کے ساتھ مویشی منڈی بھی اب جدید رنگ میں رنگتی دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے گاؤں دیہاتوں سے لوگ اور گلہ بان اپنے جانور شہر میں لا کر بیچتے تھے اب ان کے ساتھ ساتھ پیشہ ور سرمایہ کار اور مارکیٹنگ کے لوگ بھی اس منڈی میں داخل ہو رہے ہیں، یہ سرمایہ کار عام بیوپاریوں سے جانوروں کی بڑی تعداد سستی خریدکر عید الاضحی کے قریب آنے پر مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے جمع کررہے ہیں۔ مارکیٹنگ کے شعبے کے لوگ رقم کمانے کے لیے مویشیوں کے درمیان قربانی کے جانوروں کے فیشن شوکا بھی انعقاد کرنے اور میڈیا پر تشہیر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جانوروں کے نام مشہور فلموں اور اداکاروں کے نام پر رکھے جا رہے ہیں تاکہ گاہگوں خصوصا نوجوانوں اور بچوں کو متوجہ کیا جاسکے۔ یہ بھی خبر آئی ہے کہ کئی خواتین نے بھی منڈی میں کیمپ لگائے ہیں اورکئی خواتین خود کیمپوں میں بیٹھ کرمویشیوں کی خرید و فروخت کررہی ہیں۔ حال ہی میں ممتازکرکٹر شاہدآفریدی بھی اپنے دوستوں کے ایک کیمپ کاافتتاح کر چکے ہیں۔
منڈی میں موجود عام بیو پاریوں کے مطابق منڈی میں قربانی کے جانورکم اوران کا فیشن شو زیادہ نظرآرہا ہے اور ان رونقوں کا اب تک تو یہی نتیجہ نکلا ہے کہ عام گائے بیلوں کی قیمت بھی لاکھوں روپے مانگی جا رہی ہے۔لگتا یہی ہے کہ اب منڈی مکمل طور پر سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔جس کے باعث منڈی کا بنیادی تصور ہی ختم ہوگیاہے۔ جانوروں کی ہوش ربا قیمتوں نے عام شہریوں کو فکرمند کر دیا ہے کہ اس مہنگائی اور معاشی پریشانیوں کے دور میں وہ کس طرح اس مذہبی فریضے کو انجام دیں۔ منڈی میں جانوروں کے ٹھاٹھ باٹھ ،شان و شوکت اور قیمتیں دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ قربانی کے جانوروں پر قربان جایئے۔


سید شہزاد عالم