PDA

View Full Version : اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا



ایم-ایم
11-12-2011, 10:14 AM
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات، بام پر ماهِ تمام رکھ دیا

آمدِ دوست کی نوید، کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا

شد تِ تشنگی میں بھی، غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر، میں نے بھی جام رکھ دیا

دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں، بر سر عام رکھ دیا

اس نے نظر نظر میں ہی ،ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاءوں میں، سارا کلام رکھ دیا

اور فراز چاہییں، کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر، بچوں کا نام رکھ دیا

این اے ناصر
04-16-2012, 10:34 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔