PDA

View Full Version : اے نئے سال



ایم-ایم
11-23-2011, 04:17 PM
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی، تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر اک بات وہی
آسماں بدلا ہے افسوس نہ بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برس کی طرح ہونگے قرینے ترے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے ترے
جنوری، فروری اور مارچ میں پڑے گی سردی
اور اپریل، مئی، جون میں ہوگی گرمی
ترا انسان دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی میعاد ختم کر کے چلا جائے گا
تو نیا ہے تو دکھلا صبح نئی، شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
بے سبب دیتے ہیں کیوں لوگ مبارکبادیں
غالبا بھول گئے ہیں وقت کی کڑوی یادیں
تیری آمد سے گھٹے عمر جہاں میں سب کی
فیض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب سے

این اے ناصر
04-16-2012, 10:47 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔