PDA

View Full Version : نہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کے



ایم-ایم
11-18-2011, 10:36 AM
نہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کے
ہیولے سے نظر آتے ہیں صحرا میں غزالوں کے

اِک ایسے دَور میں تخلیقِ فن کی مُجھ کو سُوجھی ہے
اگر سوچوں تو پر کٹنے لگیں میرے خیالوں کے

زمیں کے در پہ دستک دُوں تو شاید خاک بول اُٹھے
جواب آتے نہیں افلاک سے، میرے سوالوں کے

یہ وقت ایسا ہے جب جذبے کا سِکّہ چل نہیں سکتا
کہ دیوانے بھی طالب ہیں دلیلوں کے، حوالوں کے

مجھے نابوُد ہو جانے سے روکا اِس حقیقت نے
زوالوں کے کھنڈر پر قصر اُٹھتے ہیں کمالوں کے

ندیم اب اِک قصیدہ اس گروہ حُسن کاراں کا
فسانے تو بہت لکھے ہیں توُ نے گاؤں والوں کے

این اے ناصر
04-17-2012, 08:02 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔