PDA

View Full Version : آئے، کوئی انقلاب آئے



ایم-ایم
11-18-2011, 10:58 AM
آئے، کوئی انقلاب آئے
دل پر نہ مگر حجاب آئے

سیپی کے قفس کو توڑتے ہی
موتی میں بلا کی آب آئے

انساں کی کتابِ زندگی میں
کیوں کرب کے اِتنے باب آئے

جب میرا سوال ہے زمیں سے
افلاک سے کیوں جواب آئے

ذرّات کا ذکر ہو رہا ہے
کیوں بیچ میں آفتاب آئے

قرنوں پہ محیط علِم تیرا
لمحوں کا مُجھے حساب آئے

سیلابِ خود آگہی جب اُمڈا
کہسار بھی زیرِ آب آئے

زنداں سے تو مَیں نمٹ چُکا ہوُں
اب اور کوئی عذاب آئے

ہر روز نیا جنم لیا ہے
مُجھ پر تو کئی شباب آئے

جو شاخ تنے کی نفی کر دے
اس شاخ پہ کیا گلاب آئے

این اے ناصر
04-17-2012, 08:01 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔