PDA

View Full Version : بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے



ایم-ایم
11-10-2011, 04:24 PM
بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے

کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے
ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے

مگر کبھی کوئی دیکھے کوئی پڑھے تو سہی
دل آئینہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے

وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی
یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے

فراز سنگ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے

این اے ناصر
04-16-2012, 10:28 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔