PDA

View Full Version : سنت ابراہیمی یا فیشن شو...معیشت کی جھلکیاں



بےباک
11-07-2011, 12:56 AM
کیا کوئی مسلمان یہ تصور کر سکتا تھا کہ آج سے تین ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جانے والا وہ عمل جس کی تشریح قرآن کریم میں یوں کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، آج فیشن شو میں تبدیل ہو جائے گا۔ پاکستان کے مسلمان خواہ نماز اور زکوٰة کی ادائیگی میں تساہل سے کام لیں مگر چھوٹے سا چھوٹا اہل سطوت قربانی میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی قیمت اور اس سے متعلقہ جملہ اخراجات مثلاً مقامی اور بیرونی باربرداری، چارہ، قصابی، کھالوں کی خرید و فروخت اور دوسرے متعدد چھوٹے موٹے اخراجات کو ملا کر جن میں سرکاری ٹیکس اور فیسیں اور قدم قدم نذر اور نذرانے شامل ہیں 80/ارب کی کثیر رقم ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھوں میں گئی۔ امسال مہنگائی اور گرانی کی وجہ سے نچلی حد (مارجنل لائن) کے طبقے میں ایک یا دو فیصدی تغیر و تبدل ہو سکتا ہے مگر قیمتوں اور مصارف میں اضافے کی بدولت اگر کل رقم ایک کھرب کے قریب پہنچ جائے تو کوئی حیرت نہیں ہوگی۔ منظم طور پر خرچ ہونے والی یہ رقم کایا پلٹ کر سکتی ہے۔ کون کہتا ہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے (خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے اس سارے مخمصے سے آزاد ہیں) اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد کے مطابق کراچی کے شہریوں نے مالی سال رواں کے ابتدائی دو مہینوں میں 29/ارب 98کروڑ روپے کی سرمایہ کاری قومی بچت کی اسکیموں میں کی۔ آج کل ایک بینک کی جانب سے اسمارٹ سیونگز کے تحت ترغیب دی جا رہی ہے کہ جس طرح باقاعدگی سے آمدنی حاصل کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اسی طرح باقاعدگی سے بچت کیا کریں۔ اس مشورے کے لئے مناسب وقت نہیں چنا گیا۔ اس وقت تازہ بچت تو درکنار پچھلی پونجیاں بھی بینکوں سے نکال کر قربانی کے جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔ بینکوں میں نقدی کا توڑا ہو جائے گا اور ان کو اسٹیٹ بینک سے نقدی حاصل کرنا ہوگی۔
قربانی کے مسئلے کو ایک دوسرے زاویہ سے دیکھیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت نیم میکانی بھی نہیں۔ گو اب ہمارا کسان ترقی دادہ بیچ، کیماوی کھاد اور کیڑے مار دوائیں استعمال کرنے لگا ہے پھر بھی اس کا انحصار تندرست اور توانا بیلوں پر ہے بلکہ زرعی شعبے کو بڑا سہارا شعبہ مویشیاں ہی سے مل رہا ہے۔ پاکستان میں مویشی شماری ہر پانچ سال کے بعد ہوتی ہے۔ پچھلی مویشی شماری 2006ء میں ہوئی تھی اس کے بعد اوسطاً اضافہ کیا جاتا ہے اگر2010-11ء کے اکنامک سروے کے شعبہ حیوانات پر نظر ڈالنے سے صورتحال بڑی حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح2.1 اور 2.5 فیصدی سالانہ ہے جبکہ گائے بیلوں کی تعداد میں سالانہ1.3ملین، بھینسوں میں 0.8 ملین، بھیڑوں میں 0.4 ملین اور بکریوں میں ایک ملین کی شرح سے اضافہ بتایا گیا۔ بازار یا ہوٹلوں میں جو گوشت بکری کے نام سے فروخت ہوتا ہے وہ زیادہ بھیڑ یا دبنے کا ہوتا ہے اسی طرح بڑے گوشت کے نام سے بھینس کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ بہرحال موجودہ تعداد کے لحاظ پاکستان کے ہر شہری کو سالانہ 172کلو گوشت ملنا چاہئے اور گوشت کی کوئی قلت نہیں ہونا چاہئے بلکہ سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک میں گوشت کی پیداوار وافر ہے گوشت اور مویشی برآمد بھی کئے جاتے ہیں بلکہ دسمبر میں ملک میں حلال گوشت کی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں 26ممالک حصہ لینے والے ہیں ساتھ ہی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ بھی ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے صوبے نے خیبر کے سوا دوسرے تمام راستوں سے اسمگلنگ کو روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ فی الحال ملک میں بڑا گوشت 300روپیہ اور چھوٹا گوشت 600روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ایک کمپنی صاف شدہ گائے کا گوشت 397روپے، قیمہ391روپے اور گڈیاں 103روپے کلو فروخت کر ر ہی ہے اگر یہی صورت برقرار رہی تو عید کے بعد گوشت اور مہنگا ہو جائے گا۔ آبادی میں اضافہ اور کڑاھی گوشت، سجی اور چپلی کبابوں کے بڑھتے ہوئے رواج نے گوشت کی طلب میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے اور اب تو اونٹ کے کباب بھی غیرملکیوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف سندھ کے حالیہ سیلاب سے 90ہزار مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔ زندہ مویشی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ابھی عید میں کچھ دن ہیں مگر ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں جانور خصوصاً گائے، بیل آنا شروع ہوگئے ہیں اس وقت جو جانور یہاں موجود ہیں وہ صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو یا تو اپنے فارم یا گھر پر رکھ کر منافع پر دوسروں کو فروخت کر دیتے ہیں یا ان کو فربہ بنا کر خود قربانی کرتے ہیں چنانچہ ایک مقامی فارم نے 15جانور 8-8لاکھ روپے میں خریدے اب یہ ان کو 12-10لاکھ فی مویشی کے حساب سے فروخت کر دیں گے عام خریداروں کے لئے جانور اگلے ہفتے سے آنا شروع ہوں گے۔ منڈی میں اندرون سندھ سے چوری کے جانور بھی آ جاتے ہیں۔ مویشی اور بیوپاریوں کے لئے سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں رقم کو محفوظ طریقے سے منتقلی کی خاطر بینکوں کے کاؤنٹر کھولے گئے ہیں۔ منڈی میں گائے اور اونٹ کی داخلہ فیس 8سو اور بکرے کی 500روپے رکھی گئی ہے منڈی میں پانچ ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے کار کی فیس 30روپے، موٹر سائیکل کی10روپے اور کمرشل گاڑیوں کی فیس 70روپے مقرر کی گئی ہے۔
اس مرتبہ ایک نیا رجحان یہ دیکھنے میں آیا کہ بعض کھلاڑیوں نے اپنا کیمپ لگایا اور ایک ممتاز کھلاڑی نے اس کا افتتاح کیا۔ چند خواتین نے بھی کیمپ لگائے ہیں اور وہ وہاں بیٹھ کر خرید و فروخت کر رہی ہیں۔ قربانی کے جانوروں کے لئے فیشن شو کا منصوبہ بن رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اول، دوم، سوم آنے والے جانوروں کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان تمام بدعتوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سنجیدہ مذہبی تقریب نام و نمود اور کھیل تماشا بن گئی ہے قربانی کی جو اصل روح تھی وہ تو سرے سے مفقود ہو چکی ہے۔ اللہ ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے اور راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)


محمد احمدسبزواری
بشکریہ جنگ

محمدمعروف
11-09-2011, 06:51 AM
آپ نے بہت اچھے حقائق اور معلومات کو شئیر کیا ہے یقنینا آج کل ایسا ہی ہے کہ قربانی جیسا عظیم عمل بھی اب اصل جذبے اور اور اپنی حقیقی روح سے خالی نظر آتا ہے بعض لوگ مہنگے ترین جانور خرید کر پہلے انہیں گلی کوچوں میں خوب گشت کرواتے ہیں اور لوگوں کو دکھاتے ہیں تاکہ ہماری واہ واہ ہوجائے جبکہ قربانی کا اصل مقصد اپنی خواہشات کی قربانی ہے اور اللہ کے پیارے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی ادائیگی ہے
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ، اللہ تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے
"اگر اللہ کی رضا کیلئے آپ ایک کھجور صدقہ کریں تو اس کا اجر و ثواب احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اگر دکھاوے کی خاطر احد پہاڑ جتنا سونا صدقہ کریں تو اس کا ثواب اس ایک کھجور کے مقابلے میں بہت ہی کم ہوگا۔"
کیونکہ عبادات کا اصل مقصد رضائے الہی کا حصول ہے نہ کہ ریا ۔
دوسرا یہ کہ قربانی کے جانور کی خرید و فروخت بھی معیشت کے دوسرے شعبوں طرح ایسے ہاتھوں آچکی ہے جنہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور تمام لوگ جو اس کو سنت کو خراب کررہے ہیں انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔ اقبال نے درست فرمایا تھا۔
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ، تو باقی نہیں ہے