PDA

View Full Version : دکھی شاعری کی لڑی........



ایم-ایم
11-12-2011, 09:03 PM
يہ قول کسي کا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا
وہ کچھ نہيں کہتا ہے کہ ميں کچھ نہیں کہتا

سن سن کر ترے عشق ميں اغيار کے طعنے
مير اہي کليجا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

ان کا يہي سننا ہے کہ وہ کچھ نہيں سنتے
ميرا يہي کہنا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

خط ميں مجھے اول تو سنائي ہيں ہزاروں
آخر ميں يہ لکھا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

پھٹتا ہے جگر ديکھ کے قاصد کي مصيبت
پوچھوں تو يہ کہتا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

يہ خوب سمجھ ليجئے غمار وہي ہے
جو آپ سے سے کہتا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

تم کو يہي شاياں ہے کہ تم ديتے ہوئے وشنام
مجھ کو يہي زيبا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

مشتاق بہت ہيں مرے کہنے کے پر اے داغ
يہ وقت ہي ايسا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

ایم-ایم
11-12-2011, 09:05 PM
زخم تنہائي ميں خوشبو حنا کس کي تھي
سايہ ديوار پر ميرا تھا صدا کس کي تھي

اس کي رفتار سے لپٹي رہيں آنکھيں ميري
اس نے مڑ کر بھي نا ديکھا وفا کس کي تھي

آنسوں سے ہي بھر گيا دامن ميرا
ہاتھ تو ميں نے اٹھائے تھے دعا کس کي تھي

ميري آنکھوں کي زبان کوئي سمجھتا کيسے
زندگي اتني دُکھي ميرے سوا کس کي تھي

آگ سے دوستي اس کي تھي جلا گھر ميرا
دے گيا کس کو سزا اور خطا کس کي تھي

ایم-ایم
11-12-2011, 09:05 PM
آہٹ پے اس کي چونک سا جاتا ہوں
نا چاہتے ہوئے بھي اس کو بھول جانا چاہتا ہوں

نا جانے کيوں اس کي يادوں ميں گم ہو جاتا ہوں
ميں اس کي يادوں سے بھي نکال جانا چاہتا ہوں

ميں نے اس کي محبت کا کھايا ہے دھوکہ
اب ميں محبت کے اس دھوکے سے نکال جانا چاہتا ہوں

وہ جو چہرے پے ڈلے بيٹھے ہيں پردہ معصوميت کا
اس کے چہرے سے وہ پردہ اٹھانا چاہتا ہوں

حسن پرستي نے کيا ہے ہم کو برباد
حسن پرستوں کو يہ بات سمجھانا چاہتا ہوں

يہ آگ ہے اس سے مت کھيلو جل جائو گئے
مگر ميں وہ پروانہ ہوں جو جل جانا چاہتا ہوں

زندگي نے جس طرح جھنجھوڑا ہے ميري زندگي کو
ميں اب اس زندگي سے نکال جانا چاہتا ہوں

اور جب کبھي ميں ہوتا ہوں تنہا
تو دل کھول کر رونا چاہتا ہوں

پيار محبت کون کرتا ہے يہاں پر کسي کو
ميں يہ پيغام عام کرنا چاہتا ہوں

ایم-ایم
11-12-2011, 09:06 PM
تيرے پاس آنے کو جي چاہتا ہے
نئے زخم کھانے کو جي چاہتا ہے

ادھر آئے شايد وہ موج ترنم
غزل گنگنانے کو جي چاہتا ہے

زمانہ ميرا آزمايا ہوا ہے
تجھے آزمانے کو جي چاہتا ہے

وہي بات رہ رہ کے ياد آ رہي ہے
جسے بھل جانے کو جي چاہتا ہے

لبوں پر ميرے کھلتا ہے تبسم
جب آنْسُو بہانے کو جي چاہتا ہے

کئي مرتبہ دل پہ بجلي گري ہے
مگر مسکرانے کو جي چاہتا ہے

تکلف نا کر آج برق تجلي
نشيمن جلانے کو جي چاہتا ہے

رخ زندگي سے نقاب اُلٹ کر
حقيقت دکھانے کو جي چاہتا ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:07 PM
مٹ گيا ہوں مجھ کو مٹا رہنے دو
ميرے جذبات کے شعلوں کو بجھا رہنے دو

درد سہنے کي ہو گئي ہے اب عادت مجھ کو
ميرے رستے ہوئے زخموں کو ہرا رہنے دو

اب تو تعبير کي حسرت ہي نہيں ہے مجھ کو
ميري آنکھوں ميں ميرا خواب چھپا رہنے دو

مسکراہٹ پہ ميرا حق ہي نہيں ہے يارو
ميرے ہونٹوں سے تبسم کو خفا رہنے دو

دل جو ٹوٹا ہے تو آنکھيں نا چھلک جائيں
آج آنکھوں کو ان اشکوں سے بھرا رہنے دو

ایم-ایم
11-12-2011, 09:08 PM
جب تنہائي رقص کرتي ہے
جب وقت تھم سا جاتا ہے
جب وحشت بے لباس ہونے لگتي ہے
جب نغمگي بھي شور بنے لگتي ہے
جب انسيت بھي اذيت بن جاتي ہے
جب خواب ، عذاب لگنے لگتے ہے
جب احساس کے سمندر کا
ہر موتي ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
جب موت ، زدگي بن جاتي ہے
اور زندگي ، موت بن جاتي ہے
تب ايسے ميں جاناں
تيري ياد اور بھي ستاتي ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:10 PM
کب ميں نے يہ کہا
تيرے بن ميں جي لوں گا
ہاں کہا تھا تو بس اتنا
يہ زہر بھي پي لوں گا
اور جاناں
تم تو جانتي ہو نا!
جو جينے کا زہر پيا کرتے ہيں
وہ بھلا کب جيا کرتے ہيں

:sad::sad::sad::sad:

ایم-ایم
11-12-2011, 09:10 PM
وہ جانتي تھي کہ وفا کا اَجْر نہيں ہوتا
محبتوں ميں صبر کا ثمر نہيں ہوتا
وہ جانتي تھي
محبت دکھوں کا صحرا ہے
جہاں سراب سي خوشياں ہيں
اور عذاب سے غم
جہاں ہے پياس جدائي کي بے ’ تحاشہ مگر
ملن کي بارشيں ہوتي ہيں جس ديار ميں کم
وہ جانتي تھي
محبت خراج مانگتي ہے
وہ جس کو دل کا لہو دے کہ جگمگايا ہو
اندھيري راہ کہ ليے وہ چراغ مانگتي ہے
وہ جانتي تھي
محبت وہ رہ ’ گزر ہے جہاں
بچھے ہيں کانچ جدائي کہ بے ’ شمار مگر
برہنہ پا ہي انہيں پار کرنا پڑتا ہے
غموں کي دھوپ ميں اب سائبان کوئي نا ہو
کسي ياد کي چادر کو تان کر خود پر
تمام آہيں دبا کر گزارنا پڑتا ہے
وہ جانتي تھي کہ وفا کا اَجْر نہيں ہوتا
محبت ميں صبر کا ثمر نہيں ہوتا
ہج ’ آر کي راہ ميں ہوتي ہے بے ’ تحاشہ گھٹن
وہاں کبھي بھي ہوا کا گزر نہيں ہوتا
وہ جانتي تھي پھر بھي روگ لے بيٹھي
کسي کہ پيار ميں نا جانے کيوں جوگ لے بيٹھي

ایم-ایم
11-12-2011, 09:11 PM
تم مجھ کو گڑيا کہتے ہو
ٹھيک ہي کہتے ہو
کھيلنے والے سب ہاتھوں کو
ميں گڑيا ہي لگتي ہوں
جو پہنا دو ، مجھ پہ سجے گا
ميرا کوئي رنگ نہيں
جس بچے کے ہاتھ تھاما دو
ميري کسي سے جنگ نہيں
سوچتي جاگتي آنکھيں ميري
جب چاہے بينائي لے لو
کوک بھرو اور باتيں سنو
يا ميري گويائي لے لو
مانگ بھرو ، سندور لگائو
پيار کرو ، آنکھوں ميں بساؤ
اور پھر جب دل بھر جائے
دل سے اٹھا کے تک پہ رکھ دو
تم مجھ کو گڑيا کہتے ہو
ٹھيک ہي کہتے ہو

ایم-ایم
11-12-2011, 09:11 PM
سوچ کے وسيع سمندر ميں

احساس کي کشتي ميں بيٹھ کر

مجھے اس پار جانا ہے

جہاں ميري جنت ہے

ليکن

طغياني سے ڈر لگتا ہے

اس طغياني سے جس ميں

ميري کشتي کہيں گم ہو جاتي ہے

اور شايد ميں بھي

ایم-ایم
11-12-2011, 09:12 PM
کبھي سفر تو کبھي شام لے گيا مجھ سے
تمہارا درد کئي کام لے گيا مجھ سے

مجھے خبر نا ہو اور زمانہ جاتے ہوا
نظر بچا کے تيرا نام لے گيا مجھ سے

اسے ذيادہ ضرورت تھي گھر بسانے کي
وہ آ کے ميرے در و بام لے گيا مجھ سے

بھلا کہاں کوئي جز اس کے ملنے والا تھا
بس ايک جُرات ناکام لے گيا مجھ سے

بس ايک لمحے کے سچ جھوٹ کے عوض فرحت
تمام عمر کا الزام لے گيا مجھ سے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:13 PM
پرسش کو مری کون مرے گھر نہيں آتا
تيور نہیں آتے ھيں کہ چکر نہيں آتا

تم لاکھ قسم کھاتے ھو ملنےکي عدو سے
ايمان سے کہہ دوں مجھے باور نہيں آتا

ڈرتا ھے کہيں آپ نہ پڑ جائے بلا ميں
کوچے ميں ترے فتنہء محشر نہيں آتا

جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی ديکھ لے ظالم
پھر ديکھوں کہ رونا تجھے کيو نکر نہيں آتا

کہتے ہيں يہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمہارے
سينے سے تڑپ کر کبھی باھر نہيں آتا

دشمن کو کبھی ہوتی ہے مرے دل پہ رقعت
پر دل يہ تيرا ہے کہ کبھی بھر نہيں آتا

کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہيں تيور
کب بيٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہيں آتا

غربت کدہ دہر ميں صدمے سے ہيں صدمے
اس پر بھی کبھی ياد ہميں گھر نہيں آتا

ہم جس کی ہوس ميں ہيں امير آپ سے باہر
وہ پردہ نشين گھر سے باہر نہيں آتا

ایم-ایم
11-12-2011, 09:14 PM
ہمیں پچھاڑ کے کیا حیثیت تمہاری تھی
وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری تھی

اور اب تمہیں بھی ہر اک شخص اچھا لگتا ہے
گئے دنوں میں یہی کیفیت ہماری تھی

ہمارے چہرے دمِ صبح دیکھتے آکر
کہ ہم نے رات نہیں زندگی گزاری تھی

بچھڑ گیا وہ جدائی کے موڑ سے پہلے
کہ اس کے بعد محبت میں صرف خواری تھی

ایم-ایم
11-12-2011, 09:15 PM
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہو جائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلے
سانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گِن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیں
اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں
جس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھے
کل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلو
ماتمی ہیں دِم رخصت در و دیوار، ملو
پھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلو
آخری بار مِلو

ایم-ایم
11-12-2011, 09:16 PM
یہ زندگی کا اصول ہے
جو بچھڑ گیا اُسے بھول جا
جو مِلا ہے دل سے لگا کے رکھہ
جو نہیں ملا اُسے بھول جا

نہ وہ دھوپ تھا نہ وہ چاندنی
نہ چراغ تھا نہ وہ روشنی
وہ خیال تھا کوئی خواب تھا
وہ تھا آئینہ اُسے بھول جا

وہ جو تیرے دل کے قریب تھا
وہ نہ جانے کس کا نصیب تھا
تجھے ہنس کے اُس نے بھلا دیا
تو بھی مسکرا کر اُسے بھول جا

ایم-ایم
11-12-2011, 09:22 PM
تھک ہار کے سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ ہم لوگ
کیا اور قناعت کریں حالات پہ ہم لوگ

حالات نے پتھرا دیئے دل ایسے ہمارے
ہوتے نہیں رنجیدہ کسی بات پہ ہم لوگ

ڈستے رہے یوں دن کے اجالے تو یہ ڈر ہے
ایمان نہ لے آئیں کہیں رات پہ ہم لوگ

امید یہ رکھتے ہیں کہ بر آئے گی امید
تکیہ کیے بیٹھے ہیں تری ذات پہ ہم لوگ

پڑ جاتے دو عالم کے خسارے میں یقیناً
کرتے نہیں بیعت جو ترے ہاتھ پہ ہم لوگ

نیرنگئ تقدیر کے قائل ہیں، مگر دوست
حیران بھی رہتے ہیں ترے ساتھ پہ ہم لوگ

کھلتا نہیں کیا قصد ہے، کیا پیشِ نظر ہے
نکلے ہوئے ہیں کیسی مہمات پہ ہم لوگ

لفظوں کے چناؤ پہ فصیح ایک توجہ!
قابو نہیں رکھ پائیں گے جذبات پہ ہم لوگ

ایم-ایم
11-12-2011, 09:24 PM
یہ زندگی ،اک تشنگی
کہیں میں نہیں ، کہیں تم نہیں
کہیں اپنا نام و نشاں نہیں
اسی زندگی کے سراب میں
ہمیں اپنا آپ ملا نہیں
چلے رات بھر، جلے دھوپ میں
مگر منزلوں کا پتہ نہیں
رہ حیات کی دھول نے
سب لے لیا، کچھ دیا نہیں
یہی سلسلہ ہے حیات کا
کہیں میں نہیں، کہیں تم نہیں
کہیں اپنا نام و نشاں نہیں
یہ زندگی ،اک تشنگی

ایم-ایم
11-12-2011, 09:25 PM
کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے

کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی
کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے

کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی
دیا جلانے کی کوشش میں*خود جل جانے والے

کسی تماشے میں رہتے تو کب کے گم ہوجاتے
اک گوشے میں رہ کر اپنا آپ بچانےو الے

اس رونق میں شامل سب چہرے ہیں خالی خالی
تنہا رہنے والے یا تنہا رہ جانے والے

اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں
آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے

عزم یہ شہر نہیں ہے نفسا نفسی کا صحرا ہے
یہاں نہ ڈھونڈو کسی مسافر کو ٹھیرانے والے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:29 PM
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

ڈوب جائوں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ جائے
ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت
اُسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:29 PM
کہا تھا ناں!!!
کہ یوں سوتے ہوئے مت چھوڑ کے جانا
مجھے بتا دینا
جگا دینا
تمہیں رستہ بدلنا ہے
میری حد سے نکلنا ہے
تمہیں کس بات کا ڈر تھا؟
کہ میں جانے نہیں دوں گا؟
کہیں پہ قید کر لوں گا؟
ارے پاگل !!!
محبت کی طبعیت میں زبردستی نہیں ہوتی
جِسے رستہ بدلنا ہو
اُسے رستہ بدلنے سے
جِسے حد سے گزرنا ہو
اُسے حد سے گزرنے سے
نہ کوئی روک پایا ہے
نہ کوئی روک پائے گا
مگر اِتنا بتا ڈالوں
تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں
میں اب سونے سے ڈرتا ہوں۔۔۔

ایم-ایم
11-12-2011, 09:34 PM
بنا گلاب تو کانٹے چُبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص

میں کس ہوا میں*اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سُو بچھا گیا اک شخص

پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص

محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص

محبتوں نے کسی کی بھلا رکھا تھا اسے
ملے وہ زخم کہ پھر یاد آگیا اک شخص

وہ ماہتاب تھا مرہم بدست آیا تھا
مگر کچھ اور سوا دل دکھا گیا اک شخص

کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ھے دنیا
اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اک شخص

ایم-ایم
11-12-2011, 09:35 PM
سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے

تمہارا ظرف ہے تمکو محبت بھول جاتی ہے
ہمیں تو جس نے ہنس کر پکارا یاد رہتا ہے

محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا
کسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے

بہت لہروں کو پکڑا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے
یہی بس اک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:36 PM
ایسے تو کسی شخص کو رسوا نہیں کرتے
اپنوں کے ستم پر کوئی شکوہ نہیں کرتے

منزل پر پہنچنے کی طلب ہوتی ہے جن کو
رستوں پہ کھڑے ہو کر وہ سوچا نہیں کرتے

رکھتے ہیں جو اوروں کے لئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:39 PM
جو خیال تھا نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں مانتا ہی نہیں* یہ دل،وہی لوگ میرے ہیں ہمسفر
مجھے ہر طرح* سے جو راس تھے ،وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں،کے سراب اور ستایئں گے
میری عمر بھر کی جو پیاس تھے ،وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

یہ خیال سارے ہیں عارضی،یہ گلاب سارے ہیں*کاغذی
گلٍ آرزو کی جو باس تھے،وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں کرسکا نہ قبول میں،وہ شریکٍ راہٍ سفر ہوئے
جو میری طلب، میری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

میری دھڑکنوں کے قریب تھے،میری چاہ تھے،میرا خواب تھے
وہ جو روز و شب میرے پاس تھے،وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:40 PM
کاش ہم سمجھ لیتے
منزلوں کی چاہت میں
راستہ بدلنے سے
فاصلہ نہیں گھٹتا
دو گھڑی کی قربت میں
چار پل کی چاہت میں
لوگ لوگ رہتے ہیں
قافلہ نہیں بنتا
ہاتھ میں دیا لے کر
ہونٹ پہ دعا لے کر
منزلوں کی جانب کو
چل بھی دیں تو کیا ہو گا؟
خواہشوں کے جنگل میں
اتنی بھیڑ ہو تی ہے
کہ
عمر کی مسافت میں
راستہ نہیں ملتا
ہمسفر نہیں ملتا
شاید
کچھ نہیں ملتا

ایم-ایم
11-12-2011, 09:41 PM
محبت جیت ہوتی ھے' مگر یہ ہار جاتی ھے

کبھی دلسوز لمحوں سے
کبھی بیکار رسموں سے
کبھی تقدیر والوں سے
کبھی مجبور قسموں سے

کبھی یہ پھول جیسی ھے
کبھی یہ دُھول جیسی ھے
کبھی یہ چاند جیسی ھے
کبھی یہ دُھوپ جیسی ھے

کبھی مسرور کرتی ھے
کبھی یہ روگ دیتی ھے
کسی کا چین بنتی ھے
کسی کو رول دیتی ھے

کبھی لے پار جاتی ھے
کبھی یہ مار جاتی ھے
محبت جیت ہوتی ھے'

مگر یہ ہار جاتی ھے۔

ایم-ایم
11-12-2011, 09:42 PM
میں سن کے اسکی سب باتیں
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
خفا ہونا منالینا صدیوں سے روایت ہے
محبت کی علامت ہے
گلے شکوے کرو مجھ سے تم
تمہیں جاناں اجازت ہے
مگر میری بھی اک بات ذرا سن رکھنا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
ہوائیں رخ بدلتی ہیں
خزائیں لوٹ آتی ہیں
خطا ہونا بھی ممکن ہے
خفا ہونا بھی ممکن ہے
مگر ہمیشہ یاد رکھنا تم
تعلق روٹھ جانے سے
کبھی ٹوٹا نہیں کرتے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:43 PM
بڑا دشوار ہوتا ہے

ذرا سا فیصلہ کرنا

کہ جیون کی کہانی کو

بیانِ بے زبانی کو

کہاں سے یاد رکھنا ہے

کہاں سے بھول جانا ہے

اِسے کتنا بتانا ہے

اِسے کتنا چھپانا ہے

کہاں رو رو کے ہنسنا ہے

کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے

کہاں آواز دینی ہے

کہاں خاموش رہنا ہے

کہاں رَستہ بدلنا ہے

کہاں سے لوَٹ آنا ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:46 PM
موت کی حقیقت اور زندگی کے سپنے کی
بحث گو پرانی ہے، پھر بھی اک کہانی ہے
اور کہانیاں بھی تو، وقت سے عبارت ہیں
لاکھ روکنا چاہیں ، وقت کو گذرنا ہے

ہنستے بستے شہروں کو ایک دن اجڑنا ہے
راحتیں ہوائیں ہیں، چاہتیں صدائیں ہیں
کیا کبھی ہوائیں بھی دسترس میں*رہتی ہیں
کبھی صدائیں بھی کچھ پلٹ کے کہتی ہیں
بازگشت کو مٹنا ہے، وقت کو گذرنا ہے

پیار بھی نہیں رہنا اور پیار کا دکھ بھی
آنسوؤں کے دریا کو ایک دن اترنا ہے
خواہشوں کو مرنا ہے ، وقت کو گذرنا ہے

ایم-ایم
11-12-2011, 09:47 PM
کسی کےغم میں وقار کھونا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
تمہارا یہ راتوں کو اٹھ اٹھ کے رونا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

جو جی میں*آیا تو خوب کھیلا نظر سے اترا تو توڑ ڈالا
کسی کا دل بھی ہے کیا کھلونا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

کہا جو میں نے ڈرو خدا سے لیکن خدائی کا ڈر نہیں ہے
تو ہنس کے بولے کہ چپ رہو نا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

سر بھنور ہی جو چھوڑ جاتے تو یہ بات تم پر نا آتی
کسی کو ساحل پہ لا ڈبو نا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

ایم-ایم
11-12-2011, 09:48 PM
بہت دنوں کے بعد اسے
اک محفل میں دیکھا تھا
اک لمحےکو ہجرووصال کے سارے موسم
آنکھوں میں لہراسےگئے
دل میں چراغ سے جل اٹھے
اس سےگلے ملنےکےتصور سے ہی
جیسےسارا وجود
پھولوں کی صورت کھل اٹھا
ان ہاتھوں کےلمس کو سوچ کے
ساراجسم سلگ اٹھا
ان ہونٹوں کی گرم گلابی نرمی کاخوش رنگ خیال
ہونٹوں پہ مسکا اٹھا !
حلقہ یاراں سےآخر
پل بھرکو فرصت پاکر
میری ؕرف وہ آیا بھی
میری جانب دیکھا بھی
پرجوکہا تو اتنا کہا
آپ سے مل کر خوشی ہوئی
میرےصحن دل میں اچانک ہونے والی
پت جھڑ سے یکسر لاعلم

این اے ناصر
03-31-2012, 01:11 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ