PDA

View Full Version : تنہائی



ایم-ایم
11-23-2011, 04:18 PM
پھر کوئی آیا دل زار! نہیں کوئی نہیں

راہرو ہو گا' کہیں اور چلا جائے گا

ڈھل چکی رات' بکھرنے لگا تاروں کا غبار

لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ

سو گئی راستہ تک تک کہ ہر اک راہگزر

اجنبی خاک نے دھندلا دئے قدموں کے سراغ

گل کرو شمعیں،بڑھا دو مے و مینا و ایاغ

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

این اے ناصر
04-16-2012, 10:47 AM
واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔