PDA

View Full Version : انداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھا



ایم-ایم
11-18-2011, 10:49 AM
انداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھا
دیکھا نِکل کے گھر سے، تو جھونکا ہَوا کا تھا

اِس حُسنِ اتفاق پہ لُٹ کر بھی شاد ہوُں
تیری رضا جو تھی، وہ تقاضا وفا کا تھا

دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی،
یہ تیری یاد تھی کہ عمل کِیمیا کا تھا

اس رشتئہ لطیف کے اسرار کیا کھُلیں!
توُ سامنے تھا، اور تصوّر خُدا کا تھا

چھُپ چھُپ کے روؤں، اور سرِ انجمن ہنسوں
مُجھ کو یہ مشورہ میرے درد آشنا کا تھا

اُٹھا عجب تضاد سے انساں کا خمیر
عادی فنا کا تھا پُجاری بقا کا تھا

ٹُوٹا تو کِتنے آئنہ خانوں پہ زد پڑی
اٹکا ہوُا گلے میں جو پتّھر صَدا کا تھا

حیران ہوُں کہ دار سے کیسے بچا ندیم
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا

این اے ناصر
04-17-2012, 08:02 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔