PDA

View Full Version : اے گردشِ حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند



ایم-ایم
11-19-2011, 11:14 AM
اے گردشِ حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند
جِس میں شبِ وصال کا نشّہ ہو, لا وہ نیند

ہرنی سی ایک آنکھ کی مستی میں قید تھی
اِک عُمر جس کی کھوج میں پھرتا رہا ، وہ نیند

پُھو ٹیں گے اَب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب
آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند

کُچھ رَت جگے سے جاگتی آنکھوںمیں رہ گئے
زنجیرِ انتظار کا تھا سلسلہ، وہ نیند

دیکھا کُچھ اِس طرح سے کِسی خُوش نگاہ نے
رُخصت ہُوا تو ساتھ ہی لیتا گیا وہ، نیند

خُوشبو کی طرح مُجھ پہ جو بِکھری تمام شب
میں اُس کی مَست آنکھ سے چُنتا رہا، وہ نیند

گُھومی ہے رتجگوں کے نگر میں تمام عُمر
ہر رہگذارِ درد سے ہے آشنا، وہ نیند

تُو جس کے بعد حشر کا میلہ سجائے گا
میں جس کے انتظار میں ہُوں اے خُدا، وہ نیند

امجد ہماری آنکھ میں لَوٹی نہ پھر کبھی
اُس بے وفا کے ساتھ گئی بے وفا، وہ نیند

نگار
11-14-2012, 12:59 AM
اے گردشِ حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند


بہت خوب

pervaz khan
11-14-2012, 01:46 PM
زبردست