PDA

View Full Version : گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے



ایم-ایم
11-23-2011, 04:03 PM
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اُداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

کبھی تو صبح کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ، یہ دل غریب سہی
تمھارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے

جو ہم پہ گزري سو گزري مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تري عاقبت سنوار چلے

حضور يار ہوئي دفتر جنوں کي طلب
گرہ ميں لے کے گريباں کا تار تار چلے

مقام، فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

این اے ناصر
04-16-2012, 10:46 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

نگار
07-02-2014, 11:31 PM
جو ہم پہ گزري سو گزري مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تري عاقبت سنوار چلے


بہت خوب
بہترین شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا شکریہ