PDA

View Full Version : جو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہے



ایم-ایم
11-18-2011, 11:05 AM
جو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہے
پندار کا درس دے رہا ہے

اس دَور سے کیا وفا کی اُمید
کیوں دن کو چراغ جل رہا ہے

میرے ہی نقوشِ پا سجا کر
صحرا میرا نام پوُچھتا ہے

نِکلا ہے یہ صُبح کا ستارہ
یا رات کی قبر کا دِیا ہے

آدم سے ابھی ہے جنگ جاری
صدیوں سے فلک تنا کھڑا ہے

اے نغمہ گرانِ عصرِ حاضر
آغوشِ خیال کب سے وا ہے

جب دل ہو رہینِ طاقِ نِسیاں
سر اپنے مدار سے جُدا ہے

مِٹی سے اگر بنا تھا آدم
انسان تو پیار سے بنا ہے

این اے ناصر
04-17-2012, 08:01 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔