PDA

View Full Version : اردو ادب و زبان میں خواتین کا حصہ



تانیہ
11-30-2010, 09:58 PM
اردو ادب و زبان میں خواتین کا حصہ

یہ درست ہے کہ علم وادب کو نقطہ عروج پر پہنچانے والوں میں اکثریت مردوں کی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ تاریخ میں اگر کسی زبان کو بقا ملی یا کسی زبان نے طویل عمر پائی ہے تو اِسکا سہرا مردوں کے مقابلے عورتوں کے سر ہے اور اسکی وجہ صرف اتنی ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا لوگوں سے میل ملاپ کم رہتا ہے بلکہ پچھلی صدیوں میں تو نہ ہونے کے برابر تھا مختلف النوع قوموں اور بھانت بھانت کے لوگوں سے دوری کے سبب عورتیں ہمیشہ بازاری زبان سے محفوظ رہیں اور پھر ایک خاص بات جو کہ زبان و بیان کے معاملے میں عورتوں کو مردوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ عورتیں کریہہ الفاظ کی جگہ ہمیشہ لطیف الفاظ استعمال کرتی ہیں بری سے بری بات بھی نفیس پیرائے میں بیان کرتی ہیں تاریخ پر نظر ڈالیں تو بیگمات کی زبان ہی الگ محسوس ہوتی ہے حتی کہ خلوت سے متعلق بھی پردہ پوش اصلاحات اور محاورے موجود ہوتے تھے مثلاً میلے سر ہونا، گود میں پھول جھڑنا، بات کرنا، دو جیاں ہونا اور ایسے بہت سے محاورے عورتوں نے ہی ایجاد کئے اور اُنکا چلن عام کیا۔

جو ہونی تھی وہ بات ہوئی کہاروں
چلو لے چلو میری ڈولی کہاروں
مُردُواں کہتا ہے آؤ چلو آرام کریں
جس کو اَرام یہ سمجھے ہے وہ آرام ہو نوج

ہر زبان کی لغت میں ایک ایسی فرہنگ موجود ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہی مخصوص ہے مردوں کی عام گفتگو میں یہ الفاظ شاذ ہی نظر آتے ہیں شاید اسی لیے مردوں کے مقابلے عورتوں کی لکھی کتابیں زیادہ عام فہم ہیں کہ عورتیں فطرتاً لسانی اعتبار سے مردوں کے مقابلے زیادہ تیز و طرار واقع ہوئی ہیں وہ سیکھنے کا شوق رکھتی ہے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں اور جواب دینے پر زیادہ قدرت، شاید اسی لیے دنیا بھر کی عورتیں باتونی مشہور ہیں اکثر عورتیں نئی نئی اصلاحات وضع کر لیتی ہیں نئے محاورے ایجاد کرتی ہیں، سید ضمیر حسن دہلوی تو یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ۔ ۔ ۔ عورتوں کی زبان سے خدا بچائے، بیگمات کی بول چال سے گو کان آشنا نہیں، آنکھوں نے اوراق پارینہ میں اُنکی جھلکیاں دیکھی ہیں اُنکے ممتاز محاوروں پر نظر ڈالیئے تو آنکھوں کے سامنے رمز و کنائے کا ایک رنگین چمن ہوگا اُنکی صناعی طباعی کا جوہر منہ بند کلیوں کی طرح کھلتا اور خندہ مل کی طرح مہکتا نظر آتا ہے۔

زبان سے ملک کا سکہ ہے عورت
انوکھا ہے چلن سارے جہاں سے
زبان کا فیصلہ ہے عورتوں پر
یہ باتیں مردوئے لائیں کہاں سے

عورتیں اپنے گرد و پیش سے صرف مخصوص اور لطیف الفاظ چنتی ہیں اُنکے ہاں لطیف الفاظ کی کوئی کمی نہیں بلکہ دن بدن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اردو نثر میں عورتوں کی بول چال کی سحر کاری کم و بیش طلسمِ باغ و بہار اور دیگر نثری داستانوں میں سمٹ آئی ہیں بیگمات اپنی زبان اور محاوراتی اسلوب میں کنائے ،رمزیت،تشبیہ، تمثیل، مصوری اور محاکات کے سارے جوہر محفوظ کرلیتی تھی اسی لیے جب ہم اوراق پارینہ کی گرد جھاڑتے ہیں تو کچھ نہایت لطیف صوتی اثرات ہماری سماعتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہم حیرت سے اپنے اردگرد وہ الفاظ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اب نہ اردو معلی رہی، نہ گلی کوچہ میں بولے جانے والا ریختہ اور نہ ہی نئے نئے الفاظ ایجاد کرنے والی بیگمات، مزید ستم یہ کہ نام نہاد جمہوری انقلابات نے ماضی کی وہ تمام امتیازی قدریں اُکھاڑ پھینکی جو کبھی اردو زبان کی اساس تھیں بس ہیں تو وہ مرد و زن جو بچھڑی زبان بولتے ہیں زبان کے حسن کا رونا رونے والے قصہِ پارینہ ہوگئے اور کل ہم بھی ناپید ہوجائینگے۔

جس چیز کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں آپ
اس کے لئے پرندے کا وجدان کافی ہے
منزل سے ہم ہزاروں برس دُور ہو گئے
بس کر دے مہربان، یہ احسان کافی ہے

علی عمران
12-01-2010, 06:06 PM
واہ جی واہ خواتین زندہ باد..........ہاہاہاہاہا