PDA

View Full Version : اب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوں



ایم-ایم
11-20-2011, 04:37 PM
اب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوں
دُنیا کی عنایت ہے کہ بھول گیا ہوں

آنکھوں سے نظر آتی ہے مجھ کو تری آہٹ
تو چاہے جہاں ہو میں تجھے دیکھ رہا ہوں

کیوں مجھ سے لرزتے ہیں دو عالم کے اندھیرے
میں چاند، نہ سورج، نہ ستارہ نہ دیا ہوں

کشکول کے بدلے میں انہیں تاج ملے ہیں
میں ہاتھ میں ایک جام لیے جھوم رہا ہوں

ہم دونوں کے اندر کوئی طوفان چھپا ہے
دریا بھی ہے ٹھہرا ہوا چپ میں بھی کھڑا ہوں

دریا میرے ہونٹوں کو ترستاہی رہے گا
پانی کے لیے اصغرِ معصوم رہا ہوں

این اے ناصر
04-17-2012, 07:59 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

نگار
12-01-2012, 11:45 PM
اب یاد نہیں آتا مجھے کون ہوں کیا ہوں
دُنیا کی عنایت ہے کہ بھول گیا ہوں

بہت ہی خوبصورت شعر ہے یہ ، زندگی کی عکاسی کرتا ہے
آپ کا بہت شکریہ