PDA

View Full Version : نیٹوکے جال میں واپسی کی تیاریاں



سیما
12-07-2011, 07:24 AM
-حالات اسی رخ پر جارہے ہیں جس کا خدشہ بلکہ یقین تھا کہ کچھ دن آنا کانی اور غصہ دکھانے کے بعد معاملات پہلے کی طرح چلائے جائیں گے۔ ابھی کھل کر تو کچھ نہیں کہا گیا لیکن اشارے ایسے ہی ملے ہیں جو بالکل واضح ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے تو امریکی جنگ سے نکلنے اور ناٹو سپلائی مکمل بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن دو روز بعد ان فیصلوں کی توثیق کے باوجود دفتر خارجہ کے ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے ناٹو سپلائی کی بحالی کے لیے شرائط پیش کردیں کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث ناٹو اہلکاروں کے خلاف کارروائی، آئندہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کرنے اور دوبارہ ایسا واقعہ پیش نہ آنے سمیت امریکی امداد کی غیر مشروط فراہمی کی تحریری یقین دہانی کرانی ہوگی۔ دوسری طرف ناٹو کو پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کا سامنا ہے اور رسد بند ہونے کی وجہ سے چمن بارڈر پر سینکڑوں کنٹینرز اور آئل ٹینکرز جمع ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات اور تعاون چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کہتی ہیں کہ نئی شرائط پر تعاون ہوگا۔ یہ ساری گفتگو بتارہی ہے کہ ہماری حکومت دوبارہ اسی ناٹو نیٹ ورک کا حصہ بننے جارہی ہے۔ یہ جو دس روزہ بندش ہے جو ممکن ہے ایک دو روز میں کھل جائی، اس جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے ملک بھر میں عاشورہ کے موقع پر کوئی ہنگامہ بھی کرایا جاسکتا ہی، پھر لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور ناٹوکو بھول جائیں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اب تک ناٹو حملوں میں جو 3 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہی، اور بعد میں بھی جو ہوں گے ان کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پاک فوج کی چوکی پر حملہ ہوا تو ناٹوکی سپلائی روک دی گئی تھی، اور اب بھی سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد اسی قدر غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر واضح طور پر کہا جائے کہ ناٹو حملوں سے عوامی نقصان پر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ دو تین روز قبل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، اس میں سخت ناراضی کا اظہار، ناٹو سپلائی بند کرنے کا حکم اور صدر اور وزیراعظم کی جانب سے اس کی توثیق کے بعد ناٹو سپلائی بحال کرنے کے لیے شرائط کہاں سے آگئیں! دفتر خارجہ میں کون اتنا بڑا قدم اٹھا سکتا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کوئی بات کرے اور دفتر خارجہ اس کے الٹ بات کری....؟؟ صاف ظاہر ہے کہ عوامی جذبات کا خیال رکھنے کی باتیں محض روایتی ہیں اور اب ایک بار پھر پاکستان کو ناٹو جال میں پھنسانے کی تیاریاں ہیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ ملکی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا؟ سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں میں ملوث ناٹو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا تو مطالبہ کردیا گیا لیکن اب تک 3 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی شہادت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ اول تو کوئی ملک اس قسم کی تحریری یقین دہانی نہیں کروا سکتا کہ آئندہ دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا، دوسرے یہ کہ جو بات بچہ بچہ کہہ رہا تھا ”صرف معافی سے کام نہیں چلے گا، ڈالر دو“ تو وہ اپنی شرائط کے آخر میں ڈال دیا گیا کہ امریکی امداد کی غیر مشروط فراہمی کی تحریری یقین دہانی کرائی جائے۔ یہ امداد تو غیر مشروط ہی تھی، شرائط تو بعد میں عائد کی گئی تھیں۔ ایک طرف پاکستان امریکا پر دباو ڈال رہا ہے تو دوسری طرف امریکا کی جانب سے پاکستان پر پھر دباو بڑھایا جارہا ہے۔ امریکی سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی حقانی نیٹ ورک کی حمایت کررہی ہی، حقانی نیٹ ورک امریکیوں کے قتل میں ملوث ہی، پاکستان کی امداد امریکا سے تعاون سے مشروط کی جائے۔ یہ ہے پاکستانی دفتر خارجہ کی شرائط کا جواب۔ اب جو کچھ ہوگا وہ سودے بازی ہوگی۔ پاکستان اپنی کچھ شرائط نرم کرے گا اور امریکا اپنے الزامات کو کچھ ہلکا کرے گا، اس کے بعد دو طرفہ تعاون پھر شروع ہوجائے گا۔ پاکستان کے سرحدی علاقوںکے عوام اب ایک بار پھر جنازے اٹھانی، احتجاج کرنے اور مذمت کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، اس لیے کہ وہ صرف اتنا ہی کرسکتے ہیں۔ ناٹو سپلائی بند کرنا بھی ان کے بس میں نہیں، کیونکہ انہیں وہاں تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔ پاکستان کی جانب سے نرمی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دوسرے حلقوں سے بھی اسی قسم کی باتیں کی جارہی ہیں۔ کل تک پیپلزپارٹی کے اہم رہنما شاہ محمود قریشی جو آج تحریک انصاف میں ہیں، امریکا سے باوقار دوستی کی بات کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ پاکستان بون کانفرنس میں سفیر کو بھیجی.... پھر بائیکاٹ کہاں گیا! بہرحال شاہ محمود قریشی کے بہت گہرے رابطے دفتر خارجہ میں اور ملک کے باہر مختلف اداروں سے ہوں گی، ان کی جانب سے یہ تجویز محض ہوائی نہیں۔ اور حنا ربانی کھر کا یہ کہنا کہ امریکا و ناٹو سے تعاون کی نئی شرائط لازمی ہوگئیں، بھی اشارہ دے رہا ہے کہ دفتر خارجہ ہی دراصل خارجیوں کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔ ایک اور اہم بات قابلِ توجہ ہے کہ سخت سیکورٹی میں جانے والے ناٹو ٹینکرز یا کنٹینرز کو اڑا دیا جاتا تھا، اب 10 روز سے چمن پر ناٹو کے کنٹینرز جمع ہیں اور دوچار نہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، تو یہ حقانی نیٹ ورک، یہ طالبان.... وغیرہ کہاں گئی.... اب تک تو دس بیس ٹینکرز اور کنٹینرز تباہ ہوجانے چاہیے تھے۔ اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

سیما
12-07-2011, 07:27 AM
ایک اور اہم بات قابلِ توجہ ہے کہ سخت سیکورٹی میں جانے والے ناٹو ٹینکرز یا کنٹینرز کو اڑا دیا جاتا تھا، اب 10 روز سے چمن پر ناٹو کے کنٹینرز جمع ہیں اور دوچار نہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں، تو یہ حقانی نیٹ ورک، یہ طالبان.... وغیرہ کہاں گئی.... اب تک تو دس بیس ٹینکرز اور کنٹینرز تباہ ہوجانے چاہیے تھے۔ اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔


ہاہااہاہہا یہ تو زبردست بات ہے نا جس کا جواب کسی کے پاس نھی ہے:(امریکا کے پاس بھی نہین :@