PDA

View Full Version : دردِ وطن



ایم-ایم
11-16-2011, 10:19 PM
ہم سیاست سے، محّبت کا چلن مانگتے ہیں
شبِ صحرا سے مگر صُبحِ چمن مانگتے ہیں

وہ جو اُبھرا بھی تو بادل میں لپٹ کر اُبھرا
اُسی بچھے ہوئے سورج سے کِرن مانگتے ہیں

کچھ نہیں مانگتے بجز اذنِ کلام
ہم تو انسان کا بےساختہ پن مانگتے ہیں

ایسے غنچے بھی تو گُل چیں کی قبا میں ہیں اسیر
بات کرنے کو جو اپنا ہی ذہن مانگتے ہیں

ہم کو مطلوب ہے تکریم قد و گیسو کی
آپ کہتے ہیں ہم دار و رسن مانگتے ہیں

لمحہ بھر کو تو لُبھا جاتے ہیں نعرے لیکن
ہم تو اہلِ وطن دردِ وطن مانگتے ہیں

این اے ناصر
04-17-2012, 08:07 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔