PDA

View Full Version : حسینی برہمن کون ہیں ؟



تانیہ
12-07-2011, 11:46 AM
واقعہ کربلا کے عظیم المیہ نے حق پسند انسانی معاشرے اور انسانی تہذیب کو ہر دور میں متاثر کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں شہید انسانیت امام حسین علیہ السلام کی یاد نہ صرف مسلم معاشرہ کی تہذیبی و تاریخی روایت رہی ہے بلکہ غیرمسلم معاشرہ میں انسانیت کے اس عظیم رہنما کی یاد بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ عصر حاضر میں بھی قائم ہے۔ مشترکہ تہذیب کے گہوارہ ہندوستان میں ہندوﺅں کی امام حسین علیہ السلام سے غیر معمولی عقیدت کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

حسینی برہمن کون ہیں ؟

ہندوؤں میں ایک خاندان یا فرقہ حسینی برہمن بھی کہلاتا ہے جن کے آباؤ اجداد میں سے کوئی ہندوستان سے جا کر میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے شانہ بشانہ لشکر یزید سے لڑے اور جاں بحق ہوئے۔ معروف لکھاری انتظار حسین اپنے انگریزی کالم Brahmans in Karbala میں لکھتے ہیں کہ وہ پہلے حسینی برہمن کو صرف ہندو افسانہ (Legend) ہی سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے قیام دہلی کے دوران کسی محفل میں تقریر کرتے ہوئے اس بات کو جھٹلا دیا۔ وہیں اس محفل میں ایک خاتون مدبر پروفیسرنونیکا دت اٹھی اور انھوں نے کہا کہ وہ خود حسینی برہمن ہے اور ان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ بعد میں اپنے بزرگوں کے بارے میں لکھی گئی دو انگریزی کی کتابیں بھی لے کر آئیں جو بہت عرصہ پہلے شائع ہوئی تھیں۔ خاتون نے بتایا کہ ان کے جدِ امجد راہیب دت اپنے سات بیٹوں اور دو دوسرے برہمنوں کے ساتھ مل کر ہندوستان سے اس مشن میں حصہ لینے گئے تھے۔ ان میں سے ایک یعنی راہیب دت بچ کر واپس آئے۔ وہ افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے اور سیالکوٹ کے ایک گاؤں وتن ورن Vatan Viran کے مقام پر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد یہ خاندان بھارت چلا گیا اور یہ لوگ مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ اس نے مزید بتایا کہ مشہور فلمی اداکار سنیل دت کا تعلق بھی انہی حسینی برہمنوں کے خاندان سے ہے جس کی تصدیق فلمی اداکار منوج کمار نے بھی کی۔ بلکہ نرگس کے والد بھی پہلے حسینی برہمن تھے بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ راہیب دت واپسی پر اپنے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایک بال مبارک بھی لے کر آئے تھے جو کشمیر میں کسی جگہ موجود ہے۔ انتظار حسین نے نونیکا دت سے پوچھا کہ گویا آپ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ ہم ہندو برہمن ہی ہیں مگر حسینی ہونے کے ناتے ہم مندروں وغیرہ میں نہیں جاتے نہ دوسری ہندوانہ رسومات ادا کرتے ہیں اور یہ کہ وہ محرم کے دنوں میں امام حسین علیہ السلام کا ماتم بھی کرتے ہیں اور اپنے شہیدوں کی یاد بھی مناتے ہیں۔

واقعہ کربلا کے عظیم المیہ نے حق پسند انسانی معاشرے اور انسانی تہذیب کو ہر دور میں متاثر کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں شہید انسانیت امام حسین علیہ السلام کی یاد نہ صرف مسلم معاشرہ کی تہذیبی و تاریخی روایت رہی ہے بلکہ غیرمسلم معاشرہ میں انسانیت کے اس عظیم رہنما کی یاد بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ عصر حاضر میں بھی قائم ہے۔ مشترکہ تہذیب کے گہوارہ ہندوستان میں ہندوﺅں کی امام حسین علیہ السلام سے غیر معمولی عقیدت کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

ہندوستان کے سابق رجواڑوں میں بھی ہندو حضرات کے یہاں امام حسین ؑسے عقیدت اور عزاداری کی تاریخی روایات ملتی ہیں جس میں راجستھان، گوالیار، مدھیہ پردیش قابل ذکر ہیں۔ جھانسی کی رانی مہارانی لکشمی بائی کو امام حسین علیہ السلام سے غیرمعمولی عقیدت تھی۔ پروفیسررفیعہ شبنم نے اپنی کتاب ”ہندوستان میں شیعت اور عزاداری” میں جھانسی کی رانی کے تعلق سے لکھا ہے کہ ”وہ یوم عاشورہ بڑے خلوص و عقیدت کے ساتھ مجلس عزا برپا کرتی تھی۔ مہارانی لکشمی بائی کی قائم کردہ مجلس اب تک جھانسی پولیس کوتوالی میں منعقدکی جاتی ہے جہاں پہلے اس رانی کا قلعہ تھا، جس نے امام حسین ؑ سے حق پر ڈٹے رہنے کا سبق حاصل کیا تھا”۔ منشی جوالہ پرشاد اختر لکھتے ہیں کہ ”صوبہ اودھ میں امام حسین کی فوج کے سپہ سالار اور علمبردار حضرت عباس کے نام کا پہلا علم اودھ کی سرزمین سے اٹھاجس کے اٹھانے کا سہرا مغلیہ فوج کے ایک راجپوت سردار دھرم سنگھ کے سر ہے”۔ اودھ سلطنت میں لکھنؤ کی عزاداری کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ محرم کی مجلسوں اور جلوسوں میں ہندوﺅں کی شرکت و عقیدت ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا ایک ایسا نمونہ ہے جس نے قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مسز میر حسن علی لکھنؤ کی عزاداری کے سلسلہ میں اہل ہنود کی امام حسین علیہ السلام سے غیر معمولی عقیدت و احترام کا ذکر اپنی ایک تحریر میں کرتی ہوئی لکھتی ہیں کہ لکھنؤ کا مشہور روضہ ”کاظمین” ایک ایسے ہی ہندو عقیدت مند جگن ناتھ اگروال نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی طرح راجہ جھاﺅ لال کا عزاخانہ آج بھی لکھنؤ کے ٹھاکر گنج محلہ میں واقع ہے جسے نواب آصف الدولہ کے دور میں راجہ جھاﺅ لال نے تعمیر کرایا تھا۔ راجہ بلاس رائے اور راجہ ٹکیل رائے نے بھی عزاخانے تعمیر کرائے اور ان میں علم اور تعزیے رکھے۔ گوالیار کے ہندو مہاراجاﺅں کی امام حسین علیہ السلام سے عقیدت خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جو ہر سال ایام عزا کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کرتے تھے”۔ مدھیہ پردیش کے علاقہ گونڈوانہ کے ضلع بیتول میں بلگرام خصوصًا بھاریہ نامی قصبہ میں ہریجن اور دیگر ہندو حضرات امام حسین علیہ السلام سے بے پناہ عقیدت و محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اہم اور ضروری کاموں میں کامیابی کے لئے حسین بابا کا تعزیہ اٹھانے کی منت مانتے ہیں”۔

عصر حاضر کے نامور صحافی جمناداس اختر نے ہندوﺅں کی عزاداری کے بیان میں حسینی برہمنوں میں عزاداری کی تاریخی روایات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حسینی برہمنوں میں دت اور موہیال ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو عقیدت مندوں کا تعلق زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہے۔ حسینی برہمنوں کے بزرگ راہیب نے نصرت امام ؑ میں اپنے بیٹوں کو قربان کر دیا تھا۔ راہیب کو سلطان کا خطاب بخشا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے انہیں حسینی برہمن یا حسینی پنڈت بھی کہا جاتا ہے۔ وہ امام حسین علیہ السلام کے تقدس و احترام کے بڑے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میرا تعلق موہیالیوں کی دت ذات سے ہے اور ہمیں حسینی برہمن کہا جاتا ہے۔ عاشورہ کے روز ہم لوگ سوگ مناتے ہیں۔ کم از کم میرے خاندان میں اس دن کھانا نہیں کھایا جاتا ہے۔ سری نگر کے امام باڑے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا موئے مبارک موجود ہے جو کابل سے لایا گیا ہے۔ ایک حسینی برہمن اسے سو سال قبل کابل کے امام باڑے سے لایا تھا”۔

کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلے ہوئے ہندوستان میں ماہ محرم آتے ہی یہاں کے مختلف شہروں،قصبوں، پہاڑی بستیوں اوردیہاتوں میں عزاداری، سید الشہدا کی مجالس اور جلوس عزا میں مشترکہ تہذیب کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں ہندو عقیدت مند مسلمان عقیدت مندوں کے ساتھ شریک عزا ہوتے ہیں۔ کہیں ہندو حضرات عزاداروں کے لئے پانی و شربت کی سبیلیں لگاتے ہیں تو کہیں عزا خانوں میں جا کر اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اوراپنی منتیں بڑھاتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقیدت مند ہندو خواتین اپنے بچوں کو علم اور تعزیوں کے نیچے سے نکال کر حسین بابا کی امان میں دیتی ہیں۔

آندھرا پردیش کے لاجباڑی ذات سے تعلق رکھنے والے اپنے منفرد انداز میں تیلگو زبان میں درد ناک لہجہ میں پرسوز المیہ کلام پڑھ کر کربلا کے شہیدوں کو اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی بعض ہندو ذات کے لوگ کربلا کی جنگ کا منظرنانہ پیش کرتے ہیں اور ان کی عورتیں اپنے گاﺅں کے باہر ایک جلوس کی شکل میں روتی ہوئی نکلتی ہیں۔ یہ عورتیں اپنی مقامی زبان میں یزیدی ظلم پر اسے کوستی ہیں اور اپنے رنج و غم کا اظہار اپنے بینوں کے ذریعے کرتی ہیں۔ راجستھان میں ہندوﺅں کی عزاداری کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراجے جو ہندو سوراج کے لقب سے جانے جاتے تھے شب عاشور برہنہ سر و پا نکلتے تھے اور تعزیہ پر نقدی چڑھایا کرتے تھے۔

پریم چند کا مشہور ڈرامہ ”کربلا” حق و باطل سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح اردو ادب میں ایسے ہندو شاعروں کی تعداد کچھ کم نہیں جنہوں نے اپنی معرکتہ الآرا منظوم تخلیقات میں معرکہ کربلا میں انسانیت کے اعلیٰ کرداروں کی خوشہ چینی کی ہے۔ ایسے قابل ذکرشعرا بیجاپور کے راماراﺅ، مکھی داس، منشی چھنو لال دلگیر، راجہ بلوان سنگھ، لالہ رام پرشادبشر، دیا کشن ریحان، راجہ الفت رائے،کنور دھنپت رائے، کھنولال زار، دلورام کوثری، نانک لکھنوی، منی لال جوان، روپ کماری، یوگیندرپال صابرجوش ملیشانی، منشی گوپی ناتھ امن، چکبست، باوا کرشن مغموم، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، کرشن بہاری، ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ، ماتھرلکھنوی، مہیندرسنگھ اشک، بانگیش تیواری، گلزار دہلوی، بھون امروہوی وغیرہ کا کلام امام حسین علیہ السلام سے ان کی غیرمعمولی عقیدتوں کا مظہر ہے۔

بھارتی لکھاری یوگندر سکند دی ملی گزٹ اور راکیش شرما اپنے آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے معروف مؤرخ اور تاریخ دان سیسر کمار مترہ اپنی کتاب The Vision of Indiaکے صفحہ 183پر رقم طراز ہیں کہ اسلام سے قبل بھی ہندوستان اور عرب ممالک میں تجارتی تعلقات تھے اور بہت سے ہندو تاجر جو مال تجارت ہندوستان سے عرب لیجاتے تھے وہ عرب میں مقیم تھے۔ اور اعلان رسالت کے بعد بھی ان ہندوﺅں میں سے بیشتر افراد رسولِ خدا کی محفلوں میں شرکت کرتے، اس طرح ان کے تعلقات خاندان رسول سے قائم ہوئے۔ جب اکتوبر 680 عیسوی میں واقعہ کربلا پیش آیا تو راہیب دت نامی ہندو تاجر امام حسین علیہ السلام کی فوج میں اپنے سات بیٹوں شاس رائے، شیر خا، رائے پن، رام سنگھ، دھارو او ر پورو اور دو دیگر برہمنوں کے ساتھ شامل ہوا اور یزیدی لشکر سے جنگ کی۔ امام حسین علیہ السلام نے راہیب کو سلطان کا خطاب بھی عطا کیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا اپنی اشاعت 21جنوری2008ء کو حسینی برہمن کے عنوان سے لکھتا ہے کہ محرم کے ایام ہندوستان میں بڑی عقیدت سے منائے جاتے ہیں خصوصاً راجھستان، پنجاب اور مدھیہ پردیش کہ جہاں پر حسینی برہمنوں کے کئی خاندان اور ان کے ماننے والے آباد ہیں۔ یہ لوگ دت بھی کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بزرگ راہیب اور ان کے بیٹوں نے 10 اکتوبر680 عیسوی کو کربلا کے میدان میں حسینی فوج کے ساتھ مل کر یزیدی لشکر سے جنگ کی۔ یہ لوگ عاشورہ کے روز واقعہ کربلا کا نقشہ کھینچتے ہیں، ان کی عورتوں اور بچوں نے بینر اٹھا رکھے ہوتے ہیں جن پر امام حسین علیہ السلام اور راہیب کی یاد میں کلامات درج ہوتے ہیں۔ یہ بلند آواز میں یزیدی ظلم کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ ماتم بھی کرتے ہیں، بلیڈ سے اپنا سینہ اور زنجیروں سے کمر کو زخمی کرتے ہیں اور نذر نیاز بھی دیتے ہیں۔

تحریر۔منصور مہدی

ایم-ایم
12-09-2011, 09:15 PM
یہ معاملہ بہرحال تحقیق طلب ہے کیونکہ کربلا کے 72 شہداء میں سے ہمیں ایک بھی ایسا نام نہیں ملتا کہ جس کا تعلق یا ناطہ ہندوستان کے علاقے سے جوڑا جا سکے۔ یہ برہمن کب وہاں گئے اور ان کے کارنامے کیا ہیں اسلامی تاریخ میں فلحال ہمیں ایسی کوئی بات واضح انداز میں دکھائی نہیں دیتی۔ کچھ عیسائیوں کے حوالے سے ملتا ہے یا کربلا کے نزدیک کی آبادی کے کچھ لوگوں سے متعلق ملتا ہے کہ انہوں نے کچھ مدد کی مگر یہ مدد شہداء کی شہادت کے بعد ان کے اجسام کو دفنانے کے لحاظ سے ملتی ہے۔ واللہ اعلم

مجھے اس بارے میں جان کر کافی عجیب محسوس ہوا کیونکہ حسینی برہمن نام میں نے بہت عرصے سے نہ صرف سُن رکھا ہے بلکہ کئی ایک لوگوں سے واقف بھی ہوں مگر وہ مجھے کبھی ایسی کوئی بات نہیں بتاتے بلکہ کہتے ہیں کہ وہ حسین علیہ اسلام سے اپنے قلبی تعلق کی وجہ سے حسینی برہمن کہلاتے ہیں۔ وہ خود کو ہندو ہی کہتے ہیں مگر اشعار، منقبت وغیرہ میں واقعہ کربلا سے متعلق استعارات بہت استعمال کرتے ہیں۔ مجالس میں شرکت کرتے ہیں، ماتم کرتے ہیں، تازیہ اٹھاتے ہیں وغیرہ۔

ہاں ایک راہب کا ذکر تاریخ میں ضرور ملتا ہے کہ جو بیٹا لینے مدینہ آیا تھا اور حسین علیہ اسلام کے صدقے 7 بیٹے لے کر گیا تھا۔ اب اگر یہ وہی راہب ہے تو بھی ہمیں کربلا میں اس کے اور اس کے بیٹوں کی موجودگی کے ثبوت نہیں ملتے۔ واللہ اعلم

ایم-ایم
12-09-2011, 09:44 PM
در حسین پرملتے ہیں ہرخیال کے لوگ
یہ اتحاد کا مرکز ہے آدمی کے لئے

ابوبکر
12-09-2011, 11:29 PM
آپ نے درست فرمایا یہ معاملہ واقعی تحقیق طلب ہے
لیکن سننے میں ایسا آیا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو خود کو حسینی برہمن کہتے ہیں اور اسکی وجہ وہی بتاتے ہیں جو درج بالا پوسٹ میں ہے
سیکولر بھارت کے بعض تاریخی شہروں اور بستیوں میں آج بھی بعض ہندوعقیدت مند نوحہ خوانی کرتے ہیں اس سلسلے میں سیوان کے ہندوعزاداروں کی انجمن کے علاوہ اعظم گڑھ کی انجمن گدائے حسینی کے نام خاص طورپرقابل ذکرہیں۔اپنی انجمن میں کشن لال سیتاپوری یہ مشہورنوحہ پڑھتے تھے۔

بھارت میں اگرآجاتاہریدے میں اتاراجاتا یوں چاند بنی ہاشم کادھوکے سے نہ ماراجاتا
مہدی نظمی مرحوم نے بجاطورپرکہا تھا:

در حسین پرملتے ہیں ہرخیال کے لوگ
یہ اتحادکامرکزہے آدمی کے لئے

محمدمعروف
12-10-2011, 06:26 PM
میں نے ایسا پہلی بار سنا اور پڑھا ہے حقیقت کیا ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

سقراط
12-10-2011, 10:14 PM
حسینی کبھی برہمن نہیں ہوسکتا اور جو برہمن ہے حسینی ہو نہیں سکتا مجھے بس اتنا پتہ ہے

نذر حافی
09-01-2012, 12:08 PM
میں نے اگچہ بہت تاخیر کے بعد یہ مضمون پڑھاہے،اس کے باوجود چونکادینے والاہے۔تحقیق کا دروازہ تو سب کے لئے کھلاہے۔فاضل مصنف کا شکریہ کہ انہوں نے صاحبان علم و دانش کے لئے تحقیق و جستجوکاایک انوکھا میدان فراہم کیا۔

الکرم
09-03-2012, 11:47 PM
حسینی کبھی برہمن نہیں ہوسکتا اور جو برہمن ہے حسینی ہو نہیں سکتا مجھے بس اتنا پتہ ہے



سقراط جی السلام علیکم ،
ایک شعر آپ کی نظر
انسان کو ذرا بیدار تو ہو لینے دو
ہر قؤم پُکارے گی ہمارے ہیں حُسین