PDA

View Full Version : مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں



ایم-ایم
11-18-2011, 11:01 AM
مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
ندیم کاش یہی ایک کام کر جاؤں

یہ دشتِ ترکِ محبت، یہ تیرے قرب کی پیاس
جو اِذن ہو تو تیری یاد سے گُزر جاؤں

میرا وجوُد، میری روُح کو پکارتا ہے
تیری طرف بھی جلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

تیرے جمال کا پر تو ہے سب حسینوں پر
کہاں کہاں تُجھے ڈُھونڈوں، کِدھر کِدھر جاؤں

میں زندہ تھا کہ تیرا انتظار ختم نہ ہو
جو تُو مِلا ہے، تو اب سوچتا ہوُں، مر جاؤں

تیرے سوا کوئی شائستۂ وفا بھی تو ہو
مَیں تیرے در سے جو اُٹھوں تو کِس کے گھر جاؤں

خدا کرے تیرا معیارِ عدل اور بلند
مَیں تیرے بزم سے کیسے بچشمِ تر جاؤں

یہ سوچتا ہوُں کہ مَیں بُت پرست کیوں نہ ہوُا
تُجھے قریب جو پاؤں، تو خوُد سے ڈر جاؤں

کِسی چمن میں، بس اِس خوف سے گُزر نہ ہوُا
کِسی کلی پہ نہ بھوُلے سے پاؤں دھر جاؤں

جراحتوں پہ جمی جا رہی ہے وقت کی گرد
ذرا لہوُ میں نہالوُں تو پھر سنور جاؤں

یہ جی میں آتی ہے تخلیقِ فن کے لمحوں میں
کہ خوُن بن کے رگِ سنگ میں اُتر جاؤں

این اے ناصر
04-17-2012, 08:01 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

نگار
07-04-2014, 02:11 AM
تیرے سوا کوئی شائستۂ وفا بھی تو ہو
مَیں تیرے در سے جو اُٹھوں تو کِس کے گھر جاؤں

:Ghelyon::Ghelyon: