PDA

View Full Version : نیٹو کے پاکستان پر حملے



بےباک
11-27-2011, 03:15 AM
نیٹو حملے میں 24 ہلاک، حکومت اور فوج کا احتجاج
پاکستانی فوج کے مطابق قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سلالہ کے علاقے میں دو پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس میں کم سے کم چوبیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20111127/Sub_Images/1101386957-1.jpg
میجرمجاھد میرانی شہیداور کیپٹن عثمان شہید

حکومتِ پاکستان اور پاکستانی فوج نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے جبکہ برسلز میں نیٹو حکام سے بھی تحریری طور پر احتجاج کیا گیا ہے۔
نیٹو نے کہا ہے عین ممکن ہے کہ سرحدی چوکی پر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت میں اس کا ہیلی کاپٹر ملوث ہو۔ نیٹو کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل کارسٹن جیکبسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔

پشاور میں ایک اعلٰی فوجی اہلکار نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے قریباً پچاس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل بائیزئی کے علاقے سلالہ میں پیش آیا اور ایساف اور نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے ایسی دو پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جو سرحد پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قائم کی گئی ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ نیٹو کی بمباری سے دوردراز پہاڑی سلسلوں پر واقع یہ دونوں چوکیاں تباہ ہوگئیں اور ہلاک ہونے والوں میں ایک میجر اور کیپٹن بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کا احتجاج

پاکستانی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا جہاں ان سے اس بلااشتعال حملے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

بیان کے مطابق صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور حکومتِ پاکستان ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور یہ نہ صرف ناقابلِ قبول اور پاکستان کی سالمیت اور بلکہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے پر وزیراعظم نے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ ایساف کی اس دانستہ اور ناقابلِ قبول حرکت کی مذمت کرتے ہیں جس میں پاکستانی فوجیوں کی جانیں گئیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ نے ہدایت کی ہے اس غیرذمہ دارانہ قدم کے موثر جواب کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں جبکہ نیٹو اور ایساف سے اس معاملے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے جس میں اس جارحیت کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور نیٹو کے طیاروں نے اس سے پہلے بھی کئی بار پاکستان کے سرحد کے اندر کارروائیاں کی ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے قبائلی جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب امریکی طیاروں نے پاکستان کے اندر کارروائی کرتے ہوئے ایک مکان کے اندر اکیس افراد کو ہلاک کردیا تھا جس میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔:@:@:@

بےباک
11-27-2011, 03:18 AM
رسد کی بندش، شمسی بیس خالی کروانے کا فیصلہ ، یاد رکھیے پاکستان پر یہ نیٹو کا چھٹا حملہ ہے
پاکستانی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے نیٹو ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نیٹو/ایساف کی سپلائی لائن فوری طور پر بند کرنے اور امریکہ سے پندرہ دن میں شمسی ایئر بیس خالی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیٹو کے ہیلی کاپٹرز نے جمعہ اور سنیچر کی درمیابی شب مہمند ایجنسی میں سلالہ کے علاقے میں دو پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی اور اس حملے میں چوبیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔
حکومتِ پاکستان اور پاکستانی فوج نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا جبکہ وزیراعظم نے اسی سلسلے میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا تھا۔

دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس سنیچر کی شب وزیراعظم کی زیرِ صدارت منعقد ہوا اور اس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ وفاقی وزراء ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم سیکرٹیریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی نے ان حملوں کو اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت ہر دفاع کیا جائے گا۔

دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ وزیرِ اعظم امریکہ، نیٹو اور ایساف سے تعاون کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔

اس اجلاس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ ’نیٹو کارروائی ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ پاکستانی قوم متحد ہے اور وہ کسی کو ایسے حملے اجازت نہیں دے گی‘۔
اسی اجلاس میں چودہ مئی سنہ 2011 کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت نیٹو اور ایساف کو پاکستان کے راستے رسد کی فراہمی فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ سے کہا جائے گا کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر شمسی ایئر بیس خالی کر دے۔

شمسی ایئر بیس بلوچستان کے قصبے دالبندین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ایک چھوٹا ہوائی اڈہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں کے لیے جاسوس طیارے یا ڈرونز یہاں سے اڑاتا رہا ہے۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی امریکیوں سے یہ ہوائی اڈہ خالی کروانے کی باتیں سامنے آئی تھیں اور پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ اب یہ اڈہ آپریشنل نہیں ہے۔

کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے نیٹو کی کارروائی کو اس کے اپنے مینڈیٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کمیٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ نیٹو اور ایساف سے سفارتی، سیاسی، فوجی اور انٹیلیجنس تعاون کے تمام پروگراموں اور معاہدوں کا مکمل جائزہ لے۔

اس سے قبل نیٹو نے کہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ سرحدی چوکی پر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت میں اس کا ہیلی کاپٹر ملوث ہو۔

نیٹو کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل کارسٹن جیکبسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔

سیما
11-27-2011, 03:18 AM
یہ کون سی نیو بات ہے ۔اب تو یہ روز کا معمول بن گیا ہے :@:@:@:@

سرحدی
11-28-2011, 11:30 AM
بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے، بات تو حقیقتاً نئی نہیں ہے، لیکن یقیناً دکھ کی ہے۔ ہم اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اُن کے نہ ہوسکے تو اللہ جانے آگے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
کفِ افسوس مَلنے کے اور کر ہی کیا سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ملک دشمن افراد سے بچائے۔

بےباک
03-27-2012, 09:50 AM
http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120327-s1.gif