PDA

View Full Version : پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ



بےباک
11-17-2011, 07:02 AM
ایڈمرل مولن کو خفیہ مراسلہ، پیغام رساں منصور اعجاز نے ای میلز کا ریکارڈ جاری کردیا
نیو یارک (نیوز ڈیسک) ایڈمرل مائیک مولن اور صدر زرداری کے درمیان خفیہ مراسلے کی ایڈمرل مولن کی ج انب سے بھی تردید کے بعد اس مبینہ پیغام رسانی میں شریک امریکی شہری منصور اعجاز نے کہا کہ“ 10نومبر 2011ء ایک امریکی نیوزجرنل میں خارجہ معاملات پر ایک آرٹیکل شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے ایڈمرل مائیک مولن کے ترجمان کیپٹن جان کر بی کے کچھ بیانات کا حوالہ دیا گیا جن میں تردید کی گئی کہ 10مئی کو یعنی اسامہ کی ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں ہلاکت کے9روز بعد ایڈمرل نے مجھ سے کچھ معلومات اور پاکستان کی سول حکومت کی طرف سے امریکا کو کچھ پیشکشوں پر مبنی ایک میمورنڈم وصول کیا۔ ایڈمرل مولن کی طرف سے تردید اور اس کو کیوں جاری کیا گیا اس کا پس منظر سمجھنا اہم ہے، فنانشل ٹائمز میں میرا مضمون شائع ہونے کے بعد جس میں میں نے لکھا تھا کہ مجھے ایک سینئر پاکستانی سفارتکار کی طرف سے پرائیویٹ چینل کے طور پر مذکورہ مراسلہ ایڈمرل تک پہنچانے کیلئے کہا گیا نا کہ میں نے بذات خود مراسلہ حوالے کیا۔ مگر میں نے یقینی بنایا کہ یہ واشنگٹن میں درست چینل کے ذریعیان تک پہنچ جائے۔جیسا کہ میں نے اپنی پچھلی پریس ریلیز میں کہا تھا کہ میرے پاس حقائق موجود ہیں تمام حقائق ۔ اور آج بھی ہیں ناموں یا میمورنڈم کے انتہائی حساس متن پر کمپرو مائز کئے بغیر میں ریکارڈ درست رکھنے کے لئے اپنے پاس موجود سچ کے نمونے فراہم کررہا ہوں۔ میرا مقصد اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کافی شہادت دینا ہے کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہ رہے کہ ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے مجھے درخواست کی تھی نہ کہ میں نے اس معاملے میں ملوث ہونے کے لئے کہا ۔ نہ ہی میں نے اس وقت کچھ کرنے کی پیشکش کی جب تک موجودہ اور سابقہ امریکی حکام سے نہیں پوچھ لیا کہ آیا اس کی قبولیت ہے جس پر پاکستانی حکام نے مجھے بات کرنے کا اختیار دیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ میمورنڈم کی پاکستان میں اعلیٰ سیاسی سطح پر ڈرافٹنگ کی گئی اور منظوری دی گئی اور ایڈمرل نے یقینا اسے اُس ذریعے سے وصول کیا ، جس پر ان کو اعتماد تھا اور جس نے مجھ پر اعتمادکیا۔ ذیل میں دی گئی تفصیلات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ ان تاریخوں پر مبنی ہے جس میں مجھ سے مداخلت کی درخواست کی گئی اور ان تین دنوں میں ان اہم نکات پر پیغام رسانی کی کہ یہ مداخلت کس صورت میں ہوگی۔ دوسرا حصہ ان پیغامات پر مبنی ہے جن کا میرے اور پاکستانی عہدیدار کے درمیان تبادلہ ہوا تاکہ زرداری حکومت کے بارے میں مزید انکشافات نہ کئے جائیں۔ تیسرا حصہ ایڈمرل مائیک مولن کی 10نومبر کو شائع ہونے والے تردید سے متعلق ہے جس میں انہوں نے کسی مراسلے کے حوالے سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔میں نے اس ڈیٹا میں جس میں پاکستانی حکومت کے کچھ اداروں کی طرف سے باضابطہ زیر التوا تفتیش ، اس میں ملوث لوگوں کے نام، ٹیلی فون نمبرز اور ای میل ایڈریسز شامل ہیں روک لیا ہے۔مراسلہ: میں نے ذیل میں9مئی کی دوپہر سے 12مئی کی سہ پہر تک ہونے والے بی بی ایم پیغامات، ان کے اوقات، تاریخوں، دورانیہ اور مندرجات دیئے ہیں تاکہ اس سارے عمل کی ٹائم لائن کا ایک خاکہ بن سکے۔آغاز میں پہلا بی بی ایم پیغام جو نیچے دیا گیا ہے وہ بے طلب تھا اور پاکستانی عہدیدار کی طرف سے پیر کے روز9مئی 2011ء کو 12:31بجے بھجوایا گیا۔ پاکستانی عہدیدار کی طرف سے بھجوائے گئے اس پیغام کے بعد سلسلہ چل پڑا تاہم اس سے قبل کئی ماہ تک ہمارا کوئی اہم رابطہ نہ تھا جو بھی وقت دیا گیا ہے وہ سنٹرل یورپی ٹائم کے مطابق ہے (امریکی وقت کے مطابق 6گھنٹے پیچھے ہے) یہاں بی بی ایم پیغام سے مراد بلیک بیری میسجز ہیں۔ای ۔ایم کا مطلب ای ۔میل ہے۔# بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 12:31 (پاکستانی عہدیدار کا نام) کیا آپ لندن میں ہیں؟ میں یہاں صرف 36گھنٹوں کے لئے ہوں، کیا ہماری ملاقات ڈنر کافی کے بعد ہو سکتی ہے؟#بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 12:32 منصور اعجاز: میں مناکو میں ہوں لیکن میر ے لئے پرواز سے آنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ محض 90منٹ لگیں گے، تم کتنے بجے ملنا چاہتے ہو ؟ آپ کہاں ملاقات کرنا چاہتے ہو ؟#بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 12:35 (پاکستانی عہدیدار) برائے مہربانی مجھے کال کرلیں، میں (ہوٹل کا نام ، فون نمبر اور روم نمبر) میں قیام پذیر ہوں۔#بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 12:35 (پاکستانی عہدیدار ) آپ کی کال کا منتظر ہوں ۔#ٹیلی فون 5/9/2011 بوقت 12:35:49 پاکستانی عہدیدار کو اس کی درخواست پر کال کی گئی جس کے دوران مراسلہ کے خاکے کی تیاری کیلئے نوٹس لئے گئے، کال کا دورانیہ 16:03تھا۔# ٹیلی فون 5/9/2011 بوقت 12:58:06 امریکی رابطے/ذریعے کو کال، دورانیہ 2:25۔#ٹیلی فون 5/9/2011 بوقت 13:54:31 امریکی ذریعے /رابطے کو کال، دورانیہ 19:26۔9مئی کے دن کے باقی حصے میں مراسلہ تیار کیا گیا۔ اس کو ایڈٹ کیا گیا اور پھر پاکستانی منظوری کیلئے ارسال کیا گیا۔#ای۔ میل5/9/2011 بوقت 18:32 ۔ منصور اعجاز کی طرف سے پاکستانی عہدیدار کو ای۔ میل کی گئی تاکہ مراسلے کے مسودہ کا جائزہ لیا جا سکے ۔ ایڈٹ کیا جا سکے اور اس کی منظوری دی جاسکے۔#بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 18:38 ۔ منصور اعجاز ۔ میرا ارسال کردہ پیغام وہی ہے جو ایم ایم نے دیکھا ، یہ براہ راست ان کو ہی دیا جائے گا۔#بی بی ایم 5/9/2011 بوقت 18:59 منصور اعجاز ۔ واشنگٹن ڈی سی میں میرے دوست نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سال میں بہت سے امریکی جل گئے ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس حساس موضوع پر ڈیٹا اور تجاویز واضح ہوں گی۔ یہ بات میرے ، آپ کے اور ان کے درمیان رہے گی۔ ان کو مجھ پر بہت زیادہ اعتماد ہے اور جانتے ہیں کہ میں اعلیٰ سطح کی منظوری کے بغیر اس کو آگے نہیں چلاؤں گا (نام وغیرہ سے متعلق جملہ مرتب کیا گیا)۔ اس لئے جو کچھ آپ مجھے پیغام دینا چاہتے ہیں میں اس کو یقینی بناؤں گا کہ وہ ایم ایم کے ہاتھوں میں جائے، نیک خواہشات کے ساتھ ۔ منصور #بی بی ایم 5/10/2011 بوقت 00:29 (پاکستانی عہدیدار) پیغام موصول۔ درمیانی راستہ مناسب لگتا ہے ،صبح کو کال کروں گا۔#بی بی ایم 5/10/2011 بوقت 02:04 منصور اعجاز کی طرف سے امریکی ذریعے کو مراسلے کا حتمی مسودہ ای میل کیا گیا جو کہ پاکستانی عہدیدار کی طرف سے مراسلے کے مندرجات پر اتفاق اور مائیک مولن کو پہنچانے کیلئے آگے بڑھانے کے اتفاق کے ساتھ تھی۔#بی بی ایم 5/10/2011 بوقت 8:47 منصور اعجاز۔ آپ کو میرے دو میل باکسز سے میل ملی ہوگی برائے مہربانی اس کو پڑھیں، رد عمل دیں اور پھر مزید قدم اٹھانے سے قبل ہم ایک مختصر بات چیت کریں گے۔ شکریہ ، منصور۔#بی بی ایم 5/10/2011 بوقت 6:16 9:0 پاکستانی عہدیدار کو کال، دورانیہ 11:16 ، اس کال کے دوران عہدیدار نے اپنی رضا مندی ظاہر کی اور بتایا کہ انہوں نے اگلے قدم کے لئے باس سے منظوری حاصل کرلی ہے۔“#ای ۔میل 5/10/2011 بوقت 14:04 امریکی ذریعے سے 02:04 (مقامی وقت کے مطابق 18:04صبح)پر ملنے والی جوابی ای میل جس میں مراسلہ دیا گیا تھا۔#ٹیلی فون 5/10/2011 بوقت 14:57:33 امریکی ذریعے کو فون( مقامی وقت 8:51) کال کا دورانیہ 2:25۔ ان کو بتایا گیا کہ ہمیں زرداری سے اجازت مل گئی ہے۔ میں نے جو 02:04am پر جوابی میل بھجوائی ہے وہ حتمی ہے اور مائیک مولن کو دی جاسکتی ہے۔#بی بی ایم 5/10/2011 بوقت 14:57 منصور اعجاز، پیغام اس انتباہ کے ساتھ بھجوایا گیا کہ ان کو فیصلہ کرنا ہے کہ کتنا دباؤ ڈالنا ہے۔ ہم نے میدان تیار کردیا ہے ان کو فیصلہ کر لینا چاہئے کہ وہ ایک ہی دفعہ کام کرانا چاہتے ہیں یا کئی مراحل میں۔ کھیل شروع ہو چکا ہے ان کو یہ یقینی بنا لینا چاہئے کہ انہوں نے اپنے پہلو محفوظ بنا لئے ہیں۔#ای ۔میل5/11/2011 بوقت 20:06 ۔ امریکی ذریعے کی طرف سے اعجاز کو ارسال کی گئی جس میں کہا گیا کہ ”منصور ۔ پیغام پہنچا دیا گیا۔ نیک خواہشات۔“11مئی کی سہ پہر کو ملاقات ہوئی جس میں سینئر پاکستانی عہدیدار اور سینئر امریکی عہدیدار موجود تھے۔ پاکستانی عہدیدار کے مطابق اس بیک چینل مراسلے کا مقصد امریکا کو مراسلے کی صورت میں ان اہم ترین کاموں کے حوالے سے ترغیب دینا تھا جو پاکستان کے خفیہ اور فوجی عہدیداروں اور کچھ سول عہدیداروں کو بے ضرر محسوس ہوں اگر آئندہ آنے والے دنوں میں مائیک مولن سول حکومت کے خلاف کسی فوجی مداخلت کیخلاف کوئی بیان دیدیں۔ملاقات کے بعد پاکستانی حکام نے مجھ سے رابطہ کیا اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ ایڈمرل مائیک مولن اپنے سے مطلوب باتوں پر کچھ اقدامات کے لئے رضامند ہوگئے ہیں اور یہ کہ تمام کام معمول کی انٹر ایجنسی ڈیلنگ کے تحت ہوگا۔ جیسا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی حیثیت سے ان کا کردار ہے۔ ہم اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے کہ سویلین حکومت کو عدم امکان کے باوجود بغاوت کا خوف ہوتا ہے… تاکہ توجہ ہٹائی جاسکے… بہرحال اس بات کو کسی اور دن کے لئے اٹھا کر رکھا جائے۔ ہم ڈیٹا اور حقائق تک محدود رہتے ہیں۔بلیک بیری میسج (بی بی ایم) 05-12-2011۔ 00:36 (پاکستانی افسر) میرے سیل فون پر کال کرو۔بی بی ایم 05-12-2011۔00:37(پاکستانی افسر) ایم ایڈمرل کے حوالے سے تمہارے میسجز، ٹھیک ہے۔بی بی ایم 05-12-2011۔ 00:37 منصور اعجاز: ہاں بی بی ایم 05-12-2011۔00:54 منصور اعجاز: وضاحت، پیغام کے آخر میں ایم کا مطلب منصور ہے، جبکہ ایم ایم سے مراد مائیک مولن ہے، الجھن پر معذرت چاہتا ہوں۔ای میل (ای ایم) 05-12-2011۔01:44 منصور اعجاز کو امریکی رابطے کی جانب سے ای میل کے ذریعہ ڈلیوری ٹائم کی تصدیق کی گئی جب ایڈمرل مولن نے میمورنڈم وصول کیا اور ایڈمرل مولن نے پھر امریکی رابطہ کار سے رابطہ کیا (ای میل کا باقی مواد عام اشاعت کے لئے نہیں ہے)بی بی ایم 05-12-2011۔02:47 (پاکستانی افسر) شکریہ، چل پڑا ہوں اور واپسی پر بیس سے رابطہ کروں گا۔بی بی ایم 05-12-2011۔ 02:54 منصور اعجاز: گڈلک، اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہو۔10-28-2011۔21:37 پاکستانی افسر: بنیادی طور پر تم نے وہ حاصل نہیں کیا۔10-28-2011۔ 21:37 پاکستانی افسر: تم نے پاک فوج میں ہارڈ لائنز کی اس دلیل کو تقویت دی ہے کہ پاک فوج کے خلاف امریکا کو سازش کرنے کا موقع دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔10-28-2011۔ 21:38 منصور اعجاز: اوکے، میں جانتا ہوں میرا آئی کیو کم ہے لہٰذا ممکن ہے تمہارا کہنا درست ہو، میں سمجھا نہیں۔10-28-2011۔21:39 پاکستانی افسر، پاکستانی پریس کا برا ہو۔10-28-2011۔21:39 پاکستانی افسر، میں اخلاقی تقاضوں کی بناء پر تمہارے ساتھ ہوں۔10-28-2011۔21:40منصور اعجاز: لیکن میرے نکتہ نظر سے اگر کوئی حقیقی خطرہ تھا، جیسا کہ تم نے ذکر کیا تھا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ تم ان عقابوں سے جمہوری ڈھانچے کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔10-28-2011۔21:41 پاکستانی افسر: تم نے پاک امریکا محرکات کو کس طرح تبدیل کیا، اس پر کتاب لکھنی چاہئے۔10-28-2011۔ 21:42 منصور اعجاز: میں عقبی دروازے سے پیغام ملنے پر خوش ہوں کیونکہ یہ جمہوری سویلین سیٹ اپ کو برقرار رکھنے میں امریکی مفادات میں معاون و مددگار ہے۔ اگر کی جانے والی پیشکش قبول کرلی گئی تو یہ خطے میں امریکی مقاصد کے موافق ہوگی۔10-28-2011۔ 21:42پاکستانی افسر: ٹھیک ہے دوست لیکن قبل از وقت انکشافات بھی سود مند نہیں ہوتے۔10-28-2011۔21:43 منصور اعجاز: جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ہم نے ٹھیک کیا ہے۔ جب تک کہ میں کچھ اور یہاں نہیں دیکھتا۔ لیکن تب میں بے زبان یا گونگا سا محسوس کرنے لگا ہوں، جہاں ہل بلیز رہتے ہیں۔10-28-2011۔21:43 پاکستانی افسر: ہل بلیز پر مت چڑھ دوڑو۔10-28-2011۔21:44 پاکستانی افسر: حتیٰ کہ چالاک ترین آدمی بھی معمہ کا کوئی حصہ حل نہیں کرسکتا۔10-28-2011۔21:46 پاکستانی افسر: اس ایک کو جانے دو، ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے۔10-28-2011۔21:47 پاکستانی افسر: اگر ہم نہیں کرسکے تو ہم باتوں کو وقوع پذیر ہونے دیں گے، اس بارے میں ہم ایک کتاب بھی لکھیں گے۔10-28-2011۔21:48 پاکستانی افسر: تمہارے مضمون پر بحث نے میرا پیچھا کرنے والوں کو میرے باس پر دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کیا۔10-28-2011۔21:54 پاکستانی افسر: اسٹیٹ میں کچھ لوگ ہیں جو تمہارے مشن سے خوش نہیں۔10-28-2011۔21:54 منصور اعجاز: کون سا مشن؟ سوڈان، کشمیر۔ ایسے تو بہت سے ہیں، جن پر وہ ناراض ہیں۔10-28-2011۔21:54 پاکستانی افسر:حالیہ ترین۔10-28-2011۔21:55منصور اعجاز: ہاں، میں سمجھ گیا، تم ٹھیک کہتے ہو۔دریں اثناء دفترخارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی کسی ای میل اور ٹرانسپکرپشن سے لاعلم ہیں۔
http://www.youtube.com/watch?v=DlJ1xLPrqrg
http://www.youtube.com/watch?v=5Bv-hLfF8Mw&feature=related
http://www.youtube.com/watch?v=1f9GeEibAp8&feature=related

مائیک مولن، اعجاز منصور کو جانتے ہیں نہ کوئی خط وصول کیا،سابق ترجمان
اٹلانٹا (نیوز ڈیسک) معروف ویب سائٹ فارن پالیسی پر امریکا کے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایڈمرل (ر) مائیک مولن کے سابق ترجمان کیپٹن جان کربی نے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مائیک مولن کسی شخص منصور اعجاز کو جانتے ہیں یا انہوں نے رواں سال مئی میں کوئی یادداشت وصول کی۔ سابق ترجمان کی جانب سے الجھی ہوئی تردید نے مذکورہ یادداشت کے بارے میں تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مذکورہ تردیدی بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مولن، منصور اعجاز کو نہیں جانتے، تاہم یادداشت کی وصولی کا دروازہ اس طرح کھلا رہ جاتا ہے کہ ایڈمرل مولن نے یادداشت منصور اعجاز سے براہ راست نہیں بلکہ کسی تیسری شخصیت کے ذریعہ وصول کی، جبکہ فنانشل ٹائمز میں شائع اپنے آرٹیکل میں منصور اعجاز نے یہ کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ انہوں نے ایڈمرل مولن سے براہ راست ملاقات کی یا یادداشت دی تھی۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اپنے گزشتہ دورہ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ یادداشت پر یہ کہتے ہوئے تبصرے سے انکار کردیا تھا کہ یہ دو صدور کے درمیان براہ راست معاملہ ہے اور وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرسکتیں۔ ویب سائٹ پر ”دی کیبل“ کے ٹائٹل سے بلاگ میں کیپٹن کربی نے کہا کہ وہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذکورہ مراسلت نہ ہوئی ہو کیونکہ ایڈمرل مولن کو ان کے منصب کے حوالے سے کئی لوگوں کی جانب سے سرکاری اور غیر سرکاری ملے جلے مراسلے موصول ہوئے ہیں لیکن انہیں یاد نہیں پڑتا کہ منصور اعجاز کی جانب سے کوئی مراسلہ ملا ہو جبکہ ایڈمرل مولن کسی طور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ایسے کسی مراسلے پر کوئی کارروائی نہیں کرتے ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ترجیحی بنیادوں پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹر ایجنسی عمل پر مبنی تھے۔ ایڈمرل مولن کے سابق ترجمان کا یہ کہنا کہ انہیں قطعی طور پر یاد نہیں کہ ایسی مراسلت نہ ہوئی ہو“ اس سے شکوک پیدا ہوتے ہیں اور فنانشل ٹائمز کی جانب سے شہادت فراہم کرنے کے امکان کی صورت ایڈمرل مولن کہہ سکتے ہیں کہ انہیں یادداشت منصور اعجاز نے نہیں بلکہ کسی اور کے ذریعہ پہنچائی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد (آئی این پی) صدر مملکت اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آصف علی زرداری نے امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کے ذریعہ بھجوائے جانے والے خفیہ خط کے معاملہ کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ بعض سازشی عناصر سیاسی اور عسکری قیادت میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ منگل کو پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایوان صدر میں صدرزرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطہ میں سلامتی کی صورتحال اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ معاملات کے علاوہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے امریکی مطالبات اور افغانستان سمیت کئی دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس ملاقات کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی مخدوم شاہ محمود کی طرف سے پیپلز پارٹی چھوڑنے کے اعلان کے بعد ہنگامی طور پر گزشتہ رات صدر سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق بری فوج کے سربراہ نے منصور اعجاز کے ذریعہ امریکی فوج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو ایک اعلیٰ سفارت کار کے ذریعہ جانے والے خط پر عسکری حلقوں میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ اس خط میں مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد صدر زرداری نے فوج کی طرف سے اپنی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے خدشات کی بنیاد پر امریکی حکومت سے فوری مدد طلب کی تھی اور مبینہ طور پر منصور اعجاز کے ذریعے بھیجے جانے والے میمورنڈم میں اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی تبدیلی اور آئی ایس آئی کے ایک حساس سیل کو ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق صدر نے آرمی چیف کو بتایا کہ حکومت اس کی مکمل تحقیقات کرارہی ہے اور سازشی عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی آپریشن کا فیصلہ اپنے مفاد میں کرے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کا دباو قبول نہیں کیا جائے گا۔آرمی چیف سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد پاکستان میں متعین امریکی سفیر کیمرون منٹرنے بھی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ،اس ملاقات کی سرکاری سطح پر توتفصیلات ظاہرنہیں کی گئی تاہم ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات موضوع بحث رہنے کیساتھ فنانشنل ٹائمزمیں شائع ہونیوالے مضمون میں کئے گئے دعووں کا تذکرہ بھی ہوا ۔ واضح رہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکا میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی کو بھی طلب کیا گیا ہے جو جلد اسلام آباد پہنچنے والے ہیں ،پاکستانی سفیر پاک امریکہ تعلقات کی تازہ ترین صورتحال دیگر اہم امور پر صدر کو بریفنگ دینگے ۔
http://ummat.com.pk/2011/11/17/images/story1.gif

بےباک
11-17-2011, 07:36 AM
منصور اعجاز پاکستان کی 4 حکومتوں سے کھیل کھیلتا رہا
اسلام آباد (حامد میر) ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں افواہیں زوروں پر ہے کہ پی پی کی اتحادی حکومت مارچ 2012ء تک نہیں بچے گی لیکن صدر زرداری حیران کن طور پر مطمئن ہیں، ان کو اپنی حکومت کیخلاف کوئی ماورائے آئین خطرہ نظر نہیں آتا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ آرمی کے پاس ٹیک اور کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے دوستوں کو بتایا کہ سیاسی حکومت اور آرمی قیادت کے درمیان خارجہ وسکیورٹی پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ حکومت مخالف بہت سی افواہیں حال ہی میں فنانشل ٹائمز میں منصور اعجاز کے آرٹیکل کے اشاعت کے بعد شروع ہوئیں جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ2 مئی کو ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت کے بعد صدر زرداری نے ایڈمرل مائیک مولن کے ذریعے ایک خفیہ مراسلہ وائٹ ہاؤس بھجوایا تھا۔ صدر زرداری نے مبینہ طور پر امریکی حکام کو بتایا کہ ان کی حکومت کو آرمی کی طرف سے خطرہ ہے اور امریکا جنرل کیانی کو ٹیک اوور سے روکے۔ فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کے مطابق صدر زرداری نے آرمی اور آئی ایس آئی کی قیادت میں بڑی تبدیلی کا بھی وعدہ کیا تھا۔ جب یہ آرٹیکل شائع ہوا تو کئی اپوزیشن سیاستدانوں نے اس خفیہ مراسلے کے بارے میں سوالات اٹھائے لیکن ایوان صدر طویل عرصے تک خاموش رہا۔ بہت سے دوستو ں اور ساتھیوں نے صدر کو تردید جاری کرنے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے کہا کہ ”ان کو کچھ روز گند پھیلانے دو، ہمیں اپنے دوست اور دشمنوں کا معلوم ہونا چاہئے“۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے غیر رسمی طور پر منصور اعجاز کے دعویٰ کی تردید کی، لیکن وہ ریکارڈ پر کچھ بھی کہنے کو تیار نہیں۔ ایک خفیہ ادارے نے حکومت کو بتایا کہ یہ ”مراسلہ تنازع“ پاکستان کی سیاسی وفوجی قیادت کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی عالمی سازش ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اسلام آباد آئیں اور انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی۔ ہمارے ایک ساتھی مظہر عباس نے ان سے اس خفیہ مراسلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی تردید یا تصدیق نہ کی۔ ان کا محتاط ردعمل حکومت میں شامل کئی لوگوں کیلئے دھماکا خیز تھا۔ قیاس آرائیوں پر مبنی آرٹیکلز پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے شروع ہوگئے۔ افواہ سازوں نے بہت سے تجربہ کار سیاستدانوں کو بھی کنفیوژ کردیا۔ ایک اتحادی پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ وفاقی وزیر نے اپنی ہی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ میں بیان دینے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر دفتر خارجہ کو باضابطہ تردید جاری کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اگلے روز اس معاملے پر ایوان صدر کے ترجمان نے بھی چپ کا روزہ توڑا اور کہا کہ ”منصور اعجاز کے الزامات ایک ایسے شخص کی مایوس کن کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں جس نے من گھڑت کہانیوں کے ذریعے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی“۔ فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ ”صدر پاکستان امریکی حکام کو مراسلہ پہنچانے کیلئے ایک مشکوک پس منظر رکھنے والے شخص کا انتخاب کیوں کریں گے؟ منصور صدر پاکستان کا پیغام رساں کب سے بن گئے؟“ انہوں نے یاددہانی کرائی کہ 16 سال قبل شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورہ امریکا کے دوران منصور اعجاز ان سے ملنے کے خواہش مند تھے۔ فرحت اللہ بابر اس وقت وزیراعظم کے پریس سیکرٹری تھے۔ انہوں نے ہی بے نظیر سے منصور اعجاز کا ذکر کیا تھا اور انہیں بی بی نے کہا تھا ”منصور پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا“۔ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنے پریس سیکرٹری کو نصیحت کی تھی کہ ”منصور اعجاز سے دور رہا جائے“ لیکن انہوں نے 29 اکتوبر کو جاری ہونے والی اپنی تردید میں ان الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔ دفتر خارجہ اور ایوان صدر کے جوابات کے ردعمل میں منصور اعجاز نے بھی اپنا بیان جاری کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ”میرے پاس تمام حقائق ہیں، جو کچھ میں نے کہا اور لکھا اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس معاملے پر مجھے چیلنج کرنا سنگین غلطی ہوگی“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”شہادت واضح ہے“۔ اسلام آباد کے باخبر عہدیداروں اور واشنگٹن اور لندن میں اعلیٰ پاکستانی سفارتکاروں کے ساتھ ہونے والی پس پردہ بات چیت سے کچھ نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ منصور اعجاز نے پی پی حکومت کیلئے مسائل پیدا کئے، انہوں نے اس قسم کا مسئلہ بے نظیر بھٹو کیلئے 1995ء میں بھی پیدا کیا تھا۔ انہوں نے 1995ء میں ظفر ہلالی جو اس وقت وزیراعظم کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے تھے کے ذریعے وزیراعظم سے ملنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ظفر ہلالی کو بتایا کہ یوسف ہارون کچھ آرمی عہدیداروں کے ساتھ مل کر حکومت کیخلاف سازش کر رہے ہیں۔ ہلالی نے انہیں یہ کچھ تحریر کرکے دینے کو کہا۔ منصور اعجاز نے 29 جون 1995ء کو بے نظیر بھٹو کو خط لکھا اور دعویٰ کیا کہ اس وقت کے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس علی قلی خان یوسف ہارون کی مدد سے حکومت گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی کانگریس اور سینٹ میں لابنگ کیلئے اپنی خدمات سرانجام دینے کیلئے پیشکش کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے، اس طرح امریکا اس کے سارے قرضے معاف کردے گا۔ بے نظیر بھٹو نے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ سے بات کی اور منصور اعجاز کی طرف سے علی قلی خان کیخلاف لگائے گئے الزامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ کاکڑ نے انکوائری کروائی اور کوئی بات ثابت نہ ہو سکی۔ کچھ ہفتوں کے بعد علی قلی خان نے کاکڑ کو کچھ شدت پسندوں کی طرف سے بغاوت کے منصوبے کے بارے میں بتایا اور ایک میجر جنرل سمیت متعدد افسروں کو گرفتار کرلیا۔ چند ہفتوں کے اندر ہی بے نظیر بھٹو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے نیویارک کا دورہ کیا۔ راقم بھی بطور صحافی اس وفد کا حصہ تھا۔ منصور اعجاز نے وزیراعظم اور آصف علی زرداری سے ملنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نہ صرف ان سے ملنے سے انکار کیا بلکہ اپنے ساتھ آنے والے صحافیوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اس شخص سے کبھی بھی ملاقات نہ کریں۔ منصور اعجاز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر الگور کو یہ بیان دینے پر رضامند کیا کہ جمہوری حکومت کیخلاف فوجی بغاوت قبول نہیں کی جائے گی۔ الگور نے یہ بیان ایک پاکستانی نژاد امریکی رشید چوہدری کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ کے دوران کیا۔ منصور اعجاز نے بے نظیر بھٹو کی نمائندگی کرنے والے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی۔ واجد شمس الحسن منصور اعجاز سے قطعی متاثر نہ ہوئے اور بے نظیر بھٹو کو ان پر اعتماد نہ کرنے کو کہا۔ منصور اعجاز نے پاکستان کیلئے لابسٹ بننے کی کوشش کی لیکن اس وقت امریکا میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے ان کی تجاویز کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ان کی ساکھ کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے اور پھر منصور اعجاز نے بے نظیر بھٹو کیخلاف وال سٹریٹ جرنل میں آرٹیکل لکھنے شروع کردیئے۔ بینظیر بھٹو نے ان دنوں میں نجی طور پر متعدد بار یہ کہا کہ یہ شخص ڈبل ایجنٹ ہے جو اسرائیل اور آئی ایس آئی کے کچھ لوگوں کیلئے کام کرتا ہے۔ اکتوبر 1996ء میں و اشنگٹن میں پاکستانی ایمبسی نے الزام عائد کیا کہ منصور اعجاز پی پی حکومت کیخلاف اس لئے لکھ رہا ہے کہ انہیں براؤن ترمیم کے حق میں امریکی ایوان نمائندگان میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے 15 ملین ڈالرز دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ پاکستانی سفارتخانے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ منصور اعجاز پاکستانی حکومت پر اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کیلئے بھی دباؤ ڈالتا رہا ہے اور اس نے خود بھی کئی مرتبہ اسرائیل کا دورہ کیا ہے جس میں ایک مرتبہ یروشلم کے میئر کی دعوت پر کیا تھا۔ سفارتخانے نے بتایا کہ انہیں ایک بڑی یہودی تنظیم نے بیلجیئم اور مشرقی یورپ کی یہودی کمیونٹی کیلئے کلینکس اور سکول قائم کرنے پر ”سال کی انسان دوست شخصیت“ قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر احمد کمال منصور اعجاز کے قریب تھے لیکن اس وقت کے سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے ان کیخلاف پریس کانفرنس کی اور ان کے آرٹیکلز کو ”کینہ پروری پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا تھا“۔ نومبر 1996ء میں پی پی کی حکومت کو صدر لغاری نے برطرف کردیا۔ منصور اعجاز 1997ء میں آنے والی نواز شریف حکومت کے کچھ وزراء کے بہت زیادہ قریب ہو گیا۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ا نہوں نے صدر بل کلنٹن کی ایما پر امریکا اور سوڈان اور 2000ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مڈل مین کا بھی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے سری نگر میں بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور بعد ازاں آئی ایس آئی حکام سے بھی ملاقات کی۔ آئی ایس آئی حکام نے اسے گھاس نہ ڈالی لیکن ایک روز وہ غیر رسمی طور پر جنرل مشرف سے ان کی والدہ کے ذریعے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ آرمی ہاؤس میں والدہ سے ملاقات کرنے کیلئے گئے اور آرمی ڈکٹیٹر سے بھی بات چیت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرف اس وقت سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار تھے لیکن انہوں نے ن لیگ سے قریبی تعلق کی بنا پر منصور اعجاز پر کبھی اعتماد نہ کیا۔ مشرف سے ملنے کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنما کے ذریعے اسلام آباد میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین سے ملاقات کی اور ان کو امریکی صدر بل کلنٹن کی طرف سے مبینہ خط دینے کی کوشش کی، لیکن کشمیری عسکریت پسند رہنما نے یہ خط قبول نہ کیا۔ منصور اسلام آباد اور دہلی کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ صدر کلنٹن کے غیر سرکاری مذاکرات کار ہیں۔ جب بھارتی حکومت نے واشنگٹن سے منصور اعجاز کے کوائف چیک کئے تو کلنٹن انتظامیہ کے کچھ سینئر عہدیداروں نے وضاحت کی کہ منصور اعجاز کو کشمیر کے معاملے پر بات چیت کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا گیا۔ نائن الیون کے بعد منصور اعجاز نے سی آئی اے اور طالبان کے درمیان کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے آئی ایس آئی کے ایک سابق عہدیدار کے ذریعے طالبان کو پیغامات پہنچائے اور طالبان اور امریکا کے درمیان ثالثی کیلئے خدمات پیش کیں، لیکن ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں کیونکہ طالبان نے اسامہ کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ آئی ایس آئی کی کمانڈ کی تبدیلی کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی احسان الحق نے ان کی تمام حکومتی حلقوں تک رسائی کو ختم کردیا۔ انہوں نے ایک اخباری مالک کا حصہ دار بننے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، کئی برس خاموش رہے پھر 28 دسمبر 2007ء کو بے نظیر کے قتل کے بعد کرسچئن سائنس مانیٹر میں ایک آرٹیکل لکھا۔ انہوں نے لکھا ”میں بے نظیر کو اچھی طرح جانتا ہوں، مجھ پر اکثر ان کے ساتھیوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ میں نے وال سٹریٹ جرنل میں دو ادارتی مضامین میں ان کی کرپشن اور منافقت کو فاش کرکے 1996ء میں ان کی حکومت گرانے میں مدد کی“۔ ان کے اپنے الفاظ سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ صدر زرداری کس طرح ان پر اعتماد کر سکتے ہیں اوروہ ایسے شخص کے ذریعے خفیہ مراسلہ کیوں بھیجیں گے، جس نے ان کے اور ان کی اہلیہ کیخلاف متعدد بار مضامین لکھے؟ یہ بات واضح ہے کہ صدر زرداری نے حالیہ دنوں میں ان سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی فون پر کوئی گفتگو کی۔ منصور اعجاز نے دعویٰ کیا کہ ایک اعلیٰ سفارتکار نے اس مبینہ مراسلے کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے لکھا اس کی اعلیٰ سفارتکار نے منظوری دی تھی۔ عمران خان نے لاہور ریلی میں یہ دعویٰ کیا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے منصور اعجاز کو مراسلہ دیا تھا۔ حسین حقانی اس کی تردید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب خود براہ راست مائیک مولن سے بات کر سکتے ہیں تو پھر خفیہ مراسلہ ارسال کرنے کیلئے ان جیسے بندے کو کیوں استعمال کریں گے۔ کچھ حکومتی ذرائع نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے 2 مئی کے بعد منصور اعجاز نے حسین حقانی سے فون پر گفتگو کی ہو اور اس گفتگو کو ریکارڈ کرلیا ہو، لیکن وہ اس ریکارڈنگ کو بطور شہادت پیش نہیں کرسکتے کیونکہ یہ امریکی قانون کے تحت جرم ہے۔ ان ذرائع نے اس سازش میں ن لیگ کا ہاتھ قرار دیا ہے کیونکہ ن لیگ کے کچھ لوگوں کے منصور اعجاز کے ساتھ 90ء کی دہائی سے قریبی تعلقات ہیں۔ منصور اعجاز کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی حکومت مراسلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرکے بڑی مصیبت کو دعوت دے رہی ہے۔ ان ذرائع کے بقول منصور اعجاز ایک امریکی شہری ہیں اور وہ پاکستانی سیاست میں ملوث نہیں ہوں گے لیکن وہ ضرورت پڑنے پر پاکستانی عدالت میں شواہد پیش کرنے کو تیار ہیں۔ منصور اعجاز گزشتہ 16برسوں میں چوتھی پاکستانی حکومت سے کھیل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی نے کسی کے ساتھ منصور اعجاز کے ذریعے کھیلنے کی کوشش کی لیکن اس چالاک شخص نے ایک وقتی پاور پلیئر کیلئے بڑا مسئلہ پیدا کردیا ہے۔ اس سارے تنازع میں ہو سکتا ہے صدر زرداری کا کوئی نقصان نہ ہو لیکن منصور اعجاز کسی بھی سفارتکار جس نے ان سے فون پر گفتگو کی یا ای میل کی کی ساکھ کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک پی پی دروں بیں کا دعویٰ ہے کہ منصور اعجاز پی پی سے خصوصی کدورت رکھتے ہیں۔ وہ ایسے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جس کو ذوالفقار بھٹو کی حکومت نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ منصور اعجاز نے ہمیشہ سازشوں کے ذریعے پی پی کو سزا دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر زداری کو کیانی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ صدر نے 3 مئی 2011ء کو واشنگٹن پوسٹ میں مضمون لکھا اور یہ کہتے ہوئے اپنی خفیہ ایجنسی کا دفاع کیا کہ ”امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک عشرے کے تعاون کا نتیجہ اسامہ کی ہلاکت کی صورت میں نکلا ہے اور ہمیں اطمینان ہے کہ القاعدہ کے پیغام رساں کی شناخت میں ہمارے فوری تعاون سے یہ دن دیکھنا نصیب ہوا“۔ 5 ماہ بعد یکم اکتو بر کو صدر زرداری نے یکم اکتوبر کو واشنگٹن پوسٹ میں پھر لکھا اور کہا کہ ”کیا ہمیں ہی اپنے خطے میں ان لوگوں سے لڑنا ہے جن سے دوسرے تمام گلے ملنا چاہتے ہیں؟ اور ہم کب تک ان لوگوں سے لڑ کر اپنی صلاحیتیں ضائع کرتے رہیں گے جن کو نیٹو کا عالمی اتحاد ختم کرنے میں ناکام رہا؟ پی پی کے ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ منصور اعجاز نے فوج اور صدر کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی اور پاکستان اور امریکا کے درمیان بھی غلط فہمی کو جنم دینے کی کوشش کی لیکن وہ بُری طرح ناکام ہوگئے۔ پی پی رہنما یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے اوباما کے نام صدر زرداری کے مبینہ خفیہ مراسلے کی تردید کرنے میں تاخیر سے کام لیا۔ یہ تاخیر کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ بڑی غلطی تھی جس نے بہت سے پاکستانیوں کو یہ ماننے پر مجبور کردیا کہ خفیہ مراسلہ حقیقت ہے۔

بےباک
11-17-2011, 07:40 AM
قادیانی عبادت گاہوں پر حملے اور استعمار ی انٹیلی جنس ایجنسیاں
28 مئی سے ایک دن پہلے ہمارے ایٹمی سائنس دان ہائی کورٹ سے آزادی مانگ رہے تھے اب وہ نواز شریف کی تعریف کے بھی مستحق نہیں تھے اسی لئے 28 مئی کے حوالے سے تقریب میں ان کا نام نواز شریف کی زبان پر نہ آیا تھا۔ 28 مئی کے دن لاہور میں قادیانی عبادت گاہوں میں موت کا نزول ہوا ہے آج کے منظر میں تو احمدی مسئلہ موجود ہی نہیں ہے البتہ 53 میں یہ مسئلہ لاہور میں موجودتھا یا بھٹو کے زمانے میں موجود تھا جسے پارلیمنٹ نے حل کر دیا تھا۔ اب جبکہ احمدی مسئلہ موجود ہی نہیں تھا تو 28 مئی جو کہ پاکستانی ایٹمی دھماکوں کا تاریخی دن ہے کو ہی قادیانیوں کی عبادت گاہوں میں قتل عام محض حادثہ' المیہ یا مذہبی جنونی افراد کا انفرادی فعل ہر گز نہیں ہے بلکہ 28 مئی کے تاریخی دن پاکستان کو انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے امریکی نشریاتی اداروں میں مجرم کے طورپر بھرپور طورپر پیش کیا گیا ہے جبکہ احمدیوں سے ظلم کی آڑ میں پاکستان کودل کھول کر بدنام کیا گیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ مائو نوازوں کی بھارتی بغاوت کا توڑ ہے؟ یارا۔ موساد اور سی آئی اے کی حکمت عملی کا ظہور ہے؟ جو پاکستان مخالف ہے۔ ہم نہایت احتیاط سے متوجہ کرتے ہیں کہ چند روز قبل ایک امریکی سینیٹر نے واضح طورپر پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دیوبندی دینی مدارس کو بند کر دے کیونکہ یہ نفرتیں اور بھارت دشمنی پھیلا تے ہیں۔ ہیلری کلنٹن دو ٹوک انداز میں جنوبی پنجاب میں طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں صوفی ازم کے احیاء کی سرپرستی اور جنوبی پنجاب میں مشہور مزاروں اور گدی نشینوں سے رابطے امریکی حکمت کے طورپر سامنے آچکے ہیں۔ امریکہ میں اچانک صوفی ازم کو پھیلانے کے لئے نیو یارک میں مسجد و اسلامی سینیٹر کی تعمیر کی اجازت صدر اوبامہ دے چکے ہیں۔ صدر اوبامہ کا جہاد کو اسلام کا حصہ بتانا اور القاعدہ سے کھلی جنگ بظاہر قابل قدر اعلان ہے اور ہمیں صدر اوبامہ کے اس نئے فہم کو قبول کر لینا چاہیے مگر افغانستان میں موساد ' را ' سی آئی اے کا جو کھیل ہے اس کا بھی ہمیں احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ ایران میں عبدالمالک ریگی گرفتار ہے اس کا بھی ہمیں احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ اور اس کے بھائی کو پھانسی ہو چکی ہے۔ عبدالمالک تسلیم کر چکے ہیں انہیں گریٹر بلوچستان کے لئے سی آئی اے کی سرپرستی حاصل تھی۔
صدر اوبامہ آج ہیں نہ وہ ماضی میں تھے نہ ہی مستقبل میں رہیں گے مگر سی آئی اے ۔ موساد اور را کا کھیل ماضی سے جاری ہے اور اسے مستقبل میں بھی جاری رہنا ہے۔ کیا یہ محض حسن اتفاق ہے کہ ا مریکی سینیٹر نے دیوبندی مدارس کی بندش کا مطالبہ کیا اور چند دن بعد پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کو اکوڑہ خٹک کے دینی مدرسے سے ملا دیا گیا ہے اور اب احمدیوں کی عبادت گاہوں میں موت نازل کرنے والوں کو ایک جنونی مذہبی فرقے سے ملایا جارہا ہے؟ ہمیں اس سازش کو غور سے دیکھنا چاہیے۔ خالد خواجہ سر پھرا مذہبی جذبات رکھنے والا دلیر شخص تھا۔ لال مسجد کے معاملات میں اس کا وجود موجود تھا وہ اکثر مذہبی شخصیات کا ساتھ دینے کی عادت رکھتا تھا۔ ملا برادر گرفتار ہو گئے کراچی سے ' امریکہ نے آئی ایس آئی پر زور دیا کہ وہ ملا برادرز کو سی آئی اے کے حوالے کرے مگر خالد خواجہ دوڑ کر عدالت میںچلے گئے اور حکم امتناع لے آئے کہ ملا برادرز کو امریکہ کے حوالہ نہ کیا جائے۔ کیا خالد خواجہ نے امریکی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا تھا؟ دوسرا جرم خالد خواجہ سے یہ ہو گیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں چلا گیا اس خوش فہمی کے ساتھ کہ کرنل امام بھی ان کے ساتھ ہے اور وہ پاکستانی ریاست سے لڑنے والے قبائیلیوں کو سمجھائے گا کہ وہ خود کش حملوں کا راستہ چھوڑ دیں اور افغان طالبان کی طرح غیر ملکی فوج کی موجودگی کے خلاف اپنی قوت کو خرچ کریں۔ اگر خالد خواجہ زندہ رہتا تو شائد وہ اپنے مقصد میں کامیابی بھی حاصل کر لیتا اور یوں شمالی علاقوں کے بارے میں امریکہ کی حکمت عملی کو شکست ہو جاتی۔ کیا خالد خواجہ کی کاوش کی کامیابی سی آئی اے کی ناکامی سمجھی جاتی تھی؟ اسی لئے اس کا فوراً قتل ہو جانا بہت ضروری سمجھا گیا اور وہ نام نہادطالبان کے ہاتھوں سچ مچ قتل بھی ہو گیا مگر اس کے قتل کی فضا اور ماحول '' مذہبی جرم'' سے وابستہ ہے۔ کیا احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہے؟ دیوبندی ختم نبوت والے اس وقت سے موجود ہیں جب سے مرزا غلام احمد تھا۔ 53 میں یہ مسئلہ بنا اور اعظم خان نے اس کی آڑ میں آنے والے شورش کو ختم کیا۔ ربوہ میں ایک حادثہ تحریک ختم نبوت بن گیا تو بھٹو نے اس کا انجام طے کر دیا۔ یہ اچانک جہادی مذہبی تنظیم کاظہور کہاں سے کیسے ہو گیا ہے؟ ہم نہایت احتیاط سے توجہ دلاتے ہیں کہ خالد خواجہ کے پراسرار قتل کے ماحول میں جو ٹیپ سامنے آئی ہے اس میں خالد خواجہ کو منصور اعجاز نامی امریکی کا دوست بتایا گیا جو ایک ذریعے سے قادیانی ثابت کیا جاتا رہا ہے۔ ہماری یادداشت کے مطابق منصور اعجاز امریکہ سے ایک اردو روز نامے میں کالم بھی لکھا کرتے تھے یہ پراسرار سی بات قابل غور ہونی چاہیے کہ لاہور میں قادیانی عبادت گاہوں پر حملوں میں جو دو کردار پکڑے گئے ہیں وہ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق بنوں سے آئے اور دونوں حملوں کا تعلق قبائلی علاقوں میں متحرک تحریک طالبان سے ہے۔ خالد خواجہ کا قتل ایک قادیانی امریکی منصور اعجاز سے تعلق کی بنا پر ہوا اور خالد خواجہ کا قتل تحریک طالبان نے کیا اب یہی تحریک طالبان لاہور میں قادیانی عبادت گاہوں پر حملہ آور بتائی جارہی ہے۔ قادیانی منصور اعجاز کی کہانی اور پھر خالد خواجہ کا قتل ا ور اب قادیانی عبادت گاہوں پر حملوں کی سازش کیا ہے؟ اور کس کی طرف سے ہو گئی ہے؟ دی نیشن نے 29 مئی کو صفحہ 10 پر MAIDHE O CATAIL کا ایک کالم شائع کیا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل نواز میڈیا پاکستان کے خلاف بھارتی جنگی حکمت عملی کا ساتھی اور مددگار ہے۔ اس کالم میں بھارتی نژاد نیوزویک کے فرید زکریا کا بھی ذکر ہے جس نے فیصل شہزاد کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنایا اور پاکستانی سفیر حسین حقانی کی کتاب کے اقتباس کو اپنے موقف کے حق میں پیش کیا تھا اس کالم کے آخر میں میڈھک اوکاٹھیل لکھتے ہیں کہ گارڈن ڈف (Gordon Duff) سینئر ایڈیٹر دی ویٹسرن ٹوڈے نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں معمولی سا بھی شک نہیں کہ وہ اسرائیلی اوربھارتی جو افغانستان کی سرزمین پر جرمن پاسپورٹس پر خود کو عسکری ٹھیکے دار بنا کر رکھے ہوئے ہیں یہی لوگ وہ اصل دماغ ہیں جو پاکستانی سرحدی طالبانی علاقوں سے متصل 17 بھارتی قونصلیٹ چلاتے ہیں جہاں سے پاکستانی طالبان سے بہت قریبی تعلق قائم ہے اور طالبان کو انہی قونصل خانوں سے اسلحہ' روپیہ اور تربیت ملتی ہے تاکہ عسکری تربیت کے بعد یہ طالبان پاکستان میں حملے کر سکیں۔ قادیانی عبادت گاہوں پر نازل ہو چکی موت کو ذرا مذکورہ بالا کی روشنی میں دیکھیں کہ قادیانی عبادت گاہوں پر حملے کے نتیجے میں پاکستان کس قدر عالمی شرمندگی اور امریکی شدید دبائو سے دوچار ہو گیا ہے۔ اور ا س کا فائدہ صرف بھارت اور اسرائیل کو ہوا ہے۔بقول گارڈن ڈف صاف دکھائی دیتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان جیسے ایٹمی مسلمان ملک کو غیر مستحکم کرنا مشترکہ ہدف سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ '' بھارت سے ہمارے تعلقات کی وسعت بے کراں اور لامحدود ہے'' 29 مئی کو واشنگٹن پوسٹ نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج پاکستانی طالبان پر یکطرفہ حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔سی آئی اے اور پینٹاگان الگ الگ ہمارے ساتھ پر اسرار کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے مہینے بہت زیادہ خون آشا م دکھائی دیتے ہیں۔ فوج کو شرمندگی سے دوچار کرنا سی آئی اے ' را 'اور موساد کا مشترکہ ہدف ہو گا نومبر کو امریکی انتخابات سے پہلے مشرقی سرحد سے بھارت اور مغربی سرحد سے امریکی شب خون مار سکتے ہیں ہمیں یہ منحوس واقعات وسط اگست سے اکتوبر کے مابین واضح طورپر نظر آتے ہیں۔ ہمیں منگلا اور تربیلا ڈیموں کی حفاظت کا بھی پورا بندوبست کر لینا چاہیے۔

بےباک
11-17-2011, 07:46 AM
خالد خواجہ کا آخری مشن ناکام، پراسرار زندگی ، مختلف کردار نبھائے
اسلام آباد(حامد میر)آئی ایس آئی کے سابق افسر خالد خواجہ کا آخری مشن اگر چہ ناکام ہوگیا لیکن ان کا قتل بہت سے خفیہ راز منکشف کرگیا ہے، ان میں سے ایک راز افغان اور پاکستانی طالبان کے مابین پائے جانیوالے اختلافات کی بابت بھی ہے اور اس سے خالد خواجہ کی انتہائی پیچیدہ زیر زمین زندگی پر روشنی پڑتی ہے ،خالد خواجہ مختلف اوقات میں مختلف کردار نبھاتا نظر آ تا ہے، بعض اوقات وہ مصالحت کار کا کردار ادا کرتاہے،بعض اوقات امریکیوں کیلئے کام کر تا ہے بعض اوقات اقتدار کیلئے جوڑ توڑ ، بعض اوقات صورتحال میں ہلچل پیدا کرنے والاکردار نبھاتا نظر آتا ہے ، اور اس کے علاوہ اسکی ایک شناخت پرجوش مبلغ اسلام کی بھی ہے۔اسکواڈرن لیڈر (ر) خالد خواجہ گزشتہ 22 برس سے پاکستان کی داخلی سیاست میں پردے کے پیچھے سے انتہائی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں،وہ گیارہ برس قبل اس وقت اہم بین الاقوامی کھلاڑی بن گئے تھے جب انہوں نے کشمیری عسکریت پسندوں اور کلنٹن انتظامیہ کے مابین براہ راست رابطے قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔وہ امریکا اور طالبان کے مابین براہ راست تعلقات کے قیام کیلئے بھی گزشتہ پانچ برس سے کوششیں کر رہے تھے، انہوں نے بہت مرتبہ پاک فوج اور طالبان کے مابین مصالحت کیلئے کوششیں بھی کیں، سی آئی اے کے سابق اہلکاروں سے ان کے معروف تعلقات اور امریکی تاجر منصور اعجاز کے ساتھ ان کے تعلقات نے بھی ان کیلئے مسائل پیدا کئے۔خواجہ اتنافطین شخص تھاکہ اس نے ایک طرف امریکیوں سے تعلقات برقرار رکھے تو دوسری جانب حمید گل جیسے امریکی نقادوں سے بھی بنا کر رکھی لیکن اسکی بدقسمتی کہ وہ اپنے دشمنوں کی سنجیدگی کو بھانپ نہیں سکا جو دوستوں اور دشمنوں کیخلاف ایک ہی طرح کے حملے کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتے۔آئی ایس آئی سے خواجہ کوضیاء الحق کے براہ راست احکامات پر 1987 میں برطرف کیا گیا تھا لیکن وہ برطرفی کے بعد بھی آئی ایس آئی کے ساتھ فعال طور پر کردار ادا کرتا رہا۔ وہ1988 میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی حمیدگل کا دست راست تھا اور اس نے حمید گل کے ساتھ ملکر پیپلزپارٹی کے خلاف سیاسی محاذ” اسلامی جمہوری اتحاد“ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔اس نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے1989 میں سعودی عرب میں اسامہ بن لادن اور نواز شریف کے مابین ملاقات کرائی تھی ، یہ انکشاف اس نے1999 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے سے محض چند ہفتے قبل کیا ۔اگست2008 میں اس نے نواز شریف کو اس امر پرقائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی حمایت سے بازر ہیں لیکن نواز لیگ کے سربراہ نے اسکی بات ماننے سے انکار کر دیا۔خالد خواجہ کو پنجابی طالبان کے ایک گروپ نے30 اپریل کوشمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں قتل کیا، اسے26 مارچ کو ایک اور سابق آئی ایس آئی عہدیدار کرنل امیر سلطان اور پاکستانی نژاد برطانوی فلم میکراسد قریشی کے ساتھ اغواء کیا گیا تھا۔پنجابی طالبان کے ایک غیر معروف گروپ جو اپنے آپ کو ایشین ٹائیگر کہتا ہے اس نے الزام عائد کیا ہے کہ خواجہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کیلئے کام کر رہا تھالیکن یہ اس کے قتل کی حقیقی وجہ نہیں تھی۔خواجہ اپنے اغواء سے چند ہفتے قبل شمالی وزیرستان میں طالبان رہنما ولی الرحمن محسود سے ملا تھا اور اسے عسکریت پسندوں کی ایک فہرست دی اور الزام عائد کیا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کیلیے کام کر رہے تھے۔اس ملاقات کے چند ہی گھنٹوں میں ولی الرحمن کی گاڑی پر امریکی ڈرون نے حملہ کیا یہ اور بات کہ طالبان کمانڈر اس حملے میں بچ گئے، ولی الرحمن نے فوراً پنجابی طالبان کو مطلع کیا کہ وہ خواجہ کے حوالے سے محتاط رہیں ، اس پر پنجابی طالبان نے اسے ٹریپ کرنے کا منصوبہ بنایا۔پنجابی طالبان کے ایک ترجمان نے ہفتہ کو باور کرایا ہے کہ کرنل امام کے خلاف الزامات مضبوط نہیں ہیں اور یہ کہ انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان پنجابی طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ کرنل امام کو رہا کر دیاجائے۔شمالی وزیر ستان سے فون پر اس نمائند ے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے خالد خواجہ کے قتل کے حوالے سے اس کی بیوہ کے اس بیان پر کہ” اس کا شوہر شہید ہے اور اسے مارنے والے جرائم پیشہ ہیں“ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خالد خواجہ کے ساتھ ساتھ اسکی بیوی نے بھی جولائی2007 میں لال مسجد سانحے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دونوں نے عبدالرشید غازی کو مجبور کیا کہ وہ ہتھیارنہ ڈالیں لیکن جب آپریشن شروع ہوا تو یہ دونوں غائب ہوگئے۔تاہم خالد خواجہ کے کچھ دوست مختلف کہانی سناتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خواجہ کو لال مسجد آپریشن سے کچھ دن پہلے گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن انہوں نے بھی اتنا تو تسلیم کیا کہ وہ عبدالرشید غازی کے ہتھیارڈالنے کے حق میں نہیں تھے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خالد خواجہ کے بارے میں عسکریت پسندوں کی ایک تین رکنی کمیٹی نے 4ہفتے سے زائد عرصے تک تحقیقات کیں۔ابتداً خالدخواجہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے لاہور ہائیکورٹ میں نوازلیگ کے ایک سابق رکن اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ کے ساتھ مل کر ایک درخواست دائر کی ہے اور وہ شمالی وزیر ستان میں ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے بیانات ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں عدالت میں پیش کیاجا سکے۔عسکریت پسندوں نے اس سے دریافت کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک طرف تو وہ ڈرون حملوں کی مخالفت کر رہا ہے اور دوسری جانب وہ امریکا اور طالبان میں رابطہ کرانے کی کوشش بھی کر رہا ہے، عسکریت پسندوں نے دعویٰ کیا کہ خواجہ نے ہی 2005 میں اسلام آباد کے سریناہوٹل میں مذہبی عالم دین جاوید ابراہیم پراچہ اور امریکی نائب وزیر کیرن ہیوگز کے مابین ملاقات کا انتظام کیا تھا، انہوں نے اس حوالے سے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کئے گئے مضمون پیش کیے اور اس سے امریکی سی آئی اے کے عہدیداروں جیمزوولزی اور ولیم کیسی کے ساتھ اسکے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں دریافت کیا۔ خواجہ ان سی آئی اے عہدیداروں سے ایک امریکی تاجر منصور اعجاز کے تو سط سے ملاتھا جو کہ بل کلنٹن انتظامیہ کے قریب تھا۔ اعجاز نے سوڈانی حکومت کو اس امر پر مجبور کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو1996 میں خرطوم سے بیدخل کردے، اس نے اکتوبر1999 میں بش انتظامیہ اور طالبان کے مابین براہ راست رابطہ قائم کرانے میں خالد خواجہ کی مدد بھی کی تھی، اس وقت خالد خواجہ جیمز وولزی کے ساتھ ملاعمر سے ملاقات کرنا چاہتا تھا تاکہ افغانستان پر امریکی حملہ رکوایا جا سکے۔ ملاعمر نے تاہم اس وقت کے سی آئی اے لیڈر سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اگلے برس خالدخواجہ نے کوشش کی کہ وہ امریکی تاجر منصور عاعجاز اور کشمیری عسکریت پسند رہنما سید صلاح الدین کے مابین ملاقات کرانے کی کوشش کی، خواجہ نے جماعت اسلامی میں موجوداپنے دوستوں کے ذریعے صلاح الدین کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کرایا تھا۔ ادھر سید صلاح الدین کو کسی طور یہ معلوم ہوگیا کہ منصور اعجاز نے2000 کے اوائل میں بھارتی فوجی افسروں سے بھی ملاقات کی ہے اور یہ کہ وہ اس وقت کے پاکستانی آمر پرویز مشرف سے بھی مل چکا ہے،صلاح الدین کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا اور انہوں نے منصور اعجاز سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کوششوں کے کچھ ہی دیر بعدکشمیری عسکریت پسند کمانڈر عبدالمجید ڈار نے جولائی2000 میں جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن یہ بھی ناکام ہوگیا اور کچھ عرصے بعد مجید ڈار کو بھی پار کردیا گیا۔خالد خواجہ کو2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے بعدگرفتار کر لیا گیا تھا ، خواجہ نے ڈینیئل پرل کے قتل سے قبل اس سے ای میلز کا تبادلہ کیا گیا تھا۔بعدازاں ڈینیل پرل کی بیوہ میریان نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ ڈینیل پرل نے منصور اعجاز کے توسط سے خالد خواجہ سے رابطہ کیا تھااور یہ کہ خواجہ نے محض چند عسکریت پسندوں کے فون نمبرز کے حصول میں ڈینیل پرل کی مدد کی تھی۔چند ہفتوں کے بعد خالد خواجہ کو رہا کر دیا گیا۔2005 میں خواجہ ایک مرتبہ پھر اس وقت منظر عام پر آئے جب انہوں نے ایک غیر ملکی اخبار کو اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان کی جانب سے کشمیری عسکریت پسندوں کی حمایت کیلئے قائم کئے گئے تربیتی کیمپ کیلئے فنڈز فراہم کرنے میں ان (خواجہ)کا اہم کردار رتھا۔اسی برس اس نے ایم ایم اے کے رکن اور کوہاٹ سے منتخب ہونے والے مذہبی رہنما اور رکن پارلیمنٹ شاہ عبدالعزیز ، جاویدابراہیم پراچہ طالبان کے حامی بزنس مین عارف قسمانی اورکیرن ہیوگز سمیت اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے مابین ملاقات کا اہتمام کیا۔جاوید پراچہ نے ہفتہ کو دی نیوز سے ملاقات میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کا اہتمام خالد خواجہ نے ہی کیا تھا ، ان کے الفاظ تھے” مجھے امریکی حکومت کے ایماء پر طالبان سے مذاکرات کیلئے بہت بڑی رقم کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے یہ بتادیا تھا کہ اس کیلئے پہلے مجھے پاک فوج کی جانب سے اجازت حاصل کرنا ہوگی لیکن امریکی اپنے تئیں ہی آگے بڑھ رہے تھے اور اس طرح بات چیت ختم ہوگئی۔جاوید پراچہ نے یہ بھی کہا کہ خالد خواجہ25 مارچ کو کرنل امام کے ساتھ ان کے گھر پر آئے اور اس وقت ان کے ساتھ ایک برطانوی صحافی بھی تھا۔خواجہ چاہتاتھا کہ میں شمالی وزیرستان کے اس کے سفر میں مدد کروں، اس نے کہا کہ شاید خواجہ امریکیوں اور طالبان کے مابین رابطے استوار کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مجھے طالبان سے یہ پیغام ملا کہ تمہارے دوست کو خوش آمدید نہیں کہا جائیگا۔پراچہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خواجہ کو نصیحت کی کہ وہ وہاں نہ جائیں، ان کے الفاظ تھے کہ ’ میں نے کرنل امام سے بھی درخواست کی کہ وہ خطرہ مول نہ لیں، کرنل امام کچھ ہچکچارہے تھے لیکن خالد خواجہ نے اصرار جاری رکھا اور میر ے مشورے کے برخلاف میرعلی روانہ ہوگئے۔جاوید پراچہ اور خالد خواجہ دونوں کے ہی لال مسجد کے علماء کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، پراچہ مولانا عبدالعزیز سے اور عبدالرشید غازی سے اس وقت کے وفاقی وزیر اعجاز الحق کے ہمراہ ملے اور ان سے درخواست کی کہ وہ ہتھیار پھینک دیں جبکہ خالد خواجہ نے اس کے بر خلاف مشورہ دیا۔خالد خواجہ اگست2008 میں اس وقت اور زیادہ فعال ہوگیا جب اس نے نواز لیگ کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے کہا کہ وہ صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کے حصہ لینے کے خلاف پٹیشن دائر کریں ، سینیٹر پرویز رشید کے مطابق خواجہ نے انہیں پیشکش کی کہ اگر نواز شریف زرداری کے خلاف درخواست دائر کریں تو وہ 24 گھنٹوں کے اندر سپریم کورٹ سے آصف علی زرداری کے خلاف فیصلے کا بندوبست کرڈالے گا، لیکن پرویز رشید کے بقول ہم نے خالد خواجہ کے ہاتھوں میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔خالد خواجہ اس سے قبل1999 میں نواز شریف حکومت کے خلاف بھی انتہائی فعال کردار ادا کر چکا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے چند ایک رہنماؤں کے سامنے اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے 1989 میں اسامہ بن لادن اور نواز شریف کے مابین ملاقات کرائی تھی اور یہ کہ اس وقت نواز شریف نے اسامہ سے رقم لی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد عرب عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔انہی دنوں امریکی نواز شریف پر بھی دباؤ بڑھا رہے تھے تاکہ وہ پاکستان میں رہنے والے عربوں کے خلاف کارروائی کریں، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ اور جماعت اسلامی نے اس موقع پر نواز شریف کی حکومت کے خلاف عوامی تحریک شروع کردی اور چند ہی مہینوں میں ان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔اس نمائندے نے نومبر2001 میں اسامہ بن لادن سے خالد خواجہ کے اس دعوے کی تصدیق چاہی لیکن انہوں نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی۔ خالد خواجہ نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو نومبر2007 میں بتایا کہ اس نے 1989 میں مدینہ کے گرین پیلس ہوٹل میں نواز شریف اور اسامہ بن لادن کے مابین ملاقات کا اہتمام کیا تھا ، اور یہ ملاقات بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے محض چند ہفتے قبل ہونا تھی، اسامہ کے بارے میں خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مقصد کیلئے کچھ رقم بھی دی تھی ۔امریکی عہدیداروں نے بھی بہت سے القاعدہ کارکنوں سے اس دعوے کی تفتیش کی جنہیں انہوں نے نائن الیون کے بعد گرفتار کیا تھالیکن ان میں سے صرف ایک علی محمد نے ایف بی آئی کو بتایا کہ بہت عرصہ ہوا اسامہ اور نواز شریف کے نمائندوں کے مابین سعودی عرب میں ایک ملاقات ہوئی تھی۔اس نے بھی لیکن دونوں رہنماؤں کے مابین براہ راست ملاقات کی کبھی تصدیق نہیں کی، اسامہ بن لادن نے خالد خواجہ کے ان دعووں کو کبھی پسند نہیں کیا حالانکہ خواجہ ہمیشہ اپنے آپ کو اسامہ کا دوست بتاتا تھا۔خواجہ اور شاہ عبدالعزیز 2009 کے اوائل میں طالبان رہنما بیت اللہ محسود سے بھی ملے تھے، انہوں نے بیت اللہ محسود کو اس امر پر آمادہ کرلیا تھا کہ وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جنگ بندی کیلئے خط لکھے، ادھر پاک فوج نے کبھی بیت اللہ محسود پر اعتبار نہیں کیا اور یوں خواجہ کی کوششیں اپنی موت آپ مرگئیں۔خالد خواجہ نے اپنے آخری دنوں میں اعلیٰ عدلیہ میں بہت سی درخواستیں دائر کیں۔ انہی میں سے ایک صدر کے آئینی استثنیٰ کے خلاف بھی ہے۔ اس کا سیاسی کردار ابھی بھی پراسرار نظر آتا ہے، اس کے دوستوں کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ اس کے امریکیوں سے تعلقات تھے لیکن بہر حال وہ سی آئی اے کا ایجنٹ نہیں تھا۔فوجی ہےئت مقتدرہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے پاک فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں تھا ، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد خواجہ کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف اور بنیظیر بھٹو دونوں کیخلاف کئی کئی مرتبہ استعمال کیا لیکن آخری دنوں میں اس پر اعتبار نہیں کیاجاتا تھا۔اسکے اغواء اور قتل کا پورا ڈرامہ دراصل طالبان گروپوں کے داخلی اختلافات کو ظاہر کر دیا ہے، شمالی وزیر ستان کے ایک طاقتور طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر نے خواجہ کو بچانے کیلئے اپنی سی تمام کوششیں کر ڈالیں لیکن میر علی میں محدود اثر ورسوخ کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا۔اس علاقے میں زیادہ آبادی داوروں کی ہے لیکن آج کل اس پر کنٹرول محسود عسکریت پسندوں کا ہے ، اور انہوں نے بہت سے پنجابی طالبان سمیت کشمیریوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں کیونکہ ان کے گروپس کو کئی برس قبل غیر قانونی قرار دیکر ان پر پابندی لگا دی گئی تھی۔یہ شاکی عسکریت پسند اب نہ تو حافظ گل بہادر کی سنتے ہیں اور نہ ہی سراج الدین حقانی گروپ کی سنتے ہیں جس کا میرانشاہ کے قریبی علاقوں میں خاصا اثرورسوخ ہے۔یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ پنجابی طالبان جنرل اسلم بیگ یا جنرل حمید گل جیسے امریکا کے سخت نقاد وں کی بھی ہرگز کوئی عزت نہیں کرتے صرف اسلئے کہ وہ پاکستان کے اندر بم دھماکوں کی حمایت نہیں کرتے۔

بےباک
11-17-2011, 08:01 AM
خالد خواجہ کی پوری کہانی کا سب سے اہم کردار’منصور اعجاز‘ ہے۔ خالد خواجہ کو منصور اعجاز کا ’سپاہی‘ کہا جاتا تھا۔ منصور اعجاز امریکا میں بہت بڑی انویسمنٹ کمپنی کے مالک ہیں اور ری پبلکن پارٹی کے مذہبی دھڑے کے اہم رکن ہیں۔ منصور اعجاز دنیا کے بڑے بڑے چینلز پر مبصر کی حیثیت سے کام بھی کر چکے ہیں۔ سوڈان سے اسامہ بن لادن کی بے دخلی اور بین الاقوامی ثالثی کے مختلف مواقع پر بھی اُن کا نام لیا گیا۔کچھ اطلاعات کے مطابق منصور اعجاز طالبان ، حکومت پاکستان اور امریکا کے مابین ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں اور خالد خواجہ یہی کام سرانجام دینے کے لیے شمالی وزیرستان گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مائیک ملن کا اقرار نامہ کہ اسے پاکستان کی طرف سے خفیہ مراسلہ ملا تھا ، یہ لنک دیکھیں ،

http://www.liquida.com/article/28978838/islamabad-pakistan-michael-mullen/

جنگ نیوز کے مطابق:
واشنگٹن ... سابق چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مائیک ملن نے منصور اعجاز کے خفیہ میمو وصول کرنے کی تصدیق کردی ہے،مائیک مولن کے ترجمان جان کربی نے امریکی جریدے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کی جانب سے بھیجے گئے میمو سے متعلق خبریں شائع ہونے کے بعد مائیک مولن نے اپنی یاداشت پر زور ڈالا اور متعلقہ افراد سے اس بارے میں معلوم کیا تو انہیں بتایا گیا تو انہیں میمو کی ایک کاپی فراہم کردی گئی، تاہم مائیک مولن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، اور اسے قابل اعتبار نہیں سمجھا اور اس لیے کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔ امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی جریدے کو انٹرویودیتے ہوئے میمو بھیجنے کی تردید کی، ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہوں نے صدر زرداری کو خط بھی لکھا ہے جس میں وہ مستعفی ہونے کی پیش کش کرچکے ہیں، حسین حقانی کا کہنا ہے صدر زرداری کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ نہ آپ نے اور نہ ہی کسی اور نے مجھے میموبھیجنے کے لیے کہا اور نہ ہی میں نے کوئی میمو بھیجا ہے۔ حسین حقانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے باوجود استعفے کی پیشکش قومی مفاد میں کی ہے، اور یہ معاملہ صدر زرداری پر چھوڑدیا ہے۔

بےباک
11-17-2011, 08:07 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/17/images/news-02.gif

بےباک
11-18-2011, 06:35 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/18/images/story2.gif

بےباک
11-19-2011, 06:29 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111119/Sub_Images/1101380244-2.gif

بےباک
11-19-2011, 06:34 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111119/Sub_Images/1101380268-1.gif

بےباک
11-19-2011, 07:24 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/19/images/story1.gif

http://ummat.com.pk/2011/11/19/news.php?p=news-03.gif

بےباک
11-19-2011, 03:10 PM
http://www.youtube.com/watch?v=vVIZR-ZCoto

سیما
11-20-2011, 03:57 AM
http://www.youtube.com/watch?v=IQeQBuUmySI&feature=player_embedded

سیما
11-20-2011, 04:02 AM
امریکا میں پاکستانی سفیرحسین حقانی واشنگٹن سے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حسین حقانی نجی ائیر لائن سے پاکستان کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔


ذرائع کا کہنا ہے روانگی سے قبل حسین حقانی نے پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات آدھے گھنٹے تک جاری رہی،جس میں پاک امریکا تعلقات اور موجودہ صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

سابق چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائیک ملن اور پاکستانی نڑاد امریکی تاجر منصور اعجاز کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کر دی گئی۔ یہ درخواست بیرسٹر ظفراللہ نے دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا جائے۔


درخواست میں کہا گیا ہے کہ مائیک ملن اور حکومت پاکستان کسی بھی میمو کی تردید کر چکے ہیں لہٰذا مائیک مولن اور منصور اعجاز کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے۔ دونوں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔ درخواست میں وفاق پاکستان اور امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

امریکا میں متعین پاکستانی سفیر حسین نے حقانی نے کہا ہے کہ کسی پاکستانی کے لیے اس سے بڑا کوئی اور دکھ نہ ہوگا کہ اسے غیر محب وطن کہا جائے،میری والدہ فوجی قبرستان میں مدفون ہیں، میرے خاندان نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں الزام ثابت ہونے تک مجرم نہ سمجھا جائے

جیو نیوز کے پروگرام کامران خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حسین حقانی انتہائی جذباتی ہوگئے اورگلوگیر لہجے میں انھوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا یقین دلایا اس موقع پر حسین حقانی کہا کہ وہ اس ساری صورتحال پر اتنے دل گرفتہ ہیں کہ انکا بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے اور ڈاکٹروں نے انھیں آرام کے لیے کہا ہے اب اگر ڈاکٹر انھیں اجازت دیتے ہیں تو وہ فوری طور پر وطن آجائیں گے ورنہ ایک دو روز آرام کے بعدوہ پاکستان واپس آجائیں گے ۔

میرے لندن کے ہوٹل میں ٹھہرنے کی تحقیقات ہوسکتی ہے،ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آنی چاہیے،انھوں نے کہا کہ میں اپنے بارے میں فیصلہ صدر اور وزیراعظم پر چھوڑتا ہوں،لند ن میں منصور اعجاز کے ساتھ تقریب میں شریک ہوا تھا۔تمام معاملات کی تصدیق ضروری ہے۔تحقیق ہوگی تو ثابت ہوجائیگا کہ سچ کیا ہے۔کیا منصور اعجاز آئی ایس آئی کی تحقیقات کو تسلیم کرینگے کیونکہ وہ تو آئی ایس آئی دہشتگردادارہ قرار دیتے رہے ہیں ۔میرے متعلق تحقیقات ہونی چاہیے، انھوں نے کہا کہ میموسے متعلق بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

ابھی میں نے منصور اعجاز کی ٹرانسکرپٹ نہیں پڑھی،لیکن یہ جعلی ہے،یہ ایک مشتبہ اور پاکستان دشمن شخص کا معاملہ ہے۔وہ میموکیسے قابل اعتبار ہوسکتا ہے جوکسی سرکاری شخصیت نے جاری نہ کیا ہو۔منصور اعجاز کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کا کام کرتے ہیں۔تحقیق سے ثابت ہوجائے گا کہ سچ کیا ہے۔مجھ سے متعلق کبھی ایسا تنازع سامنے نہیں آیا۔کیری لوگر بل سے متعلق مجھ پر الزامات لگائے گئے۔میموکو حسین حقانی کا میمو نہ کہا جائے۔میں پرانا بلیک بیری بھی پیش کرنے کو تیار ہوں۔یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے جو مناظرے سے حل نہیں ہوگا۔منصور اعجاز کی بلیک بیری کی تفصیلات مسترد کرتا ہوں

ادھر پاکستانی نژاد تاجر اور ایڈمرل مائیک مولن کو متنازع میمو پہنچانے کے حوالے سے مرکزی کردار منصور اعجاز نے کہا ہے کہ اگر انھیں بلایا گیا تو حسین حقانی کے خط کے ثبوت دینے کے لیے وہ آجائیں گے۔

انھوں نے جیو نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حقانی سے گفتگو میں جس باس کا ذکر آیا ہے وہ صدر آصف علی زرداری ہیں،انھوں نے کہا کہ آئیڈیا یہ بھی تھا کہ وزارت دفاع میں ردوبدل کیا جائیگا،اورپاک فوج اور آئی ایس آئی اس وزارت کے نیچے ہونگے،میرا خیال ہے کہ حسین حقانی خود قومی سلامتی کے مشیر بننا چاہتے تھے ،اور اسکے لیے آئیڈیا یہ تھا کہ پاکستان میں قومی سلامتی کا ایک طاقتور مشیر تعینات کیا جائے ۔

منصور اعجاز نے کہا کہ حقانی نے انھیں بتایا کہ میمو لکھنے کے آئیڈیا میں جنرل محمود درانی اور جنرل جہانگیر کرامت بھی شامل ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس میں محمود علی درانی اور جنرل جہانگیر کرامت شامل نہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو حکمران پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی مشاورتی کور کمیٹی اور بعض وفاقی وزراء کے اجلاس کی قیادت کی، جس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو متنازع مراسلے کے بارے میں ملک کی قیادت کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’انصاف کا تقاضہ ہے کہ سفیر (حسین حقانی) کو اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘‘

پاکستانی سفیر پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ہی صدر زرداری سے منسوب وہ مبینہ خط سابق امریکی فوجی کمانڈر ایڈمرل مائیک ملن کو بھیجا تھا جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائیریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنے کے لیے امریکی قیادت سے مدد مانگی گئی تھی۔

ادھر جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف نے فوج کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی مدد طلب کرنے کے معاملے پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور مطالبہ کیا کہ اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کےلیے فوری طور پر غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں جائیں۔

قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان نے ایوان میں اپنی تقریر میں مبینہ خط کے معاملے پر صدر مملکت اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’’یا زرداری صاحب اپنے آپ کو علیحدہ کریں سارے معاملے میں، جو لوگ ذمہ دار ہیں اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لے کر آئیں، اور میں یہ بھی واضح کر دوں یہ مسئلہ کسی کے استعفے سے نہیں روکے گا، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ میرے سے غلطی ہو گئی یہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے جو کچھ ہو رہا ہے اور ہم آئین اور قانون کے مطابق اس کا حل چاہیئں گے۔‘‘

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی مبینہ خط کے بارے میں اُن پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں، جب کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ تمام معاملے پرحکومت کو وضاحت پیش کرنے کے لیے حیسن حقانی حکومت کے طلب کرنے پر جلد وطن پہنچ رہے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے اس موقف کو دہرایا۔

’’ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، اور ذرا انتظار کریں۔ اُن (حسین حقانی) کو آنے دیں، میں پہلے ہی یقین دہانی کرا چکا ہوں کہ اُنھیں وضاحت پیش کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے اور وہ ملک کی قیادت کے سامنے یہ وضاحت پیش کریں گے۔ (اور) اگر پھر اگر آپ کے ذہن میں کوئی چیر ہو گی آپ ضرور (مطالبہ) کریں، مگر میں آپ کو بتا دوں یہ ایشو بھی حل ہو جائے گا۔‘‘

لیکن حکومت کی تمام تر وضاحتوں کے باوجود سیاسی مخالفین کے مطالبات جاری ہیں جب کہ مقامی میڈیا میں صدر زرداری ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں۔

سابق امریکی فوجی کمانڈر مائیک ملن کو بھیچے گئے مراسلے کی جمعہ کو مزید تفصیلات مقامی اور غیر ملکی میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی صدر سے منسوب اس مبینہ خط میں امریکی حکومت سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے اجازت ہو گی کہ وہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے ذمہ دار پاکستانی فوجی حکام کا نام تجویز کرے اور اگر وہ القاعدہ کے نئے لیڈر ایمن الزاوہری اور طالبان کے مفرور لیڈر ملا عمر کے خلاف پاکستانی سرزمین پر کارروائی کرے گی تو پاکستان اس میں مدد کرے گا۔ جب کہ اس مبینہ مراسلہ میں پاکستان کےجوہری ہتھیاروں کے پرورگرام کی نگرانی کے لیے بھی امریکہ کو رسائی دینے کے وعدہ کیا گیا ہے

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاست جاتی ہے تو جائے،ملکی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ،کسی بھی غیرآئینی اقدام کی حمایت نہ کرنے کی قسم اٹھارکھی ہے ،مائیک مولن کو لکھے گئے خط پر انکوائری کمیٹی بنائی جائے، اگرحکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر دال میں ضرورکچھ کالا ہے۔ماڈل ٹاوٴن میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سانحہ ایبٹ آباد پر کمیشن کْھو کھاتے میں چلا گیا ،قوم کو نتیجے کا کچھ پتہ نہیں چلا، اب میمو پر کمیشن ٹالنے والی بات ہے، سول سوسائیٹی، ارکان اسمبلی، صاحب کردار وکلاء اور ججوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلیوں سے استعفوں سمیت دیگر آپشنز پر پارٹی میں مشاورت کریں گے ،انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں شروع کی گئی کسی کوشش اور غیر آئینی اقدام کی حمایت نہ کرنے کی قسم اٹھاررکھی ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ خفیہ کھیل کھیلنے والے اپنا کھیل بند کردیں ،سپریم کورٹ کسی فرد یا ایجنسی کے کہنے پر ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے کا فیصلہ نہیں کرے گی ۔مسلم لیگ نون کے صدر نے مزید کہا کہ پتے ان کے ہاتھ میں نہیں ، سٹے بازوں کے ہاتھ میں ہیں، انہیں تو دو سال سے زائد باری نہیں ملی، شاہ محمود قریشی کو 22 نومبر کو خوش آمدید کہوں گا اور سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں ختم ہواتھا۔
.........
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے میمو پر وضاحت طلب کی ہے، انہیں موقع دیا جانا چاہئے۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی ہمارا ادارہ ہے، اس کا تحفظ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا سے دوستی باوقار طریقے سے ہوگی۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2013 سے پہلے کوئی غیرآئینی طریقے سے تبدیلی نہیں آئے گی، ملک میں غیرجمہوری طریقے سے کوئی تبدیلی آئے گی نہ موقع ملے گا، اب الزام برائے الزام سے کام نہیں چلے گا۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی ہے جس کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری سے منسوب مبینہ خط کا معاملہ بظاہرایک انتہائی سنجیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ حکومت اس تمام معاملے کی مفصل تحقیقات کرے گی اور اگر کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو ایسا کرنے والے کو اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔

’’سوال یہ ہے کہ یہ میمو ( پیغام) کس طرح تیار کیا گیا اوراس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، ان سب کی تحقیقات کی جائیں گی۔ (پاکستانی) سفیر کو پہلے ہی پاکستان طلب کیا جا چکا ہےاور مجھے اُمید ہے وہ جلد یہاں پہنچنے والے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو وہ پہلے ہی قوم کےعظیم مفاد میں صدرِ پاکستان کے نام خط میں مستعفی ہونے کی پیشکش کرچکے ہیں۔‘‘

پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نےگزشتہ ماہ برطانوی اخبار ’فائننشل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں الزام لگایا تھا کہ ایک اعلٰی پاکستانی سفارت کار نے اُن سے رابطہ کر کے صدر زرداری کا مبینہ خط اُس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

منصور اعجاز کے بقول دو مئی کو ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی صدر کو خدشہ تھا کہ فوج بغاوت کے ذریعےاقتدار پر قبضہ کرلے گی اس لیے وہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کےسربراہ احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اُنھیں امریکی صدر براک اوباما کی مدد درکار ہوگی۔

ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ملک میں رونما ہونے والے واقعات نے صدر زرداری کی حکومت اور ملک کی فوجی قیادت کے درمیان سخت کشیدگی کو اجاگر کیا ہے۔

پاکستان کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کا عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر زرداری کے مبینہ خط کا تصور اور اسے امریکی حکام تک پہنچانے میں مرکزی کردار حسین حقانی نے ادا کیا ہے۔

پاکستانی سفیر نے بھی واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اُنھوں نے پاکستانی قیادت کو اپنے مستعفی ہونے یا پھر ملک کی ’’جمہوری حکومت کو بدنام کرنے کی بعض عناصر کی طرف سے شروع کی گئی مہم کا خاتمہ‘‘ کرنے کے لیے ہرطرح کی تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کر دی ہے۔

حسین حقانی کو 2008ء میں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

’’سوائے اشاروں کنایوں کے تاحال مجھ پر کوئی غلط کام کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ میں نے کوئی بھی ایسا پیغام تیار یا ارسال نہیں کیا ہے جس کا تذکرہ ذرائع ابلاغ میں کیا جا رہا ہے۔ میں یہ یاد دہانی بھی کراتا چلوں کہ 2008ء میں سفیر کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد کچھ لوگوں نے مسلسل یہ کہہ کر میری کردار کشی کی کوشش کی کہ میں پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے میں ملوث ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘

دریں اثنا سابق ایڈمرل مائیک ملن کے ایک ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ اُنھیں منصور اعجاز کی طرف سے صدر زرداری کا مبینہ پیغام موصول ہوا تھا۔ ’’ نہ تو پیغام کے مندرجات اور نہ ہی اس کا وجود ایڈمرل ملن کے جنرل کیانی اور پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوئے۔ اُنھوں نے اس کو کبھی بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی اس پر کوئی توجہ دی۔‘‘

پاکستان میں حکومت کے ناقدین اور حزب مخالف کے سیاست دان مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر منصور اعجاز کے الزامات بے بنیاد ہیں تو حکومت وقت اس کے اور برطانوی اخبار کے خلاف قانون چارہ جوئی کرے اور ان میں سچائی ہے تو ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی پاداش میں ان ذمہ داران کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
.....................
سابق چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مائیک ملن نے منصور اعجاز کے خفیہ میمو وصول کرنے کی تصدیق کردی ہے،مائیک مولن کے ترجمان جان کربی نے امریکی جریدے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کی جانب سے بھیجے گئے میمو سے متعلق خبریں شائع ہونے کے بعد مائیک مولن نے اپنی یاداشت پر زور ڈالا اور متعلقہ افراد سے اس بارے میں معلوم کیا تو انہیں بتایا گیا تو انہیں میمو کی ایک کاپی فراہم کردی گئی، تاہم مائیک مولن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، اور اسے قابل اعتبار نہیں سمجھا اور اس لیے کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔

امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی جریدے کو انٹرویودیتے ہوئے میمو بھیجنے کی تردید کی، ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہوں نے صدر زرداری کو خط بھی لکھا ہے جس میں وہ مستعفی ہونے کی پیش کش کرچکے ہیں، حسین حقانی کا کہنا ہے صدر زرداری کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ نہ آپ نے اور نہ ہی کسی اور نے مجھے میموبھیجنے کے لیے کہا اور نہ ہی میں نے کوئی میمو بھیجا ہے۔ حسین حقانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے باوجود استعفے کی پیشکش قومی مفاد میں کی ہے، اور یہ معاملہ صدر زرداری پر چھوڑدیا ہے۔
..................
امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا استعفیٰ ایک معمہ بن گیا ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع کہتے ہیں کہ استعفیٰ موصول ہوا ہے جبکہ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر اس سے لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کے صدر کو خط لکھا ہے کہ اگر میرے استعفے سے موجودہ بحران ٹل سکتا ہے تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں

وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے صدرآصف علی زرداری سے ایوان صدرمیں ملاقات کی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تینوں بڑوں کی ہونے والی ملاقات میں ملک کی حالیہ سکیورٹی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرزرداری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اعزازمیں عشائیہ بھی دیا۔

وائس آف امریکہ کے مطابق امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ایک بڑی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے گزشتہ دنوں اپنے ایک اخباری مضمون میں انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ پاکستانی سفارت کار کے کہنے پر اُنھوں نے صدر زرداری کا ایک خط سابق امریکی ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچایا تھا جس میں صدر براک اوباما سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے لیے مدد مانگی گئی تھی۔

پاکستان میں حکام نے صدر آصف علی زرداری سے منسوب اُس مبینہ خط کی بظاہر تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کی برطرفی کے لیے امریکی صدر براک اوباما سے مدد طلب کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو حکومت نے اسلام آباد طلب کیا ہے تاکہ وہ سیاسی قیادت کو اصل صورت حال سے آگاہ کر سکیں۔

’’دیکھیں اس حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کو واپس آنے دیں تاکہ وہ ہمیں اپ ڈیٹ کریں اور اپنا نقطہ نظر پیش کریں کہ اس (خط) کے پیچھے کیا حقیقت ہے۔ (ہماری) لیڈر شپ چاہتی ہے کہ وہ پروب (اس کی تحتقیات) کرے اور اُن تمام افراد کو بے نقاب کرے جن کی وجہ سے اس قسم کی غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا مقصد بالکل واضح ہے کہ تحقیقات کے ذریعے ایسے ’’افراد کو بے نقاب کرے جو ملک کے اداروں یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ایک بڑی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے گزشتہ دنوں اپنے ایک اخباری مضمون میں انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ پاکستانی سفارت کار کے کہنے پر اُنھوں نے صدر زرداری کا ایک خط سابق امریکی ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچایا تھا جس میں صدر براک اوباما سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے لیے مدد مانگی گئی تھی۔

بقول منصور اعجازکے یہ خط اُنھوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے ایک ہفتے بعد وائٹ ہاؤس کے حوالے کیا تھا۔

اس مبینہ خط کے مندرجات کے مطابق پاکستانی صدر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسامہ کی ہلاکت کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد پاکستانی فوجی قیادت ان کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے اس لیے وہ جنرل اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو برطرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں امریکہ کی حمایت درکار ہو گی۔ مبینہ خط میں اس حمایت کے بدلے عسکریت پسندوں کے ساتھ پاکستان کے تمام رابطے ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

سابق امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل ملن کے ایک ترجمان کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں منصوراعجاز نامی کسی شخص سے ایسا پیغام وصول کرنے کی تردید کی جا چکی ہے۔ بقول ملن کے ترجمان کے اُنھیں روزانہ سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات کی طرف سے بڑی تعداد میں پیغامات ملتے رہتے تھے لیکن انھیں یہ یاد نہیں کہ ان میں کوئی منصور اعجاز بھی تھا۔

پاکستانی صدر کے ترجمان بھی آصف علی زرداری سے منسوب اس خط کو تصوراتی قرار دے کر اس کی تردید کر چکے ہیں۔

لیکن پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک طویل بیان میں اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ اُس اعلیٰ پاکستانی عہدے دار کا نام منظر عام پر لے آئیں گے جس نے اُنھیں ایڈمرل ملن کو خط پہنچانے کا مشن سونپا تھا۔

اُن کے اس تازہ بیان کے بعد پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ واشنگٹن میں امریکی سفیر حسین حقانی ہی دراصل وہ شخصیت ہیں جنھوں نے صدر زرداری کی طرف سے یہ مبینہ خط منصور اعجاز کو دیا تھا اس لیے فوجی قیادت کی طرف سے اس معاملے پر تحفظات کے اظہار کے بعد اب پاکستانی سفیر کو وضاحت کے لیے وطن واپس بلایا گیا ہے۔

بدھ کی رات قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے بھی صدرسے منسوب مبینہ خط کے بارے میں حکومت سے وضاحت طلب کی۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نےاس کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ صدراوروزارت خارجہ کی طرف سےاس خط کی تردید کی جاچکی ہے۔

’’اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چاہے وہ (حسین حقانی) سفیر ہوں یا نہیں اُنھیں پاکستان طلب کیاجائےگا اورانھیں قیادت کو وضاحت دینی ہوگی کہ یہ خط کیسے آیا۔ اس لیے اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔

بےباک
11-22-2011, 04:11 AM
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111122/Sub_Images/1101382913-1.jpg
http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111122/Sub_Images/1101382913-2.gif
ایکسپریس نیوز 25 نومبر2011

بےباک
11-24-2011, 09:02 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/24/images/story1.gif

بےباک
11-29-2011, 07:41 AM
http://ummat.com.pk/2011/11/29/images/story2.gif

سقراط
11-29-2011, 11:10 PM
عجیب مخمصے میں پھنسا دیا

بےباک
12-07-2011, 07:11 AM
http://ummat.com.pk/2011/12/06/images/news-17.gif

بےباک
03-02-2012, 08:35 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/02/images/news-08.gif

بےباک
03-17-2012, 08:38 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120317-s13.gif

بےباک
03-26-2012, 10:40 AM
http://ummat.com.pk/2012/03/26/images/news-05.gif