PDA

View Full Version : یونہی بے سبب نہ پھرا کرو



ایم-ایم
11-20-2011, 04:38 PM
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ، کوئی شام گھر بھی رھا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی ھا تھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ھے زرا فاصلے سے ملا کرو

ابھی راہ میں کئی موڑ ھیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمھیں جس نے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

مجھے اشتہار سی لگتی ھیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو،جو سنا نہیں وہ کہا کرو

نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ھو
اسے اتنی گرمی شوق سے بڑی دیر نہ تکا کرو

سیما
11-27-2011, 03:39 AM
زبردست کیا بات ہے آپکی:-)

این اے ناصر
04-17-2012, 07:52 PM
بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔