PDA

View Full Version : سفیر کربلا ؛ زینب بنت علی علیہ السلام



تانیہ
12-07-2011, 12:05 PM
جناب زینب علیہ السلام نے واقعۂ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سربلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا تک جاوداں بنادیا ۔حقیقت میں زینبی کردار حسینی کردار کا ہی دوسرا نام ہے اور اس معرکہ حق و باطل میں باطل کے منحوس وجود پر آخری ضرب حضرت زینب علیہ السلام نے ماری جس کے بعد باطل کو سر اٹھانے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی ۔
حضرت زینب علیہ السلام پانچ جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا اسم گرامی زینب، کنیت ام الحسن اور ام کلثوم ہے۔ القاب ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزہراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء ہیں۔ آپ کے والد گرامی مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام ہیں۔

رسول خدا [ص]نے اس نومولود کو طلب کیا اور اسےسینے سے لگایا اور اس کا نام " زینب" رکھا۔ اور فرمایا: میں اپنی امت کےحاضرین اور غائبین کو وصیت کرتا ہوں کہ اس بیٹی کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھیں اس لیے کہ یہ خدیجۃ الکبریٰ کی مانند ہے۔

حضرت زینب علیہ السلام کو حضرت محمد [ص]کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد [ص]کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تقریباً تین ماہ بعد ان کی والدہ حضرت فاطمہ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئیں ۔

حضرت زینب علیہ السلام علیہا کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوئی ۔ ان کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہو گئے ۔

مکتبہ رسول[ص] اور حضرت فاطمہ علیہ السلام و حضرت علی علیہ السلام کی تربیت گاہ کا موتی حضرت زینبعلیہ السلام کا کردار امام حسین علیہ السلام علیہ السلامکے کردار کا مظہر اور ہر دورکی عورت کیلئے بہترین نمونہ ہے۔انہوں نے میدان کربلا میں اپنی ایمانی طاقت سے نہ صرف اعلائے کلمتہ اللہ کا کام کیا بلکہ صبروحوصلہ اور شجاعت کی عظیم الشان تاریخ بھی رقم کی۔ جناب زینب علیہ السلام تاریخ اسلام کی وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جن کے علم و فضل ‘ ان کی ذہانت وفطانت‘فصاحت وبلاغت‘حق گوئی وبے باکی ‘ تسلیم و رضا‘صبر واستقامت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق آج تک جگمگارہے ہیں اور تا ابد تک جگمگاتے رہیں گے۔

خود حضرت زینب علیہ السلام کربلا میں موجود تھیں۔ واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب علیہ السلام کا کردار بہت اہم ہے ۔ آپ نے تحریکِ کربلا میں شامل ہو کر واقعۂ کربلا کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی عظیم ذمّہ داری کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ شام و کوفہ کے بازاروں میں حضرت زینب(س) کے خطبوں نے لوگوں کے ذہنوں میں آپ کے والدِ گرامی امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں کی یاد تازہ کردی ۔
تحریک عاشورا کے دو مرحلے

تحریک عاشورا دو مرحلوں پر مشتمل ہے : پہلا مرحلہ ، خون ، شہادت اور انقلاب کا مرحلہ تھا ، دوسرامرحلہ پیغام رسانی ، امّتِ مسلمہ کی بیداری اور اس واقعہ کی یاد کو زندہ اور تازہ رکھنے کا مرحلہ تھا ۔

اس تحریک کے پہلے مرحلہ کی ذمّہ داری حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار اصحاب کی تھی اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ظلم و ستم اور انحراف کے سامنے ثابت قدم رہے اور اس راہ میں جامِ شہادت نوش کیا . اس تحریک کے دوسرے مرحلہ کی ذمّہ داری خواتین اور بچوں پر مشتمل کاروانِ اسراء نے سنبھالی اور اس تحریک کی پرچم داری جناب زینب علیہ السلام کے ہاتھوں میں تھی ۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نفسیاتی اعتبار سے قوّت ِ برداشت کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھیں وہ اس سلسلہ میں مثالی اورمنفرد شخصیت کی مالک ہیں ۔ وہ سفرِ کربلا کے تمام واقعات بالخصوص روزِ عاشوار کے جاں گداز اورالمناک واقعات میں اپنے بھائی کے ہمراہ تھیں اور ان کی ناصر و مددگار تھیں۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرتِ زینب علیہ السلام کی سنگین ذمّہ داری کا آغاز ہو ا۔ مشکل حالات میں یہ ایک نہایت سنگین اور خطرناک ذمّہ داری تھی ۔حضرت زینب علیہ السلام نے ایک دن سے بھی کم وقت میں اپنے بھائیوں، بھتیجوں اور عزیزوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے خاک و خوں میں غلطاں دیکھا ، ان میں سے کسی ایک کا غم بھی کسی بھی مضبوط اور فولادی اعصاب کے مالک انسان کی کمر شکنی کے لئے کافی تھا ۔

عاشورا کے بعد حضرت زینب علیہ السلام کی اہم ذمہ داری یہ تھی کہ آپ کربلا کے شہیدوں کے خون کا پیغام دنیا تک پہنچائیں اور امّت ِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے جگائیں اور انہیں حالات سے آگاہ کریں۔
انقلابِ کربلا کی پیغام رسانی

قیام حسینی کا دوسرا مرحلہ پیغام رسانی اور امّت مسلمہ کی بیداری کا مرحلہ تھا۔اگر امام حسین علیہ السلام کی تحریک پہلے مرحلہ تک محدود رہتی اس صورت میں یزیدی حکومت اپنی پروپیگنڈہ مشینری کو استعمال کرکے بڑی آسانی سے کربلا کے حقائق کو مسخ کرسکتی تھی اور یقیناً ہم آج کے دور میں امام حسین علیہ السلام کی تحریک کی اس قدر برکتیں اور اثرات مشاہدہ نہ کرتے ۔

دیکھا جائےتو امام حسین علیہ السلام کے اہلِ حرم کی اسیری نے بنی امیّہ کے پروپیگنڈہ کو ناکام بنا دیا اور ان کی سازشوں کو طشت از بام کردیا۔ جنابِ زینب علیہ السلام کی سربراہی میں امام حسین علیہ السلام کے اہل ِ حرم نے کوفہ و شام اور اس قافلہ کے راستہ میں واقع ہونے والے شہروں کے عوام کے لئے بڑی تیزی سے یزید اور اس کے عمّال کے مظالم اور اس کے خبیث چہرہ سے نقاب اٹھائی اور انہیں ذلّت و رسوائی کی دھول چٹائی ۔

انہوں نے کم سے کم ممکنہ وقت میں امام حسین علیہ السلام کی حق طلبی ، ظلم ستیزی ، دین کی حفاظت ، مظلومیت اور عدل خواہی کی آواز کو بہت سے شہروں تک پہنچایا ۔جس کی وجہ سے بہت ہی کم عرصہ میں یزید نے یہ درک کر لیا کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور آپ کے اہل ِ حرم کی اسارت کے ذریعہ اپنے اہداف و مقاصد تک رسائی نہیں حاصل کرسکا ہے بلکہ اس کے برعکس اس نے روز بروز اپنے آپ کو زیادہ ذلیل اور قابل نفرت بنایا ہے ۔

امام حسین علیہ السلام کے اہلِ حرم کی اسیری اور حضرت زینب علیہ السلام کی قیادت میں ان کے اقدامات نے نہ فقط اس دور میں امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو تحریف سے محفوظ رکھا بلکہ تاریخ کے ہر دور میں اسے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رکھا یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بعض متعصّب قسم کے افراد بھی یزید اور یزیدیوں کے مظالم پر پردہ نہیں ڈال سکے ۔ زینب وہ حلقہ اتصال ہے جس نے نہضت حسینی کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا ہے حسینی تحریک کا سب سے اہم مقصدکربلا کی بقامیں پوشیدہ تھا اور سبب بقاء کربلا کو زینب کہتے ہیں پس کربلا کی حیات زینب کی مرہون منت ہے۔
علی کے لہجے میں زینبی کردار

جناب زینب علیہ السلام کی واقعی رسالت اس وقت شروع ہوئی جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی بعد قافلہ سالاری کی ذمہ داری آپ کے دوش پر آگئی اور کوفہ اور شام کے دشمن بھرے راستوں سے اس قافلہ کو لیکر گذرنا پڑا۔واقعہ کربلا کے بعد اگر جناب زینب علیہ السلام کے شجاعانہ خطبات نہ ہوتے تو واقعہ کربلا کا نام و نشان تاریخ میں نظر نہ آتا یا اگر کہیں نظر بھی آتا تو اصلی چہرہ محو کر دیا ہوتا۔

آپ نے ان تصورات کو کوفیوں اور شامیوں کے اذہان سے پاک کیا کہ حسین علیہ السلام نے خلیفہ وقت پر خروج کیا ہے لہذا واجب القتل ہے۔ جناب زینبعلیہ السلام نے ہی بنی امیہ کے گھولے ہوئے زہر کو خود انہیں پینے پر مجبور کر دیا اور حسینیت کو زندگی ابدی عطا کی۔

آپ کے خطبات کہ جو آپ نے کربلا سے کوفہ اور شام کے راستے میں بیان فرمائے خود آپ کی فصاحت و بلاغت اور شجاعت و حق گوئی کی بولتی تصویر ہیں یہاں تک کہ سننےوالے اس سوچ میں پڑ گئے کہ کہیں علی (ع) تو نہیں بول رہے ہیں۔ یہ یہی خاتون ہیں کہ جن کے بارے میں امام سجادعلیہ السلام نے فرمایا:

اَنْتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَیرَ مُعَلَّمَة وَ فَهِیمَةٌ غَیرَ مُفَهَّمَة

اے پھوپھی جان الحمد للہ آپ عالمہ غیر معلمہ ہیں اور ایسا فہم و ادراک رکھنے والی ہیں جو کسی نے آپ کو نہیں دیا ہے۔
بازار کوفہ میں حضرت زینب س کا خطبہ

کوفہ کے زن و مرد جو ہزاروں کی تعداد میں آلِ رسول [ص] کے اس تباہ حال قافلے کودیکھنے کے لئے وہاں جمع تھے زار و قطار رونے لگے۔لوگوں کی آہ و زاری اور شور کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن راوی بتاتے ہیں کہ جونہی شیر خدا کی بیٹی نے لوگوں کو ارشاد کیا کہ "انصتوا" [خاموش ہو جاؤ]، تو کیفیت یہ تھی کہ "ارتدت الانفاس و سکنت الاجراس"، آتے ہوئے سانس رک گئے اور جرس کارواں کی آوازیں خاموش ہو گئیں ۔ اس کے بعد دختر علی علیہ السلام نے خطبہ شروع کیا تو لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کا لب و لہجہ یاد آ گیا۔

"اے اہلِ کوفہ! اے اہل فریب و مکر! کیا اب تم روتے ہو؟ خدا کرے تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو۔ تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم منافقانہ طورپر ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو جن میں کوئی صداقت نہیں ۔

آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و زاری کرتے ہو؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔ تم اپنے امام علیہ السلام کے قتل میں ملوث ہو چکے ہو اور تم اس داغ کو کبھی دھو نہیں سکتے ۔

افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول خدا [ص] کے کس جگرگوشہ کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے پست اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں ، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں ۔ تم نے قتلِ امام ع کا سنگین جرم کیا ہے جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اگر اس قدر بڑے گناہ پر آسمان سے خون برسے تو تعجب نہ کرو۔ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور رسوا کن ہو گا۔ اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا اور اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے''۔

دربار یزید میں حضرت زینب س کا خطبہ

واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ آپ نے یزید کو مخاطب کرکےاپنے خطبے میں فرمایا ۔

"اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے[زمین و آسمان] تنگ کر دئیے ہیں اور کیا آلِ رسول (ص) کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز اور ہم رسوا ہوئے ہیں ؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے اور ناک بھوں چڑھاتا ہوا مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری[خلافت]کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔

کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں ۔اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین و مقرر کیا جا چکا ہے۔

اے طلقاء کے بیٹے! (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول (ص) کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے۔ اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں ۔

آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں ۔آج آلِ محمد ص کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔

اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔

اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی علیہ السلام کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے۔

اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔

تو نے اولاد رسول (ص) کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں ۔تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں ۔

آج تو آلِ رسول (ص) کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے]اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے۔

تو عنقریب اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اْس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے میں باز رہتا۔

اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد ص پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ص عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول [ص] کی گواہی دیں گے۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے۔

اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد[برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں ۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں توْ ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جرات سخن پر توْ مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بد سلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔

اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔

تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔

تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔

تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کے لئے حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے۔

ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور ہمارے آخر (امام حسین علیہ السلام) کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے"۔

جناب زینب علیہ السلام نے واقعۂ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سربلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا تک جاوداں بنادیا ۔حقیقت میں زینبی کردار حسینی کردار کا ہی دوسرا نام ہے اور اس معرکہ حق و باطل میں باطل کے منحوس وجود پر آخری ضرب حضرت زینب علیہ السلام نے ماری جس کے بعد باطل کو سر اٹھانے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی ۔

اذان
12-07-2011, 01:15 PM
جزاک اللہ