PDA

View Full Version : اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے



ایم-ایم
11-20-2011, 10:35 AM
اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے
نہیں تھا كُچھ سرِ محفل چراغِ شام سے پہلے

حُدی خوانو، بڑھاو لَے، اندھیرا ہونے والا ہے
پہنچنا ہے سرِ منزل چراغِ شام سے پہلے

دِلوں میں اور ستاروں میں اچانك جاگ اُٹھتی ہے
عجب ہلچل، عجب جِھلمِل، چراغِ شام سے پہلے

وہ ویسے ہی وہاں ركھی ہے، عصرِ آخرِ شب میں
جو سینے پر دھری تھی سِل، چراغِ شام سے پہلے

ہم اپنی عُمر كی ڈھلتی ہُوئی اِك سہ پہر میں ہیں
جو مِلنا ہے ہمیں تو مِل، چراغِ شام سے پہلے

ہمیں اے دوستو اب كشتیوں میں رات كرنی ہے
كہ چُھپ جاتے ہیں سب ساحل، چراغِ شام سے پہلے

سَحر كا اوّلیں تارا ہے جیسے رات كا ماضی
ہے دن كا بھی تو مُستَقبِل، چراغِ شام سے پہلے

نجانے زندگی اور رات میں كیسا تعلق ہے
اُلجھتی كیوں ہے اِتنی گلِ چراغِ شام سے پہلے

محبت نے رگوں میں كِس طرح كی روشنی بھر دی
كہ جل اُٹھتا ہے امجد دِل، چراغِ شام سے پہلے

این اے ناصر
04-16-2012, 10:02 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔