PDA

View Full Version : وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے



ایم-ایم
11-20-2011, 04:33 PM
وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے
ہار پہنانے مجھے پھول سے بازو آئے

بس گئی ہے مرے احساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں، تری خوشبو آئے

میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی
کوئی آہٹ نہ ہو مرے در پہ اور تو آئے

اسکی باتیں کہ گل و لالہ پر شبنم برسے
سب کو اپنانے کا اس شوخ کو جادو آئے

ان دنوں آپ کا عالم بھی عجب عالم ہے
شوخ کھایا ہوا جیسے کوئی آہو آئے

اس نے چھو کر مجھے پتھر سے انسان کیا
مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے

این اے ناصر
04-17-2012, 07:59 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

نگار
07-03-2013, 11:31 PM
اس نے چھو کر مجھے پتھر سے انسان کیا
مدتوں بعد مری آنکھ میں آنسو آئے

واہ بہت خوب،،بہترین شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت شکریہ