PDA

View Full Version : اسمبلیوںکے ٹوٹنے کا وقت آگیا؟



سیما
11-23-2011, 05:02 AM
متعدد لوگوں کی طرح مجھے بھی اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ پاکستان کے اچھے دن بس شروع ہونے والے ہیں،پیپلز پارٹی کی حکومت کے بارے میں ان کے اپنے لوگوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث اس کی بے چینی ، متحدہ قومی موومنٹ کی بوکھلاہٹ ، ان کی صفوں میںتشویش اوران کے کارکنوں میں پائی جانے والی غیر یقینی کی کیفیت،عمران خان اور تحریکِ انصاف کی اچانک غیر معمولی مقبولیت اور سب سے بڑھ کر عسکری قیادت کی سرگرمیاںاس بات کی نوید ہے کہ ملک کے برے دن ختم ہونے والے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کا وقت گزر چکا اور اب کل مدتی انتخابات کا انعقاد بھی مشکوک ہے چند روز قبل بلاول ہاﺅس کراچی میں اپنی پارٹی کے سینئر کارکنوں اوراراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہاتھا کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہی ہوں گے نہ ایک دن پہلے اور نہ ایک دن بعد ۔ لاہورمیں 30 اکتوبر کو ہونے والے تحریکِ انصاف کے جلسے کے بعد پیپلز پارٹی کو اس وقت شدید دھچکا لگاجب سابق وفاقی وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے دیرینہ لیڈر مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اور تحریکِ انصاف یا مسلم لیگ نواز میںشامل ہونے کا اشارہ دیا۔پیپلز پارٹی کی حکومت سے قوم کو ایک دو دن میں نہیں 3 سال سے زائد عرصے میں مایوسی ہوئی لوگوں کو اگرچہ اس حکومت سے آصف زرداری کے صدر بننے کے بعد سے کوئی خاص توقعات بھی نہیں تھیں لیکن اس قدر مہنگائی ، بیروزگاری ،امن و امان کی خراب صورتحال اورسیلابی کرپشن نے انہیں بے انتہا مایوس کیا جس کے نتیجے میں لوگ نئی قیادت کی طرف دیکھنے لگے اور قیادت کی تبدیلی کی امنگ اس قدر بڑھی کہ کل کے کرکٹر عمران خان سے وہ توقعات لگا بیٹھے جو کسی انقلابی لیڈر سے ہوتی ہیں ،پھر لاہور میں ہونے والے تحریکِ انصاف کے جلسے میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے لوگوں نے عمران خان سے محبت سے زیادہ موجودہ حکمرانوں سے نفرت اور مایوسی کا واضح اظہار کیا ۔ حقیقت ہی ہے کہ یہ جلسہ حکمرانوںکے اقدامات کے خلاف لوگوں میں پائے جانے والے غصے کا ردِعمل تھا ۔ لوگوں نے جمہوری انداز میں ہر قوت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ اگر ہم یہاںامیر جماعت اسلامی کے خدشات کی بات کریں تو اس کے امکانات بھی ہیں کیونکہ ماضی میں آصف زرداری نے جو بات زور دے کر کی وہ پوری نہیں کی،ان کا یہ کہنا کہ انتخابات شیڈول سے ایک دن پہلے نہ ایک دن بعد ہونگے لیکن جو قوت ان کی اس حکومت کو عوام کی شدید مخالفت کے باوجودسہارا دیتی رہی بلکہ غیر معمولی طور پر سپورٹ کرتی رہی اس اہم ترین عنصر کو بھی بدنام کرنے کے لیے آصف زرداری اور ان کی ٹیم سرگرم نظر آئی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جمہوریت کے نام پر اس حکومت کو مزید برداشت کیا جائے گا؟ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی دو دن کے دوران آصف زرداری اور وزیر اعظم گیلانی سے دو ملاقاتوں سے بھی اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ آرمی چیف اس بات سے شدید ناراض ہیں کہ حکومت کی امریکا میں مقرر کردہ شخصیت نے مبینہ طور پراپنی حکومت کے تحفظ کے لیے ملک کے اہم ترین ادارے کو بلاوجہ گھسیٹنے کی کوشش کی اور اس کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔حالانکہ چند ماہ قبل وزیر اعظم یوسف گیلانی انکشاف کرچکے ہیں کہ پہلی بار اسٹبلشمنٹ اور موجود حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ ملک میں جو حالات ہیںجن میں خاص طور پاکستان نژاد امریکی تاجر و صحافی منصور اعجاز اور پاکستان میں امریکی سفیر حسین حقانی سے جڑے معاملات ، ذوالفقار مرزا کے ملک کے خلاف کی جانے والی سازشوںکے انکشافات ، ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اوربڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ چند روز میں صدر اسمبلیاں توڑنے پر ” مجبور“ ہوجائیں گے اور اسمبلیاں توڑکر نئے انتخابات کی تاریخ اور عبوری حکومت کے قیام کا اعلان ازخود صدر آصف زرداری کریں گے۔ ایسا اس لیے نہیں ہوگا کہ فوج اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی ہے بلکہ اس لیے ہوگا کہ عسکری قیادت ہر گز جمہوری نظام کو ختم کرنے کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتی اور نہ چاہے گی۔ بہرحال اسی طرح پاکستان کے اچھے دنوں کی شروعات ہوجاے گی۔


بشکریہ جسارت نیوز پیپر