PDA

View Full Version : حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے



ایم-ایم
11-19-2011, 11:39 AM
حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے

کسی چراغ میں ہم ہیں ، کسی کنول میں تُم
کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے

وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشّے میں
تمام عُمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے


ہر اک صدا جو ہمیں باز گشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دوبارا کہ یہ دوبارا ہے

وہ منکشف مِری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارا ہے

عجب اُصول ہیں اِس کا روبارِ دُنیا کے
کِسی کا قرض کِسی اور نے اُتارا ہے

کہیں پہ ہے کوئی خوشبو کہ جِس کے ہونے کا
تمام عالمِ موجود ، استعارا ہے

نجانے کب تھا, کہاں تھا, مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گذاراہے

یہ دو کنارے تو دریا کے ہوگئے ، ہم تم
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے

این اے ناصر
04-16-2012, 10:03 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔