PDA

View Full Version : نبی صلی اللہ وسلم اور دنیا کی مثال



گلاب خان
11-23-2011, 09:38 AM
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بورئیے پر سوئے اور سوکر اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑے ہوئے تھے (یہ دیکھ کر ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لئے نرم بستر بچھادیں اور اچھے کپڑوں کا انتظام کردیں (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سخت بورئیے پر لیٹنے سے بے آرامی محسوس نہ کریں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا''(عزیز) مجھ کو اس دنیا (کے عیش وآرام) سے اور اس دنیا کو مجھ سے کیا سروکار؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے نیچے سایہ کی تلاش میں آئے اور وہاں کچھ دیر تک سایہ سے فائدہ اتھانے کے لئے) اپنی سواری ہی پر کھڑا رہے اور پھر اس درخت کو وہیں چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح: مالی وللدنیا میں حف ما، نفی کے لئے ہے اور اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو مجھے اس دنیا کے ساتھ کچھ الفت ہے اور نہ اس دنیا کو میرے ساتھ کوئی محبت والفت ہے کہ میں اس دنیا کے تئیں کوئی رغبت وچاہت رکھوں، اس کا عیش وآرام چاہوں اور اس کی بے آرامی سے بچنے کے لئے اس کی آرام دہ چیزوں جیسے نرم وگدیلے بستر اور نفیس واعلیٰ کپڑوں وغیرہ کا مالک بنوں۔ ویسے اس حرف ما کو استفہامیہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے(جیسا کہ ترجمہ میں اسی کو ملحوظ رکھا گیا ہے) اور اس صورت میں جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھ کو اس دنیا سے کون سی الفت ، محبت ہے یااس دنیا کی طرف میری رغبت ومیلان سے یا میری طرف اس دنیا کی رغبت والفت سے مجھے کون سی نفع بخش چیز حاصل ہوگی؟ کیونکہ میں تو آخرت کا طلبگا رہوں اور دنیا اس آخرت کی سوکن اور ضد ہے۔ درخت کے سایہ سے فائدہ اٹھانے کے ضمن میں خاص طور پر سوار ہی کا ذکر کرنا اس درخت کے نیچے اس کے ٹھہرنے ک مدت کے قلیل ہونے اور جلد ہی وہاں سے رخصت ہوجانے کی بناء پر ہے، یعنی یہ بات سب جانتے ہیں کہ کسی درخت کے سایہ سے فائدہ اٹھانے والا اگر کوئی سوار مسافر ہو، اور وہ اپنی سواری سے اترے بغیر اس درخت کے نیچے کھڑا ہے تو وہ وہاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتا۔ بلکہ بہت قلیل عرصہ کے لئے اس سایہ میں کھڑا رہ کر آگے چل دیتا ہے۔ نیزسوار کی مثال بیان کرنے سے اس طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس طرح کسی مسافر کی منزل مقصود جب دور ہوتی ہے تو وہ دوران سفر کسی راحت وآرام کی زیادہ پرواہ کیے بغیر زیادہ سے زیادہ راستہ طے کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہاں وہاں زیادہ ٹھہر کر اپنا وقت برباد نہیں کرتا اسی طرح ہم بھی اس دنیا میں ایک مسافر کی طرح ہیںکہ ہماری منزل مقصود یعنی آخرت بہت دور ہے اور اس کا راستہ کٹھنائیوں سے بھرا ہوا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی راہ آخرت کو زیادہ سے زیادہ طے کرنے کی سعی واہتمام کریں اور کسی بھی ایسی چیز کی طرف ملتفت اور مائل نہ ہوں جو منزل مقصود کی طرف ہمارے سفر میں رکاوٹ بن سکے۔

فیاض انصاری
03-08-2012, 10:59 AM
جزاک اللہ خیر

این اے ناصر
03-08-2012, 12:37 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔

اذان
03-08-2012, 01:50 PM
گلاب خاں جی آپ کی ہر پوسٹ بہت ہی زبردست ہوتی ہے
جزاک اللہ خیر:roseanimr:

عبادت
03-08-2012, 04:25 PM
جزاک اللہ

سیما
03-10-2012, 02:13 PM
السلام علیکم
جزاک اللہ گلاب بھائ ماشاء اللہ بہت ہی اچھی پوسٹ کی ہے۔ جو فضول خرچ لوگ ہیں ان کے لیے تو اور بھی فائدہ مند پوسٹ ہے

بےباک
03-10-2012, 07:48 PM
زبردست گلاب خان جی ، بہت خؤب

pervaz khan
07-06-2012, 07:38 PM
جزاک اللہ