PDA

View Full Version : اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم



سقراط
11-28-2011, 08:36 PM
صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ تین افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے ۔ انہوں نے پردے کے پیچھے سے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں پوچھا ، ان کی خواہش تھی کہ ہماری رات کی عبادت اس کا طریقہ اور اس کا وقت بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ اور وقت کے مطابق ہو ، بالکل ویسے کریں جیسے اللہ کے پیغمبر کیا کرتے تھے ۔

حدیث کے الفاظ ہیں :
فلما اخبروا تقالوھا

جب انہیں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو تھوڑا سمجھا ۔ پھر خود ہی کہا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ معاف کر دئیے ہیں اور ہم چونکہ گناہ گار ہیں لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئیے ۔ چنانچہ تینوں نے کھڑے کھڑے عزم کر لیا ۔ ایک نے کہا میں آج کے بعد رات کو کبھی نہیں سوؤں گا بلکہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے میں گزاروں گا ۔ دوسرے نے کہا میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں آج کے بعد اپنے گھر نہیں جاؤنگا اپنے گھر بار اور اہل و عیال سے علیحدہ ہو جاؤں گا تا کہ ہمہ وقت مسجد میں رہوں ۔ چنانچہ تینوں یہ بات کہہ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ تین افراد آئے تھے اور انہوں نے یوں عزم ظاہر کیا ۔

جب امام الانبیاءنے یہ بات سنی تو حدیث کے الفاظ ہیں :
فاحمر وجہ النبی کانما فقع علی وجھہ حب الرمان

” نبی علیہ السلام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا یوں لگتا تھا گویا سرخ انار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نچوڑ دیا گیا ہے اتنے غصے کا اظہار فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ کیا بات کی ؟ کیا کرنے کا ارادہ کیا ؟ پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنا عمل بتایا کہ میں تو رات کو سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں ، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میرا گھر بار ہے اور میری بیویاں ہیں ۔ میں انہیں وقت بھی دیتا ہوں اور اللہ کے گھر میں بھی آتا ہوں ۔ یہ میرا طریقہ اور سنت ہے جس نے میرے اس طریقے سے اعراض کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہ ہے ۔ یعنی جس نے اپنے طریقے پر چلتے ہوئے پوری پوری رات قیام کیا ۔ زمانے بھر کے روزے رکھے اور پوری عمر مسجد میں گزار دی اس کا میرے دین سے میری جماعت سے میری امت سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔ وہ دین اسلام سے خارج ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی محنت کا نام نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام نیکی ہے ۔ ایک عمل اس وقت تک ” عمل صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تائید اور تصدیق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا ۔ کیونکہ وہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور منہج کے خلاف تھا ۔ یاد رہے کہ کوئی راستہ بظاہر کتنا ہی اچھا لگتا ہو اس وقت تک اس کو اپنانا جائز نہیں جب تک اس کی تصدیق و تائید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا ایک نمازی سے مکالمہ :

سیدنا حذیفہ بن یمان نبی علیہ السلام کے رازدان صحابی تھے انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا ! یہ نماز آپ کب سے پڑھ رہے ہیں ؟ اس نے کہا چالیس سال سے ۔ فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ایک بار میرے طریقے کے مطابق وضو کیا اور پھر ایک بار میرے طریقے کے مطابق نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کی سابقہ زندگی کے تمام گناہ معاف کر دے گا ۔
( سنن نسائی ، ح : 144 ) ۔

ایک طرف ایک چالیس سالہ نمازی اور وہ بھی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم نے چالیس سال کی نمازوں کے باوجود ایک نماز بھی نہیں پڑھی اور ایک طرف یہ وسعت ہے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ایک نماز صحیح وضو کر کے پڑھ لے اللہ تعالیٰ سابقہ تمام گناہوں کو معاف کر دیں گے ۔ قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ ادھر بھی نماز ہے اور ادھر بھی نماز ہے ۔ وہاں چالیس سال کی نمازیں اور یہاں ایک وقت کی صرف دو رکعت نماز ۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی ، کوئی ثواب نہیں اور دوسری طرف فرمایا جا رہا ہے کہ اس ایک نماز سے سابقہ زندگی کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ کیا فرق ہے اور کون سا فرق ہے ؟ سچ ہے : محمد فرق بین الناس ( بخاری ، ح : 7281 )

یہ فرق کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔


۔ آج بھی لوگ نمازیں پڑھتے ہیں ۔ محنتیں کرتے ہیں ، عبادتیں اور ریاضتیں کرتے ہیں لیکن ایک بار یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی نمازوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پر پیش کر کے دیکھیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیا تھی ؟ اور ہماری نمازوں کی کیا حالت ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے یہ وقت آئے گا کہ مساجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہونگی اور بڑی بڑی مسجدیں ہونگی لیکن اکثریت ان نمازیوں کی ہو گی جنہیں ان کی نماز کا ثواب نہیں ملے گا ۔ صرف اسی نماز کا ثواب ملے گا جو اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق ہو گی اور جو آپ کے طریقے اور سنت کے خلاف ہے وہ غلط اور باطل ہے اس میں کوئی اجر و ثواب نہیں بلکہ الٹا وبال جان ہے ۔

ایک روزے دار کا جذبہ اور فیصلہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم :

ایک صحابی نبی علیہ السلام کے پاس آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ کمزور سا ہو گیا ہے پوچھا کہ تم کمزور کیوں ہو گئے ہو ۔ صحابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان کی تھی ۔ اس پر میں نے عمل کیا اتنا عمل کیا کہ کمزور ہو گیا ہوں ۔ وہ حدیث یہ تھی کہ ” جو اللہ کیلئے ایک روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال دور کر دیں گے ۔ “ ( بخاری )

میں نے سوچا کہ اتنی بابرکت حدیث کہ ایک روزے سے جہنم ستر ( 70 ) سال دور ہو جائیگی تو ہر روز روزہ رکھنے کا کتنا ثواب ہوگا ؟ چنانچہ میں نے عزم کر لیا کہ ہمیشہ روزے رکھوں گا اور اپنے عزم کے مطابق ہر روز باقاعدگی سے روزے رکھنے شروع کر دئیے جس کی بناءپر مجھ میں ضعف اور کمزوری پیدا ہوئی ۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابی کے اس عمل پر اسے شاباش نہ دی بلکہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔
لا صام من صام الابد ( بخاری و مسلم )

” جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے ( گویا ) روزہ نہیں رکھا ۔ “

یعنی ایک روزے کا بھی ثواب نہ ملا ۔ کیونکہ سال بھر کے روزے اگرچہ عمل کے اعتبار سے ڈھیر ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج اور طریقے کے خلاف ہیں ۔ ایک طرف سال بھر کے روزے رکھنے والے کو ایک روزے کا ثواب بھی نہیں ملا

جبکہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
من صام ایام البیض فکانما صام الدھر
” جس نے ایام بیض ( یعنی چاند کی 13 ، 14 ، 15 تاریخ ) کے روزے رکھے گویا اس نے زمانے بھر کے روزے رکھے ۔ “

یعنی صرف تین روزوں کا ثواب زمانے بھر کے روزوں کے ثواب کے برابر ہے ۔ اس لئے کہ عمل کی صالحیت کثرت اور محنت سے نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ہے ۔ کیونکہ اسوہ حسنہ ، آئیڈیل ، کسوٹی اور مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔


سفر حج میں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیہوشی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ :

صحیح بخاری کتاب الایمان میں حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج میں ایک شخص بیہوش ہوگیا لوگ اس کو سنبھال رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ جونہی اس آدمی پر پڑی تو پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ایک شخص یہاں بے ہوش پڑا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیہوشی کا سبب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا جب یہ آدمی گھر سے نکلا تو سوچا کہ سفر حج بڑا بابرکت ہے اور مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور ساتھ بھی نصیب ہوا ہے اور دین اسلام میں تکلیف جس قدر زیادہ ہو اتنا ہی زیادہ ثواب ملتا ہے لہٰذا جب تک یہ سفر قائم ہے اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گا نہ پانی پیؤں گا ، نہ سواری پر بیٹھوں گا بلکہ پیدل چلوں گا اور لوگ جہاں پڑاؤ ڈالیں گے وہاں سائے تلے نہیں بیٹھوں گا بلکہ تپتی دھوپ میں بیٹھوں گا تا کہ تکلیف زیادہ ہو تو ثواب بھی زیادہ ملے ۔ چنانچہ بھوکا ، پیاسا اور پیدل چل رہا ہے بالآخر بیہوش ہو کر گر پڑا نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ ” اس نے جس تکلیف میں اپنے آپ کو ڈالا ہے اللہ ناراض ہو چکا ہے ۔ ( اسے بتلاؤ ) اگر یہ چاہتا ہے کہ اللہ راضی ہو ، حج مقبول ہو تو کھانا کھائے ، پانی پئے ، سائے تلے بیٹھے اور سواری پر سوار ہو ۔ “ اس لئے کہ میں کھا رہا ہوں ، پی رہا ہوں ، سواری پر سوار ہوں ، سائے تلے بیٹھ رہا ہوں

تو ایک عمل کی صالحیت ہماری خواہش پر قائم نہیں کہ ہمیں فلاں کام اچھا لگتا ہے لہٰذا وہ اچھا ہوگا ۔ نہیں ! اچھا کام تب ہی ہو گا جب اس کی تائید اور موافقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں ۔ کیونکہ اسوہ حسنۃ ، میزان اکبر اور فرق صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

ام المومنین زینب رضی اللہ عنہ کا عمل اور میزان رسول صلی اللہ علیہ وسلم :

ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں دیکھا کہ ایک رسی بندھی ہوئی لٹک رہی ہے ۔ پوچھا یہ رسی کس کی ہے بتایا گیا کہ یہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہ کی رسی ہے ۔ وہ رات کو قیام کرتی ہیں جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو رسی کا سہارا لے لیتی ہیں جس سے کچھ تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس رسی کو اکھاڑ دو ، کھول دو اور زینب رضی اللہ عنہ سے کہو اس وقت تک قیام کرے جب تک طاقت اور استطاعت ہو جب تھک جاؤ تو رسی کو پکڑنے کی بجائے آ کر سو جاؤ ۔ نماز میں رسی کے سہارے لینا اور تھکاوٹ کے باوجود نفل پڑھنے کی کوشش کرنا میرے منہج اور طریقے کے خلاف ہے ۔

معلوم ہوا ، کوئی عمل خواہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہ کیوں نہ اپنا لے جب تک اللہ کے پیغمبر کی تائید نہ ہو گی وہ عمل صحیح اور قابل قبول نہ ہو سکے گا ۔ عمل کی قبولیت کسی صحابی کی پسند پر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ کی چاہت پر ہے ۔

ابوبردۃ بن نیار رضی اللہ عنہ کے جذبات اور اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :
صحیح بخاری کتاب الاضاحی میں حدیث ہے کہ معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز کیلئے عیدگاہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ نالی سے بہتا ہوا خون دیکھا تو پوچھا یہ کس کا گھر ہے ؟ تحقیق کی تو پتہ چلا یہ گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار ساتھی ابوبردۃ بن نیار رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ ان کو بلایا گیا اور کہا اے ابوبردۃ بن نیار ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ ابھی ہم نے عید کی نماز ادا ہی نہیں کی آپ نے پہلے ہی جانور ذبح کر دیا ہے ۔ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے میرے سارے پڑوسی غریب اور مسکین ہیں میں نے چاہا کہ جلدی جلدی اپنا جانور ذبح کر کے ان کو گوشت کھلاؤں تا کہ آج کے دن ان کو انتظار نہ کرنا پڑے ۔ لہٰذا میں نے فجر کی نماز پڑھتے ہی جانور ذبح کر دیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اے ابوبردۃ رضی اللہ عنہ ( اذبح مکانھا شاۃ ) اللہ نے تمہاری قربانی قبول نہیں کی اس لئے کہ تمہاری قربانی ہمارے طریقے اور سنت کے خلاف تھی ۔ مسنون طریقہ یہ تھا کہ پہلے نماز پھر قربانی ۔ تم نے قربانی پہلے کر دی نمازبعد میں ادا کرو گے ۔ ترتیب الٹ ہو گئی اب تمہیں قربانی کیلئے ایک اور جانور ذبح کرنا پڑے گا ۔

یہ دین جذبات کا نام نہیں ہے ۔ جذبات خواہ کتنے پاکیزہ ہوں ایک عمل خواہ کتنا اچھا ہو لیکن اس وقت تک کوئی عمل ، عمل صالح نہیں بنتا جب تک اس کی تصدیق اور تائید اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرما دیں ۔


جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلیٰ ناراً حامیۃ
( الغاشیۃ : 1-4 )

قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل و رسوا ہونگے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ عمل نہیں کرتے تھے ، محبت اور کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے عمل کرتے کرتے تھک جایا کرتے تھے لیکن یہ دھکتی ہوئی جہنم کی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ۔ بے تحاشا عمل کرنے والے محنتیں اور ریاضتیں کرنے والے ، صبح و شام سفر کرنے والے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے ۔ کیوں ! اس لئے کہ ان کا عمل اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کے مطابق نہ تھا ۔ قرآن و حدیث کے مطابق نہ تھا ۔ اگر عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کو بلا جھجک اور بلا چوں و چراں تسلیم کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہے اور یہی ایمان ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے ، عمل اور منہج کو کتاب و سنت اور صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے طریقے کے مطابق بنا دے ۔ تا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اپنا مرکز اطاعت ٹھہرا لیں ۔

( آمین)